لوک سبھا انتخابات 2019

شمس الرب خان

لوک سبھا انتخابات 2019  کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے. کل سات مرحلوں میں 543 سیٹوں پر سیاسی بازیگر اپنی قسمت آزمائیں گے. پہلے مرحلہ میں 91  سیٹوں پر ووٹنگ ہوچکی ہے اور باقی بچی 452  سیٹوں پر ووٹنگ ہونی باقی ہے. دوسرے مرحلے کا انتخاب 18 اپریل، تیسرے مرحلے کا 23 اپریل، چوتھے مرحلے کا 29 اپریل، پانچویں مرحلے کا 6 مئی، چھٹے مرحلے کا 12 مئی اور ساتویں مرحلے کا انتخاب 19 مئی کو ہونا طے پایا ہے. 23 مئی کو نتائج کا اعلان ہوگا. تمام مرحلوں کی تواریخ بتلانے کا پہلا اور سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ جس تاریخ کو آپ کے حلقہ میں انتخاب ہو رہا ہے، اس تاریخ کو اپنے پولنگ بوتھ پر ووٹ دینے ضرور جائیں. اگر موجودہ امیدواروں میں سے کسی بھی امیدوار کو آپ اپنے ووٹ کا حقدار نہیں سمجھتے ہیں، تب بھی ووٹ دینے جائیں اور NOTA ( ان میں سے کوئی نہیں) کا استعمال کریں. ووٹ دینا جمہوریت کی بنیاد ہے، جس کے بغیر جمہوریت کا تصور ناممکن ہے. ووٹ دینے کے عمل کے ساتھ ہی بلکہ پہلے ہی ووٹر لسٹ میں نام کے اندراج کو یقینی بنانا بھی اہم ہے. اس کا خیال لازمی طور پر رکھیں. میرے نزدیک، یہ اس تحریر کا سب سے پہلا اور اہم ترین پیغام ہے.

انتخاب کا نام ذہن میں آتے ہی، سب سے پہلے موجودہ حکومت کی کارکردگی کی جانچ پڑتال ہوتی ہے. اگر موجودہ حکومت کی کارگردگی اچھی رہتی ہے، تو زیادہ قرین قیاس یہی ہے کہ عوام دوبارہ اسی کو موقع دیتے ہیں. کارگردگی اچھی نہ ہونے کی صورت میں متبادل کی تلاش ہوتی ہے.

موجودہ حکومت کی کارکردگی پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے. فطری طور پر، اس کی کارکردگی کو اچھی اور بری بتانے والے دونوں قسم کے افراد اور گروہ پاۓ جاتے ہیں. موجودہ حکومت کی کارکردگی کے تعلق سے میں اپنے تجزیے کا نچوڑ یہاں پیش کرتا ہوں. تجزیے کا نچوڑ پیش کرنے سے پہلے میں اپنی ایک پریشانی کو آپ لوگوں کے سامنے ایمانداری کے ساتھ بیان کرنا چاہتا ہوں. دراصل، کسی فرد، گروہ، سیاسی پارٹی یا سماجی تنظیم وغیرہ  کی کارکردگی کا تجزیہ کرنے سے پہلے ہی ہم تعصب کے شکار ہوتے ہیں. مخالفین کے تئیں اس تعصب کا رخ منفی ہوتا ہے جبکہ مؤیدین کے تئیں اس تعصب کا رخ مثبت ہوتا ہے. یہ تعصب ہمارے تجزیہ یا اس سے قبل ہمارے مطالعہ، مشاہدہ اور تجربہ کو متاثر کرتا ہے. متعصب اور بے ضمیر تجزیہ نگار کے نزدیک یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں. نتیجتا، اس کے یہاں یہ تعصب غالب ہو جاتا ہے اور اس کا تجزیہ، تجزیہ کے نام پر گالی بن جاتا ہے. اس کے برعکس، کسی بھی ایماندار اور باضمیر تجزیہ نگار کے لیے یہ تعصب پریشان کن ہوتا ہے. نتیجتا، وہ شعوری یا لا شعوری طور پر اس تعصب سے لڑتا رہتا ہے. اس لڑائی میں وہ کبھی کامیاب ہوتا ہے اور کبھی ناکام، لیکن اس کی ایماندارانہ کوشش کم از کم اسے ضمیر فروش تجزیہ نگار بننے سے روکتی ہے. یہ لمبی تمہید اس لیے کیونکہ مخالف نظریات رکھنے والی حکومت کی کارکردگی کا تجزیہ پیش کرتے  ہوۓ مجھے اس پریشانی کا متواتر سامنا رہا، لیکن میں نے اپنی طرف سے اپنے تعصب کو شکست دینے کی کوشش کی ہے. میری کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ قارئین کریں گے، جو خود تعصب سے بالاتر نہیں ہیں.      

موجودہ حکومت کی کارکردگی کے مثبت امور کی طرف پہلے اشارہ کرنا چاہوں گا. میرے نزدیک، موجودہ حکومت کی کارکردگی خارجہ پالیسی کے محاذ پر اطمینان بخش رہی. وزیر اعظم نریندر مودی نے تقریبا تمام اہم ممالک کا دورہ کیا اور مختلف ممالک اور تنظیموں کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کو سیاسی، معاشی، سماجی، فوجی، ماحولیاتی غرضیکہ ہر سطح پر مضبوط کیا. ان دوروں نے، دنیا میں ہندوستان کا تعارف ایک ابھرتے ہوۓ طاقتور ملک کے طور پر مزید مضبوطی کے ساتھ کرایا اور دنیا میں  ایک ذمہ دار ملک کے طور پر ہندوستان کی شبیہ مزید نمایاں ہوئی. ہندوستان سے باہر مقیم اور زیر عمل ہندوستانیوں تک پہونچنے اور ان کو ہندوستان کے ساتھ مزید مضبوطی کے ساتھ  جوڑنے کے اقدامات کیے گۓ. طاقتور ممالک میں مقیم ہند نژاد باشندوں کو منظم کرکے ایک ہندوستان موافق لابی بنانے پر تیزی کے ساتھ کام ہوا. اس سے ہندوستان کا سافٹ پاور بڑھا. وزیر خارجہ کے طور پر، محترمہ سشما سوراج نے بھی اچھا کام کیا. ان کے فوری امداد کے طرز عمل اور کئی مواقع پر انسانیت پرست رویوں نے سب کا دل جیتا. خارجہ پالیسی موجودہ حکومت کا سب سے روشن محاذ رہا.

کچھ احتیاط و تحفظات کے ساتھ، موجودہ حکومت کے عسکری فیصلوں کو مثبت خانے میں رکھنے کا رجحان غالب ہو رہا ہے. دہشت گردی جیسے پیچیدہ مظہر کی سمجھ اور اس کے حل کے تعلق سے بحث کی بہت گنجائش ہے. لیکن سرجیکل اسٹرائیکس کا آغاز اور اس کی ذمہ داری قبول کرنا ایک جرات مندانہ فیصلہ ہے. ان اسٹرائیکس کے سچ یا جھوٹ ہونے سے قطع نظر، سرکاری سطح پر ان کا اعلان کرنا اپنے آپ میں بڑی تبدیلی ہے. یہ دکھلاتا ہے کہ ہندوستان چوٹ کھانے پر ضرب لگاۓ گا اور اس سلسلے میں سرحدوں کی حیثیت کو وقتی طور پر نظر انداز کیا جاۓ گا. عسکری پالیسی کی سطح پر، یہ بڑی تبدیلی ہے. یہ فریق مخالف کی پناہ گاہوں کے کلی طور پر مامون و محفوظ ہونے کے تصور پر بڑا ضرب ہے. اندیشے  اور خطرات اپنی جگہ ہیں، لیکن یہ فیصلہ قابل تعریف ہے. قارئین اگر برداشت کریں تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اس قسم کی صورتحال میں فیصلہ لینے کی ذمہ داری میرے کاندھوں پر ہوتی، تو میں بھی ایسا ہی فیصلہ لیتا.          

جنرل کٹیگری سے تعلق رکھنے والے معاشی طور پر کمزور لوگوں کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیم گاہوں میں دس فیصد ریزرویشن دینے کا فیصلہ قابل تحسین ہے. ہندوستان میں ریزرویشن ایک حساس معاملہ ہے اور یہ استحقاق کے معیاروں کی درستگی کی جانچ پڑتال سے بھی بالاتر ہو کر تنگ نظری پر مبنی مفادات کو تحفظ دینے کا آلہ کار بن چکا ہے. ایسے میں، موجودہ حکومت کا یہ فیصلہ جرات مندانہ ہے. تکنیکی خامیوں اور تنفیذ کی دشواریوں سے پرے، اس کا ایک نفسیاتی پہلو ہے جو جمود کو توڑنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے. 

مشکل سے اور تحفظات کے ساتھ ذہن میں آسکنے والے ان مثبت امور کے برعکس، منفی امور کی لسٹ لمبی ہے. ان امور کا تعلق سیاسی، معاشی اور  سماجی ہر سطح سے ہے. ان امور کا تذکرہ مختصر طور پر کیا جا رہا ہے.   

جمہوری اداروں میں حکومت کی دخل اندازی کو میں موجودہ حکومت کا سب سے بڑا جرم سمجھتا ہوں. وہ ادارے جن پر جمہوریت کی بنیاد ٹکی ہوئی ہے، اگر ان کی ہی آزادی خطرے میں پڑ جاۓ گی، تو جمہوریت کے باب میں ہماری عظیم الشان کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ جاۓ گا اور ملک کو جمہوریت سے ڈکٹیٹرشپ میں تبدیل ہوتے دیر نہیں لگے گی. موجودہ حکومت کی عدلیہ میں دخل اندازی، جسٹس لویا کا معاملہ، سی بی آئی معاملہ اور آر بی آئی معاملہ انتہائی  فکر مند کرنے والے امور ہیں. ان سے موجودہ حکومت کے فاشسٹ ارادوں اور ان کی انجام دہی کے لیے کسی بھی حد تک جانے کی سمجھ کا پتہ چلتا ہے. یہ جمہوریت کی انہیں بنیادوں پر ضرب ہے جن کا سہارا لے کر موجودہ حکومت نے  اقتدار کی سیڑھیاں چڑھی ہیں. یہ انتہائی غصہ دلانے والی کرتوت ہے. ہر جمہوری مزاج رکھنے والے شخص کو اس غصہ کو پالنا ہوگا اور ووٹ دیتے وقت اسے یاد رکھنا ہوگا.   

میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے اور اس پر حملہ جمہوریت پر حملہ مانا جاتا ہے. موجودہ حکومت نے مخالف راۓ رکھنے والی میڈیا کو جس طرح ڈرایا دھمکایا، اس کی آواز دبانے کی کوشش کی اور آنکھ موند کر حکومت کی تائید کرنے والی میڈیا کو جس طرح پالا پوسا اور اس کی جس انداز سے افزائش کی، وہ ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے. حکومت کی  راۓ سے اتفاق نہ رکھنے والی غیر حکومتی تنظیموں کو ہراساں کرنے اور ان پر پابندی لگانے کی پالیسی کو بھی اسی خانہ میں رکھا جا سکتا ہے. یہ سب پریشان کن ہے.   

ان سب پر مستزاد یہ کہ ملک میں اداروں کے بجائے شخصیت پرستی کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے. ایک فرد کو اس طرح پیش کیا جا رہا ہے مانو وہ مسیحا اور سبھی مسائل کا حل ہو. یہ پیشکش بسا اوقات حدود سے تجاوز کر جاتی ہے اور ایسا باور کرایا جاتا ہے کہ  وہ شخص تمام اداروں اور قوانین سے بالاتر ہے. یہ جمہوریت کو کمزور کرنے والی شرارت ہے، کیونکہ اکثر سیاسی مفکرین کے مطابق، جمہوریت کی مضبوطی جمہوری اداروں کی مضبوطی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے نیز شخصیت پرستی اور جمہوریت کے درمیان تناسب معکوس کا رشتہ ہے. 

موجودہ حکومت نے اپنے دور اقتدار کے آغاز ہی میں کچھ ایسے معاشی فیصلے لیے جن کا دور رس اثر ملک کے معاشی ڈھانچہ پر پڑا. نوٹ بندی اور جی ایس ٹی ایسے دو فیصلے ہیں جو ناقص تیاری کے ساتھ نافذ کیے گۓ. اس کی وجہ سے، عوام کو حد درجہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑا. نوٹ بندی کے متعلق بعد میں آنے والی رپورٹوں اور تجزیوں کے مطابق، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا. عوام کو پریشان کرنے والا یہ خرچیلا عمل ملک کے محدود وسائل کی بربادی تھا. نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کا مشترکہ اور سب سے خطرناک نقصان تھا چھوٹے موٹے کاروباروں پر کاری ضرب لگنا. ان دو معاشی فیصلوں نے چھوٹے کاروباریوں کی کمر توڑ دی. اس کے نتیجہ میں جو خلا پیدا ہوا، اس کو بڑے کاروباریوں نے ہضم کرلیا. اس حقیقت کے علاوہ، حساس شعبوں میں کارپوریٹ سیکٹر کو تجارت کرنے کی چھوٹ اور کانٹریکٹس کے تعلق سے معیار اور صلاحیتوں کو نظر انداز کرکے کچھ کارپوریٹ گھرانوں کی طرفداری کرنے سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ حکومت کرونی کیپٹلزم (Crony Capitalism یعنی سیاسی اور تجارتی طبقوں کے درمیان گندا گٹھ جوڑ) کی پالیسی پر عمل پیرا ہے. ملکی معیشت اور دفاع کے لیے اس سے زیادہ خطرناک بات کوئی نہیں ہو سکتی. رافیل طیاروں کی خریداری میں کرپشن اس مہلک کاک ٹیل کی ایک جھلک بھر ہے. مزید برآں، بینکوں کا پیسہ لے کر کسی دوسرے ملک بھاگ جانے کے واقعات کے پیچھے بھی کرونی کیپٹلزم کا ہی ہاتھ ہے. یہ ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے والا رجحان ہے. اس کو روکنے کی ذمہ داری ہم سب پر ہے.

سماجی سطح پر سماج کی  تشکیل نو کا پروجیکٹ زیر عمل رہا. موجودہ حکومت نے اپنی فاشسٹ جڑوں کے ساتھ نہ صرف اپنے تعلقات استوار رکھے بلکہ ان کی تنفیذ کی چھٹپٹاہٹ بھی دکھائی. ہندوستان کے قدیم سماجی نعرہ ” تنوع میں وحدت” کو مسترد کرتے ہوۓ، حکومت نے ایسے اقدامات کیے جن سے پتہ چلتا ہے کہ وہ مکمل وحدت کی فاشسٹ سوجھ بوجھ کی تنفیذ کی پشت پناہی کر رہی ہے. گاۓ کے تحفظ  کے نام پر معصوموں  کے قتل پر نرم رخ اپنانا، ہندوتوا تنظیموں کو چھوٹ دینا اور ہندتووادی دہشت گردی سے چشم پوشی کرنا ایسے جرائم ہیں جو ناقابل معافی ہیں. اس سے آگے بڑھ کر، تعلیم کے میدان میں اپنے ایجنڈے کو نافذ کرنا، نصاب کی فاشسٹ بنیادوں پر تشکیل نو کرنا، نیز تعلیمی اور تحقیقاتی اداروں میں تحقیق کے نام پر اپنی فاشسٹ سوچ تھوپنا ایسے اقدامات ہیں جن سے ہمارے بنیادی سماجی اقدار کو خطرات لاحق ہیں اور ملک کا سماجی تانا بانا بکھر سکتا ہے. مزید براں، وطن پرستی کے نام پر، جس تنگ نظریہ کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے وہ ملک کو جوڑنے کے بجاۓ توڑ سکتا ہے.

اس پس منظر میں، یہ بات سمجھنی مشکل نہیں ہے کہ موجودہ حکومت کی کارکردگی بطور مجموعی منفی رہی ہے. اس کو دوبارہ حکومت کرنے دینے کا مطلب ہے ملک کی سیاسی، معاشی اور سماجی جڑوں پر کلہاڑی چلانے کا موقع دینا. ہر ہوشمند ہندوستانی کو سوجھ بوجھ دکھانی ہوگی. موجودہ حکومت دوبارہ اقتدار میں نہ آنے پاۓ، اس کے لیے ہمیں ایک منصوبہ بند عمل اور رویہ اپنانا ہوگا.   

حالات یہی اشارہ کر رہے ہیں کہ اس انتخاب کو جیتنے کے لیے بر سر اقتدار پارٹی یعنی بھاجپا ایڑی چوٹی کا زور لگا دے گی. اس کی حکمت عملی یہی ہوگی کہ وہ جذباتی امور کو زیادہ سے زیادہ اچهالے اور بھناۓ. ان امور میں سرجیکل اسٹرائکس، پاکستان کا خوف، آتنک واد کا ناش، کشمیر میں حریت پسندوں پر کارروائی، دہشت گردوں کو جواب، وغیرہ وغیرہ سر فہرست رہیں گے. اس کی پوری کوشش ہوگی کہ معاشی، سیاسی اور سماجی امور زیر بحث نہ آئیں کیونکہ ان پر اس کی کارکردگی منفی رہی ہے۔ جذباتی امور پر جتنا زیادہ بحث ہوگا، بھاجپا اتنا ہی زیادہ فائدہ میں رہے گی. جیسے ہی جذباتی امور سے ہٹ کر بات حقیقی امور پر ہونے لگے گی، بھاجپا کی ناکامی کا امکان بڑھتا جاۓ گا.

اس انتخاب کی سیاسی بساط 2014 کے انتخاب سے مختلف ہے. بھاجپا کے لیے یہ انتخاب جیتنا آسان نہیں ہوگا. پچھلے انتخاب کے برعکس، اس بار ہندی بیلٹ میں بھاجپا کو کڑی ٹکر ملنے کا امکان ہے. اترپردیش میں سپا اور بسپا کے گٹھ بندھن نے سیاسی سمیکرن کو بدل کر رکھ دیا ہے.

علاقائی پارٹیوں سے قطع نظر، اس انتخاب کا نتیجہ کانگریس کی حکمت عملی پر منحصر ہے. کانگریس کو قائدانہ رول نبھانا ہوگا. اب تک کی کانگریس کی حکمت عملی نے مایوس نہیں کیا ہے. کانگریس کے لیے یہ خوش کن خبر ہے کہ پرینکا گاندھی نے اس انتخاب میں مزید سرگرمی کے ساتھ شرکت لینے کا فیصلہ لیا ہے. اس سے راہل گاندھی کو مزید تقویت ملے گی. کانگریس کی طرف سے ایک اور اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ راہل گاندھی کی قیادت میں اس نے ‘کم از کم آمدنی سپورٹ اسکیم’ کا اعلان کیا ہے. غریبوں کو راحت دینے والے اس اسکیم کے اعلان سے غریب طبقات کانگریس کی طرف تو مڑیں گے ہی، اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ اس سے انتخابی تشہیر کا رخ معاشی امور کی جانب مڑ جاۓ گا، جو کانگریس کے لیے فائدہ مند اور بھاجپا کے لیے نقصاندہ ثابت ہوگا. کانگریس کو ایک کام اور کرنا ہوگا. انتخاب کا رخ معاشی امور کی جانب موڑنے کے لیے اسے منموہن سنگھ کی ماہر اقتصادیات والی شبیہ کا استعمال کرنا ہوگا اور ڈاکٹر سنگھ سے گاہے بگاہے معاشی امور پر بیان دلوانا چاہیے. منموہن سنگھ ایک قد آور شخصیت ہیں. وہ سراپا اقتصادیات ہیں. جہاں مودی جیسے چھٹ بھیوں کا قد ختم ہوتا ہے، وہاں سے منموہن سنگھ کا قد شروع ہوتا ہے. منموہن سنگھ کی قد آور شخصیت اور ان کا وزنی بیان انتخابی موضوعات کا رخ موڑ سکتے ہیں. بھاجپا نے اگر جواب میں منموہن سنگھ کے دور حکومت میں ہونے والی معاشی بد عنوانیوں کا تذکرہ کیا بھی تو الٹے ہی پھنسے گی. کیونکہ جواب میں بھاجپا کی معاشی بد عنوانیوں پر بھی بات ہوگی. اس سے کانگریس ہی کا فائدہ ہوگا. رافیل گھوٹالے پر چرچا ہوئی تو جہاں ایک طرف معاشی بدعنوانی کے محاذ پر بھاجپا کی مزید فضیحت ہوگی، وہیں بھاجپا کی دیش بھکتی والی امیج پر بھی کاری ضرب لگے گی، کیونکہ رافیل طیاروں کا معاملہ فوج سے جڑا ہوا ہے. اس موضوع پر بھاجپا کے پھنسنے کا مطلب ہے اس کے تابوت میں آخری کیل…. 

اس پورے انتخاب کے دوران، مسلمانوں کو بھی سوجھ بوجھ سے کام لینا ہوگا، کیونکہ ان کی ایک نادانی بھاجپا کے لیے آب حیات ثابت ہوگا. اس لیے مسلمانوں کو خاموشی کے ساتھ ووٹ دینا ہوگا. بھاجپا کی جانب سے ماحول گرمانے کی کوشش ہوگی. مسلمانوں کو اسے ناکام بنانا ہوگا. انہیں اشتعال انگیز اقوال و اعمال کو وقتی طور پر نظر انداز کرنا ہوگا. فالتو بحث و مباحثه سے احتراز کریں. بھاجپا کے کارکنان کہیں کہ  مودی جی نے سرجیکل اسٹرائیکس کیا اور اتنے اتنے دہشت گردوں کو مارا، تو اس کے جواب میں کہیں کہ بالکل مارا اور بہت اچھا کیا. خوب شاباشی دیں. تاریخ میں نہ اس کی ڈینگ رہے گی اور نہ ہی آپ کی شاباشی. ہاں، 2019 کا انتخاب کس نے جیتا اور کون ہارا، یہ بالیقین تاریخ کا حصہ ہوگا۔ اگر آپ نے ایسا کیا توجاتے جاتے بھاجپا کے کارکن کی کھسیاہٹ بھی دیکھ لینا…

آپ کے معاشی مسائل عام ہندوستانیوں سے زیادہ الگ نہیں ہیں. بھاجپا کے ہارنے سے فرقہ پرستی کمزور ہوگی. آپ بلا شبہہ مسلم پارٹیوں کو ووٹ دیں، لیکن صرف انہیں حلقوں میں جہاں سے ان کے جیتنے کا امکان ہو. مسلم پارٹیوں یا امیدواروں کے بھڑکاؤ بیانات کی مذمت کریں اور انہیں اس قسم کے بیانات دینے سے روکیں. پارلیمنٹ میں مسلم نمائندوں کے تناسب کا خیال رکھنا برا نہیں ہے، لیکن اس سے اہم یہ ہے کہ سیکولر خیالات کے حامل کام کرنے والے امیدوار کو ووٹ دیں. مسلم نمائندوں پر کام نہ کرنے کا الزام لگتا رہتا ہے اور غالبا وہ غیر مسلموں کی جانب سے مسلمانوں کی طرفداری کرنے کے الزام کے تئیں حساس بھی ہوتے ہیں. نتیجتا وہ دباؤ میں رہتے ہیں. غیر مسلم سیکولر نمائندوں کا معاملہ برعکس ہوتا ہے. بہرحال، مسلم نمائندگی اور کام کاج کے درمیان ایک توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اگر دونوں میسر آگئے تو اس سے بہتر کچھ نہیں ہوسکتا۔ ایک بات یاد رکھیں کہ جس کو بھی ووٹ دیں، سوچ سمجھ کر دیں اور سود وزیاں کا حساب رکھیں.

جاتے جاتے بس وہی دو گزارشیں دوبارہ کر رہا ہوں…

ووٹر لسٹ میں اپنا نام یقینی بنائیں اور

ووٹ دینے ضرور جائیں۔۔

باقی اللہ پر چھوڑ دیں۔۔۔۔

2
آپ کے تبصرے

avatar
3000
2 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
2 Comment authors
محمد عمر سلفیھلال ھدایت Recent comment authors
newest oldest most voted
ھلال ھدایت
Guest
ھلال ھدایت
بہت ہی متوازن تحریر
تمہید اور ابتدائیہ بشمول مضمون زور دار ہے۔
بہترین تجزیہ کیا ہے پروفیسر نے۔ اس طرح کے مضامین وقت بوقت ضرور آنے چاہئیں۔ وقت کی ضرورت ہے۔
میں بس یہی کہوں گا کہ روزناموں میں جگہ بنائیں تو مزید فائدہ ہوگا۔
محمد عمر سلفی
Guest
محمد عمر سلفی
ماشاء اللہ حقیقت پر مبنی تحریر
“خير الكلام ماقل ودل” کا ثبوت ہے