وحشت شوق ہے، دشت شب تنہائی ہے

فائز بلرامپوری شعریات

وحشت شوق ہے، دشت شب تنہائی ہے

جستجو میرے تمناؤں کی صحرائی ہے


اے دل شوق ٹھہر! پائے تمنا رک جا

اب نہ وہ راہ ہے ان سے نہ شناسائی ہے


حال دل کون سنے، چارہ گری کون کرے

شہر کا شہر یہاں آج تماشائی ہے


نوچنا کرب سے میرا بھی یہ پیراہن دل

یہ بھی انداز وہی تیرا زلیخائی ہے


یہ ترا طرزِ تغافل بھی کہ ہمراہِ حیات

تجھ سے بہتر تو مرے ساتھ کی تنہائی ہے


اپنے خوابوں کو اسیر شب ہجراں کرکے

اپنے ارماں کو قبا ضبط کی پہنائی ہے


آج پھر تجھ کو بھلانے دینے کی کوشش کرکے

آج پھر آنکھ تری یاد میں بھر آئی ہے


پیکر یار میں موہوم سی دنیا گویا

خواب بن کر مری آنکھوں میں اترآئی ہے


نہ کوئی راہِ تمنا نہ کوئی راہ ِ فرار

زندگی مجھ کو خدا جانے کہاں لائی ہے


خود کو ہنگامۂ دنیا سے نہ جوڑو فائز

تم کو کافی تو یہی سورش تنہائی ہے

آپ کے تبصرے

avatar
3000