نتیش کمار: غداریاں، رسوائیاں، بےچینیاں

ثناء اللہ صادق تیمی

بہار ان دنوں سرخیوں میں ہے ۔ مختلف گوشوں میں فرقہ وارانہ فساد بھڑکا ہوا ہے ، اقلیت پر مظالم ہورہے ہیں ، مسجدیں نشانہ پر ہیں ، مدرسوں پر بھگوا جھنڈا لہرایا جارہا ہے اور حکومت بے بس نظر آرہی ہے ۔ نتیش کمار کبھی لوگوں سے گزارش کررہے ہیں کہ وہ شانتی بنائے رکھیں اور کبھی اپنی حلیف پارٹی کو دھمکی دے رہے ہیں کہ وہ کرپشن کی بنیاد پر عظیم اتحاد چھوڑ سکتے ہیں تو فرقہ واریت کی بنیاد پر این ڈی اے بھی چھوڑ سکتے ہیں لیکن تجزيہ نگار جانتے ہیں کہ وہ بری طرح پھنسے ہوئے ہیں اور ان سے کچھ ہو نہیں پارہا ہے ۔
کرپشن کا ہنگامہ کھڑا کرکے جب وہ عظیم اتحاد سے الگ ہوئے تھے تو بھی یہ بات سمجھدار لوگوں کو ہضم نہیں ہوئی تھی کیوں کہ لالو جی پر کرپشن کا الزام کوئی نیا نہیں تھا ، سوال یہ تھا کہ آخر اس کرپشن کی یاد اس وقت کیوں نہیں آئی تھی جب وہ لالو جی سے اتحاد کررہے تھے پھر بھلا یہ کون سا اخلاق تھا کہ سنگھ مکت بھارت کی آواز دینے والے نتیش کمار اسی سنگھ کی گود میں جاکر بیٹھ گئے تھے، این ڈی اے سے وہ نریند ر مودی کی وجہ سے الگ ہوئے تھے اور واپس ساتھ آتے وقت انہیں یہ ذلت جھیلنی پڑی تھی کہ تب بی جے پی ہی نہیں دیش کے بھی مکھیا نریندر مودی تھے ۔
ایسے اگر غور کیجیے تو بغیر کسی پریشانی کے آپ کو یہ بات سمجھ میں آئے گی کہ بے چارے نتیش کمار سنگھی بریگیڈ کے داؤ میں آگئے ۔ بی جے پی کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ وہ لالو پر ہاتھ ڈالنے میں کامیاب رہی اور لالو جی اب جیل میں بند ہیں ، یہ الگ بات ہے کہ اس بیچ تجسوی یادو ابھر گئے اورسب کیے کرائے پر پانی پھر گیا لیکن نتیش کمار کو کیا ملا ؟ اس سوال کا سیدھا جواب یہ ہے کہ نتیش کمار کو رسوائیاں ملیں ، نریندر مودی بہار آئے ، نتیش کمار نے پٹنہ یونیورسٹی کے لیے مرکزی یونیورسٹی کے درجے کی مانگ کی اور اسی محفل میں شری نریندر مودی جی نے انہیں ان کی اوقات یاد دلادی ، نتیش بابو نے ان کے کھانے کا زبردست انتظام کیا اور شری مودی جی نے کھانا کھانے سے انکار کردیا ۔مرکزی حکومت میں وزارتیں بدلی گئیں ، چہرے شامل کیے گئے اور نتیش کمار منہ بائے رہ گئے ، کشکول میں کوئی سکہ نہيں ڈالا گیا ۔ عوام سے کہا تھا کہ بہار کے لیے این ڈی اے میں شمولیت اختیار کی ہے ، مرکز اور بہار ہر دو جگہ پر این ڈی اے حکومت ہوگی تو امداد زیادہ ملے گی اور کام زیادہ ہوگا لیکن بی جے پی نے زبردست ٹھینگا دکھایا ، بہار کو خاص ریاست کا درجہ تو کیا ملتا ، سیلاب زدگان کی مدد بھی اتنی نہیں کی گئی جتنی یوپی اے کے دور حکومت میں کی گئی تھی ۔اسمبلی میں کم سیٹیں ہونے کے باوجود بی جے پی نے کئی کئی وزارتوں پر قبضہ جمالیا اور ریاست میں صورت حال یہ ہوگئی کہ اس کے غنڈے من مانی کرنے لگے ، جہاں تہاں سے غنڈا گردی کی خبریں آنے لگیں ، گائے کے گوشت اور اسی طرح کے مسائل سامنے آنے لگے لیکن ایک وقت کے بعد حالات معمول پر آگئے لیکن ادھر ضمنی انتخابا ت ہوئے ، لوک سبھا انتخابات کا زمانہ قریب آنے لگا اور ادھر بی جے پی اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں لگ گئی ۔ ضمنی انتخابات نے بہت اچھی طرح بتایاکہ عوام کا رجحان لالو یادو کی طرف ہے اور نتیش کمار نے بی جے پی جوائن کرکے کوئی اچھا قدم نہيں اٹھایا ہے ۔ادھر بی جے پی کو سمجھ میں آگیا کہ وہ جدیو کےبغیر بھی اپنی حیثيت رکھتی ہے بلکہ اگر جدیو کو سائڈ لائن کرسکے تو اس کے لیے اور بھی اچھا ہوگا ۔اب کیا تھا ، اس نے اپنا پرانا کھیل کھیلنا شروع کردیا ۔ پر امن بہار میں یہاں وہاں فرقہ وارانہ ماحول بنایا گیا ، اس کے لیے مرکزی وزیر لگائے گئے ، آرایس ایس کے نمک خوروں کو میدان میں بھیجا گیا کہ وہ ترشول بانٹیں ، کہیں اگر ماحول نہ بگڑے تو کسی بھی طرح بگاڑے ، الزامات لگائے ، نعرے دے اور ماحول خراب کرے ، کیوں کہ جب تک ایسا نہیں ہوگا بی جے پی کا فائدہ نہیں ہوگا ۔مسجدوں پر حملہ ہو ، مدرسوں کو نشانہ بنایا جائے اور اس کے لیے ہندو تہوار کا اس لیے انتخاب کیا گیا کہ اکثریت کے مذہبی جذبات کو بہ آسانی بھڑکایا جاسکے ۔
اب صور ت حال یہ ہے کہ بہار جل رہا ہے ، یہاں وہاں ماحول خراب ہے ، ڈی جی پی خود ایک داغی افسر ہے ، بی جے پی کے غنڈے آزاد ہیں اور ماحول بگاڑ رہے ہيں اور نتیش کمار کے ہاتھ سے حکومت کی ڈور پھسلتی جارہی ہے ۔ ان کی بے چینی بڑھتی جارہی ہے لیکن وہ کچھ کرنے کی پوزيشن میں نہیں ہیں ۔ کانگریس کے بارے میں ایک زمانے میں کہا جاتا تھا کہ وہ اپنی چھوٹی حلیف پارٹیوں کو کھاجاتی ہے لیکن بی جے پی تو ایک ہی لقمے میں ہضم کرنے پر لگی ہوئی ہے ۔ غداری کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا لیکن یہ نتیجہ اتنی جلد سامنے آئے گا ، یہ کم لوگوں نے سوچا ہوگا ۔ بے چارے نتیش کمار !!!

آپ کے تبصرے

avatar
3000