میں اور فن خطابت

ایم اے فاروقی

۱۵/اپریل ۲۰۱۹ بروز دوشنبہ بعد نماز عشا ایک دینی نشست میں شرکت کا موقع ملا، مجھے کسی اچھے موضوع پر لکچر دینے کے لیے کہا گیا۔ تقریر، خطابت اور لکچر سے مجھے بے حد وحشت ہوتی ہے، جب بھی کوئی مجھ سے تقریر کی فرمائش کرتا ہے پطرس بخاری کا مضمون “مرید پور کا پیر” یاد آنے لگتا ہے، حالاں کہ تعلیمی دور میں ایک اچھا مقرر تھا، جمعہ کا خطبہ بھی دے لیتا تھا، جلسوں کے اسٹیج سے بھی دو تین بار خطاب کا شرف حاصل ہے، میدان خطابت کا اچھا خاصا راستہ طے کرلیا تھا، عالم تصور میں خود کو مولانا آزاد اور عطاء اللہ شاہ بخاری سمجھ لیتا اور ایک مسکراہٹ میرے ہونٹوں پر کھیلنے لگتی۔ امید بندھ گئی تھی کہ کوئی ملازمت نہ ملی تو پروا نہیں، صرف تقریروں کے نذرانے سے دال روٹی چل جائے گی۔
شامت آئی تو ایک دن بیٹھے بٹھائے مضامین پطرس پڑھ ڈالا، مرید پور کا پیر پڑھا تو کم بخت اس کا کلیدی کردار میرے پیچھے پڑگیا، اس کے بعد تو لاکھ کوششوں کے باوجود منہ سے جملے پھوٹنے بند ہوگئے۔ اس اچانک تبدیلی سے بے خبر ایک بار تقریر کرنے کے لیے کھڑا ہوا تو سینہ پھولنے پچکنے لگا، ہونٹ سوکھنے لگے، بڑی مشکل سے السلام علیکم کہا تو باریک سی چیں چیں کی آواز نکلی۔ میں نے حوصلوں کو آواز دی، مائک کو انگشت شہادت سے دس بار دستک دی، سامنے سے آواز آئی مولانا مائک کا دروازہ کھلا ہوا ہے، آپ آگے تو بڑھیں، مجھے غصہ جو آیا گلے کا پورا زور لگا کر السلام علیکم کہا۔ مجمع میں بھگدڑ مچ گئی، کسی نے کہا سانڈ گھس آیا ہے، بچے رونے چیخنے لگے، پردے کے پیچھے خواتین کے بیٹھنے کا انتظام تھا، سریلی چیخوں اور پھٹی آوازوں نے جلسہ کو کنسرٹ میں تبدیل کردیا، بھیڑ کے ساتھ میں بھی باہر نکل گیا ورنہ منتظمین جلسہ میرا وہ حشر کرتے کہ یہ کہانی سنانے کے لیے میں آج آپ کے سامنے موجود نہ ہوتا۔
مائک پر چند جملے بولنا میرے لیے پہاڑ ہوگیا۔ ایک بار ہمارے علاقے میں آل انڈیا کانفرنس ہوئی، جید علما آنے والے تھے، مجھے کمیٹی والوں نے حکم دیا کہ کانفرنس کے سکریٹری صاحب صدارت کی تجویز پیش کریں گے، آپ کو کھڑے ہوکر مائک پر ان کی تجویز کی تائید کرنا ہے۔ میں گھر میں قد آدم آئینے کے سامنے صرف ایک جملہ “میں محترم سکریٹری صاحب کی تجویز کی تائید کرتا ہوں” کی مشق کرتا رہا۔ کبھی میری زبان سے نکلتا کہ میں محترم تائید صاحب کی مولانا کرتا ہوں، کبھی محترم سکریٹری صاحب کی تائید کی تجویز کرتا ہوں، عاجز آکر جملہ ایک کاغذ پر لکھ لیا اور سوچ لیا کہ مائک پر دیکھ کر پڑھ دوں گا۔ وقت آیا تو کاغذ جیب سے نکال کر چٹکیوں میں پکڑ لیا، تائید کے لیے اٹھا تو چٹکی کو محسوس کیا، جی سن سے کر کے رہ گیا، پیر کانپنے لگے، کاغذ کہیں گرچکا تھا، ہمت جٹا کر السلام علیکم کہا لیکن آواز کی جگہ صرف ہوا مائک سے ٹکرائی، کھکھار کر دوبارہ کوشش کی، الحمدللّٰہ کامیابی ملی تو ہمت بڑھی اور ایک ہی سانس میں پورا جملہ بول گیا، ماشاء اللہ کہیں کوئی غلطی نہیں کی۔
دل میں تقریر سے اس قدر خوف بیٹھ گیا کہ جمعہ میں اذان کے بعد ہی مسجد جاتا کہ کہیں جمعہ کی تقریر کے لیے پکڑا نہ جاؤں، ایک بار اذان کے فورا بعد مسجد پہنچ گیا، آخری سیڑھی سے جھانک کر دیکھا، منبر پر خطیب صاحب کی شکل نظر نہیں آئی، فورا پلٹ پڑا، ایک بزرگ نے دیکھ لیا آواز دی مگر میں نے مڑ کر نہیں دیکھا اور سیدھے قریب کی ایک اور مسجد میں چلا گیا۔ یہ خوف دل و دماغ میں اس قدر پیوست ہوگیا کہ ضرورت پڑنے پر سری نماز تو ہنسی خوشی پڑھا دیتا لیکن جہری نمازیں پڑھانے میں جان نکلتی، ایک دن جماعت ثانی میں مجھے امامت کے لیے آگے بڑھا دیا گیا، رکوع کے بعد اٹھا تو راگ سے ہم نے کہا “سمع اللہ اکبر” نمازیوں کا کیا حال ہوا ہوگا اس کا آپ تصور ہی کر سکتے ہیں۔
اس قدر شکستگی کے باوجود یقین جانیے ایک مثالی خطیب بننے کے لیے میں اپنی کوششوں سے دست بردار نہیں ہوا، بڑے بڑے اور مشہور و معروف خطبا کی تقریریں سننے کے لیے جلسوں میں جاتا، ان کے اسلوب بیان کو غور سے سنتا اور اچھے خطیب بننے کے تمام گر جاننے کی کوشش کرتا۔ ایک خطیب صاحب کو دیکھا کہ جلسہ لوٹ لیتے ہیں، منتظمین معشوق سے بڑھ کر ان کی ناز برداری کرتے ہیں اور ایک موٹی رقم نذرانے میں پیش کرتے ہیں۔ مجھے ان کو دیکھ کر بہت رشک آیا، ان کی کئی تقریریں سنیں، وہ دوران تقریر انگلش الفاظ کا کثرت سے استعمال کرتے تھے، اپنی تقریر کا آغاز کسی انگریز فلسفی کے قول سے کرتے، کبھی کبھی آیات قرآنیہ اور احادیث کا کوئی ٹکڑا بھی پڑھ دیتے۔ مجھے یقین ہوگیا کہ ایسی تقریروں سے سامعین بہت مرعوب ہوتے ہیں، میں نے خطابت کے لیے یہی انداز اپنانے کا فیصلہ کرلیا، اتفاق سے ایک جلسہ میں شرکت کرنے کا موقع مل گیا، انگلش سے اچھی خاصی واقفیت تھی، مری ذہانت دیکھیے کہ میں نے فیصلہ کرلیا کہ کم از کم ایک صفحہ کا کوئی اقتباس سناؤں گا، مجمع جھوم اٹھے گا۔ جلسہ میں میری تقریر دوسرے نمبر پر تھی، میں نے خطبہ کے بعد ولیم شکسپئیر کے ڈرامے کے بارے میں ابھی چندے جملے ہی کہے تھے کہ صدر صاحب نے کرتا کھینچا اور دھیمے سے کہا مولانا یہ دینی جلسہ ہے۔ میں تو ارادہ کر کے گیا تھا کہ اصل تقریر سے قبل مرچنٹ آف وینس میں مذکور پورشیا کی عدالتی تقریر، انگلش میں سنا کر رہوں گا اور پورے مجمع کو اسیر کرلوں گا، لیکن سامعین کے چہروں پر کوئی اچھا تاثر نہ دیکھ کر دل پھیکا ہوگیا۔ آگے ہم نے کیا کہا یہ خود ہمیں بھی معلوم نہیں ہوسکا، اسٹیج پر بیٹھے لوگوں کی طرف داد طلب نگاہوں سے دیکھا، سب کے منہ بگڑے ہوئے تھے، بہر حال ان لوگوں نے مجھے دوبارہ کبھی نہیں بلایا۔
میں نے اس طرز بیان سے توبہ کی لیکن اس میدان میں شہرت حاصل کرنے کی تگ و دو سے باز نہ آیا، میں اسٹیج کا مقرر بننے کے لیے بے تاب تھا، جمعہ کا خطیب بننے سے مجھے دل چسپی نہ تھی کہ اس میں نہ مال ملتا ہے نہ قدردانی ہوتی ہے، ڈر بھی لگا رہتا ہے کہ جن برائیوں سے رکنے کی میں نصیحت کروں گا باہر نکلتے ہی کسی نے پوچھ لیا کہ مولانا آپ تو خود ہی اس برائی میں ملوث ہیں تو کیا جواب دوں گا۔ اس فن کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ لوگوں کو اعتراض کرنے کا موقع مت دو، میرے ایک خطیب دوست سنیما دیکھنے گئے تھے محلے کے کچھ مانوس چہرے ہال میں دکھائی دیے، دوسرے دن جمعہ کا خطبہ مولانا کو دینا تھا، جمعہ کے بعد مجھ سے ملاقات ہوئی، میں نے ان سے پوچھ لیا جمعہ میں وہ لوگ بھی تھے جنھوں نے تم کو سینما ہال میں دیکھا تھا؟ کہنے لگے ”سب موجود تھے شرم سے سالوں کے سر جھک گئے۔”
خطابت کے لیے نئے اسلوب کی تلاش میں تھا ایک مولوی صاحب کے بارے میں سنا کہ بڑی دھاکڑ تقریر کرتے ہیں، قرآن کی آیات تو زیادہ یاد نہیں ہیں، وہ دلیپ کمار کے یہاں جاکر جھاڑ پھونک اور ان کی بیوی کو تبلیغ کرنے کا قصہ زور و شور سے سناتے ہیں۔ سامعین کو بھی اس واقعہ کو سننے میں بڑا لطف آتا ہے، میں یہ واقعہ پانچ مولویوں کی زبان سے سن چکا تھا اور سب نے اسے اپنا کارنامہ بتلایا، ہمیں بالی ووڈ کے بارے میں زیادہ کچھ معلوم نہیں تھا لیکن یہ سمجھ میں آگیا کہ آج کل جلسوں میں فلمی واقعات بیان کرنے کا بڑا ٹرینڈ ہے، میں نے سن رکھا تھا آج کل تین بڑے ہیرو عامر خان، سلمان خان اور شاہ رخ خان ہیں۔ میں نے سوچ لیا کہ اب مجھے کسی جلسہ میں تقریر کا موقع ملے گا تو تینوں کے گھر میں تبلیغ کروں گا اور کم ازکم ان کی بیویوں کو مبلغہ بنا کر چھوڑوں گا۔ اللہ شکر خورے کو شکر دے ہی دیتا ہے، مجھے ایک جلسہ میں موقع مل گیا میں نے چٹخارے لے لے کر تینوں کی بیویوں کو مبلغہ بنانے کا قصہ سنایا۔ پہلی بار مجھے علم ہوا کہ میری تقریروں میں دم ہے، پورا مجمع نعرۂ تکبیر بلند کر رہا تھا، لیکن یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ کچھ لوگ کیوں ہنس رہے ہیں۔ جلسہ ختم ہونے کے بعد میرے ایک جاننے والے ملے اور کہا کہ مولانا آپ تو اچھے خاصے قصہ گو ہیں، اللہ اور اس کے رسول کی باتیں بتانے کے بجائے فلمی دنیا والوں کے بارے میں لمبی لمبی چھوڑتے ہیں۔ میری سٹپٹی گم ہوگئی۔ اس نے آگے کہا: “مولانا آپ کو اطلاع کے لیے بتادوں کہ شاہ رخ اور عامر کی بیویاں غیر مسلم ہیں اور سلمان خاں نے ابھی شادی نہیں کی ہے اور آپ تینوں کو مبلغہ بناکر چلے آئے۔ میں نیچی نگاہ کر کے آگے بڑھ گیا اور کافی دن تک جلسوں کے قریب نہیں گیا۔
لیکن منہ کو لگی ہوئی کافر جلدی چھٹتی نہیں ہے، اس پیشے میں قد آور خطیب بننے کی آخری بار کوشش کی اور یہ عزم کرلیا کہ اگر اس بار بھی ناکامی ملی تو کوئی سیاسی پارٹی جوائن کر لوں گا۔
میں در بدر رہبر کامل کی تلاش میں پھرتا رہا، ایک شہر میں پہنچا سیدھے مسجد میں داخل ہوا، نماز پڑھی، معلوم ہوا کہ آج عشا بعد ایک بہت بڑے حضرت آرہے ہیں اور وہ مسجد کے سامنے والے میدان میں خطاب فرمائیں گے۔ رات کو میں نے حضرت کو دیکھا، کیا جاہ و جلال تھا، عبا پہنے ہوئے رونق افروز ہوئے تو ہر طرف نور کی بارش ہونے لگی۔ ممکن ہے یہ میرا وہم ہو کیوں کہ پورا پنڈال چائنا قمقموں سے سجا ہوا تھا، تقریر سے پہلے حضرت نے عوام سے بیس اکیس بار درود پڑھوایا، اس کے بعد لعنتوں کی بوچھار کی، ان کے ہر جملہ پر پانچ منٹ تک انواع و اقسام کے نعرے لگتے رہے، کیا زبردست تقریر تھی، مجھے تو صرف یہ کافر وہ کافر کی صدائیں ہی سنائی دیتی رہیں۔
میں وہاں سے اٹھا تو مجھے نسخۂ کیمیا مل چکا تھا، میں جان گیا کہ آج کی مارکیٹ میں جارحانہ اور متشددانہ تقریروں کی ڈیمانڈ ہے۔ میں نے بھی ایک جلسہ میں یہی لب و لہجہ اپنانے کی کوشش کی، خطبہ کے بعد سیدھے تکفیری گولیاں چلانے لگا، لیکن سامعین کا مزاج نہیں سمجھ پایا، نتیجہ خود نکال لیں کہ آگے کیا پیش آیا ہوگا۔ بس جناب میں نے خطابت سے توبہ کرلی، اس پیشے سے میں نے دنیا بنانے کی کوشش کی، نہ شہرت ملی، نہ دولت ملی اور نہ عزت ہاتھ آئی۔
مدتوں بعد آج زبردستی مجھے تقریر کے لیے پکڑ لیا گیا۔ مجھے یہ تو یاد نہیں کہ میں نے اہل مجلس سے کیا باتیں کیں، لیکن یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ مجھے خطابت کا ڈھنگ نہ پہلے تھا اور نہ اب ہے۔

6
آپ کے تبصرے

3000
6 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
6 Comment authors
newest oldest most voted
عبید اختر

کیا شیخ آپ بھی نا۔۔۔۔

خبیب حسن

😂😂😜😜😍😍

شمس الرب خان

لطف آگیا۔۔۔۔مکمل لطف 😂😂😂😂

عبدالرحيم بنارسي

ملا زندہ صحبت باقی

عبداللہ سہل

شیخ “سمع اللہ اکبر” والا جملہ سب سے اچھا 😂😂😂😂

محمد امين

😂😂😂