شکوۂ درد نہاں

خبیب حسن مبارکپوری شعریات

گلشن کی یہ ویرانی دیکھی نہیں جاتی ہے

غنچوں کی پریشانی دیکھی نہیں جاتی ہے


ہر صبح ہے صبح غم ہر شب ہے شب ماتم

غم کی یہ فراوانی دیکھی نہیں جاتی ہے


صدیوں کی غلامی سے آزاد ہوئے پھر بھی

یہ فطرت زندانی دیکھی نہیں جاتی ہے


اس دور ہلاکت میں بے بس ہیں تمنائیں

جذبوں کی یہ قربانی دیکھی نہیں جاتی ہے


سوئے گا تو ڈوبے گا لہروں پہ بٹھا پہرے

دریا کی یہ طغیانی دیکھی نہیں جاتی ہے


طوفان کےخطرے سے یکسر جو ہوئی غافل

امت کی تن آسانی دیکھی نہیں جاتی ہے


پھولوں کو مسل کر جو خوشبو کا بنا تاجر

گلچیں کی یہ من مانی دیکھی نہیں جاتی ہے


اٹھ تھام حسن خود ہی اب ڈور قیادت کی

نا اہلوں کی سلطانی دیکھی نہیں جاتی ہے

4
آپ کے تبصرے

avatar
3000
4 Comment threads
0 Thread replies
1 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
3 Comment authors
محمد شریفRiyazuddin shahidMohammad gufran Recent comment authors
newest oldest most voted
Mohammad gufran
Guest
Mohammad gufran
اٹھ تھام حسن خود ہی اب ڈور قیادت کی
نا اہلوں کی سلطانی دیکھی نہیں جاتی ہے
ماشاء اللہ
بہت خوب 💐💐💐
Riyazuddin shahid
Guest
Riyazuddin shahid
بہت خوب
نقالوں کی الثانی دیکھی نہیں جاتی
Riyazuddin shahid
Guest
Riyazuddin shahid
نا اہلوں کی سلطانی دیکھی نہیں جاتی
محمد شریف
Guest
محمد شریف
ماشاءاللہ