بندہ نہ جانے بندگی

عبدالغفار زاہد شعریات

بندہ نہ جانے بندگی

پھر زندگی کیا زندگی


جس میں نہ سوزِ قلب ہو

وہ بندگی کیا بندگی


یہ عشق آساں تو نہیں

ہے امتحانِ زندگی


پوشاک اجلی ہے مگر

کردار میں ہے گندگی


کرتا ہے جس پہ ناز تو

محدود ہے وہ زندگی


اسرار کھلتے ہی نہیں

سربستہ رازِ زندگی


جس موت سے بھاگا کیے

ہے وہ تمامِ زندگی

آپ کے تبصرے

avatar
3000