آم : پھلوں کا بادشاہ

ریاض الدین مبارک

 

آجکل ممبئی میں آموں کی بہار آئی ہے، ہر طرف پھلوں کی دوکانوں اور ٹھیلوں پر سنہرے رنگوں کے آموں کی آمد آمد ہے۔ بازاروں میں جب بھی اس کی نمود ہوتی ہے تو باقی سب پھل پھیکے پڑ جاتے ہیں۔ پھر کیا بس لوگ آموں ہی کا کلمہ پڑھتے اور ہونٹ چاٹتے نظر آتے ہیں۔ ایسے موسم میں بھلا کون چاہے گا کہ وہ ان خوش رنگ وشیریں آموں کو دیکھ کر کھانے کی طلب نہ کرے! بازار میں آموں کی پہلی کھیپ دیکھتے ہی امیر لوگ دوکانوں میں آ دھمکتے ہیں، بلا چون وچرا آموں کا بھاری بھرکم صندوق لاد کر لے جاتے ہیں اور خوب مزے لے لے کر کھاتے ہیں اور کچھ آموں کو تو چوس بھی لیتے ہیں۔ لیکن غریب بیچارہ ان آموں کو فقط للچائی نگاہوں سے دیکھتا اور دل مسوس کر رہ جاتا ہے اور خود کو یوں تسلی دے لیتا ہے کہ ابھی موسم کی شروعات ہے، آم بڑے مہنگے ہیں چلو تھوڑے دن انتظار کرلیتے ہیں پھر کھائیں گے! آخر یہ آم پھلوں کا بادشاہ جو ہے!
خیر موسم رواں کا آم جس نے کھایا وہ رب کا شکر ادا کرے اور جو اب تک نہ کھا سکا وہ صبر کرے کیوں کہ دونوں ہی شغل کار ثواب ہیں۔ میں نے بازار میں آم دیکھا تو خیال آیا کہ آموں کے تعلق سے کچھ لکھنا بھی چاہئیے سو تھوڑی بہت معلومات حاصل کی اور جو کچھ ممکن ہوسکا پیش کر رہا ہوں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ پھلوں کے شہنشاہ آم سے مغربی دنیا صرف چار سو سال پہلے آشنا ہوئی جبکہ ہندوستان کم وبیش چار ہزار سالوں سے نہ صرف آم سے آشنا ہے بلکہ اسکا لطف بھی لے رہا ہے۔ قدیم ہندوستان کے شمال مشرقی علاقہ مینمار اور بنگلہ دیش کے راستے آموں کا قافلہ جنوبی ہند پہونچا اور وہاں کے لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ آم کا نام شروع میں ‘امرا پھل’، ‘رسالا’ اور ‘ساھکارا’ رکھا گیا۔ جنوبی ہند پہونچتے ہی تمل زبان میں اسکا نام ‘آمکائی’ پڑگیا پھر وہاں علاقائی لسانی تلفظ کا رنگ غالب آیا اور تمل زبان نے اسے اپنی آغوش میں لے کر ‘مانکائی’ بنا ڈالا۔ وہاں سے چل کر یہ آم جب جنوبی ہند کے دوسرے کنارے یعنی آج کے کیرلا پہونچا تو ملیالم زبان نے اس نام میں قدرے تحریف کرکے ‘ماننا’ یا ‘ماننگا’ کردیا جو وہاں کے نطق میں نون غنہ کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔ پرتگیز جو کیرلا کے ساحلی علاقوں سے مصالحہ جات اشیاء کی تجارت کرتے تھے ان کو یہ پھل کافی پسند آیا اور انہوں نے اسے ایشیا سے باہر بھر پور متعارف کرایا۔ ان پرتگالیوں نے اس ‘ماننٓا’ کو تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ ‘مانگا’ کہا مطلب نون غنہ کو ہٹا کر اسے ‘گ’ سے بدل دیا اور انگریزی لفظ ‘مینگو’ در اصل اسی پرتگیز لفظ ‘مانگا’ سے ہی ماخوذ ہے جو صرف علاقائی لہجوں کے تغیر کا نتیجہ ہے۔ ہندوستان کے ہی مختلف مقامات پر آم کو امبا، امب یا انبہ، انب اور کیری کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔
آپ شاید جانتے ہوں آم کا ذکر اپنشدوں اور پرانوں میں بھی آتا ہے جہاں اسے ایک مذہبی احترام کا درجہ حاصل تھا۔ اسی لئے تو اس وقت کی کچھ مذہبی کتابوں میں آم کے پیڑ کاٹنے کی حرمت بھی ثابت ہے۔
آموں کے عشاق شاہ و گدا اور عابد وزاہد سب کے سب رہے ہیں۔ عہد قدیم میں گوتم بدھ کو آم بہت پسند تھا اور شاید یہی وجہ رہی ہوگی کہ وہ فرصت کے اوقات آم کے باغ میں گزارنا زیادہ پسند کرتے تھے۔ بدھسٹ راجاؤں کے دور میں آم کا رواج کافی ہوا، انہوں نے آموں کا تحفہ دینا لینا شروع کیا اور اس طرح اس دور میں سفارتی تعلقات استوار کرنے کے لئے آم ایک بہترین ذریعہ سمجھا گیا جو تحائف وہدایا کی شکل میں بہت حد تک آج بھی جاری وساری ہے۔
پتہ چلا ہے کہ موروکن عالمی سیاح ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں مقدیشو، صومالیہ کے قیام میں جہاں بہت سارے پھلوں کا ذکر کیا ہے وہیں آم کا بھی تذکرہ کیا ہے۔
مغل بادشاہوں میں اس آم کے رسیا تو سبھی تھے۔ ان بادشاہوں نے آم کے بڑے بڑے باغات لگوائے اور موجودہ کراس بریڈ یعنی قلمی آموں کی شروعات بھی تو انہیں کے پسند اور شوق کی مرہون منت ہے۔ صوفی شاعر امیر خسرو اور نوبل لاریٹ ربندرناتھ ٹیگور بھی تو اس آم کے دلدادہ تھے۔ امیر خسرو نے اپنی فارسی شاعری میں آم کی تعریف کرتے کرتے اگر اسے فخر گلشن کہا تھا تو ٹیگور نے اسی آم پر فریفتہ ہوکر پوری ایک نظم ‘آمر مونجوری’ کہہ ڈالی اور اسکی پذیرائی بھی خوب ہوئی۔
اب آم کا ذکر ہو اور مرزا غالب کا تذکرہ نہ چھڑے یہ کیسے ممکن ہے؟ چچا غالب نے تو آم کے وصف میں ایک طویل مثنوی لکھ ڈالی تھی جسکے وہ اشعار جن میں غالب نے آم کو جنت کا پھل کہا ہے اسقدر مشہور ہوئے کہ آم کا ذکر غالب کے ساتھ جاوداں ہوگیا۔ غالب اپنی مثنوی میں کہتے ہیں:
یہ یہ ہو گا کہ فرط رافت سے
باغبانوں نے باغ جنت سے
انگبیں کے بحکم رب الناس
بھر کے بھیجے ہیں سر بمہر گلاس
رونقِ کارگاہِ برگ و نوا
نازش دودمان آب و ہوا
رہرو راہ خلد کا توشہ
طوبی و سدرہ کا جگر گوشہ
صاحب شاخ و برگ و بار ہے آم
ناز پروردۂ بہار ہے آم
خاص وہ آم جو نہ ارزاں ہو
نو بر نخل باغ سلطاں ہو
اس ضمن میں ایک لطیفہ بھی کافی مشہور ہے، کہتے ہیں چچا غالب اپنے گھر کے چبوترے پر بیٹھے تھے، یار دوست جمع تھے، سامنے سے کچھ گدھے گزرے، گزر گاہ کے ایک گوشے میں آم کی گٹھلیوں اور چھلکوں کو دیکھ کر ایک گدھا ٹھٹھکا، اور سونگھ کر اگے بڑھ گیا۔ ایک دوست نے از راہ تفنن کہا مرزا صاحب آپ نے کچھ ملاحظہ فرمایا، ‘گدھے بھی آم نہیں کھاتے’۔ مرزا مسکراتے ہوئے بولے: ‘ہاں گدھے آم نہیں کھاتے’!!

اکبر الہ آبادی اور علامہ اقبال کے تعلق سے آم کا قصہ اور اس ضمن میں خوبصورت شعروں کے ساتھ دونوں کا مراسلہ سب کو یاد ہے اور یہ شعر تو بطور خاص زباں زد عام ہے:
اثر یہ تیرے انفاس (اعجاز) مسیحائی کا ہے اکبر
الہ آباد سے لنگڑا چلا لاہور تک پہنچا
علامہ اقبال کو خاص طور پر آموں سے اسقدر محبت تھی کہ ڈاکٹروں کے پرہیزی ہدایات پر پریشان ہوکر کہنے لگے کہ ’’آم نہ کھا کر مرنے سے آم کھا کر مر جانا بہتر ہے‘‘۔ اقبال کی ضد پر جب حکیم نے روزانہ ایک آم کھانے کی اجازت دے دی تو اپنے خادم علی بخش کو متنبہ کیا کہ میرے لئے بازار کا سب سے بڑا آم خریدنا۔ علامہ یہ بھی کہتے تھے: “آموں کی کشش، کششِ علم سے کچھ کم نہیں”۔
ایک زمانہ تھا جب آموں کے نام میں لنگڑے کی دھوم سب سے زیادہ تھی، شاید یہی وجہ رہی ہوگی کہ اکبر الہ آبادی نے علامہ کو لنگڑے کا تحفہ بھیجا تھا۔ آج لنگڑا لنگڑاتا لنگڑاتا بہت پیچھے رہ گیا اسکی جگہ دوسرے آموں نے لے لی۔ مختلف جگہوں پہ مختلف نام کے آموں کا چرچہ ہے اب شہر ممبئی میں اگر الفانسو یعنی ہاپوس زیادہ پاپولر ہے تو شمالی علاقے اتر پردیش اور بہار وغیرہ میں دسہری اور گورجیت کی دھوم ہے ہاں موسم کے الوداعی ایام میں لنگڑا کے ساتھ ساتھ چونسہ کا بول بالا اب بھی رہتا ہے۔ الغرض آم کے ساتھ بہت سارے واقعات اور لطائف ہیں جو لوگوں میں آم کی مقبولیت کا واضح ثبوت ہیں۔
آم لفظ نے ہندوستانی ادب میں بھی اپنا ایک مقام پیدا کیا ہے۔ آم کے نام سے محاوروں اور روزمرہ کے فقروں کی بھر مار ہے۔ چند محاورے بطور نمونہ پیش ہیں: آم کے آم گٹھلیوں کے دام، آم کھانے سے مطلب یا پیڑ گننے سے، آم بوؤ آم کھاؤ املی بوؤ املی کھاؤ، بویا پیڑ ببول کا تو آم کہاں سے ہووے وغیرہ وغیرہ۔
نیچے کا اقتباس آموں سے ہی جڑا شہر لکھنو سے تعلق رکھتا ہے۔ عبارت بڑی شستہ اور خوبصورت ہے، طرز تحریر کافی پرکشش اور اسلوب بے حد نرالا ہے۔ اسے ہمارے ایک دوست نے عنایت کیا ہے لیکن لکھنے والے کا نام نہیں بتایا شاید وہ خود نہیں کہ ان جملوں کا خالق کون ہے اس لئے میں وہ اقتباس من وعن انورٹیڈ کوما میں پیش کر رہا ہوں:

“آم کا موسم آتے ہی لکھنؤ والے صبر کے پھل کے علاوہ صرف آم کھاتے ہیں، آم کھلاتے ہیں، افسروں کے یہاں آم کی پیٹیاں پہنچاتے ہیں، موقع ملتے ہی خود پہنچ جاتے ہیں ، میرے ایک شناسا، جن کے آم کے باغات بھی ہیں، وہ کسی افسر کے یہاں آم کی پیٹی لے کر پہنچ گئے، افسر نے شکریہ ادا کرتے ہوئے آموں کی پیٹیاں قبول کرنے سے معذرت چاہی، تاویل بھی پیش کردی کہ شوگر کی بیماری سے گھر میں وہ اور ان کی اہلیہ دونوں جوجھ رہے ہیں، میرے دوست مسکرائے اور کہنے لگے حضور اسی واسطے تو یہ خاص قسم کے آم لے کر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، سرکار عالیہ یہ شوگر فری آم ہیں، بلکہ ایک طرح سے یہ شوگر کا علاج بھی ہیں، وہ صاحب حیرت میں پڑگئے، حیرت کچھ کم ہوئی تو پوچھا کہ جناب یہ تو میں پہلی بار سن رہا ہوں کہ آم بھی شوگر فری ہو سکتے ہیں، میرے دوست پہلے تو جی بھر کے مسکرائے پھر کہنے لگے کہ سرکار یہ آم کی خاص قسم ہے جو اس فقیر نے پیداکی ہے، آم اور جامن کی قلموں کو ملا کر یہ آم پیدا کئے گئے ہیں، اسلئے ان میں مٹھاس تو پنپ ہی نہیں سکتی، جیسے ہم زلف کے درمیان محبت نہیں پنپتی، اس کے ذائقے میں خوش دامن جیسی جو تھوڑی سی ترشی ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ گھر داماد کی طرح سال بھر اس نسل کی دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے، یہ آم خوش رنگ اسلئے ہوتا ہے کہ ہمیشہ سالیوں اور بیوی کی سہیلوں جیسے درختوں سے گھرا رہتا ہے، اس کی مہک میں ایک طرح کا نشہ اسلئے ہوتا ہے کہ اس کے آس پاس مہوے کی شراب کے کئی کار خانے ہیں، یہ کم تعداد میں اسلئے پیدا ہوتا ہے کہ سسرال میں رہ کر ازدواجی زندگی خود کریلے کی بیل کے پاس کی شاخ انگور ہوکے رہ جاتی ہے، خوش نصیب یوں ہے کہ اسے قسمت سے آپ جیسے اعلیٰ افسر نصیب ہوگئے ہیں، اتنی شائستہ، شگفتہ، پر اثر، اور لچھے دار گفتگو سن کر افسر بیچارہ خود موم بن کر قطرہ قطرہ پگھلنے لگا۔ اس نے لکھنؤ تو باربار دیکھا تھا، لیکن لکھنؤ کو بولتے ہوئے پہلی بار سن رہا تھا۔ وہ سوچنے لگا کہ دنیا کی ہر مٹھاس اس لکھنوی طرز گفتگو پر قربان کی جا سکتی ہے، ایسی ایسی خوش لباس تاویلوں کے درمیان رکھا ہوا زہر کا پیالہ بھی پیا جا سکتا ہے، اسے کیا معلوم کہ یہ لکھنؤ ہے نہ جانے کتنے ہی سقراط یہاں انشا اور یگانہ کی طرح، قطرہ قطرہ زندگی کا زہر پی کر پیوند خاک ہو چکے ہیں، بیچارے افسر نے موصوف سے پوچھا کہ آم کا موسم چلے جانے کے بعد آپ لوگ کیا کرتے ہیں، انہوں نے فوراً جواب دیا، سرکار عالیہ آموں جیسی باتیں کرتے ہیں۔”

اسی طرح آموں کے بارے مولانا سید سلیمان ندوی کا بھی ایک واقعہ مشہور ہے:
“افغانستان کے ایک سفر کے دوران کسی افغان نے مولانا سے پوچھ لیا کہ آپ کے ملک میں ہمارے سیب جیسا کوئ مفرح پھل ہوتا ہے؟
مولانا نے جواب دیا: ضرور ہوتا ہے اور اسے آم کہتے ہیں۔
پھر اس افغان نے کہا: کیا ہمارے انگور جیسا شیرین پھل بھی ہے آپ کے یہاں؟
مولانا نے کہا: ضرور ہے اور وہ آم ہے۔
افغانی نے پھر سے سوال کیا: اور ہمارے سردے جیسا کوئ لذیذ پھل بھی ہے آپ کے یہاں؟
مولانا نے کہا: جی ہاں آم ہے۔
اس افغان نے عاجز ہوکر کہا: بابا اس کے علاوہ بھی تمہارے یہاں کوئ پھل ہوتا ہے؟
مولانا نے فرمایا: ابھی آم کی سب قسمیں ختم ہوجائیں پھر کسی اور پھل کانام لوں گا.”

اب تو آم کچھ سستا ضرور ہوگیا ہوگا، جائیں مزے لے کر آم کھائیں اور ہمیں بھی یاد رکھیں!

آپ کے تبصرے

avatar