دی ہیڈن ٹروتھ

یاسر اسعد

موجودہ دور بظاہر جنگوں کا دور لگتا ہے، جہاں بنا تفتیش اور چھان بین کے زیادہ طاقت والا کمزور کو دبا دیتا ہے، اور یہ دبانا فقط دبانا نہیں، بلکہ کچل دینا، بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دینا یا وحشیانہ تشدد کرنا اور ظلم وجبر کی انتہا کردینا ہے۔ عالم کفر کے سرتاج چھوٹی سے چھوٹی مسلم قوت کوبھی دیکھنا گوارہ نہیں کرتے۔ جب تک اس کا وجود صفحۂ ہستی سے ختم نہ کردیں انھیں سکون نہیں ملتا۔ یہ منظر ہمارے سامنے جو صورت حال آشکار کرتا ہے اس سے ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے جو فقط جذباتیت پر مبنی ہوتاہے، اور وہ یہ کہ مسلمان پوری طرح کفریہ طاقتوں سے برسر پیکار ہوجائیں۔ تلوار،نیزہ، بندوق، بم جو بھی ہاتھ آئے پوری قوت کے ساتھ ’’کافروں‘‘ کی طرف پھینک کر ان کی زیادہ سے زیادہ ہلاکت کو یقینی بنائیں۔ دوسرے لفظوں میں اس فکر کو موجودہ ظروف میں ’’جہادی فکر‘‘ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ ’’مرگ بر امریکہ /مرگ بر اسرائیل‘‘ کے نعرے اس کی شناخت ہوسکتے ہیں۔ ’’امریکہ مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے‘‘، ’’مسلمانوں کی ذلت وبربادی یہود ونصاریٰ کی سازش ہے جس کا سب سے بڑا ذمہ دار امریکہ ہے‘‘۔ مگر حقیقت ہے کہ ہم ہندوستان یا پاکستان میں بیٹھ کر اس کے خلاف بددعا کے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ تو ہوا ’’جنگ وجہاد‘‘ کا ماحول۔
یہ صورت حال محض ظاہری ہے۔ در پردہ جو کچھ ہورہا ہے وہ یقیناً اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے، مگر اس سے کم ہی لوگ واقف ہیں، ان پر جن کی نظر ہے وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ ’’جنگ‘‘ ایک ایسی جنگ ہے جہاں بندوق، تیر، تلوار اور بم وغیرہ کا کوئی تصور نہیں ہے ، بلکہ سب سے بڑا ہتھیار ’’عقل‘‘ ہے۔ اسلام کے خلاف فکری یلغار شباب پر ہے جو میدانی جنگ کے بالمقابل زیادہ خطرناک اور نتیجہ خیز ہے اور اس کا سب سے بڑا سہارا میڈیا ہے۔ تقریباً۱۲۰؍برس قبل ہی دنیا کی شاطر ترین قوم نے بیت المقدس پر اپنے ناپاک قبضے کے پس منظر میںجو کانفرنس کی تھی اس کی قرارداد میں اس شق پر خصوصی دھیان دیا گیا تھا کہ ہمیں میڈیا کے گھوڑے پر جلد از جلد سوار ہو کر اس کی لگام پورے طورپر اپنے قبضے میںکرلینی ہے۔ انھوں نے اس قرارداد کو محض کاغذ کی زینت نہیں رہنے دیا بلکہ عملی جامہ پہناتے ہوئے سرخ روئی حاصل کی۔ مسلم قوم اس وقت بھی فقط دیکھ رہی تھی اور آج بھی دیکھ ہی رہی ہے اور دیکھ دیکھ کر کڑھ رہی ہے۔
جدید دور کے سب سے طاقتور ہتھیار میڈیا کے متنوع گوشوںمیں ہماری نمائندگی صفر کے برابر ہے۔ نیوز چینلوں پر براجمان مخصوص ذہنیت والے اینکر جو صورت اور بیک گراؤنڈ کے لحاظ سے کافی دلفریب ہوتے ہیں، اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے لطیف اور عقل کو اپیل کرنے والے انداز میں ایک مسلمان کے ذہن میں مذہب کے تئیں شبہات وشکوک کے جراثیم ڈالتے ہیں، جس کا خمار اس قدر سرور آمیز ہے کہ چاہ کر بھی آدمی اس سے چھٹکارا حاصل نہیں کرپاتا۔ یاد رکھیے کہ شکوک وشبہات کی در اندازی مذہب کے لیے سم قاتل ہے، مگر اس کو اس قدر خوبصورت پیکج میں اتنی دلربائی کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے کہ قبول کیے بغیر بات بنتی نظر نہیں آتی۔
سب سے تکلیف دہ صورت حال یہ ہے کہ ان تمام احوال سے ’’جہاد‘‘ کی ذمہ داری جن پر عائد ہوتی ہے ان کی حالت بذات خود ناگفتہ بہ ہے۔ زمانے کے تقاضے سے آنکھیں موندے مدرسوں اور خانقاہوں سے باہر نکلنے کو تیار نہیں۔ نہ میڈیا میں ان کی پیش رفت ہے نہ ہی دیگر میدانوں میں کوئی قابل ذکر نمائندگی۔ مجموعی تاثر جو ان کے احوال سے آشکار ہوتا ہے وہ قدامت پسندی اور دقیانوسیت کا ہے۔ اور اب تو صورت حال اتنی بد تر ہوچکی ہے کہ نہ دین کی تعلیم کا کوئی قابل ذکر گراف ہے اور نہ ہی عصری تعلیم کا۔ کمپیوٹر اور انگریزی سے خدا واسطے کا بیر رکھنے والی ذہنیت آج بھی موجود ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مذہب کی حاجت اور پھر اسلام کی حقانیت کو عقلی دلائل سے ثابت کیا جائے۔ مختلف جہات سے شبہات کے ریلے اسی ’’دلیل‘‘ سے باندھے جاسکتے ہیں۔ جوش وجذبات کی جگہ عقل وخرد مطلوب ہے۔ جب اپنے ہی مذہب کے برحق اور دین فطرت ہونے کا یقین ہے تو اس کی ایک ایک تعلیم کی ہمارے پاس منطقی توجیہ ہونا بھی بہت ضروری ہے، مگر ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم سارا کام تکفیری فتوے ہی سے نکالنا چاہتے ہیں، اور اس عظیم الشان ’’جہاد‘‘ کی بابت ہماری کوئی سرگرمی نہیں جب کہ سیف وسنان کے مقابل اس اعلامی وعلمی جہاد کی بروقت سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

آپ کے تبصرے

avatar