راستے میں جو آؤ جاؤ گے

شمس الرب خان شعریات

راستے میں جو آؤ جاؤ گے

اِس مسافر کا درد پاؤ گے


اِس طرح جو مجھے ستاؤ گے

میرے بِن تم بھی رہ نہ پاؤ گے


کون ہوں میں کہاں سے آیا ہوں

جتنا سوچو گے جاں جلاؤ گے


ایک دھوکہ ہوں میں نظر کا فقط

تم حقیقت نہ دیکھ پاؤ گے


نہ ہی لیتا ہوں نہ ہی دیتا ہوں

کس طرح جوڑو گے گھٹاؤ گے


نام ہی تو ہے جوڑ دو اپنا

ناک اپنی ہی تم کٹاؤ گے


دل میں آتا ہوں پر نہیں جاتا

تم مجھے کس طرح بھلاؤ گے


جانے والے سنو سنو اک بات

نیند میں خوب بڑبڑاؤ گے


تیر و تلوار خنجر و شمشیر

آز ماؤ گے مات کھاؤ گے


درد پھیلا ہے روح کی تہ تک

زخم سہلا کے کیا بناؤ گے


میں ہوں سورج سنو مرے مہتاب

وصل کی شب کبھی نہ پاؤ گے


شمسؔ کے دل میں کود جاؤ تم

عشق ہوگا تو ڈوب جاؤ گے

1
آپ کے تبصرے

avatar
3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
ریاض الدین شاہد Recent comment authors
newest oldest most voted
ریاض الدین شاہد
Guest
ریاض الدین شاہد
بہت خوب پروفیسر صاحب