قرآن سے بچوں کا تعلق کیسے مضبوط کریں

ام ہشام تعلیم و تربیت

ایک مسلمان خواہ وہ تعلیم یافتہ ہو یا ناخواندہ اللہ سبحانہ و تعالی کی مبارک کتاب قرآن مجید  کے حوالے سے اس کی سب سے بڑی تمنا اور آرزو یہ ہوتی ہے کہ اس کی اولاد اس کتاب سے جڑجایے، اسے یاد کرنے اور سمجھنے والی ہو اور اسے وہ اپنے لیے بہت بڑا اعزاز تصور کرتا ہے۔
وہ جس قسم کی بھی پر مشقت زندگی گذار رہا ہو اس سے کئی گنا بہتر اور شاندار زندگی کا تصور اپنی اولاد کے لیے کرتا ہے۔ اسے اپنی ہر محرومی پر صبر آجاتا ہے کیونکہ اپنی بے مائیگی، بے سرو سامانی کی حقیقت سے زیادہ اسے کتاب اللہ کے معجزات پر یقین ہوتا ہے۔
یہ یقین اس کے اوپر اوپر نہیں بہہ رہا ہوتا بلکہ اس کی ذات میں اپنی جڑوں سمیت پیوست ہوتا ہے۔ یہ قول:

(“علم ولدک القرآن سیعلمہ کل شی”۔

اپنی اولاد کو قرآن سکھادو اور قرآن اسے بقیہ علوم سکھادے گا) اس کے لیے راہ کا سنگ میل ثابت ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ  یہ واحد علم اس کے بچوں پر علوم و فنون کے اور بھی بہت سے دروازے کھول دے گا اور دنیا و آخرت کی زندگی میں فلاح کی راہ کو تلاش کرنے والے کے پاس یہی وہ علم ہے جو اسے  فائز المرامی تک پہنچائے گا۔
قرآن کریم دنیا کی Best seller کتابوں میں سے ہے۔ دنیا کے ہر خطّہ میں جہاں کہیں بھی مسلمان اپنی اقلیت و اکثریت کے ساتھ موجود ہیں یہ کتاب وہاں  نہ صرف  پڑھی پڑھائی جاتی ہے بلکہ یاد بھی کی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں ۱۳ملین مسلمان یعنی ایک کروڑ تیس لاکھ لوگ کم و بیش حافظ قرآن ہیں اور اس کتاب مقدس کو اپنے سینوں میں محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ اللہ کا یہ کلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیے گئے معجزات میں سب سے  بڑا معجزہ ہے۔ اس کتاب کا کروڑوں  سینوں میں محفوظ ہونا ہی اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک عظیم الشان مظہر ہے اور کتاب الہی کے منزل من اللہ ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
اتنے فیوض و برکات کے باوجود ساتھ ہی ایک کڑوی حقیقت یہ ہے کہ اس عظیم الشان کتاب کو کماحقہ اٹھایا نہیں گیا۔ اہل قرآن نے کماحقہ اس کتاب کا حق ادا نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے آج قرآن کریم  سیکھنے سکھانے جیسا بابرکت عمل اپنی اصل خوبصورتی اور برکات سے محروم ہوگیا ہے۔
اسی ضمن کے ایک اہم مسئلے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ آخر بچّے قرآن سیکھنے میں تردد کیوں کرتے ہیں اور اسے سیکھنے یا یاد کرنے کے بعد اس کے اثرات ان کی زندگی پر دکھائی کیوں نہیں پڑتے۔ قرآن پڑھنے یا یاد کرنے کے بعد اس سے یکسر لاتعلق کیوں ہوجاتے ہیں۔ والدین سرپرست یا اساتذہ کی طرف سے بارہا ایسی شکایتیں اور مسائل سامنے آتے رہتے ہیں۔ ہم نے اس مسئلے کے اسباب و عوامل پر غور کیا تو کچھ احتیاطی تدابیر واضح ہوئیں جن کو عمل میں لاکر یہ مسائل حل کیے جاسکتے ہیں:

*(۱) والدین کی اپنی منصوبہ بندی:
والدین اگر اپنے بچے کو قرآنی تعلیمات سے آراستہ کرنا چاہتے ہوں تو اس بات کی تیاری زوجین کو اسی وقت سے شروع کردینی چاہیے جب وہ ایک دوسرے کا انتخاب کررہے ہوں۔
جی ہاں!! کیونکہ اگر شریک سفر نیک ہوگا/ہوگی تو یقینی طور پر وہ خود بحیثیت مومن اللہ اور اس کی کتاب مقدس سے جڑا ہوا ہوگا، اس کی زندگی کا نصب العین ہی اللہ سبحانہ و تعالی کی رضامندی کا حصول ہوگا اور نیک والدین یقینا اپنی اولاد کا تعلق بھی اللہ اور اس کی کتاب حکیم سے ضرور جوڑیں گے۔
پھر اولاد آجانے کے بعد اس کی پرورش کے آغاز میں ہی والدین اپنے عزم و ارادہ کو اس بات پر پختہ کرلیں کہ انھیں ہر صورت اپنی اولاد کو قرآن کے لیے وقف کرنا ہے جس کی تکمیل کی خاطر وہ اپنا وقت مال اور توجہ سب کچھ وقف کرنے کو پوری طرح سے تیار ہیں۔
قرآن مجید کا حفظ کرنا یا اس کی تفسیر کا سیکھنا، یہ ایک لمبا اور صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے جس کے لیے عزم محکم، مضبوط قوت ارادی، صبر و برداشت، حکمت و تحمّل اور جہد مسلسل کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ لہذا یہ امر سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ خواہشمند والدین اپنے ارادہ میں استقلال رکھنے والے ہوں، وہ عجلت پسند اور جذباتی نہ ہوں۔
والدین کی منصوبہ سازی میں کرنے کا دوسرا کام یہ ہے کہ ان کے سامنے ان کا مقصد صاف ہو، یوں نہ ہو کہ بچّے کے بڑے ہونے تک والدین اس کی کیرئیر منصوبہ بندی کو ہر دو مہینے پر بدلتے رہیں۔ والدین کے پاس ان کا اپنا ایک مضبوط و مطلوب اور مثالی ویژن ہو کہ وہ کیوں اپنے بچے کو قرآن سے کیوں جوڑنا چاہتے ہیں؟ اسے حافظ قرآن یا عالم دین کیوں بنانا چاہتے ہیں؟ اور جب یہ جواب آئے تو یہ جواب روایتی نہ ہو مثلا والدین کہیں کہ!!! ہم مسلمان ہیں اور ہر مسلمان کو قرآن پڑھنا چاہیے اس لیے ہم بھی قرآن پڑھانا چاہتے ہیں۔
یہ یاد رکھنے والی بات ہے کہ کسی اور کو دیکھ کر  اپنے بچے کو حافظ یا عالم بنانا، خاندانی روایت کی وجہ سے یا پھر اولاد کی چاہت میں نذر و منت کے طور پر بچے کو اللہ کی راہ میں قرآن سیکھنے کے لیے وقف کرنا، اپنے تعارف کو مزید وسعت دینے کی خاطر بچے کا استعمال کرنا تاکہ لوگ آپ کو حافظ قرآن کے والدین سمجھیں، یا پھر ایسی کسی شرمناک وجہ کے ساتھ بچے کو قرآن سے جوڑنا مثلا: “یہ کانوینٹ اور انگلش میڈیم میں نہیں چلا اس لیے حافظ جی کے پاس بٹھانا چاہتے ہیں”۔ ایسی ساری نیتوں کا شمار مخلصانہ عزم و ارادہ میں نہیں ہوتا لہذا اس کے نتائج اور اثرات بھی  دیرپا اور نتائج بخش ثابت نہیں ہوسکتے۔
والدین خود کو جانچیں اگر اوپر دی گئی وجوہات میں سے آپ کے پاس ایک بھی وجہ ہے تو یہ آپ کے مقاصد  کی بنیادی اور سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ جیسے تیسے اگر بچے نے قرآن مکمل بھی کرلیا تو بھی یہ ایسے ارادے سے ایک سچا جانشین قرآن کبھی تیار نہں کیا جاسکتا۔ والدین کے پاس ایسے کمزور اور سطحی ارادوں کے ساتھ اس سے کہیں زیادہ بلند و بالا عزائم موجود ہونے چاہئیں۔
مثلا یہ کہ والدین کہیں کہ “ہم اپنے بچے کو قرآن مقدس سے اس طور جوڑنا چاہتے ہیں کہ بچہ کا قرآن مقدس سے لفظی معنوی اور روحانی رشتہ قائم ہوسکے۔ اس کتاب کے معجزاتی اثرات نہ صرف بچے کے ظاہر کو متاثر کریں بلکہ قرآن کریم کی تاثیر اس پر اور اس کے ساتھ پوری دنیا کو متاثر کرنے والی ہو۔

*(٢) اللہ کی معرفت:
جس کام پر ہم اپنا وقت، پیسہ اور طاقت صرف کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ پہلے اس کام کو کرنے کے لیے ہمارے پاس بہت ہی ٹھوس وجہ اور ویژن ہونا چاہیے۔
قرآن کا بھی یہی معاملہ ہے کہ اس کتاب کو سیکھنے کے لیے وہ بڑی وجہ ہمارے پاس ضرور ہونی چاہیے جو ہمیں اس کام کی رغبت دلاتی ہو
لہذا والدین پر یہ ضروری ہے کہ اس عظیم مشن میں بچے کو صرف یہ کہہ کر قرآن مجید نہیں تھمادینا ہے کہ اسے پڑھو اور پڑھنے جاؤ کیونکہ اس کے پڑھنے سے ثواب ملتا ہے نیکیاں ملتی ہیں بلکہ یہاں پہلا اسٹیپ یہ ہوگا کہ بچے کے دل و دماغ میں جس ہستی نے اس کتاب کو نازل کیا اور بنایا ہے یعنی اللہ رب العزت کی معرفت اس کی موجودگی اور قدرتوں کا یقین پیدا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ جس کی خاطر اسے توحید کا مفہوم بہت ہی آسان لفظوں میں لیکن پورے وثوق کے ساتھ سمجھایا جائے پھر اس کے بعد اسے اللہ سبحانہ وتعالی کی قدرت کاملہ سے متعارف بھی کرایا جائے۔ نفسیاتی طور پر بچے کو اندر سے مضبوط کیا جائے۔ بچے کو ہمہ وقت یہ احساس ہو کہ اس کے والدین اور اساتذہ  کی غیر موجودگی میں بھی کوئی ذات ہے جو مسلسل اس کے ساتھ ہے جو ان لوگوں سے کہیں زیادہ بڑی، طاقتور، باخبر اور بے انتہا محبت کرنے والی ہے۔
اور یہ ذہن سازی ان شاءاللہ بہت ہی مفید ثابت ہوگی۔ ایک طرح سے یہ بچے کے دل و دماغ پر اللہ کی محبت اور اس کی سلطنت قائم کرنے جیسا ہے۔ اگر ایک بار بچہ اللہ کی معرفت سے سرفراز ہوجاتا ہے تو پھر ان شاءاللہ اس کے لیے اللہ کے کلام کو سیکھنا سکھانا اور اس پر عمل کرنا بھی بہت آسان ہوجائے گا۔ قرآن سیکھنے کے لیے ان شاءاللہ اس کے پاس سب سے بڑی وجہ اپنے رب کی محبّت ہوگی جس کے حصول کی خاطر وہ بلا رکے بلا تھکے اس راہ میں اپنی منزل کو بڑھتا چلا جائے گا۔
یہ حدیث ہمارے لیے ایک زبردست گائیڈ لائن فراہم کرتی ہے جب اللہ کے رسول نے سواری پر اپنے پیچھے بیٹھے ہوئے دس سالہ عبداللہ سے فرمایا کہ اے عبداللہ!

(( يا غُلامُ إنِّي أعلِّمُكُ كَلماتٍ: احفَظِ الله يَحْفَظْكَ، احفَظِ الله تَجِدْهُ تجاهَكَ، إذا سَأَلْت فاسألِ الله، وإذا استَعنْتَ فاستَعِنْ باللهِ، واعلم أنَّ الأُمَّةَ لو اجتمعت على أنْ ينفعوك بشيءٍ، لم ينفعوك إلاَّ بشيءٍ قد كَتَبَهُ الله لكَ، وإنِ اجتمعوا على أنْ يَضرُّوكَ بشيءٍ، لم يضرُّوك إلاَّ بشيءٍ قد كتبهُ الله عليكَ، رُفِعَتِ الأقلامُ وجَفَّتِ الصُّحُفُ ))
رواه الترمذيُّ ، وقال : حديثٌ حسنَ صَحيحٌ

ترجمہ: ابوالعباس عبداللہ بن عباس رضي الله عنه سے مروی ہے، فرماتے ہیں: میں ایک روز رسول اللہ ﷺ کے پیچھے تھا، آپ نے مجھ سے فرمایا: اے لڑکے! میں تجھے چند باتوں کی تعلیم دیتاہوں: تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر، اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کرے گا، تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر، ہمیشہ اسے اپنے سامنے پائےگا، جب بھی کچھ مانگنا ہو، اللہ تعالیٰ سے مانگ اور جب بھی مدد طلب کرنی ہو اللہ تعالیٰ سے طلب کر، اچھی طرح جان لے اگر ساری امت جمع ہوکر تجھے کوئی فائدہ پہنچانا چاہے تو اللہ تعالیٰ کے لکھے ہوئے کے سوا کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتا اور اگر ساری امت اکٹھی ہوکر تیرا کوئی نقصان کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ کے نوشتۂ تقدیر کے سوا کچھ بھی نقصان نہیں کرسکتی، قلم اٹھالیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہوچکے ہیں۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ بچوں کو امورِ عقیدہ کی تعلیم دینی چاہیے، بلکہ عقیدہ کی جو اہمیت کتاب و سنت سے اجاگر ہوتی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ تعلیمِ دین میں اسی سے آغاز کیا جائے۔ چونکہ ابتدائی تعلیم بچے کے دل و دماغ پر  نقش ہو جاتی ہے اور ہمیشہ یاد بھی رہتی ہے، لہذا صغرسنی ہی سے عقیدہ کی تعلیم انتہائی نافع ثابت ہوگی۔
یہ حدیث نصیحت کے ایک خیرخواہانہ اور ناصحانہ اسلوب کا شاہکار ہے، آپﷺ نے فوراً نصیحت شروع کرنے کی بجائے پہلے (یاغلام انی أعلمک کلمات) کہہ کر ان کی توجہ اپنی جانب مبذول فرمائی، پھر نصیحت شروع کی۔
ہمیں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بچوں کی ذہن سازی پہلے کی جائے پھر انھیں کچھ سیکھنے پر آمادہ کیا جائے۔

*(٣)معرفت قرآن:
بچے کو قرآن کریم کی عظمت سے واقفیت دلائی جائے جس کے لیے بچّے کی نفسیات کا خیال رکھتے ہوئے اسے نیکیوں، اجر وثواب سے متعارف کروایا جائے، اس کے معصوم دل و دماغ کے مطابق آسان فہم زبان میں بات کی جائے بہت بھاری بھرکم جملے نہ ہوں، ایسی مثالوں کا انتخاب کیا جائے جس سے بچے اجر و ثواب کے کانسپٹ کو سمجھ پائیں۔ قرآن پڑھنے پر آمادہ کرنے کے لیے جبر کی بجائے محبت اور شوق دلانے سے کام لینا چاہیے۔
امام ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں کو احکام سکھاتے ہوئے ساتھ اُن کے دلائل بھی بتائے جائیں۔ آپ ایسا کریں گے تو اس کے دو فائدے ہوں گے:
پہلا: بچے کو دلائل کے ساتھ بات کرنے اور ماننے کی عادت پڑ جائے گی۔
دوسرا: اسے اللہ اور  نبی ﷺ کی ذات سے محبت ہوگی۔
کیونکہ نبی کریم ﷺ ہی قابل اتباع امام ہیں کہ جن کی ہر کام میں پیروی کرنی ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت اس بات سے غافل ہے، لوگ اپنے بچوں کو احکام کی تعلیم دیتے ہیں لیکن اس تعلیم کو دلائل کے مصدر سے مربوط نہیں کرتے
جو کہ کتاب و سنت ہے۔ (القول المفید علی کتاب التوحید { 2/423})
بچے کو قرآنی فضائل اور اس کی برکات سے روشناس کرایا جائے جس کے لیے صرف زبانی کام نہیں ہو بلکہ اسے ان چیزوں کا ادراک کرایا جائے جسے رب اعلی نے ہم پر بطور احسان عطا کیا ہے۔
بچہ جب بھی سوال کرے کہ ہم اس کتاب کو کیوں پڑھتے ہیں اور اسے پڑھنے سے کیا ہوگا؟
آپ اسے بتلائیں کہ اس کے ہر حرف کے پڑھنے پر ایک نیکی ملتی ہے تو سوچو !!!!! جس نے مکمل قرآن اپنے سینے میں محفوظ کرلیا وہ انسان کتنا باسعادت ہوگا، اللہ عزو جل کے یہاں اس کا درجہ کس قدر بلند ہوگا۔ اسی طرح نیک کام کرنے پر اجر و ثواب پانے والی بات کو سمجھانے کے لیے پریکٹکلی یہ کیا جاسکتا ہے کہ بچّے سے اس کی کوئی بھی ذاتی معمولی چیز کچھ سیکنڈ کو عاریتا مانگیں اور جب بچہ اپنی چیز آپ کے حوالے کردے تب اس کے بدلے اسے دس چاکلیٹ /بسکٹ/یا کھلونے دیں پھر ساتھ ہی سمجھائیں کہ جس طرح تمھاری ایک معمولی چیز کے بدلے میں تمھیں یہ دس چاکلیٹ ملی ہیں اجروثواب کا معاملہ بھی اللہ کے پاس ایسا ہی ہے۔ قرآن پڑھنے کے عوض صرف ایک حرف کے بدلے وہ اپنی دس دس نیکیاں تمھارے نام لکھتا ہے۔
بچے یونہی خالی خولی اجر و ثواب خیر و برکت کو نہیں سمجھ سکتے۔ بحيثيت ذمہ دار والدین اور اساتذہ، ہمیں انھیں سمجھانے کے لیے مختلف طریقوں کا استعمال کرنا چاہیے۔ اسی ضمن میں انھیں اجر وثواب کی کیفیت اور اس کی صورت سمجھانے کو یہ بتایا جاسکتا ہے کہ بیٹا!!!! تمھارے والدین، تمھارا گھر، کھلونے، کپڑے یہ سب اللہ کی طرف سے ہیں اور تمھارے لیے یہی اجر اور ثواب ہے جو اللہ سبحانہ و تعالی گاہے بگاہے خوش ہوکر تم کو اپنی نعمتیں تم کو دیتا رہتا ہے اور مزید بھی دے گا۔
بچوں کی طبیعت فطرتا متجسس، متحرک اور دفاعی ہوتی ہے۔ اس فطرت کے تحت بھی بچوں کو قرآن کریم کی تاثیر سمجھائی اور محسوس بھی کرائی جاسکتی ہے۔ چونکہ بچے غیر مرئی مخلوق جن و شیاطین کی باتوں میں بے حد دلچسپی رکھتے ہیں، ان کی باتوں اور قصّے کہانیوں کو بچے بڑے اشتیاق سے سنتے ہیں۔ تخیلاتی طور پر ان سے لڑنا انھیں شکست دینا بچوں کے لیے بہت دلچسپ کھیل ہوتا ہے۔ جس کی خاطر اکثر وہ الٹے سیدھے منتر پڑھتے ہوئے دکھائے دیتے ہیں اور یہ کلمات مہمل ہونے کے ساتھ بسا اوقات شرکیہ بھی ہوتے ہیں۔
کیا ہی خوب ہو کہ بچوں کو  آیۃ الکرسی کے فضائل سمجھا دیے جائیں کہ اس سورت کو پڑھنے کا فائدہ ان کی دلچسپیوں سے خاصا متعلق ہے۔ بچے بڑے ہی خوش ہوکر اس سورت کا اہتمام کرتے ہیں جب انھیں یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ سورت جن و شیطانوں کو بھگانے والی ہے اور آگ چوری اور ڈکیتی سے محفوظ کرنے والی ہے۔
اسی طرح سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات کو یاد کرنے کی فضیلت بتلانا (فتنہ دجال سے حفاظت ) اور بچوں کو اس کے حفظ پر ابھارنے کی ایک عمدہ کوشش ثابت ہوسکتی ہے۔ بچوں کے لیے دجّال بھی ایک سسپنس ہے وہ بہت ہی پرجوش ہوکر اس کے متعلق احادیث سنتے ہیں۔
معوذتین کی اہمیت بتلاتے ہوئے بچوں کو قرآنی آیات کی طاقت کا احساس دلانا چاہیے کہ یہ چھوٹی سی سورتیں اپنے اندر کیسی ناقابل تسخیر قوت رکھنے والی ہیں، آپ نہ صرف اسے یاد کریں بلکہ صبح و شام اسے اپنے آپ پر دم کرکے اپنی حفاظت کا اہتمام خود کریں۔
خلاصہ کلام یہ کہ بچوں کو محض زبانی چیخ پکار اور جبر و تشدد سے قرآن کریم سیکھنے کی رغبت نہیں دلائی جاسکتی، یہ طریقہ کار ہرگز بھی مفید اور موثر نہیں ہوسکتاـ قرآن کریم سے بچے کا مضبوط تعلق بنانے کی خاطر اسے قرآن سے محبت کا عادی بنانا شرط اول ہے۔ وہ جو بھی سیکھے کم یا زیادہ کلام اللہ کے ہر ہر لفظ سے اس کا رشتہ رسمی نہ ہو بلکہ قلبی، روحانی اور جذباتی بھی ہو۔ اسے سمجھایا جائے کہ اس کتاب کا نام ہی قرآن کریم اس لیے ہے کہ یہ عزت و تکریم تقسیم کرنے والی کتاب ہے، جو اس کتاب کا ہوگیا یہ کتاب اس کے لیے کافی ہوگی جیسے :

(“إن الله يرفع بهذا الكتاب أقواماً ويضع به آخرين’ ” ) (صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب فضل من یقوم بالقرآن ویعلمہ…الخ‘ ح:٨١٧)

اللہ رب العزت اس کتاب کے ذریعے قوموں کو سر بلندی عطاکرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعے قوموں کو پستی میں بھی گراتا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح فتح الباری میں اس طرح فرماتے ہیں:

یرفع الله المؤمن العالم على المؤمن غير العالم

(للہ اس کتاب کے عالم مومن کو نہ جاننے والے مومن عالم پر فضیلت عطا کردیتا ہے)
بچوں کو بتایا جائے کہ دنیا کے سبھی علوم پر اس علم کو سبقت ملی ہوئی ہے۔ اللہ رب العزت دنیا میں قرآن پڑھنے والے کو جزاء کے روز بلائے گا اور کہے گا: اے صاحب قرآن!!!! (قرآن پڑھنے اور اسے حفظ کرنے والے) سے (قیامت کے دن) کہا جائے گا پڑھتا جا اور (درجے) چڑھتا جا اور اس طرح آہستہ آہستہ تلاوت کر جیسے تو دنیا میں ترتیل سے پڑھتا تھا پس تیرا مقام وہ ہوگا جہاں تیری آخری آیت کی تلاوت ختم ہوگی۔‘‘ (سنن أبی داود۔ الوتر۔ باب کیف یستحب الترتیل فی القراء ۃ ح: ١٤٦٤)
بچے کو سمجھایا جائے کہ بیٹا!!! “جس روز ساری دنیا کے انسان ایک ایک نیکی کو ترس رہے ہوں گے اللہ رب العزت ایک باعمل قرآن پڑھنے والے کو بلاکر کہے گا کہ تو جنت کی سیڑھیاں چڑھتا چلا جا اور جہاں تیری تلاوت ختم ہوجائے وہی تیری منزل ہے۔
یہ یقینا بہت بڑا شرف ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ تم اپنی حقیقی کوشش سے اس اعزاز کے قابل بنو”۔

*(٤) کثرت دعا کا اہتمام:
بلاشبہ یہ ایک نہایت ہی عظیم اور بلند و برتر کام ہے جسے انسان کا صرف اپنی کوششوں کے بل بوتے پر پایہ تکمیل تک پہنچانا تقریبا ناممکن ہے لہذا اس کام کے لیے ہمہ وقت اللہ سبحانہ کی مدد طلب کرنی چاہیے۔ عموما ہوتا یہ ہے کہ ہم ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ کی ﺍﭼﮭﯽ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻣﺎﺩﯼ ﺫﺭﺍﺋﻊ کا ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ  تو ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ لیکن جس ﭼﯿﺰ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﮯ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﮯ لیے ﮐﺜﺮﺕ ﺳﮯ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﻧﺎ، یہ انبیاء کا شیوہ ہے۔ دعاء ابراھیم دیکھیں:

ﺭَﺏِّ ﺍﺟْﻌَﻠْﻨِﻲ ﻣُﻘِﻴﻢَ ﺍﻟﺼَّﻠَﺎﺓِ ﻭَﻣِﻦ ﺫُﺭِّﻳَّﺘِﻲ ۚ ﺭَﺑَّﻨَﺎ ﻭَﺗَﻘَﺒَّﻞْ ﺩُﻋَﺎﺀِ

(اﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﻟﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ! ﻣﺠﮭﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺎ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﺭﮐﮫ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻭﻻﺩ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ، ﺍﮮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺭﺏ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻋﺎ ﻗﺒﻮﻝ ﻓﺮﻣﺎ)

ﻭَﺃَﺻْﻠِﺢْ ﻟِﻲ ﻓِﻲ ﺫُﺭِّﻳَّﺘِﻲ ﺇِﻧِّﻲ ﺗُﺒْﺖُ ﺇِﻟَﻴْﻚَ ﻭَﺇِﻧِّﻲ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﻤُﺴْﻠِﻤِﻴﻦَ
ﺭَﺏِّ ﺍﺟْﻌَﻠْﻨِﻲ ﻣُﻘِﻴﻢَ ﺍﻟﺼَّﻠَﺎﺓِ ﻭَﻣِﻦ ﺫُﺭِّﻳَّﺘِﻲ ۚ ﺭَﺑَّﻨَﺎ ﻭَﺗَﻘَﺒَّﻞْ ﺩُﻋَﺎﺀِ ”

بچوں کی فوز و فلاح کے لیے اﷲ سے دست بہ دعا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ایک بات اور سمجھ لیں کہ ماں باپ اور اساتذہ کی عبادت و ریاضت بچوں کی فلاح و کامرانی میں کلیدی کردار انجام دیتی ہیں۔ اس ضمن میں حضرت سعید بن المسیبؒ کے عمل سے ہم کو رہنمائی و ہدایت حاصل ہوتی ہے۔ آپ اپنے بیٹے سے فرماتے ہیں: ’’میں اپنی نماز میں تیری وجہ سے اضافہ کرتا ہوں، ہوسکتا ہے کہ اﷲ تعالی میری وجہ سے تیری رعایت کردے، پھر آپ نے یہ آیت کریمہ ’’وکان ابوھماصالحا‘‘ (سورہ کہف ۸۲) تلاوت فرمائی۔ علامہ حافظ ابن کثیر ؒ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے نیک آدمی کے سبب اس کی اولاد کے ساتھ رعایت کی جاتی ہے اور والد کی عبادت کی برکات اسے دنیا و آخرت دونوں میں حاصل ہوتی ہیں۔‘‘
لہذا سمجھ یہ آیا کہ والدین کا اللہ کے اوامر کی بجاآوری اور اس کی منھیات سے پرہیز اور ہمہ وقت بچے کے علم و عمل کے لیے اللہ کے حضور سوال کرتے رہنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔

*(۵) ساز گار گھریلو عوامل:
ایک بچے کے کچھ سیکھنے سکھانے میں اس کا گھریلو ماحول سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ کوشش ہونی چاہیے کہ گھر کا ماحول پاکیزہ، آسودہ اور اطمینان بخش ہو۔ بچہ اس ماحول میں جب اپنی آنکھیں کھولے، سانس لے تو وہ خود اسلامی تعلیم و تربیت کا تیار کردہ بولتا ہوا آئینہ ثابت ہو۔
اس لیے ضروری ہے کہ گھر میں اہل خانہ کا باہمی تعلق اس قدر ملاطفت آمیز ہو کہ بچے کی طبیعت پر اس کے خوشگوار اثرات نظر آئیں۔ بچہ گھر والوں کی صحبت میں خود کو ہشاش بشاش محسوس کرے، دوران تعلیم اس کی تھکی ماندی طبیعت گھر والوں کی صحبت میں پھر سے تر و تازہ ہوجائے۔
قرآن کریم سیکھنے والا بچہ جب اپنے گھر میں داخل ہو تو نہ صرف اس کی عزت و تکریم کی جائے بلکہ شفقت و محبت کا اظہار بھی کیا جائے۔ حسب استطاعت اس کی خاطر مدارت کا انتظام کیا جائے تاکہ بچہ اہل خانہ کی نظر میں اپنے آپ کو محترم اور اہم  تصور کرے، اس سے اس کا اعتماد پروان چڑھے گا۔
عموما گھروں میں جن اخلاقی برائیوں کی کثرت دیکھی جاتی ہے ان برائیوں کے جرثومے بچے کے اندر غیر محسوس طریقے سے داخل ہوجاتے ہیں اور یہ اپنےاثرات چھوڑنے میں نہایت ہی مستعد ہوتے ہیں۔ ایک بار کوئی ان کے زیر اثر آگیا تو پھر بچوں پر اعلی سے اعلی تعلیم اور وعظ و نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوتا اس لیے لازم ہے کہ گھروں کو صوتی، سمعی اور بصری آلودگی  سے پھیلنے والے جراثیم سے بچایا جائے اور غیبت، جھوٹ، چغلی، بدکلامی جیسی خطرناک اخلاقی بیماریوں سے پاک رکھا جائے کیونکہ ان کے غیر معمولی اثرات بچوں کے اندر ہمیشہ کے لیے کنڈلی مار کر بیٹھ جاتے ہیں۔
گھروں کا صوتی آلودگی سے پاک ہونے سے مراد گھر کو شور شرابہ سے محفوظ رکھا جائے خواہ وہ گھر کے کسی الیکٹرانک کا شور ہو یا افراد خانہ کا آپسی بات چیت اور لڑائی جھگڑے کا شور ہو۔ یہ شور بچے کے تخیل میں ایک شدید قسم کا دخل ہوتا ہے اور تحقیق شدہ بات ہے کہ اضافی شور ذہن کو تھکا دیتے ہیں۔
اسی طرح بصری آلودگی سے بھی ایک طالب قرآن کو بچانا چاہیے، اسکرین سے بچے کو جتنا ممکن ہو بچائیں۔ کیونکہ ٹی وی، میڈیا ایمان و اخلاق کے علاوہ ذہن کے ان ترقی پذیر حصوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں جہاں پر انسان کچھ سیکھ رہا ہوتا ہے یا کسی چیز پر اپنا ارتکاز کررہا ہوتا ہے۔ ٹی وی میڈیا کا اضافی اور بے جا استعمال سیدھے ذہن پر حملہ کرتا ہے جس سے قوت حافظہ و مطالعہ پر گہرا اثر پڑتا ہے اور بچے کی قوت ارتکاز انتشار میں تبدیل ہوتے ہوتے ناکارہ ہوجاتی ہے۔
ساتھ ہی سمعی آلودگی سے بھی بچے کے دل و دماغ کو بچانے کا اہتمام کرنا چاہیے اور ہمارے پاس  سمعی آلودگی کی سب سے واضح مثال ہے اہل خانہ کا غیبت و چغلی جیسے رذیل افعال میں شریک ہونا۔
غرضیکہ قرآن سیکھنے والے بچے کو ہر طرح کے ڈسٹریکشنز سے محفوظ رکھنا چاہیے۔ اس کے  نقصانات کو ایک دوسرے زاویے سے بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ ایک بچہ قرآن کریم سیکھنے پر مامور کیا جاتا ہے اور یہی بچہ جب اپنے گھر میں اپنے والدین اور بھائی بہنوں کو میوزک اور فلم بینی میں غرق پاتا ہے تو بچے کا ذہن ایک قسم کے تضاد کا شکار ہوجاتا ہے کہ یہ کیسی کتاب ہے اور کیسی ذمہ داری ہے جو صرف مجھ پر عائد ہے۔ کیونکہ ہمارے یہاں بچے کو بتلایا جاتا ہے “بھئی اس خاندان کی دینی حمیت و غیرت اور اجر و ثواب کا سارا بار اب تمھارے کندھوں پر ہے میرے بچے! !!! لہذا تمھارے قدم لڑکھڑانے نہ پائیں، اب پورے خاندان کی جانب سے تم ہی قرآن پڑھو اور سب کی بخشش اللہ سے کرواو، تقوی شعار بنو اور سب کے فرائض و نوافل بھی تم ہی ادا کرو اور گناہوں سے باز رہو”۔
اندازہ لگائیے اس بچے کی ذہنی حالت کا، یہاں گھر والوں کے رویے سے جس قسم کے تضاد کا شکار ہوتا ہے وہ بچہ صرف سوچتا نہیں اندر سے روتا ہے۔ وہ بے چین ہو اٹھتا ہے پھر وہ کتاب اور اس کے سیکھنے سکھانے کے عمل سے ہی متنفر ہوجاتا ہے۔ لہذا صرف بچے کو نیک اور پارسا بننے کی تاکید نہ کریں، بلکہ کرنے سے پہلے بچے کے سامنے عملی نمونہ بن کر دکھائیں۔
گھروں سے قرآن کی صدا گونجتی ہو، گھر کا ہر فرد قرآن کریم سے جڑا ہوا ہو۔ قرآن سیکھنے کے لیے جس بچے کا انتخاب کیا گیا ہے اس کے علاوہ بھی اس کے دیگر بھائی بہن کو بھی قرآن سیکھنے پر اتنا ہی زور دیا جایے جتنا اس بچے پر دیا جاتا ہے
تاکہ بچے کے ذہن میں یہ بات راسخ ہوسکے کہ یقینا یہ کتاب کوئی عظیم کتاب ہے جسے سب نے اپنے  لیے لازمی کیا ہوا ہے۔

*(٦) نظر بنائے رکھیں:
قرآن سیکھنے والے بچے کے ساتھ پوری مستعدی دکھائی جائے، بچّے کے اسباق اور ان کو دہرانے پر نگاہ رکھی جائے۔ اگر کئی دنوں تک بچہ اپنے سبق میں آگے نہ بڑھ سکے تو استاد سے جاکر معلوم کریں، ممکن ہے کچھ مشکلات بچے کے اسباق میں آڑے آرہی ہوں یا پھر بچّہ ہی اپنی تساہلی کے باعث یومیہ سبق سنانے سے جی چراتا ہو۔
اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو وقت پر مسئلہ معلوم ہوجائے گا اور آپ اس کا مناسب حل بھی نکال سکتے ہیں۔ ورنہ عموما تو یہی ہوتا ہے کہ دو دو سال  ہوجاتے ہیں اور بچوں کا نورانی قاعدہ مکمل نہیں ہوپاتا۔ استاد سے مسلسل رابطہ بنائے رکھیں اور ساتھ ہی اپنی نگاہیں بچے کی کارکردگی پر بنائے رکھیں تاکہ واقعتا پتہ چل سکے کہ بچے کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے یا یہ سب محض کاہلی اور بے دلی کا نتیجہ ہے۔
ہمیشہ کوشش یہی ہو کہ بچے کی تعلیم  کے لیے نت نئی تکنیک تلاش کی جائے، بچے کی ذہنی استعداد اور اس کی صلاحیتوں کے اعتبار سے اس کے اسباق کی تقسیم کی جائے اور جس طریقے سے بھی اسے قرآن پڑھنا، سمجھنا اور یاد کرنا آسان لگتا ہو ہر اس طریقے سے بچے کی مدد کی جائے ایک ہی طریقہ سب پر لاگو نہ کیا جائے۔
(7) مسجد سے تعلق بڑھائیں:
بہت سے بچے قرآن کریم پڑھنا تو چاہتے ہیں لیکن ان کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مسجد کے ماحول سے گھبراتے ہیں، مسجد جاکر قاری صاحب سے نہیں پڑھنا چاہتے بلکہ گھر میں پڑھنا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال میں والدین کا فرض بنتا ہے کہ بچوں کی مسجد سے دوری کی وجہ جو بھی ہو وہ اپنے طور پر بچوں کو مساجد کی فضیلت سے آگاہ کریں۔ انھیں حدیث سے سمجھائیں کہ باوضو ہوکر مسجد کی طرف جانے والوں کے ہر قدم پر ایک گناہ مٹادیے جاتے ہیں اور ایک نیکی ملتی ہے۔ ( صحیح مسلم: جلد اول:حدیث نمبر 1516)
مسجد جانے کا شوق اس کے دل میں پیدا کرنا چاہیے۔ اللہ کے گھر میں جاکر قرآن سیکھنے سکھانے والوں پر اللہ کی جانب سے مقرب فرشتوں کے ذریعے رحمتوں کے نزول والی بشارت سناکر بچے کو مسجد جاکر اس میں تلاوت اور عبادت کرنے پر حاصل ہونے والے ثواب کے حصول پر ابھارنا چاہیے تاکہ بچے کے دل میں مسجد جانے کا شغف پیدا ہو  اور اللہ کے گھر سے اس کا تعلق استوار ہو۔ اسی طرح قرآن کو حسن صوت اور تجوید و ترتیل کے ساتھ پڑھنے پر ملنے والی سعادت کا حریص بنانا چاہیے۔
جس عرصے میں بچّہ قرآن کریم سیکھ رہا ہو اس دوران بچے کی غیر ضروری مصروفیات ترک کروادیں، پورا انہماک قرآن سیکھنے کی جانب ہو اور اس کے لیے ایسا ماحول بھی بنایا جائے۔ جس کا سب سے موثر طریقہ ہے کہ گھر میں کثرت تلاوت کا اہتمام کیا جائے، گھر کا ماحول قرآن کے ذریعے روحانی اور نورانی بنایا جائے بچے کو صرف فضیلتیں نہ گنائی جائیں بلکہ ان پر خود عمل کرکے دکھایا جائے۔
*(٨) اعادہ کی پابندی:
بچّہ فطرتا اور طبیعتا بے حد متجسس ہوتا ہے اسے ہر نئی چیز سیکھنے کا بے حد شوق ہوتا ہے اور وہ مسلسل، بلا رکے سیکھتا رہتا ہے۔ بڑوں کے مقابلے میں بے حد تیزی سے بہت کچھ سیکھ لیتا ہے اور اپنے اندر اتارتا چلا جاتا ہے۔
تو یہاں سمجھنے والی بات یہ ہے کہ جب اتنا سارا مواد بچّے کے دل و دماغ میں موجود ہو اور ان میں سے وہ کچھ کا استعمال کرتا ہو اور کچھ کا نہ کرتا ہو تو ظاہر ہے جس چیز کا استعمال بچہ نہیں کرے گا وہ مواد اس کے ذہن سے ضرور خارج ہو جائے گا۔
لہذا اگر قرآنی اسباق کا اعادہ کروانے پر پابندی نہیں کی گئی تو نئی چیزیں سیکھنے کا شوقین بچّہ جوں جوں نئی باتیں سیکھے گا پچھلا علم اس کے ذہن سے محو ہوتا جائے گا اور یہ”علم قرآن” ہو تو زیادہ فکر مندی کی بات ہے۔ اس کی تائید خود نبی کریم سے بھی ملتی ہے۔
اللہ کے رسول نے فرمایا:

تعاھدوا القرآن فو الذین نفسی بیدہ لھو اشد تفصیا من الابل فی عقلھا۔ (متفق علیہ)

(قرآن کی خبر گیری کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ  میں میری جان ہے اونٹ اپنی رسی سے باندھا گیا ہے۔ اگر اس کی خبر گیری رکھتا ہے تو وہ بندھا رہتا ہے، اگر اس کو چھوڑ دیتا ہے تو جاتا رہتا ہے)
اونٹ میں یہ صفت ہے کہ جب یہ چلتا ہے تو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا بنسبت دوسرے جانوروں  کے جب وہ چلتے ہیں تو پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں۔
اسی طرح اگر بچہ مسلسل قرآن کی تلاوت کرتا رہے تو قرآن اس کے سینہ میں محفوظ رہے گا ورنہ اونٹ کی طرح چلا جائے گا اور اس کے سینے سے محو ہوجائے گاـ لہذا یہ سرپرستوں پر ایک بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے اعادہ کا نظم و ضبط پابندی کے ساتھ قائم رکھیں۔
قرآن مجید کی پابندی سے تلاوت نہ کی جائے اور قرآن مجید کو چھوڑ دیا جائے تو انسان اسے بھول جاتا ہے، اگرچہ ہر کسی کے چھوڑنے کی نوعیت میں فرق ہوتا ہے، جیسے کہ ابن قیم رحمہ اللہ “الفوائد” (صفحہ: 82) میں کہتے ہیں:
“قرآن مجید انسان اسی وقت بھولتا ہے جب قرآن مجید سے رو گردانی کرتے ہوئے کسی اور چیز میں مشغول ہو جائے، یقیناً یہ ایک بڑی مصیبت ہے، اور اس کی وجہ سے مزید مصیبتیں کھڑی ہو سکتی ہیں۔ اجر و ثواب سے محرومی بھی یقینی ہے”
علامہ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ کہتے ہیں افسوس کا مقام ہے کہ بعض طلبہ قرآن مجید یاد نہیں کرتے ہیں، بلکہ کچھ تو قرآن صحیح سے پڑھ بھی نہیں پاتے ہیں، واقعی یہ بہت بڑا خلل ہے دینی علوم سیکھنے کے منہج میں، اسی لیے میں سختی کے ساتھ کہتا ہوں کہ طلبہ پر قرآن کا حفظ کرنا، اس پر عمل کرنا، اس کی دعوت دینا اور اس کو منہج سلف صالحین کے مطابق سمجھنا واجب اور ضروری ہے۔ (كتاب العلم: ٣٥/١)

*(9) بچے اور مربیان کے مابین تعلق:
بچے کا اپنے والدین اور اساتذہ سے باہمی تعلق مضبوط ہو اور خوشگوار ہو۔ بچہ اپنے بڑوں پر آنکھ بند کرکے یہ یقین رکھنے والا ہو کہ اس کی راہ میں مشکلیں اور حالات جتنے بھی نامساعد ہوں اس کے والدین ہر قدم اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسی طرح اساتذہ سے بھی وہ یہی امید رکھتا ہو کہ اس کی زندگی میں والدین کے بعد اگر کوئی خیر اندیش، رہنما اور مشفق و مہربان ہے تو وہ اس کا استاد ہے۔ بچّہ قرآن کریم سیکھتے ہوئے کسی قسم کے سوال یا افہام و تفہیم میں تردد محسوس نہ کرے۔
خشیت استاد یا خشیت والدین اگر حفظ قرآن کا وسیلہ بن رہے ہوں تو یہ بڑی خطرناک بات ہے۔ کیونکہ بچے کے دل میں خشیت صرف اس کتاب کے بنانے والے کی ہونی چاہیے نہ کہ پڑھانے والوں کی۔ انسانوں کا ادب و احترام اپنی جگہ مسلم لیکن بے جا خوف اور پریشر یہ نفسیات پر بری طرح حاوی ہوجاتے ہیں اور انسان اور اس کی صلاحیتیں عمر بھر کے لیے ناکارہ ہوجاتی ہیں اس لیے ان سے گریز لازمی ہے۔
اور یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ غیر اللہ کا خوف ایمان کا سب سے بڑا دشمن ہے جسے خود نبی نے ابن عباس رضی اللہ عنھما کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھاکر سمجھایا: (“اے لڑکے یہ بات اچھی طرح جان لو!!!! اگر ساری امت جمع ہوکر تجھے کوئی فائدہ پہنچاناچاہے تو اللہ تعالیٰ کے لکھے ہوئے کے سوا کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتا اور اگر ساری امت اکٹھی ہوکر تیرا کوئی نقصان کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ کے نوشتۂ تقدیر کے سوا کچھ بھی نقصان نہیں کرسکتی”)
تشدد اور خوف کے طریقہ کار سے بچہ جو کچھ بھی سیکھے گا وہ علم نتیجہ خیز اور دیرپا نہیں ہوگا۔ آج مار پیٹ کے خوف سے وہ قرآن سیکھ تو لے گا لیکن اس کا کوئی قلبی تعلق اس مقدس کتاب سے نہ بن پائے گا اور یہ قرآن کریم کو سیکھنے، سکھلانے کی بہت ہی بے ڈھنگی شکل ہوگی جس کے مثبت اثرات کبھی بچے کی زندگی پر نظر نہیں آسکتے۔ جونہی بچہ آپ کی دسترس سے آزاد ہوگا، سب سے پہلے اس کتاب سے خود کو دور کردے گا جس کی وجہ سے وہ اپنے بچپن میں چھڑیاں کھایا کرتا تھا اور ہمہ وقت خوف میں مبتلا رہتا تھا۔
مشاہدے کو ایسی بہت سی مثالیں ہمارے آس پاس بکھری پڑی ہیں، جہاں لوگ حافظ قرآن یا عالم دین تو کثیر تعداد میں ہوتے ہیں لیکن ان کی عملی دنیا میں کتاب و سنت کی ایک ہلکی سی جھلک بھی دکھائی نہیں پڑتی۔ اساتذہ اور والدین بچوں کا اعتماد جیتنے کی کوشش کریں بلاشبہ یہ بڑی طویل اور صبر آزما مدّت ہوتی ہے۔
خود پر کنٹرول کرنا سیکھیں، بچے کو اپنا دوست بنانے کی کوشش کریں۔ ٹائم، لمٹ اور رفتار پر قابو رکھیں۔ عجلت پسندی اور جلد بازی سے پرہیز کریں۔ بچہ جتنا کچھ سیکھ رہا ہو اس پر اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ انعامات بھی دیتے رہیں، ساتھ ہی اگر اسے کچھ مشکلات پیش آتی ہوں تو بھی ایسا ماحول بناکر رکھیں کہ بچہ بے جھجھک آپ سے اپنے سبق کی مشکلات بتاسکے اور آپ اس کی پریشانیوں کا حل نکال سکیں۔

*حفظان صحت
*(١٠) متوازن غذا:
قرآن سیکھنے والے بچّے کے لیے اس کی صحت کا غیر معمولی طور پر عمدہ ہونا بہت ضروری ہے۔ ہم اگر بچے کے غذائی دائرہ کو درست کرلیں تو ان شاءاللہ ہمارے بچے کی تعلیم اور اس کے اخلاق درست ہوجائیں گے۔
ایک دور ہوا کرتا تھا جب ایک عام طالب علم کے ساتھ شرعی علوم سیکھنے والا طالب علم بھی علم ِبدن اور علمِ غذاء جیسے علوم پر دسترس رکھتا تھا۔ وقت بدلا نصاب بدلا۔۔۔اب فقط یہ سارا کام مغرب نے اپنے ذمّہ لے رکھا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ سلف نے اس پر بہت روشنی ڈالی ہے کہ حلال اور صاف ستھری غذا کا کیا معیار ہونا چاہیے۔ کیونکہ اطباء اور مصلحین نے ماضی بعید میں روح کے بگاڑ کو جسم کے بگاڑ سے جوڑ کر دیکھا ہے۔ پہلے انسان کو اس کی خوراک کو متوازن کرنے پر ابھارا ہے پھر ان کی روحانی کمزوریوں پر کام کیا ہے۔
بچے کی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے کیونکہ اگر بچہ اچھی صحت کا مالک ہے تو لازما وہ مستقبل میں ایک اچھی کارکردگی کا مالک بن سکتا ہے۔ جس کی خاطر اسے اچھی متوازن خوراک دی جانی چاہیے۔ موسمی پھل، دودھ، سبزیاں، گوشت، انڈے، سوکھے میوے لازما اس کی غذا میں شامل کرنا چاہیے۔ بہت زیادہ کھٹّی یا میٹھی چیزوں اور ٹھنڈے ماکولات و مشروبات سے پرہیز کروانا چاہیے کیونکہ ایسی غذائیں جسم میں کاہلی کا باعث بنتی ہیں اور مزاج میں تندہی لاتی ہیں۔ اور گلا خراب کرنے کی وجہ بھی بنتی ہیں۔
ایسی غذاؤں کا انتخاب کیا جائے جو ذہانت اور حافظہ کو قوی بنانے والی ہوں۔ پھلوں اور سبزیوں کے تازہ جوس کا استعمال کرنا چاہیے۔ پیک شدہ پھلوں کے رس صحت کے لیے مضر ثابت ہوسکتے ہیں۔ بچے کے ناشتہ کے لیے مقوی چیزوں کو بازاری اشیاء کا متبادل بنانا چاہیے۔

*(١١) ورزش:
بچّے کو یومیہ کسی ورزش کا عادی بنانا ایک بہت اچھا عمل ثابت ہوسکتا ہے۔ اس سے بچے کے اعصاب، حافظہ اور اس کی طبیعت کی سرشاری کے اسباب پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ اس کے پٹھّے اگر مضبوط ہوں گے تو اس کا سیدھا اثر اس کی قوت بصارت اور قوت سماعت پر ہوگا۔ وہ عام لوگوں کی بہ نسبت بہت تیز ہوگی لہذا ایک طالب علم کے لیے یہ بہت بڑی نعمت ہے۔ اس لیے بھی یومیہ چہل قدمی یا جسمانی سرگرمی بچے کے لیے بھی لازمی ہے۔ اس سے بچے کا نظام تنفس بھی بہتر ہوگا۔
بچے کو Stretch Break بھی دینی چاہیے۔ دراصل دوران درس ایک میانہ درجہ کے طالب علم کی ذہنی یکسوئی 45 منٹ سے لے کر 60 منٹ تک ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد بچے کی یکسوئی ختم ہونے لگتی ہے یا کمزور پڑنے لگتی ہے۔
اسٹریچ بریک سے مراد یہ کہ بچے کے پینتالیس سے ہچاس منٹ کی مسلسل پڑھائی کے بعد اسے ایک منٹ کا وقفہ دیں۔ اسے دس قدم کی چہل قدمی کروائیں اور دوبارہ اس کی جگہ پر واپس بلالیں۔ اس طرح ایک منٹ کی قربانی دے کر بچے کو پھر سے فریش کیا جاسکتا ہے۔

*(١٢) کھیل کود:
اس کے کھیل کے اوقات بھی لازمی طور پر مقرر کیے جائیں کیونکہ کھیل صرف صحت کا معاون ہی نہیں بلکہ یہ بچے کی نفسیات اور مضبوط اعصاب کا بھی معاون ہے۔ بچے کے ذہنی تناؤ اور بے دلی جیسی کیفیات کو دور کرنے کا ایک آسان اور صحت مند ذریعہ ہے بلکہ بچے کو اس کے امتحانات کے دوران بھی کھیلنے کے لیے بھیجنا چاہیے۔

محترم والدین اور اساتذہ !!!!!!!
مانا کہ ڈگر دور، راہ طویل اور قدم قدم مایوسیاں  مشکلات استقبال کو کھڑی ہیں لیکن سوچیں تو! !!
…جنت یونہی تو حاصل نہیں ہوگی، آپ کے سر پر تاج یونہی تو نہیں رکھا جائے گا، جزاء کے روز آپ کی سفارش یونہی تو اللہ رب العزت کے سامنے نہیں کی جائے گی، یونہی تو نہیں اللہ کے رسول نے آپ کو یہ اعزاز دے دیا کہ: خیرکم من تعلم القرآن و علمہ
تو آئیے محترم والدین و اساتذہ! !!!!!!! ایک بڑے عزم و ارادہ کے ساتھ، خالص نیتوں کے ساتھ اس عظیم مشن کے فعّال کارکن بن جائیں تاکہ یہ سرزمین اللہ سبحانہ و تعالی کے کلام سے گونج اٹھے۔

3
آپ کے تبصرے

avatar
3000
2 Comment threads
1 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
2 Comment authors
ام ھشامتبسم Recent comment authors
newest oldest most voted
تبسم
Guest
تبسم
السلام وعلیکم. بہن آپ کی یہ تحریر بہت اچھی ہے اور سکھانے والی ہے. مری بچی مارشل آرٹس سیکھتی ہے، اسکول جاتی ہے مگر قرآن پاک سیکھانے کے لئے ہم لوگوں نے کوئی اہتمام نہیں کیا تھا. میں عہد کرتی ہوں کہ میں خود قرآن پاک سیکھنے کے لئے اہتمام کروں گی، اپنی بچی کو سکھاؤں گی. انشاء اللہ
ام ھشام
Guest
ام ھشام
جزاکم اللہ خیرا آپ جیسی خاتون کی یہاں موجوگی ہم سب کے لئے باعث مسرت ہے ۔
آپ کا تبصرہ پڑھ کر احساس ہوا کہ بلاشبہ آپ ایک اچھی بیوی اور اچھی ماں ہوں گی ۔
آپ کی نسائیت کے رنگوں سے آپ کی کائنات سرشار ہوتی رہے آپ کی انوثت ہم سب کے لیے مثال ثابت ہو
ام ھشام
Guest
ام ھشام

جزاکم اللہ خیرا فری لانسرکے ہزارہا شکریےکے ساتھ پہلے پہل جب طفل مکتب نے قلم تھاما تو فری لانسر نے آگے بڑھ کر اس قلم کو اپنی سیاہی دی ، رہبری کی ۔ ورنہ عموما نیا لکھنے والوں کو معیاری پرچے اور میگزین منہ بھی نہیں لگاتے فری لانسر کے لئے ڈھیروں دعائیں اب کچھ اس تحریر کے بارے میں ایک لکھنے والا یہ کبھی طے نہیں کرپاتا کہ اس نے کبھی اچھا لکھا اور مجھے تو یہ خیال بھی نہیں گذرتا لیکن یہ تحریر پڑھکر مجھے لگتا ہے شاید اس کا ایک ایک نکتہ قرآن کریم کو پوری صحت… Read more »