سید قطب ١٩٠٤ ۔ ۱۹٦٦ء

صہیب حسن مبارکپوری عربی زبان و ادب

سید قطب بن الحاج قطب بن ابراھیم مصر کے ضلع اسیوط کے ایک گاؤں’’قھا‘‘ میں پیدا ہوئے۔ بہت بچپن میں قرآن کریم کے حافظ ہوگئے۔ قاہرہ میں ثانویہ مکمل کرنے کے بعد کلیہ دارلعلوم (قاہرہ) میں چار سال تک تعلیم حاصل کی اور آداب میں بی،اے کی سند حاصل کرنے کے ساتھ ۱۹۳۳ء میں جامعۃالقاھرہ سے تربیت میں ڈپلومہ کیا۔ فراغت کے فوراً بعد وزارت تربیت میں مفتش کے حیثیت سے کام کیا۔ اسی وزارۃ کی طرف سے ۱۹۴۹ء میں ریسرچ کے لیے بھیجے جانے والے وفد کے ساتھ امریکہ گئے اور دو سال بعد وہاں سے واپس آئے۔
سید قطب دوبارہ امریکہ حصول تعلیم کے لیے گئے اور وہاں سے واپس آنے کے بعد سماجی تحقیقاتی حلقہ کی کمپنی کے نمائندہ کی حیثیت سے ۱۹۵۳ء میں دمشق کا سفر کیا۔ وہ مجلہ ’’العالم العربی ‘‘ کے نگراں تھے اور عالم عربی کے مسائل کو لیے کر استعمار کے خلاف بحثیں چھیڑتے۔ ۱۹۴۵ء میں وہ اخوان المسلمین سے منسلک ہوئے۔
۱۹۵۲ء میں فاروق اول کے زمانے میں اخوان المسلمین کے ممبران کی جیل سے رہائی کے بعد جماعت کے دعوۃ سینڑ کے ممبر بنائے گئے اور جماعت کے مرکز عام میں دعوتی شعبہ کے صدر نامزد کیے گئے۔ اس ذمہ داری کو سنبھالنے کے بعد موصوف نے فرانسیسی، انگریزی، انڈونیشی سمیت دنیا کی دیگر اہم زبانوں میں اخوان کی کتابوں کے ترجمہ کا ایک بڑا پروگرام ترتیب دیا۔
۲؍فروری ۱۹۵۳ء کو فلسطین میں منعقد ہونے والی اسلامی قومی کانفرنس میں اخوان المسلمین کی نمائندگی کرتے ہوئے اس میں شرکت کی۔
اخوانی لوگ مصری حکومت پر تنقیدیں کرتے جس کی وجہ سے جمال عبدالناصر ان کے مخالف ہوگئے۔ ۵؍جولائی ۱۹۵۴ء کو جماعت نے اپنے رسالہ ’’الاخوان المسلمین‘‘ کاانہیں ایڈیٹر بنایا۔ دوماہ بعد اس پرچہ پر اس وجہ سے بینڈ لگا دیاگیا کہ اس نے انقلابیوں کے معاملے میں مصر برطانیہ اتحاد پر قدغن لگا یا تھا اور اس کی مخالفت کی تھی۔
۱۹۵۴ء میں گرفتار کیے جانے والے اخوانیوں کے ساتھ انہیں بھی گرفتار کیا گیا اور قلعہ زنازین اور ابوزعبل نامی خوفناک جنگی قیدخانہ میں بڑی اذیتوں کے ساتھ رکھا گیا۔
۳؍مئی ۱۹۵۵ء کو انہیں فوجی ہاسپیٹل منتقل کیا گیا تاکہ وحشیانہ سزاؤں کے نتیجے میں متأثر ہوئے ان کے دل اور سینہ کا اور جسم کے بیشتر مجروح حصوں کا علاج کیا جاسکے۔
۱۳؍مئی ۱۹۵۵ء کو محکمۃ الشعب ( قومی عدالت ) نے انہیں پندرہ سال کے لیے قید بامشقت کی سزا سنائی۔ ’’لیمان قرہ‘‘ کے قیدخانے میں انہوں نے دس سال کاٹے۔ ۱۹۶۴ء میں عراقی صدر عبدالسلام عارف قاہرہ آئے اور انہوں نے جمال عبدالناصر سے بات چیت کرکے بقیہ پانچ سال کی سزا معاف کرادی۔
۱۹۶۴ء میں سید قطب جیل سے رہا ہوئے۔ ۱۹۶۵ء میں اپنی معروف کتاب ’’معالم فی الطریق‘‘ شائع کی۔ کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد دیگر اخوانیوں کے ساتھ پھر جیل میں ڈال دیے گئے۔ ان پر یہ الزام تھا کہ وہ اپنی طاقت کا استعمال کر کے نظام حکومت کو بدلنے کی سازش کر رہے تھے۔ ۲۲؍اگست ۱۹۶۶ء کو پھانسی کا حکم صادر ہوا اور ۲۹؍ا گست ۱۹۶۶ء کو تختہ دار پر لٹکائے گئے۔
تالیفات
سید قطب نے کتاب وسنت سے استفادہ کرتے ہوئے عصر حاضر کے احوال و ظروف کی روشنی میں بہت سی کتابیں تالیف کیں ان کے اسماء ان میں سے چند کا تعارف درج ذیل ہے۔

(۱) دراسات في النفس الانسانیة (ص ۳۸۲)

(نفس انسانی کا ریسرچ ) اس کتاب کے اہم مباحث یہ ہیں:

ما الانسان؟

(انسان کیاہے؟)،

ماتدرکہ الحواس وما لاتدرک

(انسانی حواس کن چیزوں کا ادراک کرتے ہیں اور کن چیزوں کا نہیں کرتے )

الدین والفطرۃ

(دین اور فطرت )،

الخیر والشر في النفس البشریة

(نفس انسانی میں خیر و شر دونوں پہلو ہیں)۔

(۲) منھج التربیة الاسلامیة (ص ۲۹۴)

(اسلامی تربیت کے اصول ) اس کتاب میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ قرآن کریم انسانی تربیت کے باب میں ایسا کامل و مکمل منہج ہے جس نے نفس انسانی کے کسی بھی گوشے کو تشنہ نہیں چھوڑا بلکہ وہ بالتفصیل پوری حیات بشری کو شامل ہے۔
اس کتاب کے اہم محتویات ہیں:

خصائص المنھج الاسلامی

(اسلامی منہج کے خصائص )،

تربیۃ الروح

(روح کی تربیت )،

تربیۃ العقل

(عقل کی تربیت )

تربیۃ الجسم

(جسم کی تربیت )،

من وسائل التربیۃ

(تربیت کے چند و سائل)

التربیۃ بالقدوۃ

(عربی کا قدوہ و نمونہ بن کر تربیت کے فرائض انجام دینا)۔

(۳) شبھات حول الاسلام (ص ۲۴۲)

(اسلام اور جدید ذہین کے شبہات) یہ کتاب بیروت کے دارالشروق نیز قاہرہ سے شائع ہو چکی ہے۔ اس کتاب کے عناوین درج ذیل ہیں:

الدین ھل استنقذ اغراضہ؟

(کیا دین اسلام نے اپنے مقاصد پورے کرلیے اور اب انسانوں کو اس کی حاجت نہیں رہی )،

الاسلام والاقطاع

(اسلام اور جاگیردارانہ نظام، الاسلام والراسمالیۃ (اسلام اور سرمایہ دارانہ نظام)،

الاسلام والملکیۃ الفردیۃ

(اسلام اور انفرادی ملکیت)،

الاسلام و نظام الطبقات

(اسلام اور طبقاتی نظام)،

الاسلام والصدقات

(اسلام اور صدقات)،

الاسلام والمرأۃ

(اسلام اور عورت )،

الاسلام والعقوبات

(اسلام اور سزائیں)،

الاسلام والحضارۃ

(اسلام اور تہذیب و تمدن )،

الاسلام والرجعیۃ

(اسلام اور رجعت پسندی )،

الاسلام والکتب
الاسلام وحریۃ الفکر

(اسلام اور فکری آزادی)،

الدین أفیون الشعوب

(دین قوموں کا افیون ہے)،

الاسلام والطائفیۃ

(اسلام اور گروہ بندی )،

الاسلام والمثالیۃ

(اسلام اور مثالیت)،

الاسلام والشیوعیۃ

( اسلام اور کمیونزم )،

کیف السبیل

(صحیح راستہ کیا ہے؟)، ایک پاکستانی عالمی کے قلم سے اس کتاب کا ترجمہ ہوچکا ہے۔

(۴) العدالة الاجتماعیة في الاسلام (ص ۲۹۴)

(اسلام اور سماجی اعتدال) یہ کتاب دارالشرق بیروت سے ۱۹۷۵ء میں شائع ہوئی۔ سن تالیف مارچ ۱۹۵۴ء ہے۔ کتاب کے بعض اہم عناوین یہ ہیں:

الدین والمجتمع

(دین اور سماج )،

أسس العدالۃ الاجتماعیۃ في الاسلام

(اسلام میں سماجی اعتدال کی بنیادیں،

وسایل العدالۃ الاجتماعیۃ في السلام

(اسلام میں سماجی اعتدال کے وسائل )،

حاضر الاسلام و مستقبلہ

(اسلام کا حال و مستقبل )۔

(۵) المستقبل لھذا الدین (ص ۱۴۰)

(دین اسلام کا مستقبل ) یہ کتاب الاتحاد الاسلامی العالي للمنظمات الطلابیۃ (international aslamic federation of students organisations)کی جانب سے ۱۹۰۷ء میں شائع ہوئی۔
اس کتاب کا پہلا عنوان ’’الاسلام منھج حیاتی‘‘ (اسلام میری زندگی کا لائحہ عمل ہے) ہے، اور آخری عنوان کتاب کے نام پر ہے۔

(۷) خصائص التصور الاسلامی ومقوماتہ (ص ۲۳۴)

(اسلامی تصور کے خصائص اور اس کے مقومات) اس کتاب کے اہم عناوین یہ ہیں: خصائص التصور الاسلامی، الثبات (ثابت قدمی ) الشمول (شمول و عموم )، التوازن (توازن ) ، الایجابیۃ (الایجابیت)، الواقعیۃ (واقعیت)، التوحید (توحید)۔

(۸) الاسلام و مشکلات الحضارۃ (ص ۱۹۱) (اسلامی تہذیبی مشکلات )

اس کتاب کے اہم عناوین یہ ہیں:

تدمیرالانسان

(انسان کی ہلاکت)،

الانسان و فطرتہ واستعداداتہ

(انسان کی فطرت اور اس کی استعدادات)،

حضارۃ لاتلائم الانسان

(ایسی تہذیب جو انسان کے لیے مناسب نہیں)۔
اس کتاب میں روشن خیال مغربی مفکرین کی آراء سے استفادہ کیا گیا ہے خاص طور پر علامہ لیوپولڈ اسد (نومسلم) کی کتاب (islam on the cros road) (الاسلامی علی مفترق الطرق) سے کافی اقتباسات سے نقل کیے گئے ہیں۔ نیز امریکی مؤلف وویل دیورانت کی کتاب قصۃ الحضارۃ پیش نظر رہی ہے۔ یہ کتاب انگریزی سے ترجمعہ کی گئی ہے جسے جامعۃ الدول العربیۃ چار اجزاء میں شائع کیا ہے۔

(۹) ھل نحن مسلمون؟ (ص ۲۱۸)

کتاب کے مقدمہ میں اسلام کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔ دیگر عناوین یہ ہیں:

نماذج من المجتمع المسلم

(اسلامی سماج کے چند نمونے)،

نیارات عالمیۃ

(عالمی کشمکش)،

المستقبل للاسلام

(اسلام کامستقبل )۔

(۱۰) معرکۃ الاسلام والراسمالیۃ (ص ۱۳۲)

یہ کتاب ۱۹۵۰ء سے لیے کر ۱۹۶۹ء تک کے عرصے میں ۴ بار طبع ہوئی (معرکہ اسلام اور سرمایہ دارانہ نظام) کتاب کے اہم عناوین یہ ہیں:

صیحۃ النذیر

(ڈرانے والے کی چیخ)،

انی أتھم

(مجھے متہم کیاجارہاہے)،

في السلام خلاص

(اسلام ہی نجات کا واحد راستہ ہے)،

سوء توزیع الملکیات والثروات

(ملکیت اور جائداد کی غلط تقسیم)، شبہات حول حکم الاسلام (اسلام کے حکومتی نظام کے متعلق چند شبہات)۔ بعد ازاں مؤلف نے مختلف ادیان اور افکار و نظریات کے حاملین کی اسلامی نظام حکومت سے ان کی عداوتوں کو طشت ازبام کیا ہے۔

(۱۱) معالم في الطریق (ص ۱۸۶)

(نقوش راہ )
کتاب کے اہم عناوین یہ ہیں:

معالم في الطریق

(نقوش راہ )،

جیل قران فرید

(بے مثال جماعت قرآن )،

طبیعۃ المنھج القرآني

(قرآنی منہج کا انداز)،

نشأۃ المجتمع المسلم وخصائصہ

(مسلم سماج کی نشو ونما اور اس کے خصائص )،

الجھاد في سبیل اللّہ

(اللہ کی راہ میں جہاد)،

لاالہ الااللّہ منھج حیاۃ

(لاالہ الااللہ زندگی کا منہج)،

الاسلام والحضارۃ

(اسلام اور تہذیب و تمدن )،

ھذا ھوالطریق

(یہی سیدھا راستہ ہے)۔
اس کتاب کے متعلق علی الصناوی لکھتے ہیں:’’التی رسمھا سید قطب‘‘ (مع سید قطب صاحب) یعنی ’’جن اصول و مبادی کی تحدید و تحفیظ مشہور امام حسن البناء نے کی تھی ان کی وضاحت سید قطب کی کتاب ’’معالم في الطریق ‘‘ ہی سے ہو سکی۔
اس کتاب کا اردو ترجمہ ڈاکٹر عنایت اللہ سبحانی نے کیا ہے جوشائع ہوچکا ہے۔ مترجم کی درخواست پر شیخ الحدیث علامہ عبید اللہ رحمانی مبارکپوری (رحمہ اللہ) نے کتاب کے متعلق اپنے تاثرات تحریر فرمائے ہیں۔

(۱۲) دراسات اسلامیۃ (ص ۲۵۰)

اس کتاب کے اہم محتویات یہ ہیں:

انتصار محمد بن عبداللّہ

(محمد بن عبداللہ [صلی اللہ علیہ وسلم ] کی نصرت و تائید )،

الاسلام یکافح

(اسلام اپنی پوری قوت کے ساتھ مدمقابل کے سامنے آتاہے )،

طبیعۃ الفتح الاسلامی

(فتح اسلامی کی طبیعت )،

کیف ندعوالناس الی الاسلام

(ہم کیسے لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیں )،

خذوا الاسلام جملۃ أو دعوہ

(اسلام کو پورا لو یا اسے چھوڑدو)،

تحت رایۃ الاسلام

(اسلام کے پر چم تلے )،

الی النائمین في العالم الاسلامي

(دنیائے اسلام میں غفلت کی نیند سونے والوں کے نام )،

مشکلاتنا في ضوء الاسلام

(ہماری مشکلات [کاحل] اسلام کی روشنی میں )،

حسن البناء و عبقریۃ البناء

(حسن البناء اور ان کی عبقریت )، باشباب (اے نوجوانوں)۔

(۱۳) في ظلال القرآن (قرآن کے سائے تلے )

یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں میں قرآن کریم کی تفسیر ہے، دارلشروق بیروت سے ۱۹۷۶ء میں شائع ہوئی۔
مقدمہ میں مؤلف لکھتے ہیں: ’’قرآن کریم کے سائے میں زندگی گزارنا ایسی نعمت ہے جس کا ادراک وہی شخص کرسکتا ہے جو اس سے متمتع ہوا ہو۔ یہ ایسی نعمت ہے جس سے عمر میں اضافہ، برکت اور تزکیہ حاصل ہوتاہے۔ اللہ تعالٰی کا شکر و احسان ہے کہ اس نے مجھے کچھ عرصہ قرآن کریم کے سائے میں زندگی گزارنے کے توفیق عطاء فرمائی۔ ان ایام میں میں نے اس کی نعمتوں کاوہ مزا پایا جو میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہ پایا تھا۔ ان ایام میں میں نے اس نعمت کا مزا پایاجو عمر میں اضافہ و برکت اور تزکیہ کا سبب ہے‘‘۔
محمد حسین ذھبی لکھتے ہیں:
’’یہ کتاب قرآن کریم اور اسلامی ہدایات کی روشنی میں زندگی کی کامل تغیر ہے۔ مؤلف اپنی تفسیر میں اس نتیجے کو پہنچے ہیں کہ آج انسانیت کی بدبختی باطل افکار و نظریات کی پیروی اور آئے دن کے آپسی خونی ٹکراؤ کی وجہ سے ہے۔ ان سب سے نجات کا واحد ذریعہ اسلام ہے۔ سید قطب سورتوں کی تفسیر شروع کرنے سے پہلے زیر تفسیر سورۃ کے اجزاء کے باہمی ربط اور اس سورۃ کے اہداف و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہیں۔ پھر مضمون سے متعلق صحیح احادیث ذکر کرتے ہیں۔ لغوی مباحث سے اعراض کرتے ہوئے سرسری اشارہ پر اکتفا کرتے ہیں۔ شعور کو بیدار کرنے، غلطافہمیوں کے ازالہ اور اسلام کو زندگی سے مربوط کرنے کی طرف توجہ دیتے ہیں‘‘ (۱)

(۱۴) النقدالادبی،أصولہ ومناھجہ (ص ۲۲۷)

(ادبی تنقید کے اصول و ضوابط) اس کتاب کے اہم مباحث یہ ہیں:

القیم الشعوریۃ والقیم التعبیریۃ في العمل الادبی

( ادبی عمل میں تعبیر و شعوری قدریں)،

قواعد النقد الادبی بین الفلسفۃ و العلم

(ادبی تنقید کے اصول و قواعد فلسفہ و سائنس کے درمیان)،

مناھج النقد الادبی

(ادبی تنقید کے اصول و مناہج )۔

(۱۵) جاھلیۃ القرن العشرین (ص ۲۷۰)

(بیسویں صدی کی جاہلیت) اس کتاب میں عصر حاضر میں پائی جانے والی سیاسی، اقتصادی، سماجی اور اخلاقی خرابیوں کو بیان کیا گیا ہے اور اسلام کی طرف لوٹنے کی دعوت دی گئی ہے۔

(۱۶) مع اللّہ دراسات في الدعوۃ والدعاۃ (ص ۵۲۰)

اس کتاب کی چوتھی طباعت میں دعوت کے مفہوم، اس کی اہمیت و ضروت ،داعی کے اوصاف، دعوت کے طریقہ کار اور اس کے وسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے نیز موضوع سے متعلق قیمتی معلومات جمع کرنے کی عمدہ کوشش کی گئی ہے۔
سید قطب کی دیگر تالیفات:

۱۔ الانسان بین المادیۃ و اسلام

(انسان مادیت اور اسلام کے درمیان) یہ کتاب تیسری بار دار احیاء الکتب العربیہ (قاہرہ ) سے شائع ہوئی۔

۲۔ في النفس و المجتمع

یہ کتاب مکتبہ وھبہ عابدین (قاہرہ) سے دوسری بار طبع ہوئی۔

۳۔ قبسات من الرسول

یہ کتاب بھی مکتبہ مذکور سے دوسری بار طبع ہوئی۔

۴۔ السلام العالمی وا لاسلام (ص ۲۰۰)

دارالشروق بیروت سے یہ کتاب شائع ہوئی۔ مؤلف نے ابتداء میں عقیدہ و زندگی کے بارے میں گفتگو کی ہے پھر قلب و ضمیر،گھر، سماج اور پورے عالم کی سلامتی کے متعلق روشنی ڈالی ہے۔

۵۔نحو مجتمع اسلامی

(اسلامی سماج کی جانب)

۶۔ معرکۃ الاسلام والرسمالیۃ

(معرکہ اسلام اور مادارانہ نظام)

۷۔ أمریکا التي رأیت

(امریکا جسے میں نے دیکھا)

۸۔ التصویر الفنی في القرآن

(قرآن کریم کی فنی تصویر) نجیب محفوظ کے بقول:’’یہ کتاب اس شخص کے لیے مفید ہے جسے علوم قرآن میں تفقہ اور اس کی بلاغت کے اسرار میں غور و فکر کی سعادت حاصل نہ ہوئی ہو‘‘

۹۔ في ظلال السیرۃ

(سیرت کے سائے میں)

۱۰۔ قصۃ الدعوۃ

(دعوت و تبلیغ کی کہانی)

۱۱۔ مشاھد القیامۃ

(مناظر قیامت) کے نام سے اس کتاب کا اردو ترجمہ کیا جاچکا ہے۔

۱۲۔ المدینۃ المسحورۃ

۱۳۔ تصویبات في الفکر الاسلامی المعاصر

(معاصر اسلامی فکر کی چند اصطلاحات)

۱۴۔ تفسیر آیات الربا

(سود سے متعلق آیات کی تفسیر)

۱۵۔ معرکتنا مع الیھود

( یہودیوں کے ساتھ ہماری لڑائی)

۱۶۔ الاسلام أولا اسلام

(صرف اسلام)

۱۷۔ کتب و شخصیات

(کتابیں اور شخصیات)

۱۸۔ طفل من القریة

(گاؤں کا ایک بچہ)

۱۹۔ مھمة الشاعر في الحیاۃ

(شاعر کی ذمداری)

۲۰۔ أشواک

(کانٹے)

۲۱۔ الأطیاف الأربعۃ

(دیگر مؤلفین کے اشتراک سے یہ کتاب لکھی گئی ہے)

۲۲۔ أفراح الروح

(روح کی خوشیاں)

۲۳۔ خصائص التصور الاسلامی

(اسلامی تصور کے خصائص)

۲۴۔ في التاریخ فکرہ و منھجہ

(تاریخ نگاری فکر و منہج کی اہمیت)
سید قطب کے بہت سے قصائد ہیں ان میں سے جو رسائل و مجلات میں شائع ہوئے یہ ہیں:

الشاطی المجھول، حلم الفجر، قافلۃ الرقیق، نھایة المطاف، حلم قدیم، انتھینا، من بواکیر الکفاح.

سید قطب نے قصہ نگاری بھی کی، چند قصے یہ ہیں:

من الأعماق، الی الاسکندریۃ، سوق الرقیق، تلمیذۃ،عذراء، خطیءۃ، أم، أب۔

ان کے متنوع مقالات میں سے چند یہ ہیں:

نحن الشعب، الکتلۃ الاسلامیۃ، إلى الأحزاب المصریۃ، مدارس، دفاعا عن الفضیلۃ۔

شعر و ادب اور قصہ میں بڑے بڑے ادباء کے انتاجات پر ان کے تنقیدی مباحث ہیں جو یہ ہیں:

خان الخیلی لنجیب محفوظ، الملک أودیب لتوفیق الحیکم، ھمزات الشیطان لعید الحمید جودہ السحار، وحی الأربعین وسارہ لعباس محمود العقاد، شعر محمود أبو الوفاء، أدب الرافعی، دعوۃ الکاشانی الی موتمر اسلامی، ماذا خسرالعالم بانحطاط المسلمین للشیخ أبي الحسن الندوي، بین الفلسفۃ و الأدب لعلی أدھم، دفاعا عن البلاغۃ لأحمد حسن زیات، من مفارقات التفکیر لاسماعیل مظھر، التناسق الفنی فی القرآن، ھذہ ھی الأغلال لعبداللّہ القصیبی (٢)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱) ملاحظہ ہو ’’فتح المنان بتسھیل الاتقان‘‘ از ڈاکٹر مقتدی حسن ازھری (ص ۲۰۷)
نوٹ: في ظلال القرآن کا اردو ترجمہ مولانا سید حامد صاحب کے قلم سے منظر عام پر آچکا ہے

(٢) أعلام النثر والشعر فی العصر العربی الحدیث لمحمد یوسف کوکن ۳؍۴۵۰۔۴۶۳ وتاریخ العربیۃ وآدابھا لمحمد الفاروقی و محمد اسماعیل المجددی (ص ۱۷۳)

آپ کے تبصرے

avatar
3000