یہ میں بچوں کے لیے لکھ رہا ہوں

شمس الرب خان شعریات

شاعر: نزار قبانی

عربی سے ترجمہ: شمس الرب خان

_______

یہ میں بچوں کے لیے لکھ رہا ہوں

عرب بچوں کے لیے جہاں کہیں بھی ہوں
رنگ، عمر، آنکھ چاہے جیسے بھی ہوں
یہ میں لکھ رہا ہوں ان کے لیے جو پیدا ہوں گے
انہی کے لیے میں یہ لکھ رہا ہوں، بچوں کے لیے
ان آنکھوں کے لیے جن کی پتلیوں میں دن رقصاں رہتا ہے
میں اختصار کے ساتھ لکھتا ہوں
ایک رنگروٹ دہشت گرد لڑکی کی کہانی
اس کا نام تھا راشیل
اس نے جنگ کے ایام ایک الگ تھلگ کال کوٹھری میں بتائے
چوہوں کی طرح، ایک الگ تھلگ کال کوٹھری میں
جسے جرمنوں نے پراگ میں تعمیر کیا تھا
اس کا باپ ایک پلید یہودی تھا
جعلی نوٹ بنایا کرتا تھا
اور وہ پراگ میں قحبہ خانہ چلاتی تھی
جہاں فوجی آتے تھے

جنگ ختم ہوگئی
امن کا اعلان ہوگیا
بڑی طاقتوں نے دستخط کر دیے
چار ممالک جو خود کو بڑی طاقتیں کہتے تھے
انھوں نے اقوام متحدہ نامی چیک پر دستخط کر دیا

صبح کے وقت، مشرقی یوروپ سے
ایک کشتی چلی جس پر ہوائیں لعنت برسا رہی تھیں
اس کا رخ جنوب کی جانب تھا
وہ کشتی چوہوں، طاعون اور یہودیوں سے بھری پڑی تھی
وہ مختلف قوموں کی تلچھٹ کی آمیزش تھے
مغربی پولینڈ سے
آسٹریا سے، استانبول سے، پراگ سے
زمین کی انتہا سے، جہنم سے
وہ ہمارے ننھے سے ملک میں آۓ
ننھے سے امن پسند ملک میں
یہاں آکر انھوں نے ہماری سرزمین نجس کر دی
ہماری عورتوں کو سولی پر چڑھا دیا
ہمارے بچوں کو یتیم کر دیا

اور اقوام متحدہ اب تک
اس کا بلند بانگ دستور اب تک
قوموں کی آزادی پر بحث کر رہا ہے
حق خود ارادیت کی بات کر رہا ہے
اور کھوکھلے اقدار کے بارے میں ہانک رہا ہے

بچے یاد رکھیں
عرب بچے، جہاں کہیں بھی ہوں
جو پیدا ہو چکے ہیں اور جو آئندہ پیدا ہوں گے
اس رنگروٹ دہشت گرد لڑکی کی کہانی
جس کا نام تھا راشیل
اس نے میری ماں کو بے دخل کر دیا
جو آرام فرما تھی الخلیل میں واقع ہمارے ہرے بھرے کھلیان میں
میری ماں، جس کو گلا ریت کر شہید کر دیا گیا

بچے یاد رکھیں
اس سرزمین کی کہانی جسے بڑی طاقتوں نے برباد کر دیا
اور اقوام متحدہ نے

یہ میں بچوں کے لیے لکھ رہا ہوں
بئر سبع اور الخلیل کی کہانی
اور میری مقتول بہن
وہاں لیموں کے باغیچے میں
میری مقتول بہن
کیا لیموں کو یاد ہے، وہ جو رملہ میں ہے
لد میں ہے
الخلیل میں ہے
میری بہن جسے یہودیوں نے لٹکا دیا شام کے وقت
اس کے لمبے بالوں سے
میری بہن نوار
میری بہن چاک دامن و ازار
پڑی تھی رملہ اور جلیل کی پہاڑیوں میں
میری بہن جس کا تروتازہ زخم
ابھی بھی انتظار کر رہا ہے
ایک انتقام کے دن کا…انتقام کے دن کا
بچوں کے ہاتھوں
بچوں کی فدائی نسل کے ہاتھوں
جو جانتی ہے نوار کے بارے میں
اس کے لمبے بال کے بارے میں
اور بیابان میں کھو جانے والی اس کی قبر کے بارے میں
بڑوں سے زیادہ جانتی ہے فدائی بچوں کی نسل

میں بچوں کے لیے لکھ رہا ہوں
یافا کے بارے میں، اس کے قدیم بندرگاہ کے بارے میں
قیمتی پتھروں والی سرزمین کے بارے میں
جس کے سنترے چمکتے ہیں
ستاروں کے خیمہ کی مانند
جس کی آغوش میں ہے میرے والد کی قبر اور میرے چھوٹے بھائیوں کی قبریں
کیا تم جانتے ہو میرے والد کو
اور میرے چھوٹے بھائیوں کو؟
جب تھا یافا میں ہمارا
ایک باغیچہ اور ایک گھر
جو نعمتوں کی آماجگاہ تھا
اور میرے رحم دل والد
ایک کسان تھے، بوڑھے تھے
دھوپ سے انھیں الفت تھی اور مٹی سے
اور اللہ سے، زیتون سے، انگوروں کی بیلوں سے
انھیں محبت تھی اپنی بیوی سے اور اپنے گھر سے
اور ستاروں سے لدے ہوۓ درختوں سے

اجنبی آئے اپنے ساتھ قبر لے کر
مشرقی یوروپ سے
زنداں کی کال کوٹھریوں سے
وہ آۓ بھوکے بھیڑیوں کی ایک فوج کی مانند
اور پھلوں کو برباد کردیا
اور ستاروں کے کھلیانوں میں آگ لگا دی
اور پانچ بچے کھڑے تھے غمزدہ ساکت وصامت
میرے والد کے سینے میں دھرتی کا ناموس آتش فشاں کی طرح دہک اٹھا
وہ ان پر پھٹ پڑے: جہنم میں جاؤ
تم میری زمین مجھ سے ہرگز نہیں چھین سکتے، اے کتوں کی اولادو..!

…اور دم توڑ دیا میرے رحم دل والد نے
اس گولی سے جسے ایک کتے نے ان کے اوپر چلائی تھی
میرے عظیم والد وفات پا گئے
عظیم سرزمین پر
اس حال میں کہ وہ اپنے ہاتھوں سے مضبوطی کے ساتھ دھرتی کو پکڑے ہوۓ تھے

بچے یاد رکھیں
عرب بچے، جہاں کہیں بھی ہوں
جو پیدا ہو چکے ہیں اور جو آئندہ پیدا ہوں گے
کہ دھرتی کی قیمت کیا ہے
کیونکہ ان کے انتظار میں ہے
دھرتی کا معرکہ

****

1
آپ کے تبصرے

avatar
3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
سعد احمد Recent comment authors
newest oldest most voted
سعد احمد
Guest
سعد احمد
بہترین!