سعودی عرب کا ایک مثبت قدم: خوش گوار نتائج کا انتظار کریں

رفیق احمد رئیس سلفی

سوشل میڈیا پر اس وقت ایک خبر کا خوب چرچا ہورہا ہے اور مثبت اور منفی دونوں طرح کے خیالات سامنے آرہے ہیں۔ خبر کا موضوع ہیں: شہزادی ریما بنت بندر بن سلطان آل سعود، جن کو سعودی حکومت نے ۲۳؍فروری ۲۰۱۹ء کو امریکہ میں اپنے ملک کا سفیر مقرر کیا ہے۔ یہ سعودی عرب کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے جب کسی عورت کو اس نے امریکہ جیسے کسی ملک میں اپنا سفیر بنایا ہے۔ ۱۹۷۵ء میں پیدا ہونے والی چوالیس سالہ خاتون جن کے دو بچے ہیں، سعودی حکومت میں کھیل کود برائے خواتین کے شعبہ کی ذمہ دار رہ چکی ہیں۔ بعض دوسرے اہم مناصب پر بھی ان کی کارکردگی اطمینان بخش رہی ہے۔ ان کے والد محترم امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر رہ چکے ہیں اور وہیں شہزادی صاحبہ نے جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے۔
امریکہ میں ایک طویل عرصہ گزارنے کی وجہ سے وہ امریکی تہذیب اور اس کی ثقافت کو اچھی طرح سمجھتی ہیں۔ امید یہی کی جاتی ہے کہ ان کی تربیت ان کی اپنی خاندانی روایات کے مطابق ہوئی ہوگی، وہ اسلام اور شعائر اسلام کو اچھی طرح سمجھتی ہوں گی اور امریکی معاشرے میں اسلام کی ایک اہم سفیر ثابت ہوں گی۔ اس وقت دنیا میں خواتین کے دائرۂ عمل و اختیارات کے حوالے سے جو مکالمہ جاری ہے، اس میں ہماری پوزیشن دفاعی بن چکی ہے اور ہم ایک مسلمان خاتون کو اس قدر کمزور سمجھ رہے ہیں کہ وہ جیسے ہی میدان عمل میں اترے گی، اس کی عزت اور عصمت داؤ پر لگ جائے گی۔ یہ بہت بڑی بدگمانی اور غلط فہمی ہے جو ہمیں لاحق ہے۔ ایک خود اعتماد اور پراعتماد خاتون، اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے کئی ایک فرائض انجام دے سکتی ہے اور اللہ نے اسے جن صلاحیتوں سے نوازا ہے، ان کا بھرپور مظاہرہ کرسکتی ہے۔ آج کی دنیا میں اسلام کو ایسی خواتین کی ضرورت ہے۔ سعودی خواتین سے ہم بجا طور پر امید کرتے ہیں کہ وہ دنیا کی دوسری خواتین کے مقابلے میں اسلام کو زیادہ بہتر طور پر سمجھتی ہیں، ان کا عقیدۂ توحید و سنت واضح ہے اور وہ مردوں کے سامنے جب آئیں گی تو ڈھیلے ڈھالے لباس میں آئیں گی، اس وقت سعودی عرب میں ملازم خواتین کا لباس دیکھا جاسکتا ہے، وہ شرعی حجاب میں ہوتی ہیں اور برقعے میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ کسی کی نیت کیا ہے اور وہ اندرون خانہ کیا کرتا ہے، یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے جس کے لیے وہ اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔
میری نظر میں یہ ایک اچھا اور وقت کے تقاضوں کے مطابق اٹھایا گیا ایک مثبت قدم ہے۔ ہمیں امید ہے کہ سعودی عرب کا یہ اقدام مغرب کے منہ پر ایک طمانچہ ثابت ہوگا جہاں خواتین کی آزادی کا پروپیگنڈہ کچھ زیادہ ہی کیا جاتا ہے۔ ایک مہذب اور تعلیم یافتہ سعودی خاتون ان شاء اللہ اسلام کے آفاقی اصولوں کی ترجمان ثابت ہوگی اور دنیا یہ دیکھے گی کہ عریانی اور مردوں کو لبھانے والا فیشن عورت کی آزادی کا نہیں بلکہ اس کی غلامی کا سمبل ہے۔ معروف سلفی عالم مولانا محمد حنیف ندوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’اساسیات اسلام‘‘ کے ایک باب میں مسلم خواتین کی آزادی اور ان کے دائرۂ عمل و اختیارات پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ہم کب تک انھیں صنف نازک بنائے رکھیں گے۔ ماضی میں روزی روٹی کے ذرائع محدود اور محنت طلب تھے لیکن موجودہ دنیا میں قلم اور کی بورڈ پر گردش کرتی انگلیوں نے رزق کے دروازے وا کردیے ہیں، اب ایر کنڈیشن میں بیٹھ کر ایک مسلمان خاتون کئی طرح کے فرائض انجام دے کر اپنے شوہر کی روزی میں اضافہ کرکے اپنے بچوں کے ساتھ خوش حال زندگی گزار سکتی ہے۔ کیا ہمارے ملک ہندوستان میں مسلم خواتین ٹیچر اور ڈاکٹر بن کر اپنے فرائض انجام نہیں دے رہی ہیں۔
گزشتہ دنوں جب طلاق کے مسئلے پر ہر ٹی وی چینل پر مباحثے ہورہے تھے تو خواہش ہورہی تھی کہ کاش ہمارے یہاں اعلی تعلیم یافتہ مسلمان خواتین ایسی ہوتیں جو ان مکالموں میں شریک ہوکر اسلام کے قانون کی صحیح ترجمانی کرتیں اور غیر مسلم خواتین کے الٹے سیدھے اعتراضات کا جواب دیتیں۔‌اپنے حقوق اور آزادی کی وکالت ایک مسلم خاتون ہی بہتر طور پر کرسکتی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کی آواز مردوں کے مقابلے میں زیادہ موثر بھی ہوگی اور زیادہ دور تک بھی سنی جائے گی۔
میں ذاتی طور پر سعودی عرب کے اس اقدام کو ایک وسیع تناظر میں دیکھتا ہوں، میری نظر میں یہ ایک مثبت قدم ہے۔ اب یہ شہزادی صاحبہ پر منحصر ہے کہ وہ اپنے فرائض کس طرح انجام دیتی ہیں کہ سعودی عرب کو مایوسی نہ ہو اور وہ آنے والی دیگر خواتین کے لیے ایک رول ماڈل بن کر یہ ثابت کر دکھائیں کہ مسلمانوں نے عورتوں کو پابند سلاسل نہیں کیا ہے بلکہ انھیں آزادی عطا کی ہے اور وہ اپنی ہمت اور صلاحیت کے مطابق اپنے لیے میدان عمل کا انتخاب کرسکتی ہیں۔ حجاب، شرعی لباس، غیر ضروری بے تکلفی اور غیر ضروری اختلاط مردوزن کا لحاظ رکھتے ہوئے ایک سعودی خاتون ان شاء اللہ دنیا کی تمام مسلم خواتین کے لیے ایک بہترین نمونہ بن کر سامنے آئے گی۔ امریکہ جیسے ملک میں اپنے ملک کی سفارت کا فریضہ انجام دینا حد درجہ مصروفیت کا عمل ہے، ان کے اندر وہ صلاحیت اور ذہانت موجود ہوگی جو اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے۔ اگر سعودی عرب کی کابینہ نے یہ فیصلہ لیا ہے تو شاہ فیصل مرحوم کی اس نواسی سے بہت سی توقعات ہوں گی۔ مجھے ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں معلوم اور نہ ان کی ذہنی کیفیت اور دل چسپیوں کا علم ہے، اس لیے ان کی ذاتی زندگی اور ان کی ترجیحات پر کچھ لکھنا بولنا مناسب نہیں ہے۔ آیندہ ان کی کار کردگی واضح کرے گی کہ ان کا انتخاب صحیح تھا یا غلط۔ ابھی اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
رہا سوال عورت کی سربراہی کا اور اس سلسلے میں صحیح بخاری کی حدیث کا تو اس تعلق سے یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے ملک کی سربراہ نہیں بلکہ اس کے ایک منصب کی ذمہ دار بنائی گئی ہیں۔ اب رہا سوال ہمارے کچھ سلفی اخوان کا تو ان سے یہی کہا جاسکتا ہے کہ دنیا کو کھلی آنکھوں سے دیکھیں۔ طوفان آچکا ہے، شتر مرغ کی طرح ریت میں سر چھپالینے سے طوفان رکے گا نہیں، ہمیں اس کا مقابلہ کرنا ہی پڑے گا۔ مسلم خواتین کے حقوق اور ان کا دائرۂ اختیار کا مسئلہ ایک چیلنج ہے، جس کا جواب ہمیں اپنے فکر و عمل سے دینا ہی ہوگا۔
ہمارے سوچنے سمجھنے کا روایتی انداز ہمیں بعض صریح نصوص سے دور لے جارہا ہے۔ ہماری نظر میں اتنی تنگی آچکی ہے کہ ہر نئی چیز پر بہ عجلت تمام اپنا منفی رد عمل ظاہر کردیتے ہیں جب کہ وہ چیز نئی صرف ہماری معلومات کے اعتبار سے ہوتی ہے، کتابوں میں اس کے حوالے موجود ہوتے ہیں۔عہد نبوی اور عہد صحابہ کا استیعابی مطالعہ کئی ایک غلط فہمیوں کو دور کردے گا۔ بہتر ہوگا کہ ہم دور حاضر کے عظیم سیرت نگار پروفیسر محمد یسین مظہر صدیقی کی کتابوں: ’’خطبات سرگودھا سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد مکی،رسول اکرم ﷺکی رضاعی مائیں، بنو ہاشم اور بنو امیہ کے معاشرتی تعلقات، عہد نبوی ﷺکا نظام حکومت، عہد نبوی کا تمدن، نبی اکرم ﷺ اور خواتین: ایک سماجی مطالعہ‘‘، وغیرہ کا مطالعہ کریں تو ہماری نظر میں وسعت پیدا ہوگی اور دور حاضر کے اس سنگین مسئلے کو سیرت نبوی کی روشنی میں ہم سمجھ بھی سکیں گے۔

6
آپ کے تبصرے

avatar
3000
6 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
6 Comment authors
خان بھائیRasheed salafiافروز شمیم نوریM. A. FarooqiMahfuz ansari Recent comment authors
newest oldest most voted
نورا حنبلی
Guest
نورا حنبلی
محترم، اس سے زیادہ شفاف تحریر میں نے پچھلے کئی سالوں سے نہیں پڑھی. اللہ آپ کو جزائے خیر دے. آپ نے ہمارے موضوع کو “مسئلہ” سے اوپر اٹھ کر دیکھنے کی کوشش کی ہے.
Mahfuz ansari
Guest
Mahfuz ansari
ما شاءاللہ شیخ صاحب نے حقیقت کو واضح کردیا ہے۔،،
البتہ میں اتنا ضرور کہنا چاہونگا کہ ہمیں بچیوں کو اسلامی عقیدہ تعلیم و تربیت کے ساتھ ہمت و شجاعت اور بہادری۔۔۔کی بھی ترغیب دیتے رہنا چاہیے تاکہ ہر خاص و عام میں صحیح اسلامی نمائندگی بے ہچک کر سکیں۔
M. A. Farooqi
Guest
M. A. Farooqi
ما عاقنی خجلی عن العلیا ولا
سدل الخمار بلمتی و نقابی
عن طی مضمار الرھان اذا اشتکت
صعب السباق مطامح الرکاب
افروز شمیم نوری
Guest
افروز شمیم نوری
واقعی ہمیں اپنی فرسودہ سوچوں سے بہت اوپر اٹھ کر ہر معاملے کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھنے کی اشد ضرورت ہے
Rasheed salafi
Guest
Rasheed salafi
ہمیشہ کی طرح بہت عمدہ لکھا ہے،بے شک سعودی عرب کا یہ قدم حکمت ودانآئی پر مبنی ہوگا،لوگوں کو تنگ نظری اور تعصب سے بالاتر ہوکر کسی بھی مسئلے کو دیکھنا چاہئے۔جلد بازی سے اجتناب کرنا چاہیے۔جزاک اللہ خیر شیخ محترم۔
خان بھائی
Guest
خان بھائی
ماشاء اللہ، عمدہ تحریر