ہر قدم حوصلہ لگتا ہے طلب لگتی ہے

صبا مومن  شعریات

ہر قدم حوصلہ لگتا ہے طلب لگتی ہے

ناؤ ساحل سے کسی کی یوں ہی کب لگتی ہے


تجربہ کار جو کہتے تھے ہمیں بات کوئی

پہلے اچھی نہیں لگتی تھی پر اب لگتی ہے


قابو رکھ اپنی زباں پر کہ گھروں میں اکثر

آگ لگتی ہے تو اس کے ہی سبب لگتی ہے


طوق بد نامی کا پڑ جاتا ہے پل دو پل میں

نام کے واسطے دن لگتا ہے شب لگتی ہے


رب کے احکام کی تردید ہو جس محفل میں

کس طرح وہ ہمیں تقریبِ طرب لگتی ہے


دل دُکھائے کوئی تیرا تو دُکھانے دے صبؔا

چوٹ اب دل کو ترے چوٹ سی کب لگتی ہے

آپ کے تبصرے

avatar
3000