رفیق احمد رئیس سلفی (علی گڑھ)

چٹھی


 

ویب پورٹل کے افتتاحی پروگرام کی صدارت کے لیے ہم نے بزرگ عالم دین اور معتدل قلم کار جناب رفیق احمد رئیس سلفی صاحب کو دعوت دی تھی – وہ شریک تو نہ ہوسکے مگر انھوں نے حاضرین مجلس کے نام یہ پیغام بھیجا تھا جو آپ سب سے شیئر کیا جارہا ہے – وہ پروگرام بہت رسمی نوعیت کا تھا اس لیے اگلی مناسبت تک کے لیے مؤخر کردیا گیا – (ایڈیٹر)

الیکٹرانک میڈیا اور اسلام کی دعوت

محترم صدر مجلس،جواں سال منتظمین ،معزز علمائے کرام  اور قابل صد احترام سامعین

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میری دلی خواہش تھی کہ اس اہم اور تاریخی مجلس میں شریک ہوکر آپ حضرات سے بالمشافہ شرف گفتگو حاصل کرتا لیکن بعض جسمانی عوارض اور مسافت کی دوری کی وجہ سے اس سعادت سے محرومی پر افسوس ہے ۔ جو کچھ میں آپ حضرات سے عرض کرنا چاہتا تھا ،اسے ایک مختصر تحریر کی صورت میں پیش کررہا ہوں ،امید ہے کہ نصف ملاقات کی یہ صورت کسی حد تک مجھے مطمئن کرسکے گی کہ میں نے اپنے جذبات اور خیالات آپ کے سامنے پیش کردیے ہیں۔

الیکٹرانک میڈیا نے اس وقت دنیا کی وسعتوں کو سمیٹ دیا ہے ،آن واحد میں اپنی آواز کروڑوں لوگوں تک پہنچائی جاسکتی ہے اور اپنا نقطۂ نظر پیش کیا جاسکتا ہے۔تازہ ترین معلومات کی ترسیل کا یہ ذریعہ اس قدر آسان اور سہل الوصول ہے کہ آج بچے بچے کے ہاتھ میں ملٹی میڈیا موبائل موجود ہے اور وہ اپنا خاصا وقت اس میں صرف کرتا ہے۔یہ ایک دودھاری تلوار ہے ،یہ جس قدر مفید ہے،اس سے کہیں زیادہ مضر بھی ہے ۔نئی نسل کو اگر اس کے صحیح استعمال کے آداب نہ بتائے گئے اور اس کی ذہنی تربیت نہ کی گئی تو اس کے نقصانات کتنے بھیانک اور وسیع ہوں گے،اس کا اندازہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔صورت حال کا تجزیہ بتاتا ہے کہ اس سے فاصلہ بناکر رکھنا بھی ممکن نہیں ہے ،ہمارے بہت سے مخلصین اس سے دوری بنانے کی تلقین کرتے ہیں لیکن شاید انھیں اندازہ نہیں کہ اس دور میں اس قسم کی باتیں کوئی بھی سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔اسی لیے ضروری ہے کہ اس سے پوری طرح واقفیت حاصل کی جائے،اس کے استعمال کو زیادہ سے زیادہ کارآمد اور مفید بنایا جائے اور اس کے مضر پہلووں اور ان کے اثرات کی نشان دہی کی جائے تاکہ نئی نسل اپنے مقصد حیات کو شعوری طور پر سمجھ کر اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہے اور راستوں کے کانٹے پتھر اس کے پیروں کو لہو لہان نہ کرسکیں۔

بعض لوگ اس موثر ذریعۂ ابلاغ کو جھوٹ کی اشاعت کے لیے استعمال کرتے ہیں،بعض بڑے بڑے ممالک اس سے پروپیگنڈے کا کام بھی لیتے ہیں ،سماج کے بعض شرپسند عناصر اس سے تشدد بھڑکاتے اور انسانوں کے درمیان نفرت پھیلاتے ہیں۔انسانیت سے ہم دردی اور اس سے بہی خواہی کا تقاضا ہے کہ وہ لوگ بھی اس میڈیا کا استعمال کریں جو انسانیت سے محبت اور اس کی خدمت کو اپنا دینی اور اخلاقی فرضہ سمجھتے ہیں۔دنیا کے تمام مذاہب کے درمیان اسلام واحد مذہب ہے جو اللہ کا پیغام پوری ذمہ داری سے دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچاتا ہے ۔یہ ہماری کمزوری ہے کہ آج اس میڈیا کو بعض انسانیت دشمن عناصر اسلام اور اہل اسلام کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔سماج کے حقیقی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے بھی اس میڈیا کا استعمال حکومتیں بھی کرتی ہیں تاکہ ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان نہ لگایا جاسکے۔

ہم مسلمانوں کو تعلیم دی گئی تھی اور اس کا تاکیدی حکم دیا گیا تھا کہ اسلام کے حوالے سے جب بھی گفتگو کی جائے تو کتاب وسنت کی روشنی میںکی جائے ،نبی اکرم ﷺ کے نام سے کوئی جھوٹی بات نہ پھیلائی جائے بلکہ آپ ﷺ نے اس شخص کو جہنم کی وعید سنائی ہے جو آپ پر جھوٹ باندھے اور ہر سنی سنائی بات کو دوسروں تک پہنچاتا رہے۔لیکن مسلکی تنازعات نے ہمارے علماء کی زبانوں پر بھی تالے ڈال دیے ہیں اور وہ بھی مسلکی تعصب میں گرفتار ہوکر اس غیر اسلامی رویے پر تنقید نہیں کرتے ۔حدیث کے نام سے کوئی بھی چیز بغیر حوالے کے وائرل کردی جاتی ہے اور کتنے معصوم لوگ اس سے متاثر ہوجاتے ہیں۔اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ جھوٹی بات کے نیچے بھی حدیث شریف لکھ دیا جاتا ہے اور لکھنے والا ذرابھی نہیں ڈرتا کہ اسے اس کی کتنی بڑی سزا ملے گی۔

ان حالات میں اسلام کا صحیح نقطۂ نظر رکھنے والوں کی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اس میڈیا پر نظر رکھیں اور جہاں بھی کوئی بات خلاف اسلام نظر آئے ،اس پر علم وتحقیق کی روشنی میں سنجیدہ تنقید کریں ۔بدزبانی اور ثقاہت سے گرے ہوئے الفاظ ہر گز استعمال نہ کیے جائیں کیوں کہ جھوٹ کا پرچارک آپ کی اسی کمزوری کو بڑی ہوشیاری سے دوسرا رخ دینے میں کامیاب ہوجائے گا اور آپ کی ساری کوششیں ضائع ہوجائیں گی۔الیکٹرانک میڈیا میں ایک ایسے چینل کو فروغ دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے جس کے بارے میں تمام ناظرین اور قارئین کو اطمینان ہو کہ اس پر اسلام کا صحیح مواد پیش کیا جاتا ہے ۔اپنی دینی ضرورتوں کے لیے لوگ اسے کلک کریں اور انھیں اپنے مسائل کا علم ہوجائے ۔

یہی وہ ضرورت تھی جس کے لیے چند پڑھے لکھے اور حساس سلفی نوجوانوں نے انٹرنیٹ پر ایک ویب پورٹل لانچ کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس پر مہینوں سے محنت کرکے آج آپ کے سامنے اس کا افتتاح کرنے جارہے ہیں۔الیکٹرانک میڈیا کے بارے میں ان کی سوچ معروضی اور مثبت ہے ،یہ انسانیت کی خدمت کے لیے میدان عمل میں اترے ہیں ،یہ دنیا کے سامنے اسلام کی حقیقی اور صحیح تصویر پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں،یہ اس پروپیگنڈے کا جواب دینے کا عزم لے کر اٹھے ہیں جو اس وقت اسلام اور اہل اسلام کے خلاف پوری دنیا میں کیا جارہا ہے ۔دعوت کتاب وسنت کا صحیح معنوں میں یہ ادراک رکھتے ہیں،سلفی منہج اور اس کی تاریخ سے ان کو بھرپور واقفیت ہے۔اپنے اس ویب پر وہ خالص اسلام کو پیش کرنے کا سچا جذبہ رکھتے ہیں۔میں ذاتی طور پر آپ حضرات کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے اس مجلس میں شرکت کے لیے اپنا قیمتی وقت دیا اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے یہاں تشریف لائے ۔میں ان شاء اللہ کسی دوسرے موقع پر حاضر ہوکر اپنی اس غیر حاضری کی تلافی کروں گا اور آپ سے بالمشافہہ گفتگو کرکے اس ویب کی مزید اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالوں گا۔

آخر میں ایک بات ضرور عرض کرنا چاہوں گا ،امید ہے کہ آپ توجہ سے سنیں گے اور مجھے اللہ کی ذات سے امید ہے کہ آپ آگے بڑھ کر ان مخلص نوجواں کے دست وبازو بن کر ان کی حوصلہ افزائی کریں گے۔دنیا میں اس طرح کا کوئی کام وسائل کے بغیر نہیں ہوپاتا۔ابھی تک ان نوجوانوں میں سے کوئی بھی اس کام کے لیے فارغ نہیں ہے جب کہ اس کی سخت ضرورت ہے۔اس کام کے لیے اہل علم کی ایک ٹیم درکار ہے ۔اسی طرح بعض مواد کی اسکیننگ کے لیے ان کو ایک اعلی درجے کی مشین کی ضرورت ہوگی تاکہ یہ مختصر وقت میں بڑے سے بڑا کام انجام دے سکیں۔انھیں ہمہ وقت سلفی علماء سے رابطے میں رہنا ہے تاکہ ناظرین اور قارئین کے سوالات کا یہ آن لائن آپ کو جواب فراہم کرسکیں۔ممبئی ایک تجارتی شہر ہے۔یہاں کے ہمارے مخلصین نے بڑے بڑے دینی اور رفاہی کام انجام دیے ہیں اور آج بھی دے رہے ہیں۔مجھے امید ہے کہ ان غیور نوجوانوں کو اس اہم کام کے لیے در در بھٹکنا نہیں پڑے گا بلکہ آپ حضرات خود آگے بڑھ کے اس کی ایک ایک ضرورت کو اپنی جیب خاص سے پوری کردیں گے ۔شرعی اعتبار سے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ جس طرح دین کی اشاعت کے لیے زکوۃ وعطیات کا استعمال کیا جاتا ہے،اس ویب کو چلانے کے لیے زکوۃ وعطیات کا استعمال جائز ہے۔

آپ حضرات کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ کے حق میں ایک دینی بھائی کی حیثیت سے غائبانہ دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کی تجارت اور کاروبار کو ترقی دے اور آپ اسلام کے ایک مضبوط سپاہی کی طرح اسلام اور اہل اسلام کی خدمت کرتے رہیں۔آپ حضرات سے درخواست ہے کہ اس عاجز کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔
والسلام
خادم العلم والعلماء
رفیق احمد رئیس سلفی (علی گڑھ)

1
آپ کے تبصرے

avatar
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
فیروز عبدالوکیل Recent comment authors
newest oldest most voted
فیروز عبدالوکیل
Guest
فیروز عبدالوکیل
آج کے اِس نامعقول دور میں یہ ایک معقول تحریر ہے۔ اللہ مؤلف و ناشر کو مزید توفیق دے کہ یہ محترم لوگ سب بیکار کی تحریروں اور رسائل کے چودہ طبق روشن کر سکیں