خودغرض متوسط طبقہ

شمس الرب خان

تحریر: سی. رام منوہر ریڈی
ترجمہ: شمس الرب


بھارت کے متوسط طبقہ نے انیسویں صدی کے اواخر میں تحریک آزادی کا بیج بویا تھا. اس وقت سے لے کر اب تک، اس طبقہ نے ایک لمبا سفر طے کیا ہے. بھارت کی آزادی کی راہ میں اس طبقہ کے افراد نے جیلوں کو بھرا. گرچہ یہ طبقہ تقسیم اور اس کی ہولناکیوں کو روک نہیں پایا لیکن آزاد بھارت کو دستور ہند کی شکل میں ایک منفرد دستاویز عطا کیا.
آزادی کے بعد، یہ متوسط طبقہ ہی تھا جس نے اساتذہ، اطباء، انجینئرز، وکلاء، منتظمین اور دیگر پیشہ وروں کی شکل میں “پروجیکٹ انڈیا” کے معماروں کو پیدا کیا. گرچہ یہ ایک ناقص پروجیکٹ تھا اور اس کے تعلق سے شدید اختلافات تھے، لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے ان خادموں کو ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینے پر فخر تھا.
متوسط طبقہ کی سرگرمی
حالیہ دہائیوں میں چیزیں تبدیل ہوگئی ہیں. 1990 کی دہائی سے اس طبقہ نے خود غرضانہ رویہ اپنایا شروع کر دیا. اس وقت 1947 کی بنسبت اس طبقہ کی جسامت و شکل کئی گنا بڑی اور بے ہنگم ہو گئی تھی. اب وہ دن لد گئے جب اس طبقہ کو یہ احساس تھا کہ یہ ملک، لاکھ اختلافات کے باوجود، ایک ہے، یہاں بسنے والے ہر فرد کو یکساں حقوق حاصل ہیں اور ترقی کی راہ میں کوئی پیچھے نہیں چھوٹنا چاہئے. اب متوسط طبقہ “جھنڈا بردار قومیت” کا لبادہ اوڑھے اپنے آپ میں مگن ہے.
عوامی سرگرمیوں کو قیادت فراہم کرنے والا متوسط طبقہ اب قصہ پارینہ بن چکا ہے. آخری مرتبہ بھارت کے متوسط طبقہ نے دسمبر 2012 میں دہلی میں واقع ہونے والے روح فرسا آبروریزی کے حادثہ کے بعد عوامی احتجاج میں شرکت کی تھی. اس کے نتیجہ میں ایک نیا قانون بنا. لیکن دسمبر 2012 کے احتجاج میں اس طبقہ کی شرکت محض ایک استثناء ہے. مزید برآں یہ کہ اس احتجاج میں زیادہ تر عورتیں سڑکوں پر اتری تھیں. فی الحال، متوسط طبقہ کی سرگرمیاں ہنگامی امور تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہیں اور ان کا دائرہ کار بھی آس پاس، محلہ اور شہر تک سمٹ گیا ہے.
یہ ایک سنجیدہ حقیقت ہے کہ متوسط طبقہ کے اثریاء کی سوچ و فکر ان کے نئے الیکٹرانک سامان، اگلی چھٹی، نئی کار اور نئے گھر تک محدود ہوکر رہ گئی ہے.
ایک سطح پر، بھارت کا متوسط طبقہ اپنے طبقہ کے ماوراء دنیا سے مسحور ہو کر رہ گیا ہے. دوسری سطح پر، یہ طبقہ جارحیت پسندانہ قومیت کا مظاہرہ کرتا ہے اور تعدد پر مبنی قومیت کے خیال سے حد درجہ نفرت کرتا ہے.
پانچ سو اور ہزار کے کرنسی نوٹوں کو غیر قانونی قرار دئے جانے کے ابتدائی دنوں کے دوران، متوسط طبقہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی ہاں میں ہاں ملایا. یہ طبقہ ‘عظیم تر مفاد’ کے لئے تکلیفوں کو برداشت کرنے پر راضی برضا تھا. لیکن یہ طبقہ بھارت کے غیر منظم شعبہ سے جڑے ہوئے لوگوں کی پریشانیوں کے تئیں بے حس نظر آیا. اسے یہ احساس نہ ہو سکا کہ بینک سہولتوں سے محروم دیہاتی باشندے، نقدی کی شکل میں اپنی جمع پونجی رکھنے والے اور اس طرح کے دیگر لوگوں کا کیا ہوگا؟ یہ لوگ اپنے شب و روز کیسے کاٹ پائیں گے؟
آج کل متوسط طبقہ کے مسائل و خدشات کا پرزور اظہار سماجی میڈیا ہی پر ہوتا ہے. ان سب میں حد درجہ نفرت بھری رہتی ہے. غیظ و غضب سے بھری ان آوازوں کا نشانہ مذہبی اقلیتیں اور “دیش دروہی” ہوتے ہیں. بسا اوقات، کچھ حد درجہ بے باک تبصروں میں ذات پات کا زہر بھی بھرا رہتا ہے.
بھوپال کی مثال
بطور مثال، دسمبر آخر میں مبینہ طور پر بھوپال مرکزی جیل توڑ کر اور ایک جیل محافظ کو مار کر فرار ہو جانے والے آٹھ مسلم قیدیوں کے انکاؤنٹر پر غور کیجئے. ایک یا دو دہائی پہلے اگر قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوتے اس طرح کے مشتبہ حالات میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا انکاؤنٹر ہوا ہوتا تو دستور ہند کے ذریعہ عطاکردہ حقوق سے واقف متوسط طبقہ ضرور اپنے غیظ و غضب کا اظہار کرتا.
لیکن اب نہیں!
شہری آزادی کی تنظیموں اور ایک یا دو سیاسی پارٹیوں کی طرف سے اکا دکا بیانات سامنے آئے، اور بس! رہی بات میڈیا کی، تو کچھ ہی اخبارات نے سخت اداریے لکھے یا اپنے رپورٹروں کو سچ جاننے کے لئے بھیجا. ‘دی ہندو’ جیسے اخبارات جنہوں نے بڑی عرق ریزی اور عمدگی کے ساتھ جھوٹ کا پردہ فاش کیا، آٹے میں نمک کے برابر ہیں. ٹی وی چینلوں کی خاموشی بہرا کر دینے والی ہے.
بجائے اس کے کہ اس انکاؤنٹر کی مذمت کی جاتی، الٹا سرکاری کہانی پر سوال کھڑا کرنے والوں پر ملامت کے تیر برسائے گئے. 31 اکتوبر کو ٹویٹر پر وارد ایک پوسٹ یوں تھا: “لوگ انکاؤنٹر کے حقیقےیا فرضی ہونے کی بابت سوال کیوں اٹھا رہے ہیں؟ دہشت گرد جہاں کہیں بھی ہوں انہیں مار ڈالنا چاہئے.” اسی طرح آن لائن پورٹل اسکرول ڈاٹ ان پر شائع شدہ سرکاری کہانی پر سوال کھڑا کرنے والے ایک مضمون پر ایک مراسلہ یوں تھا: ” سیمی کے یہ قانون پسند دہشت گرد ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں کے پیسوں کی بدولت قائم ایک انتہائی محفوظ جگہ میں سرکاری مہمانوں کی طرح رہ رہے تھے، اور تمہیں یہ سب ٹھیک لگ رہا ہے؟ ان لوگوں کو تو بہت پہلے ہی گولی مار دی جانی چاہئے تھی.”
بھارت کی آن لائن آبادی کم ہے اور سماجی میڈیا پر موجود افراد کی تعداد اس سے بھی زیادہ کم ہے. لیکن سماجی میڈیا پر موجود اس آبادی کے پاس غیر متناسب طاقت ہے. یہ جو کہتی ہے وہ سیاسی گلیاروں میں گونجتی ہے. بدلے میں سیاسی گلیاروں سے آنے والی آوازیں اسی سماجی میڈیا کی بازگشت ہوتی ہیں. دلچسپ بات یہ ہے کہ سماجی میڈیا پر موجود افراد کی اکثریت متوسط طبقہ سے تعلق رکھتی ہے.
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے جب قیدیوں کے قتل پر متوسط طبقہ نے چپی سادھ لی ہو. اپریل 2015 میں، تلنگانہ میں پانچ مسلم قیدیوں کو جب کہ وہ ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے ایک قید خانہ سے دوسرے قید خانہ کی طرف لے جائے جا رہے تھے، پولس نے گاڑی کے اندر ہی مار ڈالا تھا کیونکہ مبینہ طور پر ان میں سے ایک قیدی نے ایک پولس والے کی رائفل چھیننے کی کوشش کی تھی. (اس کے کچھ ہی ہفتہ پہلے اسی صوبہ میں دو مزید واقعات رونما ہوئے تھے جن میں سیمی کے دو کارکنان اور تین پولس والوں کی جانیں گئی تھیں.) اس کے بعد، کچھ اخبارات نے کچھ سوالات کھڑے کئے، کچھ بیانات آئے اور ایک صوبائی سطح کی خصوصی تفتیشی ٹیم مقرر کی گئی. اس کے بعد سناٹا! خصوصی تفتیشی ٹیم بھول بھلیاں کی گردش کرتی رہی. کسی کو کوئی فرق نہیں پڑا.
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ معاملہ جب مسلمانوں کا ہوتا ہے تو اکثر و بیشتر ردعمل یہی ہوتا ہے: “مجھے کیا فرق پڑتا ہے؟!”؛ ” یہ لوگ اسی کے مستحق ہیں.”
ایسا نہیں ہے کہ نیٹ پر صرف پیشہ ور شرانگیز ہی زہر اگل رہے ہیں. کسی بھی انگریزی اخبار یا میگزین پر جائیے اور بھارتی مسلمانوں کے تعلق سے کسی اسٹوری پر ہونے والے تبصروں کو پڑھئے. آپ ان تبصروں کو پڑھ کر ملک کے مستقبل کے تئیں ناامید ہو جائیں گے. روزنامہ ‘دی ہندو’ میں 2 نومبر کو شائع شدہ اسٹوری “سیمی کارکنان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا: عینی شاہدین” پر ہونے والے آن لائن تبصرے اسی طرز فکر و عمل کی نمائندہ مثالیں ہیں.
اقلیت مخالف نظریہ بوتل سے باہر
وقت آگیا ہے کہ متوسط طبقہ (ہندو) کے اپنے ساتھی شہریوں کے متعلق خیالات پر لیپاپوتی کرنی بند کی جائے. ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اقلیت مخالف نظریہ متوسط طبقہ کے اندر سرایت کرتے کرتے ایک زندہ و جاوید حقیقت کی شکل اختیار کرچکا ہے. یہ نظریہ پہلے یکساں نظریہ رکھنے والے افراد کے درمیان کانا پھوسی کی سطح پر موجود تھا. اب یہ نظریہ روز مرہ کی گفتگو کا حصہ بن چکا ہے. خاندان، دوستوں اور دفتر کے ساتھیوں تک بھی یہ نظریہ پہونچ چکا ہے. ہم سب اس نظریہ کی زد میں ہیں.
دیگر لوگوں کے تئیں یہ نفرت و حقارت پچھلی تین دہائیوں کے دوران ہندو اکثریت پسندانہ نظریہ کی کامیاب ترویج و اشاعت کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے. بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں یہ نظریہ نئی اونچائیوں تک پہونچ چکا ہے. خدشہ یہ ہے کہ 2017 میں ہونے والے صوبائی اسمبلی انتخابات اور 2019 میں ہونے والے لوک سبھا انتخاب کے دوران یہ نظریہ مزید خطرناک شکل اختیار کرے گا. متوسط طبقہ کا اکثریت پسندانہ نظریہ برسراقتدار پارٹی کی بنیادی فلاسفی میں منعکس ہوتا ہے. بدلے میں برسراقتدار پارٹی اسی شدت پسندانہ نظریہ کو تقویت پہونچاتی ہے.
تحریک آزادی کی شروعات اور دستور سازی کے عمل سے لے کر اب تک متوسط طبقہ نے ایک لمبا سفر طے کر لیا ہے.

بشکریہ: روزنامہ ‘دی ہندو’ ، 17 نومبر 2016

آپ کے تبصرے

avatar
3000