مجموعہ صحاح مشکوۃ المصابیح: ایک تعارفی و تنقیدی مطالعہ

رفیق احمد رئیس سلفی

برصغیر کی سلفی تحریک اور اس سے وابستہ مخلص علمائے کرام نے ظلمت و جہالت سے دوچار ماحول کو توحید خالص اور اتباع سنت کی روشنی فراہم کرنے میں جس جہد مسلسل کا ثبوت دیا ہے، اسے نہ فراموش کیا جاسکتا ہے اور نہ نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔ متاخرین فقہاء کی غیر ضروری قیاس آرائیاں اور عجمی افکار سے متاثر تصوف نے یہاں جن رجحانات کو ہوا دی تھی، ان سے مسلمانوں کی ترجیحات بدل گئیں تھیں۔ فطرت سے ہم آہنگ اور سادگی سے مزین دین اسلام کج بحثیوں اور طلسمات کی نذر ہوگیا تھا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور ان کے عالی مقام صاحبزادگان نے جس اصلاحی تحریک کا آغاز فرمایا تھا، اس نے زندگی کے تمام شعبوں پر ہمہ گیر اثرات مرتب کیے۔ بعد کے سالوں میں اس خانوادہ ٔذی احترام سے شرف تلمذ رکھنے والوں اور دیگر متعلقین نے ملک کے گوشے گوشے میں کتاب و سنت سے راست استفادہ کی شمع روشن کی اور تیز و تند آندھیوں کے باوجود اس کی لو مدھم نہیں ہوئی اور چراغ سے چراغ جلتے رہے، تاریکیاں سمٹتی رہیں اور جہالت دور ہوتی گئی۔ اب یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ استعماری قوتوں نے برصغیر کے مسلمانوں کی دینی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لیے خانوادہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے مقابلے میں بعض غیر معروف لیکن بدعت اور عجمی تصوف کے دلدادہ افراد اور مراکز کی پشت پناہی کی اور عقیدہ و فکر کے لحاظ سے مسلم امہ کو دولخت کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ ملت اسلامیہ کی بدقسمتی ہے کہ ابھی تک وہ دشمنوں کے پھیلائے ہوئے جال سے باہر نہیں نکل سکی ہے بلکہ دیدہ و دانستہ کچھ لوگ آج بھی توحید اور اتباع سنت کی علم بردار اس ملت کو اوہام پرستی اور شرک و بدعت کے جوہڑ میں ڈبوئے رکھنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
ان حالات میں سلفی علمائے کرام کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں اور انھیں مہمیز کرتی ہیں کہ اپنا علمی اور دعوتی سفر حسب معمول جاری رکھیں۔دنیا اس کا کیا صلہ دیتی ہے، کن القاب سے نوازتی ہے اور کن کن آزمائشوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے، اس کی پرواہ کیے بغیر توحید اور اتباع سنت پر مبنی ایک صالح معاشرہ کی تشکیل کے لیے جدوجہد کرتے رہیں۔ فتح الرحمن، حجۃ اللہ البالغہ، مسوی، مصفی، عقد الجید، ازالۃ الخفا، تفسیر عزیزی، تحفہ اثنا عشریہ، ترجمہ قرآن شاہ رفیع الدین، ترجمہ قرآن شاہ عبدالقادر، تقویت الایمان، معیار الحق، فتاوی نذیریہ وغیرہ سے جس سفر کا آغاز ہوا تھا، وہ تصانیف نواب صدیق حسن خاں، تراجم کتب ستہ مع موطا امام مالک، تصانیف شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری اور تقلید جامد اور فقہی موشگافیوں کے رد و ابطال میں مولانا محمد جونا گڑھی کی تصانیف سے ہوتا ہوا عون المعبود، تحفۃ الاحوذی اور مرعاۃ المفاتیح پر ختم نہیں ہوا ہے بلکہ منۃ المنعم شرح صحیح مسلم اور تفسیر احسن البیان تک آپہنچا ہے۔ یہی تو ہماری علمی و ثقافتی تاریخ کی وہ فتوحات ہیں جن سے شرک اور بدعت کے پرستار غیض و غضب میں مبتلا ہوکر اپنی انگلیاں چبارہے ہیں۔ سازشیں ہوتی ہیں، جتھے ترتیب دیے جاتے ہیں اور سیاسی طور پر زیر کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں لیکن شاید انھیں معلوم نہیں کہ جس طرح اسلام سخت جان واقع ہوا ہے، اسی طرح اس کی صحیح ترین تعبیر بھی سخت جان ہے۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ حق ہمیشہ سربلند رہے گا اور بھلا اس وعدے کو چیلنج کرنے کی جرأت کون کرسکتا ہے۔ رفض و تشیع، عجمی تصوف، تقلید جامد، شرک و بدعت، اوہام پرستی، غیر شرعی رسوم و روایات، حجیت حدیث میں شکوک و شبہات، انکار حدیث اور مغربی افکار و نظریات سے مرعوبیت وغیرہ، وہ فتنے ہیں جو مسلمانوں کو درپیش ہیں، ان سے اگر کوئی صحیح معنوں میں نبرد آزما ہوا ہے تو وہ صرف علمائے اہل حدیث ہیں۔اللہ ان کی کوششوں کو شرف قبول بخشے اور آخرت میں اجروثواب سے نوازے۔
علاہ نواب سید صدیق حسن خان رحمہ اللہ کے جاری کردہ وظیفے پر جب نواب وحید الزماں حیدرآبادی اور ان کے بھائی نے کتب صحاح کا ترجمہ کیا اور اس کے ساتھ ساتھ موطا امام مالک بھی اردو ترجمہ کے ساتھ شائع ہوئی تو سب سے زیادہ تکلیف ارباب تقلید کو پہنچی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ اردو داں قارئین تک احادیث نبویہ پہنچیں۔ہر مسلمان کو اپنے نبی سے محبت ہے۔ یہ بات کہ تقلید اور ایک امام کی پیروی باعث نجات ہے، اس کی سمجھ سے باہر ہے۔ وہ تو اپنی تمام تر عملی کوتاہیوں کے باوجود نبی کے اسوے اور طریقے کا متلاشی ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ نواب وحید الزماں حیدرآبادی نے کس طرح ان کے ترجمے کی تکمیل کی اور لغات الحدیث جیسی کتاب بھی مرتب کی۔ان کی بعض اعتقادی کمزوریوں اور فقہی تفردات کے باوجود یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ اللہ نے انھیں بڑی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ کتب احادیث کے اردو تراجم کا ایک بار سلسلہ جاری ہوا تو اس کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ سنن دارمی، مسند امام احمد بن حنبل، مستدرک حاکم، مشکوۃ المصابیح، بلوغ المرام، ریاض الصالحین، صحیح ابن خزیمہ وغیرہ کے اردو ترجمے سامنے آچکے ہیں حتی کہ امام ابن حجر کی شرح بخاری’’ فتح الباری‘‘ جیسی ضخیم کتاب بھی اردو میں دستیاب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ قرآن کی حفاظت فرمائے گا اور قرآن کی حفاظت کے ضمن میں حدیث کی حفاظت بھی آتی ہے۔ یہ سب قدرت کا انتظام ہے۔ حق کی روشنی کو کوئی بجھا نہیں سکتا۔ سلفیان پاک و ہند کی یہی وہ کاوشیں ہیں جن سے توحید خالص اور اتباع سنت کا دائرہ وسیع ہورہا ہے اور اغیار کے خیموں میں مایوسی چھائی ہوئی ہے۔ اپنی خفت مٹانے کے لیے کبھی یہ اسے لامذہبیت کا نام دیتے ہیں اور کبھی ائمہ اسلام کی اہانت سے تعبیر فرماتے ہیں۔اللہ کا خوف دلوں سے نکل جائے تو اسی طرح کی باتیں سامنے آتی ہیں۔
کس قدر سعادت کی بات ہے کہ اس قافلہ سخت جان سے میرے ایک بزرگ دوست مولانا ضیاء الحسن محمد سلفی نے اپنا رشتہ استوار کرلیا ہے۔موصوف جامعہ عالیہ عربیہ مئو میں حدیث و عقیدہ کے استاذ ہیں، درس و تدریس اور تعلیم و تربیت کا طویل تجربہ ہے اور تصنیف و تالیف اور تحقیق و ترجمہ سے قلبی وابستگی رکھتے ہیں۔تقوی و تدین سے سرفراز لیکن خشکی اور یبوست سے کوسوں دور، ہر کسی سے مسکرا کر ملنا ان کی طبیعت ثانیہ بن چکی ہے۔ جامعہ سلفیہ بنارس میں مجھ سے کئی سال سینئر تھے۔ مصروف زندگی میں ایسے علم دوست بزرگ ساتھیوں کی رفاقت اور ہم نشینی کہاں ممکن ہے، جب کبھی مئو جانا ہوتا ہے تو کچھ دیر کے لیے دل چسپی کے موضوعات پر گفتگو ہوجاتی ہے۔ موصوف کی تازہ ترین تصنیف ’’مجموعہ صحاح مشکوۃ المصابیح‘‘ (انتخاب، ترجمہ، تشریح و تخریج) اس وقت مطالعہ کی میز پر ہے جو میرے بہت ہی عزیز دوست مولانا عبدالرحمن عالیاوی، استاذ جامعہ عالیہ عربیہ مئو، مرتب و منتظم سہ ماہی مجلہ افکار عالیہ مئو، کی عنایت سے مجھ تک پہنچی ہے۔ مصنف محترم نے ایک سفر میں اس کتاب کی دو یا تین جلدیں ہدیہ فرمائی تھیں لیکن اس وقت انھوں نے مجھے اس پر تبصرہ کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ دوران سفر اور علی گڑھ میں جستہ جستہ کتاب دیکھی تھی۔ اسی وقت یہ احساس ہوا تھا کہ دعوتی اور تبلیغی مقاصد کی تکمیل کے لیے یہ انتہائی اہم تصنیف ہے۔ابھی میں کتاب بالاستیعاب دیکھ نہیں سکا تھا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا کوئی جدید تعلیم یافتہ سلفی نوجوان آیا اور اس نے حدیث کی کسی کتاب کا مطالبہ کردیا۔ میں نے کتاب اس کے حوالے کردی کہ وہ مجھ سے زیادہ اس کا مستحق تھا۔ اب مجھے اس عزیز طالب علم کا نام بھی یاد نہیں لیکن مجھے امید ہے کہ کتاب صحیح جگہ پہنچی ہے اور ان شاء اللہ جہاں بھی رہے گی روشنی پھیلاتی رہے گی۔
مشکوۃ المصابیح معروف کتاب ہے اور بیشتر مدارس میں داخل نصاب ہے۔ امام ابومحمد حسین بن مسعود فراء بغوی رحمہ اللہ اور امام محمد بن عبداللہ بن خطیب تبریزی رحمہ اللہ کی مشترکہ کاوش کے نتیجے میں حدیث کا ایک ایسا مجموعہ سامنے آیا جس میں قریب قریب وہ تمام ابواب شامل ہیں جو کتب حدیث و آثار کے ذی احترام مولفین نے اپنی اپنی ترتیب فرمودہ کتابوں میں قائم کیے ہیں۔ پوری کتاب توجہ سے ایک بار پڑھ لی جائے تو تمام کتب حدیث کی کسی نہ کسی درجے میں سیر ہوجاتی ہے۔ اسی جامعیت کی وجہ سے اسے شامل نصاب کیا گیا تھا اور بحمداللہ آج بھی یہ کتاب متداول ہے اور حدیث کے ہر طالب علم کی اس پر نظر ہے۔ علماء اور طلباء کے اسی انہماک کی وجہ سے اس کتاب کی مختلف جہتوں سے خدمت انجام پائی ہے۔ اس کی شرحیں عربی، فارسی اور اردو زبان میں عام طور پر مل جاتی ہیں۔ انگلش میں بھی اس کا ترجمہ ہوچکا ہے اور مختصر شرح بھی وجود میں آچکی ہے۔ ان کے علاوہ دنیا کی دوسری زبانوں میں بھی یقیناً اس پر کام ہوا ہوگا جن سے ہم واقف نہیں ہیں۔ مشکوۃ کی ترتیب بہت خوب ہے۔ عام طور پر ہر باب میں تین فصلیں پائی جاتی ہیں، پہلی فصل میں صحیحین کی احادیث ہیں، دوسری فصل میں سنن کی اور تیسری فصل میں باب سے تعلق رکھنے والی مزید احادیث درج کی گئی ہیں جن میں صحیح بھی ہیں اور ضعیف بھی۔ علمائے حدیث نے کئی طرح سے اس کتاب کی خدمت کرکے اس کی تمام احادیث پر حکم لگادیا ہے۔ آج ہمارے لیے یہ معلوم کرنا آسان ہوگیا ہے کہ مشکوۃ کی فلاں حدیث سند کے اعتبار سے کس مرتبہ کی ہے۔
زیر نظر مجموعہ میں فاضل مصنف نے صرف ان احادیث کو شامل کیا ہے جو صحیح یا حسن درجے کی ہیں۔ انھوں نے اس سلسلے میں امام ابن حجر عسقلانی، امام محمد ناصرالدین البانی اور شیخ الحدیث مولانا عبیداللہ رحمانی رحمہم اللہ کی تحقیقات پر اعتماد کیا ہے۔ برادر معظم و محترم نے احادیث کا ترجمہ رواں اردو میں کیا ہے اور جہاں انھوں نے ضرورت محسوس کی ہے، احادیث کی تشریح اور وضاحت فرمائی ہے۔ بعض مقامات پر فقہی مسائل بھی زیر تحریر آئے ہیں اور اس میں راجح نقطۂ نظر کی تعیین کی گئی ہے۔ احادیث کی تشریح اور ان کے مفہوم کی وضاحت کے لیے موصوف نے امام نووی، امام ابن حجر، علامہ طیبی، مولانا محمد عبدالرحمن مبارکپوری اور شیخ الحدیث مولانا عبیداللہ رحمانی رحمہم اللہ کی شروح کتب احادیث سے راست استفادہ کیا ہے۔کتاب میں جگہ جگہ ان کے ناموں کی صراحت بھی کی ہے۔ متن حدیث پر اعراب لگانا خاصا مشکل کام ہے، لیکن مصنف نے اس کا بطور خاص اہتمام کیا ہے۔ اس سے ان شاء اللہ ان حضرات کو سہولت ہوگی جن کی عربی کمزور ہے اور وہ صحت اعراب کے ساتھ متن حدیث پڑھنے سے قاصر ہیں۔ ایک بڑا مفید کام انھوں نے یہ کیا ہے کہ تمام احادیث کی مختصر تخریج کردی ہے۔ یہاں لفظ تخریج کو اس کے اصطلاحی معنی پر محمول نہ کریں کہ وہ خود ایک بڑا کام ہے بلکہ مصنف نے صرف یہ بتایا ہے کہ اگر یہ حدیث بخاری کی ہے تو اس کا رقم الحدیث کیا ہے۔
چار ضخیم جلدوں میں ۳۱۷۲؍ صفحات پر مشتمل یہ کتاب برقی کتابت اور دیدہ زیب طباعت سے آراستہ ہے۔ ۴۴۵۲؍احادیث کا یہ خوبصورت مجموعہ نہ صرف علماء، دعاۃ اور طلبہ کے لیے مفید ہے بلکہ عوام بھی اس سے بھرپور استفادہ کرسکتے ہیں۔کتاب میں شامل مقدمہ مولف اور ڈاکٹر عبدالعلی ازہری اور شیخ اسعد اعظمی کے تعارفی کلمات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے مصارف ایک صاحب خیر محترم عبدالقیوم اینڈ کوڈیا فیملی، ممبئی نے برداشت کیے ہیں۔ کتاب پر مکمل سیٹ کی قیمت ۸۰۰؍روپے درج ہے اور یہ ’’دارالسلام ،محفل ہال ۴۱،مورلینڈ ،ممبئی ۸‘‘ سے دستیاب ہوسکتی ہے۔صاحب خیر بطور صدقہ جاریہ اس کی تقسیم بھی فرمارہے ہیں جو انتہائی مفید کام ہے۔ اللہ انھیں اس کا اجر عطا فرمائے اور جس خلوص کے ساتھ انھوں نے یہ کار خیر انجام دیا ہے، اسے شرف قبول بخشے۔آمین
محترم الحاج عبدالقیوم صاحب جیسے مخیر حضرات ہماری ملت کا عظیم سرمایہ ہیں۔ دولت کی تقسیم اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے۔ وہ کسی کو بے حساب روزی دیتا ہے اور کوئی شب و روز کی سخت محنت کے بعد صرف اتنا حاصل کرپاتا ہے کہ اپنے بچوں کے لیے مشکل سے دال روٹی کا انتظام کرسکے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی حکمتیں ہیں، جن کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ہمارے یہاں دولت مند مسلمانوں کی بحمداللہ کوئی کمی نہیں ہے لیکن بہت کم لوگ ایسے ہیں جن کو صحیح جگہ اپنی دولت کو خرچ کرنے کی توفیق ملتی ہے۔ شادی بیاہ، قوالی اور مشاعرے کے لیے ہمارے پاس بہت پیسہ ہے، اسی طرح سیاسی پارٹیوں اور سیاست سے جڑے لوگوں پر ہم بے حساب دولت خرچ کردیتے ہیں لیکن ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کسی غریب کے سرپر چھت کا سایہ فراہم کردیں یا اس کے بچوں کو تعلیم یافتہ اور ہنر مند بناکر اسے ایک باعزت انسان بنادیں۔ کتنے غریب مسلمان ایسے ہیں جو قرآن اور اس کا ترجمہ اپنی جیب سے فراہم کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، کیا ہمارے دولت مندوں کی ذمہ داری نہیں ہے کہ ایسے افراد کی دینی ضروریات پوری کریں۔ محترم عبدالقیوم صاحب نے ایک خطیر رقم صرف کرکے حدیث کا یہ مجموعہ تیار کرایا ہے اور اسے جگہ جگہ تقسیم بھی کروارہے ہیں، یہ ایک عظیم خدمت اسلام ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ان کی تقسیم میں معاون بن جائیں اور کتاب کے نسخے صحیح مقامات پر پہنچ جائیں۔ ہماری مساجد میں اس کی ضرورت ہے تاکہ اس سے درس حدیث دیا جاسکے اور مساجد کے ائمہ اور خطبا اس سے استفادہ کرسکیں۔ ضروری نہیں ہے کہ اسے بڑے بڑے علما کی خدمت میں پیش کیا جائے بلکہ یہ کم پڑھے لکھے عوام کی ضرورت ہے۔ کوشش کی جائے کہ زیادہ سے زیادہ نسخے عوام تک ملک کے گوشے گوشے میں پہنچیں۔ حدیث رسول کے مطابق یہ بھی صدقہ جاریہ ہے اور کتاب جب تک زمین پر موجود رہے گی اور اس سے استفادے کا سلسلہ جاری رہے گا، ان شاء اللہ عبدالقیوم صاحب اور ان کے صاحب زادوں کے نامہ اعمال میں نیکیوں کا اضافہ ہوتا رہے گا۔

مصنف ذی وقار کا حکم ہے کہ کتاب پر اپنے ملاحظات بھی رقم کردوں تاکہ دوسرا ایڈیشن مزید خوبیوں سے آراستہ ہوکر سامنے آئے۔ یہ کام خاصا مشکل ہے اور اس کے لیے فرصت درکار ہے۔ میں نے چاروں جلدوں کو جگہ جگہ سے دیکھا ہے اور جو چیزیں نظر میں کھٹکی ہیں، ایک ایک کرکے ان کی نشان دہی تو ممکن نہیں۔ کتاب کا پروف پڑھتے ہوئے ان کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اللہ کرے کہ دوسرے ایڈیشن کی اشاعت کے وقت مجھے فرصت ہو اور اس سلسلے میں کوئی خدمت انجام دے سکوں۔یہاں صرف چند باتیں عرض کی جارہی ہیں جن کو پیش نظر رکھاجائے تو کتاب کا نقش ثانی ان شاء اللہ مزید بہتر ہوجائے گا۔
(۱)عربی سے اردو ترجمہ ایک مستقل فن ہے۔ دونوں زبانوں پر عبور اور ان کی تعبیرات سے واقفیت ضروری ہے۔ عربی کو محض اردو میں منتقل کردینا کمال نہیں ہے بلکہ عربی کا جملہ جہاں جو مفہوم بیان کررہا ہے، اس موقع پر اردو کی صحیح ترین تعبیر سے اسے مزین کرنا کمال بھی ہے اور کامیاب مترجم کی پہچان بھی۔ تعبیر کی غلطیاں بسااوقات مضحکہ خیز بن جاتی ہیں۔ وجدان تلملا اٹھتا ہے اور اردو کا ستھرا ذوق رکھنے والا اپنا سر پیٹ لیتا ہے۔ ایک بڑے عالم دین نے ایک عربی کتاب کا ترجمہ کیا ہے۔ ایک بڑے ادارے نے اسے اشاعت کا شرف بخشاہے۔ مترجم نے عربی کی دو ترکیبوں: ’’انتشار الزناو انتشارالربا‘‘ کا ترجمہ ’’زنا کا منتشر ہونا اور سود کا منتشر ہونا‘‘ سے کیا ہے۔ عربی زبان سے واقف مترجم اس موقع پر اردو کی صحیح ترین تعبیر پیش نہیں کرسکا اور اس کا ترجمہ مضحکہ خیز لطیفہ بن گیا۔ یہاں عربی لفظ ’’انتشار‘‘ اردو کے’’انتشار‘‘ سے کوئی تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہاں اردو کی صحیح ترین تعبیر ’’زنا اور سود کا عام ہونا‘‘ہے۔ ہمارے یہاں بہت سے مترجمین ایسے ہیں جو اس قسم کی غلطیاں کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عربی زبان کی اپنے موضوع پر انتہائی بیش قیمت کتاب اردو کی غلط تعبیرات کی وجہ سے غیر مفید بن جاتی ہے اور لوگ اس سے استفادہ نہیں کرپاتے۔
(۲)دل و دماغ تک معنی و مفہوم کی ترسیل میں ان لفظوں کا کردار سب سے نمایاں اور اہم ہوتا ہے جو ہم زبان سے ادا کرتے یا کاغذ کے صفحات پر نقش کرتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال وحی الٰہی ہے جو ایک معجزہ ہونے کے ساتھ ساتھ زبان و اسلوب کے اعتبارسے بھی لاثانی ہوتی ہے۔ عربی کی طرح اردو زبان کا بھی اپنا ادب ہے اور اس کا منفرد اسلوب ہے۔ ہمارے دینی مدارس میں ذریعہ تعلیم اگرچہ اردو ہے لیکن اردو ادب اس کے نصاب کا حصہ نہیں ہے۔ ایک عرصے تک عربی نصوص کا لفظی ترجمہ سنتے سنتے طلبہ کا ذہن و مزاج اسی سانچے میں ڈھل جاتا ہے اور آگے چل کر جب وہ تصنیف و تالیف کے کاموں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو اس کے اثرات یہاں بھی دکھائی دیتے ہیں۔زبان کو اہل زبان کی طرح استعمال کرنا ضروری ہے۔اس کے محاورے اور ضرب الامثال کی رعایت بھی ناگزیر ہے۔ تحریر میں حسن املا اور رموز اوقاف کی درستگی سے پیدا ہوتا ہے، ہمارے بیشتر اردو اسلامیات کے مصنفین اور مضمون نگار حضرات اس کی پرواہ نہیں کرتے۔ ٹوٹی پھوٹی زبان اور الجھی ہوئی تحریر قارئین کو متاثر نہیں کرتی۔ اردو تحریروں میں پروف کی غلطیاں عام ہیں۔ یہ صرف بے توجہی اور عجلت کا نتیجہ ہے۔ کتابت یا کمپوزنگ کی غلطیوں کو گرفت میں لانے کے لیے مصنف کے علاوہ کسی دوسرے صاحب علم کو پروف پڑھنا چاہیے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ پروف ریڈر جس صلاحیت کا بھی مالک ہو، اس سے کام چل جائے گا لیکن یہ ایک بڑی غلطی ہے۔پروف ریڈر کے لیے صاحب علم ہونا اور صحیح ذوق کا حامل ہونا ضروری ہے۔ کتاب جس موضوع پر ہو، اس سے ذہنی مناسبت کے بغیر اس کا پروف صحیح طور پر نہیں پڑھا جاسکتا۔ دارالمصنفین کے مشہور صاحب علم پروف ریڈر مولانا ابوعلی اثری کے بارے میں کہیں پڑھا تھا کہ وہ اردو ادب کا اتنا ستھرا اور پاکیزہ ذوق رکھتے تھے کہ بسااوقات مولانا سید سلیمان ندوی کی تحریروں کا بھی پروف پڑھتے ہوئے زبان و بیان کی غلطیاں درست کردیا کرتے تھے جسے سید سلیمان ندوی شکریے کے ساتھ قبول فرمالیا کرتے تھے۔
(۳) احادیث نبویہ کی تشریح و توضیح میں اس وقت عرب علما جو طریقہ اپنائے ہوئے ہیں، وہ زیادہ مفید معلوم ہوتاہے۔ مشکل لفظ کا معنی بیان کیا، حدیث کا اجمالی مفہوم درج کیا اور اس سے مستنبط مسائل ایک ایک کرکے بیان کردیے۔ زیادہ بحث اور فقہی قیل و قال کا یہاں موقع نہیں ہوتا، اس لیے راجح نقطۂ نظر کا تذکرہ کافی ہے۔ جس حدیث کے ظاہری مفہوم سے کوئی غلط فہمی ہو سکتی ہے، اس کا ازالہ کردیا جائے یا جس حدیث کو اہل بدعت نے اپنی باطل تاویلات کی خراد پر چڑھا رکھا ہے، اس کی صحیح اور درست وضاحت کردی جائے۔ جن مسائل میں ارباب تحقیق کی آراء مختلف ہیں اور قطعیت کسی طرف نہیں ہے، اس میں لوگوں کو آزاد رکھا جائے اور کسی خاص نظریے کا پابند نہ بنایا جائے۔ اسی طرح جن فقہی مسائل میں حلت و حرمت کا معاملہ قطعی نہیں ہے، اس میں زبردستی کوئی فتوی نہ دیا جائے۔ اس سے غلط فہمیاں مزید پیدا ہوتی ہیں اور بسااوقات اہل حق سے وابستہ عوام تنازعات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ آج کل شادی بیاہ میں کھڑے ہوکر کھلانے پلانے کا رواج عام ہوچکا ہے۔ مصنف محترم نے کھڑے ہوکر کھانے پینے کو واضح طور پر حرام لکھ دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس مسئلے میں نصوص متعارض ہیں اور قطعیت کے ساتھ اس طریقے کو حرام نہیں کہا جاسکتا۔ اس مسئلے پر شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فتاوی (۳۲؍۲۰۹۔۲۱۰) میں انتہائی متوازن گفتگو فرمائی ہے۔ کھانے پینے کی تقریبات خصوصاً دعوت ولیمہ کے لیے شریعت کا حکم یہ ہے کہ اس میں امیر غریب اور چھوٹے بڑے کا کوئی فرق و امتیاز روا نہ رکھا جائے، ہر کسی کو اس کی ضرورت اور ذوق کے مطابق کھانا کھانے کا اختیار دیا جائے۔ اس قسم کے مواقع پر جب ہم میز کرسیوں پر یا فرش پر بیٹھنے کا انتظام کرتے ہیں تو متعارف اور غیر متعارف، عزیز و اقارب اور اجنبیوں کے درمیان فرق ہوجاتا ہے۔ جس میز پر متعارفین کھانا تناول فرمارہے ہیں وہاں نہ صرف ہر چیز وافر مقدار میں موجود ہوتی ہے بلکہ تازہ تازہ روٹیاں پہنچتی رہتی ہیں لیکن جس میز پر اپنا کوئی نہیں ہے، وہاں پر بیٹھے لوگ صرف دوسروں کو دیکھتے رہ جاتے ہیں، خواہش اور ضرورت کے مطابق کھانا نہیں کھاپاتے۔ اپنی خدمت آپ کے موجودہ سسٹم میں ان خرابیوں سے بچا جاسکتا ہے۔ ہر شخص اپنی ضرورت کے مطابق کھانا آزادی کے ساتھ کھالیتا ہے۔ جن قباحتوں کی نشان دہی موصوف نے فرمائی ہے، ان سے انکار نہیں لیکن جب شریعت واضح طور پر کسی چیز کو حرام نہیں کہہ رہی ہے تو ہم اسے کیوں کر حرام کہہ سکتے ہیں۔
اسی طرح مسئلۂ تحنیک میں موصوف نے لکھا ہے کہ نومولود بچے کو کسی بزرگ سے گھٹی دلوانا مستحب ہے۔ امام نووی ؒ نے اسے بالاجماع سنت قرار دیا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں شیخ ابن باز رحمہ اللہ کی بات زیادہ درست معلوم ہوتی ہے، جو انھوں نے فتح الباری پر اپنی تعلیقات میں لکھی ہے کہ منہ میں کھجور چباکر اس کا شیرہ نومولود کے منہ میں ڈالنے کا عمل نبی ﷺ کے ساتھ خاص رہا ہے کیوں کہ نبی کی ذات گرامی ظاہری اور باطنی بیماریوں سے محفوظ تھی اور آپ کا لعاب باعث برکت تھا۔ کسی امتی کو یہ شرف حاصل نہیں ہے۔خاندان کے جس بزرگ کا لعاب نومولود کے منہ میں ڈالاجائے گا، کیا معلوم وہ کس طرح کے جراثیم اس کے جسم میں منتقل کردے۔ لہذا اس عمل کو کسی امتی کے لیے روا نہ رکھا جائے۔ موصوف سے درخواست ہے کہ وہ اس طرح کے تمام فقہی مسائل پر نظر ثانی فرمالیں تاکہ عوام کی صحیح رہنمائی ہوسکے۔
ذی اکرام مصنف شیخ ضیاء الحسن سلفی کے تعلق سے ڈاکٹر عبدالعلی ازہری صاحب نے کتاب پر اپنے تعارفی کلمات میں ایک بڑے افسوس ناک واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ امام بیہقی کی مشہور کتاب ’’شعب الایمان‘‘ کی تحقیق کاکام انھوں نے مصنف کے ساتھ شروع کیا تھا۔ جس ادارے سے یہ کام ہورہا تھا، اس سے معاملات نہیں بنے تو ازہری صاحب ادارہ چھوڑ کر چلے گئے۔ اس وقت تک کتاب کی سات جلدوں پر کام ہوا تھا۔ ان کے جانے کے بعد پورا کام مصنف نے تنہا سنبھالا اور کتاب بیس جلدوں میں شائع ہوئی لیکن کسی جلد میں محقق کے طور پر محترم ضیاء الحسن سلفی صاحب کا نام درج نہیں ہے۔ اسے ازہری صاحب نے علمی خیانت سے تعبیر کیا ہے اور حق تلفی کرنے والوں کو متنبہ کیا ہے کہ انھیں قیامت کے دن حساب کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ یہ مصیبت عظمیٰ علم و تحقیق کی دنیا میں اب عام ہوچکی ہے۔ حیرت ہے کہ اس طرح کی خیانتیں وہ حضرات کرتے ہیں جو حق و انصاف کی گردان رات دن کرتے ہیں۔ کتاب کی تصنیف، اس کا ترجمہ اور اس کی تحقیق و تخریج کوئی کرتا ہے اور سرورق کسی اور کے نام سے مزین ہوتا ہے۔ پسینہ بہانے والا کتاب کے مقدمے میں کسی سطر کا حصہ بنتا ہے اور نظرثانی اور تقدیم کی زحمت فرمانے والا ٹائٹل پر جلوہ افروز ہوتا ہے۔ یہ ہماری دینی ثقافت کے تالاب کی وہ بڑی مچھلیاں ہیں جنھوں نے ہمیشہ چھوٹی مچھلیوں کو اپنی غذا بناکر اپنے جسم کو فربہ اور تنومند بنایا ہے۔محترم ضیاء الحسن سلفی صاحب نے حدیث رسول کی جو خدمت انجام دی ہے، اللہ کے یہاں اس کا اجر محفوظ ہوچکا ہے۔ دنیا کے لوگ ان کا ذکرکریں یانہ کریں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
’’مجموعہ صحاح مشکوۃ المصابیح‘‘ کی ترتیب و تصنیف پر مصنف محترم مبارک باد کے مستحق ہیں۔ یہ ایک طویل اور تھکادینے والا کام تھا جس کی تکمیل فرماکر انھوں نے حدیث رسول کی ایک بڑی خدمت انجام دی ہے۔ تبصرہ نگار نے کتاب کی جن بعض کمیوں کی طرف گزشتہ سطور میں اشارہ کیا ہے، وہ کتاب کی خوبیوں کے مقابلے میں سمندر کے چند قطروں کے برابر بھی نہیں ہیں۔ خوبیاں ہزاروں ہیں، ان کو شمار نہیں کیا جاسکتا لیکن کمیاں چند ایک ہوتی ہیں جن پر ناقدین کی نظر پہلی فرصت میں پڑتی ہے۔ یہ کسی بھی زبان کے ادب میں صنف تنقید کی سب سے بڑی کمزوری ہے اور اس کمزوری کو اہل فن ہمیشہ برداشت کرتے آئے ہیں۔ اردو دنیا آج تک کلیم الدین احمد کی دوکتابوں ’’اردوشاعری پر ایک نظر‘‘ اور ’’اردو تنقید پر ایک نظر‘‘ کو بھول نہیں پائی ہے بلکہ اردو ادب کے بعض حلقوں میں اس پر آج بھی خوشی سے زیادہ ناراضگی جتائی جاتی ہے۔ انھوں نے اپنی ان دونوں کتابوں میں شاعری پر اور تنقید پر جس طرح کا نقد و تبصرہ کیا ہے، اسے ہضم کرپانا آسان بھی نہیں ہے لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ ان کی ان دونوں کتابوں نے اردو ادب کو نئی جہتوں سے آشنا نہیں کیا اور اردو غزل لب و رخسار کی تنگ گلیوں سے باہر نہیں آئی۔
میری یہ دیرینہ خواہش تھی کہ حدیث کی کسی ایک کتاب کا اردو ترجمہ بہترین زبان اور اسلوب میں سامنے آجائے تاکہ حدیث نبوی کی اثرآفرینی میں اضافہ ہوسکے اور اردو کے ممتاز ادیب بھی اسے ذوق و شوق کے ساتھ پڑھیں۔ ابھی تک اس کی تکمیل نہیں ہوسکی۔ مولانا مودودی ؒکی تحریروں سے احادیث کو الگ کرکے ان کے اردو ترجمے کے ساتھ ’’تفہیم الاحادیث‘‘ کے نام سے کئی ایک جلدیں مرتب ہوگئی ہیں۔ ان کے یہاں زبان و بیان کی رعایت ملتی ہے اور بعض احادیث کی ان کی ترجمانی دل کو چھوجاتی ہے لیکن ایک تسلسل میں چوں کہ وہ کام نہیں ہوا ہے اس لیے وہ بات پیدا نہیں ہوسکی جو مطلوب ہے۔ مزید یہ کہ مرتب نے کتاب میں جگہ جگہ مداخلت کرکے اس کا سارا مزہ بگاڑ دیا ہے۔ مئو زبان و ادب کی سرزمین ہے، یہاں ادیبوں اور شاعروں کی خاصی بڑی تعداد سکونت پذیر ہے، یہاں کے ہر بچے کی زبان پر حضرت فضا اور حضرت مجاز کا نام ہے۔ مصنف بھی چوں کہ اسی ادبی فضا میں روزوشب گزار رہے ہیں، ان کا بہت بڑا احسان ہوگا کہ اگر اس پہلو سے وہ کتاب پر توجہ فرمالیں اور ہمارے ہی حلقے سے حدیث کی ایک ایسی مترجم کتاب سامنے آجائے جو اردو ادب کی تمام خوبیوں اور نزاکتوں سے آراستہ ہو۔ امید ہے کہ کتاب کے نقش ثانی میں ان گزارشات پر توجہ دی جائے گی۔

3
آپ کے تبصرے

avatar
3000
3 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
3 Comment authors
Abdul Rahman Siddiquiعامر انصاری ممبراراشد حسن مبارکپوری Recent comment authors
newest oldest most voted
راشد حسن مبارکپوری
Guest
راشد حسن مبارکپوری
بہت اہم اور شاندار تعارفی تبصرہ جزاکم اللہ خیرا
اللہ تعالیٰ مؤلف ومترجم حفظہ اللہ کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے اور جس کام کی اہمیت کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے واقعی ہمارے تعلیم یافتہ معاشرہ کو اس کی سخت ضرورت ہے، اللہ اس ضرورت کی تکمیل کا سامان فرماے، میری نظر میں آپ اس کام کیلیے زیادہ موزوں ہیں، اگر آپ معاشرتی ضرورتوں کے پیش نظر ایک مجموعہ حدیث ترتیب دیکر اسکی شستہ زبان میں توضیح و تشریح فرمادیں تو بہت بڑا بوجھ امت کے سر سے اتر جائے گا. وفقنا الله وإياكم
عامر انصاری ممبرا
Guest
عامر انصاری ممبرا

شكریہ شیخ محترم آپ کے اس تعارفی مضمون نے بہت سی نئی معلومات عطا فرمائیں ، مترجم کے بارے میں بھی کچھ معلومات ہوئیں ، برصغیر میں میں سلفی تحریک پر بھی اشارہ ہے ۔ مجھے ابن القیم کے یہ اشعار یاد آنے لگے ۔ يا مبغضا أهل الحديث وشاتما أبشر بعقد ولاية الشيطان * أو ما علمت بأنهم أنصار دين الله والإيمان والقرآن * أو ما علمت بأن أنصار الرسول هم بلا شك ولا نكران * لو وافقوك وخالفوه كنت تشهد أنهم حقا أولو الإيمان * لما تحيزتم إلى الأشياخ وانحازوا إلى المبعوث بالقرآن * فلذا غضبتم حينما انتسبوا… Read more »

Abdul Rahman Siddiqui
Guest
Abdul Rahman Siddiqui
چشم کشا