شمس الرب سلفی

روبرو

واٹس ایپ گروپ “دبستان اردو” پر ہونے والے اس انٹرویو کو کچھ  حذف و اختصار کے ساتھ یہاں شائع کیا جارہا ہے… سوالات کرنے والے تمام احباب بطور خاص فضیلۃ الشیخ سرفراز فیضی کا شکریہ، جنہوں نے اس انٹرویو کی قیادت کی…


 

س: شمس الرب نام کس نے رکھا؟ کوئی مناسبت یا پس منظر؟ اس نام کے کسی دوسرے شخص سے کبھی ملے یا یہ نام کہیں پڑھا ہے؟ نام کا کوئی اثر ذاتی زندگی پر؟ ممبئی مراٹھی کیسے نام لیتے ہیں آپ کا؟ اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں بھی بتائیں؟  گھر اور خاندان میں اور بھی لوگ عالم ہیں؟ گاؤں کون سا ہے؟

ج : میرا نام میرے والد محترم نے رکھا۔ میرے والد محترم کا نام عبدالحي ہے. میرے والد عالم ہیں۔ کوئی خاص مناسبت نہیں۔ ان کے مطابق، اس نام میں ندرت تھی، اس لئے رکھا۔

اس نام کے کسی شخص سے ملاقات نہیں ہوئی ہے اب تک۔ ہاں، فیس بک پر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں زیر تعلیم اسی نام کے ایک طالب علم کا دوست ہوں۔ ملاقات نہیں ہوئی۔ گوگل پر سرچ کرنے پر ایک ہی دو اشخاص اس نام کے نظر آئے
شاید یہ کہ فکر و نظر میں کسی حد تک آفاقیت آ گئی ہے۔۔۔
بہت مشکل ہوتی ہے۔ کوئی ‘سمسر’ سمجھتا ہے تو کوئی ‘رمسر’۔ حد ہوگئی ایک دن ایک نے ‘رام سلرخ’ سمجھا اور دوسرے دن ایک نے ‘شیام سورت’
عموما اسپیلنگ کے ساتھ بتانا پڑتا ہے۔۔۔

میرے والد عالم ہیں۔ فیض عام مئو سے فارغ ہیں۔ میرے والد کے ماموں ضلع بستی و سھارتھ نگر کے مشہور عالم جناب شکر اللہ صاحب فیضی تھے۔ میرے والد انہیں کے زیر تربیت تھے۔

میرے گاؤں کا نام ساگر روضہ ہے۔ یہ گاؤں بیارا قاضی -جو قاضی عدیل عباسی اور قاضی جلیل عباسی صاحبان کی وجہ سے مشہور ہے- کے قریب ہی واقع ہے۔ تحصیل ڈومریاگنج، ضلع سدھارتھ نگر میں پڑتا ہے۔

س: ماشاء اللہ ابتدائی مکتب سے جامعہ سلفیہ تک کا سفر کب اور کیسے ہوا ؟

ج: مکتب کی تعلیم گاؤں میں اپنے والد ہی سے حاصل کی۔ اس کے بعد حفظ قرآن کریم کے لئے دو سال جامعہ سراج العلوم کنڈؤ بونڈیھار اور ایک سال خیر العلوم ڈومریاگنج گزارا۔ خیر العلوم ہی میں ثالثہ تک تعلیم حاصل کی۔ رابعہ کی تعلیم اکبر پور جمنی میں ہوئی۔۔۔وہاں سے جامعہ سلفیہ بنارس
جامعہ سلفیہ میں عالمیت سے لے کر فضیلت تک کی تعلیم حاصل کی۔ جامعہ سلفیہ میں رہتے ہوئے سلفیہ کے بغل میں واقع جے نارائن انٹر کالج سے انٹر کیا۔۔۔اور اسی کی بنیاد پر جے این یو میں داخلہ لیا۔وہاں سے عربی زبان و ادب میں بی اے اور ایم اے کیا۔ اور اب ممبئی یونیورسٹی سے دکتوراہ کر رہا ہوں۔ پچھلے سال اگست سے اسی یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر پڑھا بھی رہا ہوں و للہ الحمد.

س: شاید اس وقت خیرالعلوم جامعہ سلفیہ سے ملحق نہیں تھا.. اسی وجہ سے جمنی جانا پڑا. کیا ایسا ہی معاملہ ہے یا کچھ اور؟

ج: جی، ملحق نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے۔

س: آپ کی زندگی پر کس شخصیت کا سب سے زیادہ اثر ہے؟
ج: کسی ایک شخصیت کا نام لینا مشکل ہے۔ والد صاحب جو میرے استاذ بھی ہیں، کا سب سے زیادہ اثر ہے۔ ان کے بعد دیگر اساتذہ کا اثر ہے۔

س: والد سے تعلیم حاصل کرنے کا ایسا ایڈوانٹج جو غیر والد سے تعلیم حاصل کرنے والوں کو نہیں ملتا؟
ج: والد صاحب مجھے اپنی چٹائی پر بٹھاتے تھے۔۔۔

س: آپ پر کن استاتذہ نے سب سے زیادہ اثرات مرتب کئے ہیں؟
ج: والد محترم کے بعد، خیر العلوم میں حافظ ضمیر صاحب سے متاثر ہوا۔۔۔
جامعہ سلفیہ میں شیخ اسعد اعظمی صاحب، شیخ عبد الکبیر صاحب اور ماسٹر حبیب اللہ صاحب حفظھم اللہ و رعاھم نے بھی متاثر کیا۔۔۔ناٹ بٹ ناٹ دا لیسٹ، جامعہ سلفیہ میں مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ نے سب سے زیادہ متاثر کیا
جے این یو میں شعبہ عربی سے پروفیسر احسان الرحمان صاحب اور پروفیسر مجیب الرحمان صاحب،  اور دیگر شعبوں سے پروفیسر کمل چنائے صاحب ، پروفیسر آنند کمار صاحب اور پروفیسر پشپیش پنت صاحب نے متاثر کیا۔۔۔

س: مؤرخ ہونہار  پروا کے چکنے چکنے پات اور پوت کے پاؤں پالنے میں ہی نظر آجاتے ہیں محاورے استعمال کرنے کے لیے آپ کے بچپن کا کوئی غیر معمول واقعہ جاننا چاہتا ہے. اس کی مدد کیجیے.

ج : لوگوں کے مطابق، بچپن ہی سے ذہیں تھا۔ کچھ ایکسٹرا کرنے کی چاہت تھی۔ اس لئے جامعہ سراج العلوم میں  حفظ کرتے ہوئے، چھوٹی چھوٹی سورتوں کا اردو ترجمہ بھی یاد کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ انہی ایام میں سراج العلوم ہی میں میرے چچازاد بھائی مولانا عبد الحکیم صاحب بھی زیر تعلیم تھے۔ ان کے حلقہ احباب میں ایک دن میں نے سورہ عادیات کا اردو ترجمہ سنایا۔ حفظ کرنے والے ایک کم سن بچے سے انہیں یہ توقع نہیں تھی۔ سب حیران بھی ہوئے اور سراہا بھی۔۔۔الحمد للہ۔۔۔

س: پہلی شادی کب ہوئی؟
ج : پہلی؟  کیا بھائی؟  ایک ہی ہوئی ہے۔۔۔ابھی! 2010 میں ہوئی۔۔

س: کتنی عمر میں؟ اس وقت آپ کون سا کورس کررہے تھے ؟؟؟ آپ کی شادی کہاں ہوئی ہے ؟؟؟
ج : 21 کا ہوا ہی تھا۔۔۔بی اے پہلا سال مکمل ہو گیا تھا. گاؤں کا نام ہے بکینہاں۔ بلوہا، بانسی کے قریب ہے۔۔۔

س: دوران تعلیم شادی سے آپ کی مصروفیات پر کوئی اثر؟ آپ کی ذریت میں کہاں تک اضافہ ہوا؟
ج : شروع میں ایڈجسٹ کرنے میں دقت ہوئی تھی۔ لیکن الحمد للہ، دھیرے دھیرے تفاہم پیدا ہو گیا۔ نتیجتا، الحمد للہ شادی کے بعد پڑھائی مزید بار آور ہو گئی۔۔۔
دو سال کی ایک بچی ہے، الحمد للہ۔ نام ہے مریم!

س: شمس الرب بھائ کہا جاتا ہے آپ انگریزی کے شاعر ہیں…جبکہ آپکی کسی بھی بات سے انگریزی دلچسپی نہیں جھلکتی…ایسا کیوں؟؟؟

ج : انگریزی زبان میں مجھے دلچسپی ہے، لیکن میں ہر زبان کو اس کی جگہ پر برتنے کا قائل ہوں۔

میں نے انگریزی میں بہت کم نظمیں لکھی ہیں۔ اس لئے ابھی شاعر کہنا مناسب نہیں ہوگا۔ فی الحال،  کبھی کبھار ہی انگریزی میں نظمیں لکھ پاتا ہوں اور اکثر کسی شخصیت، واقعہ، فکر وغیرہ سے حد درجہ متاثر ہو جانے کے بعد۔ مثال کے طور پر، میری حالیہ دو نظمیں فارس عودہ اور محمد علی پر تھیں، جو ان کی شخصیت سے حد درجہ متاثر ہونے پر لکھی گئی تھیں۔
مزید برآں،  انگریزی میں شاعری کرتے وقت میں انگریزی شاعری کے قواعد کا خیال نہیں کرپاتا ہوں۔۔۔بس، غنائیت کا تھوڑا بہت خیال رکھ پاتا ہوں۔

س: والد سے تعلیم حاصل کرنے کا ایسا ایڈوانٹج جو غیر والد سے تعلیم حاصل کرنے والوں کو نہیں ملتا؟

ج : والد صاحب مجھے اپنی چٹائی پر بٹھاتے تھے۔۔۔

س:قاری ابو القاسم فیضی صاحب کے تعلق سے آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں؟

ج : استاذ تھے۔ عبادت گزار تھے۔ انتہائی متقی تھے۔ کچھ سخت مزاج تھے۔۔۔تفسیر  اچھا پڑھاتے تھے۔ منطق و تاریخ میں کچھ خاص استفادہ نہ کر سکا۔۔

س : سراج العلوم اور خیر العلوم نیز جمنی کے مدرسے پر تقابلی تبصرہ؟

ج : خیر العلوم کا شعبہ حفظ سراج العلوم کے شعبہ حفظ کے مقابلہ میں زیادہ معیاری تھا، علمی میدان میں بھی اور رہائش و طعام کے حساب سے بھی۔۔۔

س : شمس الرب بھائ مجموعی اعتبار سے کس کتاب کا آپکی زندگی پر سب سے زیادہ اثر پڑا(اسکا یہ مطلب نہیں کہ اپکی پسندیدہ کتابیں کون کون سی ہیں)

ج : قرآن کریم۔۔۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اس کتاب کو اپنی زندگی میں مکمل طور پر نافذ کرنے میں کامیاب ہو پایا ہوں۔

س : حافظ زبیر سے پڑھا ہے سراج العلوم میں آپ نے؟ کوئی لطیفہ سنائیے ان کا.

ج : الحمد للہ، میں ان کا خاص شاگرد تھا۔ لطیفہ تو کوئی یاد نہیں۔ ہاں ایک بار انہوں نے کسی غلطی پر مجھے بہت مارا تھا چھڑی ٹوٹ گئی تھی۔۔۔

س: شمس الرب بھائ ایک مکمل مدرسے کے طالبعلم ہوکر ایک یونیوسٹی  میں لیکچرر…کچھ عجیب سا لگ رہا ہے شاید!
آپ نے کیا فرق محسوس کیا (ہر اعتبار سے مختصرا)؟ مدارس کو آہنگ کرنے میں رول؟؟؟
ج : کیوں عجیب ہے بھائی؟  الحمد للہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے مدرسے سے تعلیم حاصل کی اور اب یونیورسٹی میں پڑھا رہے ہیں۔
مدارس دینی تعلیم کے لئے بنے ہیں۔ اس لئے مدارس کا ماحول مجموعی طور پر دینی ہے۔ یونیورسٹی میں دینی پابندیاں نہیں ہیں۔ نسبتا زیادہ آزادیاں ہیں۔ پھر طریقہ تدریس میں بھی فرق ہے۔
مدارس کو طریقہ تدریس میں تھوڑی سی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ تدریس کے دوران، آزادانہ ماحول بنانا چاہئے۔ خوف کے ماحول کو ختم کرنا چاہئے۔ طلبہ کی تحقیقی ذہنیت کو مناسب حدود کے ساتھ ہوئے کھلی چھوٹ دینی چاہئے۔۔۔

س: کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یونیورسٹی اور مدرسے کے فارغین میں ذہنی طور پر کافی دوری ہوتی ہے.. جو آگے چل کر  دینی، سماجی اور سیاسی لحاظ سے باہم ٹکراو کا سبب بنتی ہے.. اس کا کوئی مناسب حل؟

ج : کچھ دوریاں مصنوعی ہیں، جن کی وجہ سے غلط فہمیاں ہیں۔ کچھ دوریاں حقیقی ہیں۔

مصنوعی دوریوں کو زیادہ سے زیادہ مثبت تبادلہ خیال کے ذریعہ ختم کیا جا سکتا ہے۔ ایک بار، مصنوعی دوریاں ختم ہوگئیں اور مثبت تبادلہ خیال کا ماحول بن گیا تو دیگر دوریاں یا تو خود بخود ختم ہو جائیں گی یا ان کو دور کرنے کا کوئی مکینزم وجود میں آ جائے گا۔۔ ان شاء اللہ!

س: شمس الرب بھائ بھت سے ساتھیوں کا معاملہ ہے وہ یونیورسٹی جانے کے عجیب ترفع کا شکار ہوجاتے ہیں اور خود کو کسی دوسری دنیا کا سمجھ بیٹھتے ہیں مدرسوں کو کچھ فایدہ تو نہیں پہنچاتے مگر مغلظات سے ضرور نوازتے ہیں. آپ اس رویے کو کیسا دیکھتے ہیں؟

ج: انتہائی غلط رویہ ہے۔ اگر کسی کو کہیں اصلاح کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، تو نرمی، افہام و تفہیم سے کام لینا پڑے گا۔۔۔مغلظات بکنے سے تو معاملہ مزید بگڑ جائے گا۔۔۔

اور رہی بات ترفع کی، تو یہ شیطانی حملہ ہے۔ ہم سب کو اس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے۔۔۔۔

س: آپ کی ترقی سے ہمیں بے انتہا خوشی ہورہی ہے اللہ تعالیٰ مسلم نوجوانوں کو ایسے ہی آگے بڑھنے کی توفیق دے درس نظامی سے فراغت کے بعد اعلیٰ تعلیم کی مزید خواہش ہونے کے باوجود کچھ نامور قومی دانشگاہوں تک نہیں پہنچ پاتے ایسے بھائیوں کے لئے آپ کا کیا مشورہ ہے ؟

ج: آمین!

پڑھنے کی خواہش ہے تو راہ نکل آئے گی،  ان شاء اللہ۔ اگر یونیورسٹیوں میں ریگولر نہ پڑھ پائیں، تو فاصلاتی تعلیم جاری رکھیں۔ مولانا آزاد یونیورسٹی مدارس کے فارغین کو سپورٹ کرتی ہے۔۔۔دیگر فاصلاتی یونیورسٹیاں بھی ہیں۔ اس لئے تعلیم جاری رکھیں۔ ڈگری حاصل کرتے رہیں۔ کامیابی تو بہانے کی تلاش میں رہتی ہے۔۔۔۔

س: آپکو مدنی نہ ہونے کا افسوس تو ہوگا ضرور! تو کیا آپ مدینہ گئے بغیر اپنے مقاصد تک پہونچ گئے یا پاگئے یا کم از کم سکتے ہیں؟؟؟

ج: مدنی ہونا اعزاز کی بات ہے، الحمد للہ!

لیکن میرا ارادہ پہلے سے ہی بھارتی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کا تھا۔ اس لئے سعودی جامعات کے لئے کوشش ہی نہیں کی: داخلے کے لئے اپلائی ہی نہیں کیا۔۔۔

الحمد للہ، میں اپنی منزل کی جانب گامزن ہوں۔ سفر تو زندگی بھر جاری رہے گا، ان شاء اللہ۔۔۔

س: کچھ لوگ کا کہنا ہے کہ جو مدینہ سے فارغ نہ ہو وہ گویا غیر شادی شدہ مرد کی طرح علم میں کنوارا ہے. یہ کہاں تک درست ہے. جبکہ ماضی اسکے سراسر خلاف ہے.

ج: میں اس کو درست نہیں سمجھتا ہوں۔ علم کسی خاص جغرافیہ، دین، نسل، قومیت میں محدود نہیں ہے۔۔۔

س: آپ نئ نسل سے بہت قریب ہیں، بلکہ متصل ہیں، ہر چیز سے بخوبی واقف ہیں تو آپکا نئ نسل کے نام لیا پیغام ہوسکتا ہے.

ج: یہ دور انفجار معلومات کا ہے۔ نئی نسل اسمارٹ اور ہائی ٹیک ہے۔ عموما اس نسل کی رسائی معلومات تک بہت زیادہ ہے۔۔۔لیکن۔۔۔

مجھے لگتا ہے کہ نئی نسل معلومات کی مالک نہیں بلکہ غلام ہے، یہ نسل خطرناک حد تک معلومات کے نرغے میں ہے۔

معلومات کی حد درجہ زیادتی کی وجہ سے دو پریشانیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ پہلی پریشانی ہے معلومات کی پروسیسنگ نہ کر پانا۔ دوسری پریشانی ہے، معلومات کے بوجھ تلے نئی سوچ کا دب جانا۔

میرا پیغام آسان سا ہے۔

پہلے مرحلے میں، معلومات کی پروسیسنگ کرنا سیکھئے اور دوسرے مرحلے میں، کچھ نیا لے کر آؤ جو نفع بخش اور پائدار ہو۔۔۔

س: شمس الرب بھائی!!! آپ کے پسندیدہ مضامیں کیا کیا ھیں؟؟
ج: میرے پسندیدہ مضامین:
1- زبان و ادب (عربی، انگریزی، اردو اور کچھ حد تک ہندی)
2- دراسات اسلامیہ
3- سیاسیات (خصوصا بین الاقوامی تعلقات)، آگے ایک اور پی ایچ ڈی کسی یوروپی یا امریکی یونیورسٹی سے اس فیلڈ میں بھی کرنے کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ۔ دعا کریں، کامیابی ملے۔
4- سماجیات
5- تاریخ

س: شمس الرب بھائ آپ جبکہ مختلف زبانیں جانتے ہیں تو تمام زبانوں میں جن پر مکمل دسترس رکھتے ہیں کون سی زبان سب سے زیادہ محبوب لگی…اور اس زبان پر کیا احسان کریں گے؟
ج: میں اودھی، اردو، عربی اور انگریزی جانتا ہوں۔ سچ بولوں تو اودھی پسندیدہ زبان یا ‘زبانچہ’ ہے۔۔۔ اس لئے کہ یہ مادری زبان ہے۔۔۔ لیکن اس زبان کی محدودات ہیں۔
اس لئے علمی طور پر، عربی زبان سب سے زیادہ پسند ہے، کیونکہ اس کا ہمارے ساتھ تعلق ابدی ہے۔۔۔
اردو اور انگریزی کی پسندیدگی ان کی مختلف شعبوں میں مزاج سے موافقت یا افادیت کی وجہ سے ہے۔۔۔
احسان کیا خدمت کرنا چاہیں گے!  زبان سے، قلم سے اور دیگر وسائل سے۔۔۔

س: مدارس کے طلبہ احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں.. صلاحیتوں کے باوجود عصری علوم کی طرف رغبت ہونے کے باوجود رخ کم ہی کرپاتے ہیں… الا یہ کہ کسی کو بہتر گائیڈینس مل جائے..
کیا آپ بھی ایسا محسوس کرتے ہیں ان کے متعلق؟ اگر ہاں تو اس کا کچھ اپائے..
اگر نہین تو پھر یہ سوال دوسرے کے لیے بچا رکھنا پڑے گا…
ج: “مدارس کے طلبہ احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں”؛ میں اس سے بڑی حد تک اتفاق رکھتا ہوں۔ اس بات کو میں نے محسوس کیا ہے۔۔۔استثناء بھی ہے۔۔۔
مسئلہ یہ ہے کہ مدارس کا داخلی نظام ایسا ہے کہ یہ الگ تھلگ جزیرہ لگتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اس انعزال کو دور کر کے ہی یہ احساس کمتری ختم کی جا سکتی ہے۔ اور ایسا مدارس کے دینی ڈھانچہ کو بر قرار رکھتے ہوئے کیا جا سکتا ہے۔

س: آپ مکمل عالم مع لیکچرر ہیں…
بطور لیکچرر کے آپ دین کی کون سی خدمت انجام دے رہے ہیں یا کم ازکم فیوچر پلان رکھتے ہیں ؟؟؟
ج: میں عربی زبان و ادب دینی شعور و رجحان کے ساتھ  پڑھاتا ہوں۔ اس سے بڑی دین کی خدمت اور کیا ہوگی؟

س: ماشاءالله دینی مدارس سے آپ نے تعلیم حاصل کی ہے اور اب عصری ادارے میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں ؛ بطور موازنہ ، دونوں اداروں میں مختلف فیلڈز کے اندر کیا فرق پایا اور دینی اداروں میں پڑھنے والوں کے اندر خود اعتمادی اور زمانے میں عصری فارغین کی طرح اپنا سکہ جمانے کے لئے کیا کچھ کرنا چاہئے؟

ج: ہندوستانی مدارس میں،  تخصص کا کوئی نظم نہیں ہے۔ ہر کوئی شیخ الکل فی الکل ہے۔ یہ کیا بات ہوئی؟
ٹھیک ہے،  کہیں کہیں تخصص کے شعبے ہیں، لیکن برائے نام اور غیر منظم۔۔۔ یونیورسٹی میں تخصص کا نظم ہے اور عصری بنیادوں پر۔۔۔
مدارس کو چاہئے کہ کم از کم ثانویہ تک طبیعیاتی سائنس اور معاشرتی سائنس کی تعلیم ضرور دیں۔
آگے کے مرحلہ میں،  معاشرتی سائنس اور انگریزی بر قرار رکھیں۔ مناسب تکنیکی تعلیم دیں۔ مزید یہ کہ طلبہ کو معاشرہ کے ساتھ جوڑے رکھیں۔ ان کو اس طرح تیار کریں کہ اگر وہ چاہیں تو مین اسٹریم میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے نہ صرف لائق رہیں بلکہ فائق بھی رہیں۔۔۔

س: دونوں (دینی و عصری)اداروں میں طریقہ تدریس میں کیا فرق پایا؟
ج: فرق درج ذیل ہیں:
1- کلاس روم کی ظاہری ترتیب:
-جامعہ سلفیہ میں دری پر تپائیوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں، جے این یو میں کرسی میز تھا۔
– کلاس روم میں بلیک بورڈ یہاں بھی تھا وہاں بھی۔ لیکن یونیورسٹی میں بلیک بورڈ کے ساتھ پروجیکٹر بھی تھا۔
2- معنوی فرق:
– یونیورسٹی میں پروجیکٹر کی دستیابی کی وجہ سے، مواد آڈیو ویڈیو کی شکل میں بھی دیکھا جا سکتا تھا۔ یہ عموما زیادہ نفع بخش اور فرحت بخش ہے۔ تعلیم بھی ہوتی ہے تفریح بھی۔۔۔۔
– مدارس میں نصابی کتابیں تھیں، جن پر ارتکاز تھا۔ شاید ایسا اس لئے تھا کیونکہ مدارس میں مراحل ابتدائی تھے۔ لیکن قدرے اونچے مرحلے یعنی فضیلت میں بھی نصابی کتابیں تھیں۔ یونیورسٹی میں مضمون اور اس کا نصاب تھا، نصابی کتابیں نہیں۔ کتابوں کا انتخاب استاذ کی صوابدید پر منحصر تھا۔ ان میں سے کون بہتر ہے، اس پر بحث کی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ فرق بہر حال ہے۔
– یونیورسٹی میں لیکچرس آزادانہ اور بے تکلفانہ ماحول میں ہوتے تھے۔ میری مراد یہ ہے کہ استاذ کا ایسا رعب، ادب یا خوف نہ تھا جو سوال پوچھنے سے روکے یا بحث و مباحثہ میں مانع ہو۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ یونیورسٹی میں اساتذہ کا احترام کم ہوتا ہے۔ احترام ہوتا ہے لیکن ضرورت بھر۔۔۔۔
مدارس میں یہ آزادانہ اور بے تکلفانہ ماحول نہیں پایا۔ ضروری نہیں ہے کہ اس کے لئے اساتذہ ہی ذمہ دار ہوں، لیکن یہ چیز تو بہرحال پائی جاتی ہے۔ اگر یہ مدارس کے اساتذہ کی نظر میں بھی معیوب ہے تو اس کو ختم کرنے کی پہلی ذمہ داری انہیں کی ہے۔۔۔
– یونیورسٹی میں اساتذہ کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ طلبہ کو اکتاہٹ نہ ہو۔ وہ سیکھیں لیکن مزے لے لے کر۔ مدارس میں شاید مناسب تفریح کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، الا ما شاء اللہ۔۔۔

س: شمس الرب بھائ آپ نے اوپر کہا میں دکتورہ کررہا ہوں…پی ایچ ڈی میں مقالے کا عنوان کیا ہے؟ اور اپ نے کیوں یہی عنوان چنا؟؟؟

ج: پی ایچ ڈی مقالہ کا موضوع:
الموضوعات الإجتماعية و السياسية في روايات الدكتور غازي عبد الرحمن القصيبي: دراسة تحليلية
سعودی ناول نگار ہیں۔ شاعر بھی ہیں۔ سعودی حکومت کے قریب تھے۔ وزیر اور ٹیکنو کریٹ تھے۔
ان کا ناول شقة الحرية پڑھا۔ بے حد پسند آیا۔۔۔ناولیں پسند ہیں۔ سعودی ادب پر کم کام ہوا ہے۔ سماجی اور سیاسی امور سے گہری دلچسپی ہے۔ بس، ملغوبہ تیار ہو گیا۔۔۔

س: انگریزی زبان سے مرعوبیت بھی اس احساس کمتری کو بڑھاوا دیتی ہے؟؟؟ایک بڑے عالم دین کے صاحبزادے جو ایک بڑے مدرسہ کے ذمہ دار بھی ہیں.. ان کا مشورہ کہ پانچویں کلاس تک بچوں کو تعلیم انگریزی اسکولوں میں دلوائی جائے… پھر مدارس کا رخ کرایا جائے…. اس مشورہ میں کتنا دم ہے؟

ج: ٹھیک کہا آپ نے۔۔۔ لیکن انگریزی کو ضروری سمجھتے ہیں تو اس کی تعلیم خود اپنے یہاں دیں نا! ان کا مشورہ الٹا ہے۔۔۔میرا خیال ہے کہ پہلے تعلیم مدارس میں ہونی چاہئے پھر اور کہیں۔۔۔۔

س: کیا سلفیہ میں دوران تعلیم عصری اسکولوں سے استفادے کی اجازت عام ہے یا یہ “کارِشر” چپکے چپکے انجام دینا پڑتا ہے…؟ اکثر مدارس میں یہ کاریہ ممنوع ہے… ابھی حال کا واقعہ ہے مدرسے کا ایک بچہ جو ابن مولانا بھی ہے ایس ایس سی امتحان کی تیاری کررہا لیکن مولانا صاحبان امتحان کی اجازت نہیں دے رہے… بلکہ طالبعلم کے والد ماجد کے دوست مولانا صاحب نے یہاں تک کہا کہ مجھے خبر ہوتی تو پہلے ہی نام کٹوا دیتا…اجازت کو موثر سمجھتے ہیں یا ممانعت کو دینی تعلیم کے حق میں معاون…؟

ج: اجازت قطعا نہیں تھی۔ چپکے سے انجام دیا۔
میرے خیال سے مدارس میں دسویں تک نصاب عصری اسکولوں سے ملتا جلتا ہونا چاہئے اور دسویں کا امتحان مدرسہ و بورڈ دونوں سے ہونا چاہئے۔ میں نے سنا ہے کہ محمدیہ مالیگاؤں میں اس کا نظم ہے۔ جو بچہ اس کے بعد عصری میدان میں جانا چاہے، جا سکتا ہے. اگر وہ عصری میدان میں جائے گا تب بھی اس کی بنیادی سوچ پر دینی گرفت ہی ہوگی۔
اس کے بعد، مدارس کو دینی علوم میں اسپیشلائزیشن پر توجہ دینی چاہئے، انگریزی و معاشرتی علوم کو برقرار رکھتے ہوئے۔

س: ما شاءاللہ آپ مختلف زبانوں کے جانکار ہیں اسی سے متعلق ایک سوال کہ اگر کوئی مختلف زبان سیکھنے کی خواہش رکھتاہے تو وہ کیا کرے ؟؟یعنی مرحلہ وار سیکھا جایے  یا بیک وقت سب چیز پڑھی جایے ؟؟؟؟

ج: جن زبانوں کی مجھے جانکاری ہے، وہ سب تعلیمی مراحل میں میرے ساتھ تھے۔ عربی، اردو، ہندی اور انگریزی ابتداء ہی سے پڑ ھتے چلے آ رہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا علم پختہ ہوتا چلا گیا۔۔۔
لیکن ابتدائی مرحلے کے بعد ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے جب اس زبان کا گہرا علم حاصل کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں اس زبان پر زیادہ توجہ کرنی پڑتی ہے اور نسبتا زیادہ وقت دینا پڑتا ہے۔ اس مرحلے میں متعلم کو چاہئے کہ وہ اپنی دلچسپ صنف سخن کا تعین کر لے اور اس صنف سخن میں سب سے دلچسپ ادیب کو مکمل طور پر پڑھ لے۔ اس سے، زبان پر دسترس بھی ہو جائے گی، ایک ادیب کا احاطہ ہو جائے گا اور اکتاہٹ بھی نہیں ہوگی۔ اس مرحلے کے بعد، اس زبان کے دیگر ادیبوں و شاہکاروں کی طرف توجہ دے۔۔۔
کسی زبان کو سیکھنے کے لئے اس کو کئی سالوں تک تھوڑا تھوڑا برتنا پڑتا ہے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ ایک یا دو سال میں کسی بھی زبان کا گہرا علم حاصل نہیں کیا جا سکتا ہے. زبان سیکھنے کا عمل کئی سالوں تک جاری رہتا ہے، خاص طور پر غیر ملکی زبان۔ اس لئے زبان کو مرحلہ وار سیکھنا اور برتنا ضروری ہے، ہر مرحلہ کے تقاضوں کے ساتھ۔

س: شکرا جزاک اللہ!
لگے ہاتھ افادہ عامہ کے لیے اگر مرحلہ وار تقاضوں کا تعین ہوجاتا تو کافی بہتر ہوتا ؟؟؟؟
ج: شروعات گرامر و متن کی ابتدائی نصابی کتابوں سے ہونی چاہئے۔ اس مرحلہ میں گرامر کی ضخیم و دقیق کتاب یا خالص ادبی متن متعلم کو حیران و پریشان کر دے گی۔ اس مرحلہ میں دوسرے مضامین کے ساتھ ساتھ یہ عمل جاری رہنا چاہئے۔
دوسرے مرحلے میں بھی نصابی کتاب ہی ہونی چاہئے لیکن بلند معیار کی۔ اس مرحلے میں خالص ادبی متن نہیں ہونا چاہئے۔
تیسرے مرحلے میں منتخب ادبی متن ہونا چاہئے۔۔۔۔
چوتھے مرحلے میں کسی پسندیدہ ادیب کی ساری دلچسپ کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہئے۔۔۔
اور اخیر میں تمام ادبی شاہکاروں کا مطالعہ جس حد تک بھی ممکن ہو۔۔۔ہر مرحلہ کے ساتھ وقت اور توجہ میں اضافہ ہوتے رہنا چاہئے۔۔۔

س: یہ مسلم سماج میں مذہب کے سرپرست.. مسلمانوں کی مذہبی ضرورت پورا کرنے کے لیے طلبہ کو اس لائق ہی نہیں چھوڑنا چاہتے کہ وہ دوسرے میدان میں جاسکے.. ان کا دعوٰی ہے کہ اگر ہائی اسکول کروا دیا تو ایک بھی طالب علم شریعت کالج میں داخلہ نہیں لے گا.. بلکہ سب کے سب عصری اسکولوں کا رخ کریں گے.. اور اس طرح سے مسجد و مدرسے کی پیشوائی نیز مزہبی ضرورت کبھی پوری نہیں ہوپائے گی..
ج: ان کی یہ سوچ غلط ہے۔ سب نہیں جائیں گے۔ بلکہ اکثر نہیں جائیں گے۔ اور جو جائیں گے بھی وہ آپ کے ساتھ ہمدردانہ جذبات رکھیں گے،  ان شاء اللہ۔
صرف اتنا ہوگا کہ جو رہیں گے محبت کے ساتھ رہیں گے مجبوری میں نہیں۔ اور یہ فرق بہت بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ہوگا ان شاء اللہ۔۔۔

س: شمس الرب بھائی! جامعہ سلفیہ میں اپنے بعض مشہور ساتھیوں کا نام بھی ذکر کردیں…ان میں سے کوئی ایسا بھی ہے جس کی کامیابی کو آپ یہاں ذکر کرنا چاہیں گے…..
عربی اور انگریزی کو شوق و رغبت سے پڑھنے کی ابتداء کب سے ہوئی؟
جامعہ سلفیہ میں آپ کے ماسٹر حبیب اللہ تھے یا حبیب الرحمن صاحب جو مدنپورہ سے تعلق رکھتے ہیں اور D. L. W. کالج سے رٹایرڈ تھے؟
عربی زبان انگریزی میڈیم سے پڑھنے کی ابتداء کب سے ہوئی؟
ایسے اسکول جو ذاکر نایک صاحب کے طرز پر ہیں اور ابتداء ہی سے عربی زبان انگریزی میڈیم سے پڑھا رہے ہیں ان کا مستقبل آپ کیسا دیکھتے ہیں؟
ج: صدیق احمد نفیس احمد، عبد الحمید، عزیر احمد ظہیرالدین ، محمد عابد وغیرہ میرے ہم جماعت تھے۔۔۔
نور عالم مجھ سے ایک سال جونیئر تھے۔ فی الحال وہ مسجد نبوی میں اردو مترجم اور اعزازی طور پر اسسٹنٹ پروفیسر، امام محمد بن سعود یونیورسٹی ہیں۔ جے این یو میں میرے ہم جماعت تھے۔ متقی، پرہیزگار اور با اخلاق ہیں۔
عربی و انگریزی میں رغبت ابتداء ہی سے تھی۔ البتہ، فضیلت کے تین سالوں میں عربی و انگریزی ادب کو گہرائی و گیرائی کے ساتھ پڑھنے کا موقع ملا۔ علمی طور پر، فضیلت کے یہ تین سال میرے لئے اب تک سب سے زیادہ بارآور ثابت ہوئے ہیں۔
جی، یہ وہی ماسٹر حبیب الرحمن صاحب ہیں. حبیب اللہ مجھ سے سہوا لکھا گیا۔ انہوں نے شیکسپیئر کا ایک ڈرامہ “میک بیتھ” پڑھایا تھا۔ انہی کی بدولت شیکسپیئر میں دلچسپی پیدا ہوئی اور شیکسپیئر کے تمام ڈرامے اور کچھ سونیٹس پڑھنے کی راہیں ہموار ہوئیں۔
استاذ محترم ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ سے زیات کی تاریخ الادب العربی پڑھی۔ ادبی ذوق پیدا کرنے میں یہ ایک انتہائی اہم موڑ ثابت ہوا۔ آپ عربی الفاظ کا اردو میں ترجمہ اس طرح کرتے تھے کہ دل و دماغ روشن ہو جاتے تھے۔ صرف اردو میں نہیں بلکہ کچھ اصطلاحی الفاظ کا انگریزی متبادل بھی پوچھتے تھے، نہ بتا پانے پر کہتے: یہ مطبخ کی روٹی نہیں ہے۔۔۔اور پھر انگریزی متبادل بتاتے تھے۔ اس سے عربی الفاظ کے انگریزی متبال جاننے کا شوق پیدا ہوا۔۔۔پھر، جے این یو آنے کے بعد ترجمہ و ترجمانی کے دروس میں تو اسی کی تعلیم دی جاتی تھی۔
ذاکر نایک کے طرز پر چل رہے اسکولوں کا مستقبل تابناک ہے بشرطیکہ حکومت چلنے دے۔۔۔

س: جے این یو کا تعلیمی ماحول کیسا ہے؟ ہم نے بہت سارے ساتھیوں کو وہاں جانے کے بعد دین بیزار بھی پایا ہے جب کہ انہوں نے ایک لمبی مدت دینی مدارس میں گزاری ہے؟ اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ کیا داڑھی رکھ کر وہاں تعلیم حاصل کرنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟
ج: جے این یو کا تعلیمی ماحول پورے کیمپس کو سموئے ہوئے ہے۔ میری مراد یہ ہے کہ جے این یو میں کلاس روم میں پڑھائی کم ہوتی ہے، کلاس روم سے باہر کیمپس میں زیادہ۔ ماحول پر آزادانہ بحث و مباحثہ اور تنقیدی سوچ حاوی ہے۔ سیاسی و نظریاتی طور پر کمیونزم کا غلبہ ہے، لیکن دیگر تمام نظریات کی بھی نمائندگی ہے۔۔۔
جے این یو آپ کو آپ کے دین کے ساتھ قبول کرتا ہے۔ آپ کو اپنے دین پر عمل کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ اس کے ثبوت کے طور پر مرکزی لائبریری میں نماز با جماعت کا قیام، کچھ ہاسٹلوں میں دینی دروس کا اہتمام، رمضان کے مہینہ میں روزے داروں کے لئے خصوصی انتظام وغیرہ پیش کئے جا سکتے ہیں۔ داڑھی رکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے، نہ ہی داڑھی رکھنے پر کوئی بھی آپ پر ناپسندیدہ کمینٹس کر سکتا ہے۔
اگر دینی مدارس سے وہاں جا کر کچھ لوگ دین بیزار ہوگئے ہیں تو اس کے لئے جے این یو سے زیادہ شاید مدارس کا تعلیمی و تربیتی نظام ذمہ دار ہے۔ جے این یو میں الحادی نظریات ہیں۔ لیکن وہ صرف سافٹ پاور استعمال کرتے ہیں، ہارڈ پاور نہیں. اور سافٹ پاور کا استعمال کرنے سے آپ کسی کو بھی نہیں روک سکتے۔ آپ بھی استعمال کیجئے اپنا سافٹ پاور۔ کس نے روکا ہے؟  تو جب لڑائی سافٹ پاور کی ہے تو آپ کا سافٹ پاور کمزور کیوں ہوگیا؟  آپ اثر انداز ہونے کے بجائے اثر پذیر کیوں ہوگئے؟ اس کا جواب جے این یو کیوں دے؟  مدارس کیوں نہیں؟

س: غازی القصيبي  سعودیہ کی ان گنی چنی شخصیات میں سے ہیں جنہیں عرصہ دراز تک شاہان مملکت کا اعتماد حاصل رہا.  ان کی تحریریں عربی زبان و ادب  کی شاہکار ہیں.  بہت مشاق ڈپلومیٹ رہے ہیں اور ایک کامیاب منتظم کار بھی. اپنی بعض فکری إنتاج کے سبب علماء کے فتوے بھی صادر ہوئے .  علم الإدارة پر اک اچھی کتاب بھی لکھے ہیں.  جدت پسندوں اور ادباء ومفکرین کے درمیان ان کی بڑی قدر و منزلت ہے.  وہ اپنے آپ میں علم وادب کے بحر بے کراں تھے.  اس عظیم شخصیت پر پی ایچ ڈی کا رسالہ ان کی خدمات کو ہمیشہ کے لیے ذندہ و جاوید رکھے گا.  مزید روشنی ڈالنے کی زحمت فرمائیں کہ ان پر نظر انتخاب کیسے پڑی؟
ج: قصیبی صاحب کا نام جے این یو ہی میں اپنے ایک دوست سے سنا۔ انہوں نے قصیبی کے ایک ناول العصفوریة پر اپنا ایم فل کا مقالہ لکھا تھا۔ بھارتی یونیورسٹیوں میں زیادہ تر کام مصر، شام بشمول لبنان اور عراق کے ادب پر ہوا ہے۔ خلیجی ممالک کے بارے میں یہ امیج بن گئی ہے یا بنا دی گئی ہے کہ موجودہ دور میں یہ ادبی طور پر بانجھ ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ پچھلی صدی کی 80 کی دہائی تک اس رائے کی کوئی بنیاد رہی ہو، لیکن اب صورت حال بدل چکی ہے۔ عبد الرحمن منیف، قصیبی، عبدہ خال وغیرہ نے عربی ادب کی دنیا میں خود کو منوایا ہے۔۔۔
یہی وجہ تھی کہ میری نظر اسی خطہ پر تھی۔ قصیبی صاحب کا نام سنا تو ان کو پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔ العصفورية اپنے دوست ہی سے لے کر پڑھی۔ اس کے بعد ان کا سب سے شاندار ناول شقة الحرية زیر مطالعہ رہا۔۔۔پھر ان کے دیگر ناول۔
ناولوں کے علاوہ، غیر قصصی نثر بھی لاجواب ہے۔ حياة في الإدارة، الوزير المرافق، في رأيي المتواضع وغیرہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔
ان کے دو ناولوں شقة الحرية اور العصفوریة نے خاص طور پر متاثر کیا۔ بقیہ ناولیں فنی و موضوعاتی اعتبار سے قدرے کمزور ہیں، لیکن قابل قدر بہر حال ہیں۔ دونوں مذکورہ بالا ناولوں میں موضوعات کے تنوع نے بہت متاثر کیا۔ ان میں کرنل ناصر کے عہد کا عرب اپنے تمام ابعاد کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ یہ سب چیزیں میرے لئے دلچسپ تھیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ ان کا مطالعہ عرب ممالک کی ہم عصر تاریخ و تمدن کے فہم و ادراک میں انتہائی کار آمد ثابت ہوگا۔۔۔
مشرف سے بات ہوئی۔ وہ بھی متفق۔ بس، لاک ہو گیا۔۔۔
یہ سب اسباب تھے قصیبی صاحب کو منتخب کرنے کے پیچھے۔۔۔
مجھے خوشی ہوگی اگر آپ کسی بھی طرح سے میری مدد کر سکیں گے۔۔۔

س: آپ نے کہا کہ آپ سیاسی موضوع سے دلچسپی رکھتے ہیں ماشاء اللہ
تواسلامی سیاسی نظام اور اسکی تعبیر اور موجودہ اور سابقہ  سیاسی نظریات کے بارے میں آپ کا کیا رجحان ہے اور اسلامی سیاسی نظام کانفاذ کیونکر ممکن ہو اسکا طریقہ کار کیا ہو اور فی الحال جو جماعت اس سلسلے میں سرگرم ہے اسے کیا مشورہ دینا چاہیں گے   ؟؟؟؟؟
واضح رہے یہ ایک معروضی سوال ہے جسےمحض جانکاری کے لیے پوچھا گیا ہے
امید ہے کہ جواب دیکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں
ج: یہ اب تک کا سب سے خطرناک سوال ہے۔ میں بساط بھر اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کروں گا۔لیکن اس سوال کا جواب تفصیل اور دقت طلب ہے۔ مجھے وقت چاہئے۔۔۔

س: کمیونزم کے بارے میں جے این یو جانے بعد آپ کے نظریہ میں کوئی تبدیلی آئی؟
ج: جے این یو جانے سے پہلے کمیونزم کے بارے میں پڑھا تھا۔ جے این یو میں اس کی عملی ہیئت دیکھی۔۔۔لیکن، مجھے لگتا ہے کہ میرا آخر الذکر جملہ  ایک پیچیدہ مظہر کو نا مناسب حد تک آسان بناکر پیش کر رہا ہے۔۔۔تفصیل شاید اس پیچیدگی کے خطوط واضح کر سکے۔۔۔
دیکھئے، کمیونزم اپنے وجود سے لے کر اب تک متعدد فرعی مسالک میں بٹ چکا ہے۔ یہ تقسیم علاقائی بھی ہے اور نظریاتی بھی۔ مثال کے طور پر، موجودہ دور میں روس، چین، کیوبا اور شمالی کوریا جیسے ممالک واضح طور پر کمیونسٹ ہیں۔ لیکن، اگر آپ ان کی فرعی نظریاتی ساخت کو دیکھیں گے تو ان ممالک کا اپنا اپنا ‘کمیونزم’ ہے۔۔۔یہ رہا ان ممالک کا معاملہ جن کا آئین کمیونزم ہے اور جہاں کمیونسٹ حکومتیں ہیں۔۔۔
اس کے علاوہ، کمیونسٹ تحریکیں مختلف اشکال میں دنیا کے تقریبا ہر ملک میں ہیں۔ اکثر و بیشتر، ان تحریکوں کی فرعی نظریاتی ساخت میں تنوع ہے۔ یہ تنوع کمیونسٹ ممالک کے نظریاتی تنوع کا عکس بھی ہے اور کمیونزم کی جڑوں سے پیدا ہونے والے اختلاف کا نتیجہ بھی۔ بھارت جیسے غیر کمیونسٹ ملک میں پائی جانی والی ان تحریکوں کا طریقہ عمل کمیونسٹ ممالک میں ان کے طریقہ عمل سے بالکل مختلف ہے۔ عموما غیر کمیونسٹ ممالک میں پائی جانے والی یہ تحریکیں خود کو فرعی قومیتوں،  پچھڑوں، اقلیتوں، عورتوں اور کمزور و مزدور طبقات کے ساتھ جوڑ کر پیش کرتی ہیں۔ یہ ان سے طاقت بھی حاصل کرتی ہیں اور انہیں طاقت بھی دیتی ہیں۔ اتنی ساری مقامی تحریکوں سے جڑنے کی وجہ سے مقامی کمیونسٹ تحریکوں کی نظریاتی سختی میں عملی عوامل کی وجہ سے لچک پیدا ہو جاتی ہے۔ نتیجہ کے طور پر، نظریاتی سطح پر دین کو عوام کا افیون سمجھنے والی یہ تحریکیں بھارت جیسے ملک میں مسلمانوں کی عددی طاقت کا سہارا لینے کی خاطر ہی سہی صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ اسلام کو بھی برداشت کرتی ہیں۔۔۔جے این یو کی کمیونسٹ تنظیموں پر بھی یہ قاعدہ کلیہ فٹ بیٹھتا ہے۔
اس لئے بھارت یا جے این یو کی کمیونسٹ تحریکوں کے ساتھ ہمارے تعامل کی بنیاد خالص نظریاتی یا غیر بھارتی حقائق پر منحصر نہیں ہونی چاہئے۔۔۔
مختصرا، جس طرح کمیونسٹ تنظیمیں مسلمانوں کا سہارا لے کر اقتدار کی سیڑھیوں پر چڑھنا چاہتی ہیں،  اسی طرح ہمیں بھی ان کا استعمال اقتدار کے حصول اور مشترک دشمن کو شکست دینے کے لئے کرنا چاہئے۔۔۔یہ آسان سا فارمولا ہے جو صرف اور صرف عملی ہے۔۔۔نظریاتی مول بھاؤ کا اس میں سوال ہی نہیں اٹھتا ہے۔۔۔

س: شمس الرب بھائی!  مطالعہ کے سلسلے میں آپ کا طریق کار کیا ہے؟ کیا ٹائم ٹیبل بنا کر مطالعہ کرتے ہیں؟ مطالعہ کا مخصوص وقت کون سا ہے؟  مطالعہ کرتے وقت کاپی قلم لے کر بیٹھتے ہیں؟  کیا موبائل اور لیپ ٹاپ سے مطالعہ کی عادت ہے؟
ج: میں نے مطالعہ کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں بنایا ہے۔ فرائض و واجبات کی ادائیگی کے بعد جو وقت ملتا ہے اس میں سے تھوڑا سا وقت سیر و تفریح کے لئے نکالتا ہوں، بقیہ مطالعہ میں گزارتا ہوں۔ ممبئی جیسے ‘لوکل ٹرینی’ شہر میں خالی اوقات برباد نہ جائیں، اس کے لئے تھوڑی سی منصوبہ بندی کام آگئی ہے۔۔۔
عموما صبح میں اس دن کے لیکچرس کی تیاری کرتا ہوں۔ اس کے بعد ناشتہ، پھر اخبارات کی سرخیوں پر نظر اور پسندیدہ مضامین کو پڑھنا۔۔۔
گھر سے یونیورسٹی پہونچنے میں کم و بیش ڈیڑھ گھنٹے لگتے ہیں۔ اس میں سے آدھا گھنٹہ بے عملی کے حصہ میں چلا ہی جاتا ہے۔
ٹرین میں مطالعہ کے لئے، تین چیزیں حسب حال مدد کرتی ہیں: بیگ میں رکھی ہوئی کتاب/ کتابیں،  کنڈل ای بک ریڈر اور موبائل۔ موبائل کا استعمال پڑھنے کے لئے بہت کم کرتا ہوں۔ یہ عموما ٹرین میں بہت زیادہ بھیڑ ہونے پر ہوتا ہے۔ ٹرین میں بھیڑ کم ہونے یا بیٹھنے کے لئے سیٹ مل جانے پر کتاب یا بک ریڈر کام آتا ہے۔۔۔
یونیورسٹی میں لیکچرس کے بعد فاضل وقت استاذ یا ساتھی اساتذہ کے ساتھ یا حسب ضرورت کمپیوٹر پر سرچ کرنے میں۔ واضح رہے میں کمپیوٹر پر کبھی بھی مطالعہ برائے مطالعہ نہیں کرتا ہوں، میرے خیال سے کمپیوٹر پر پڑھنا بے سود ہے۔۔۔
بقیہ ہفتہ میں دو دن جمعہ اور سنیچر کوئی لیکچر نہیں لینا رہتا ہے۔۔۔اس لئے یہ دو دن مکمل طور پر مطالعہ کی نذر۔۔۔
کاپی قلم لے کر مطالعہ کرنے نہیں بیٹھتا ہوں۔ کتاب یا پرنٹیڈ مواد پڑھتے اسی پر ملاحظات وغیرہ لکھتا ہوں۔ کنڈل پر پڑھتے ہوئے جہاں ممکن ہوتا ہے ہائلائٹ اور نوٹ لکھنے کا آپشن استعمال کرتا ہوں۔ اور جہاں یہ سب ممکن نہیں ہوتا وہاں معاملہ یاد داشت کے سپرد کر دیتا ہوں۔۔۔۔
اتنی تفصیل کے لئے معذرت!!!

س: عربی ادب میں آپ کے پسندیدہ رائٹر کون ہیں اور کیوں؟
ج: عربی ادب میں میری پسندیدہ کتابیں کئی ہیں! لیکن مقدمة ابن خلدون سب سے زیادہ پسند ہے۔۔۔
زبان میں سادگی اور روانی ہے۔ ایک منفرد خصوصیت اس کتاب کی یہ ہے کہ یہ ادبی اور علمی طرز تحریر کا ایک لاجواب امتزاج ہے۔۔۔
سب سے بڑی بات ہے اس کتاب میں پیش کئے گئے افکار و نظریات۔ انتہائی نادر اور اچھوتے افکار و نظریات۔ موجودہ دور میں کچھ افکار و نظریات کا رد کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر اسے اس کے لکھے جانے کے وقت کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ اپنے وقت سے بہت بہت آگے کی کتاب ہے۔ اس بات پر دھیان دیں کہ یہ مسلمانوں کے عصر انحطاط کی تخلیق ہے۔ اس سے ابن خلدون کی عظمت مزید مسلم ہو جاتی ہے۔ یہ کتاب جب بھی میں پڑھتا ہوں، کچھ نہ کچھ نیا ضرور سیکھنے کو ملتا ہے اور ذہن و فکر کے نئے زاویے کھلتے ہیں۔۔۔یہ کتاب نہیں الکتاب ہے حقیقی معنوں میں۔۔۔

س: آپ کو کس قسم کے لوگ پسند ہیں؟ تنہائی پسند ہیں یا مجلسی ہیں؟ آپ کی شخصیت کا کوئی خاص پہلو جو دوسروں سے آپ کو ممتاز کرتا ہو؟
ج: سادہ اور بے تکلف لوگ پسند ہیں۔ خلوت پسندی کا غلبہ ہے۔
میں اپنی شخصیت کے کسی ایسے خاص پہلو کی تحدید کرنے سے قاصر ہوں جو مجھے دوسرے لوگوں سے ممتاز کرتا ہو۔ شاید دوسرے لوگ اس کی تحدید بہتر ڈھنگ سے کر سکیں۔۔۔

س: معیار تعلیم جامعہ ملیہ میں زیادہ بہتر یا پھر جے این یو میں؟  اور کیوں؟
ج: صرف جے این یو ہی میں تعلیم حاصل کی ہے، جامعہ میں نہیں۔ اس لئے تقابلی جائزہ کیسے کروں؟ سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر کر سکتا ہوں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ انصاف نہیں کر پاؤں گا۔۔۔

س: آپ کی کوئی کتاب منظر عام پر آ چکی ہے؟ مضامین ومقالات کہاں کہاں چھپے؟
ج: ابھی تک کوئی کتاب منظر عام پر نہیں آئی ہے۔ کبھی فضیلت کے مقالہ کو کتابی شکل میں شائع کرانے کا سوچا تھا لیکن بعد میں مجھے محسوس ہوا کہ مزید دراسہ،  مطالعہ، مشاہدہ اور تجربہ کی ضرورت ہے۔۔۔ایک اور کتاب پر کام جاری ہے لیکن کام کب مکمل ہوگا معلوم نہیں۔ دعا کریں کہ توفیق الہی شامل حال رہے۔
مضامین زیادہ نہیں لکھتا یا لکھ پاتا۔ جو لکھتا ہوں وہ اپنے بلاگ پر ڈال دیتا ہوں۔ ممبئی سے نکلنے والا مجلہ دی فری لانسر میرے مضامین کی نوعیت سے میل کھاتا تھا اور اس کو جاننے کے بعد اس کے لئے باقاعدگی کے ساتھ لکھنے کی خواہش تھی، لیکن یہ مجلہ کچھ دشواریوں کا شکار ہوکر عارضی طور پر بند ہو گیا ہے۔ عبد الرحمن ابن کلیم بھائی اور سرفراز بھائی ابھی گروپ میں ہیں، جو اس مجلہ کے ساتھ بطور مالک و ناشر اور نائب مدیر جڑے ہوئے ہیں۔۔۔وہ شاید کچھ روشنی ڈال سکیں اس کے مستقبل پر۔۔۔

س: جے این یو کے کمیونزم کا اثر وہاں کے دیگر (مدارس کے فارغین) مسلم طلبہ پر کیسا اور کتنا ہے؟
پچھلے دنوں جماعت اسلامی کی ایک مشہور شخصیت کے بیٹے نے جو جے این یو میں زیر تعلیم تھا اعلان کیا کہ ملحد ہے اور مذھب اور خدا کی ذات پر ایمان نہیں رکھتا.
کیا جے این یو میں ایڈمیشن مسلم طالب علم کے مذہب کے لیے رسک ہے؟
ج: جے این یو کے ماحول کے بارے میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں۔ مدارس کے طلبہ پر اثر کے تعلق سے بھی میرا زاویہ نظر آ چکا ہے۔ ثناء اللہ بھائی نے اس پر روشنی ڈالی ہے اور کمیونزم سے کہاں احتیاط کرنا چاہئے اس کے بارے میں بھی وہ بتا چکے ہیں۔
اور رہی بات رسک کی،  تو رسک تو ہر جگہ ہے۔۔۔رسک کا مطلب یہ نہیں ہے کہ راہ فرار اختیار کر لی جائے۔۔۔رسک کا مطلب یہ ہے کہ کچھ چیلنج ہیں جن پر قابو پانا ہے۔۔۔بس!
باقی، اس خاص واقعہ کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے۔ اور اگر ہو بھی تو مجھے امید ہے کہ میری اب تک کی باتوں سے اس کی بابت میرا نقطہ نظر واضح ہو چکا ہوگا۔۔۔

س: مدارس کا جو طریقۂ تعلیم ہے، وہ عربی کی تفہیم میں کس حد تک کارآمد ہے؟ مطلب ‘طرز کہن، پر اَڑے ہی رہیں یا کوئ اور ‘طرز جنوں، ایجاد کیا جاۓ؟
ج: میرے خیال سے طرز کہن میں وقت و احوال کے حساب سے تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ زبان سیکھنے و سکھانے کے تعلق سے موجودہ دور میں انقلابی تبدیلیاں آچکی ہیں جن پر ٹیکنالوجی، آسان پسندی اور بہتر و تیز تر نتیجہ خیزی کا غلبہ ہے۔ مدارس کو بھی ان تبدیلیوں کو اپنانا چاہئے۔ واضح رہے کہ یہ تبدیلیاں سیکولر طرز کی ہیں جن سے دین کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

س: ہندوستانی مدارس نہیں، جامعات میں عربی کا مستقبل کس حد تک آپ کو روشن دکھائ دیتا ہے؟
ج: جامعات میں عربی شعبے برقرار رہیں گے، لیکن حکومتی توجہ کی مقدار اور وقت اس کی پالیسیوں، مفادات و ضروریات کے حساب سے طے ہوں گی۔۔۔
یہ دور نجی شعبوں کا ہے۔ اس لئے جب تک نجی شعبوں میں عربی کی ضرورت رہے گی، یہ زبان مادی و عددی اعتبار سے پھلے پھولے گی۔۔۔نجی شعبے میں کمزور ہونے کے بعد زبان بھی مادی و عددی لحاظ سے کمزور ہو جائے گی۔۔۔ہاں، اگر یونیورسٹیاں بھارت میں موجود مسلمانوں کی مذہبی یا ثقافتی ضروریات سے خود کو جوڑ لے جائیں اور ان کو پورا کر لے جائیں تو ان کی بنیاد انتہائی وسیع اور پائدار ہو جائے گی،  ان شاء اللہ۔۔۔

س: جامعات کے وہ کون سے پروفیسرز ہیں جن کی عربی دانی سے آپ متآثر ہوۓ؟
ج: پروفیسر احسان الرحمن صاحب، پروفیسر مجیب الرحمن صاحب حفظهما الله

س: ندوے اور سلفیہ کے اسلوب میں کوئ فرق؟
ج: ندوے کے اسلوب سے نا واقف ہوں۔سلفیہ میں میرے دور میں عربی مضمون نگاری پر توجہ بہت کم بلکہ نا کے برابر تھی۔۔۔اس کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

س: عربی کی وہ کون سی کتابیں ہیں، جن کا ترجمہ آپ اردو میں کرنا چاہتے ہیں؟
ج: فی الحال فلسطینی افسانوں اور ناولوں پر میری نظر ہے۔۔۔
غسان کنفانی کے ایک افسانے کا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا، میرے بلاگ پر ہے۔ مستقبل میں مزید فلسطینی افسانوں کا انگریزی میں ترجمہ کرنے کا اردہ ہے، ان شاء اللہ۔
رہے بات اردو میں ترجمہ کی، تو اس زبان میں بھی فلسطینی افسانوں اور ناولوں کا ترجمہ کرنا چاہوں گا۔ بلکہ اردو چینل کے مدیر ڈاکٹر قمر صدیقی کے کہنے پر آٹھ فلسطینی افسانوں کا ترجمہ مکمل بھی ہو چکا ہے، الحمد للہ۔ ان میں سے دو مائکرو افسانے محمود شقیر کے ہیں باقی قدرے لمبے افسانے مختلف افسانہ نگاروں کے ہیں۔
غسان کنفانی کا ہی ایک ناول ہے ” رجال في الشمس”. اس کو بھی اردو کا جامہ پہناؤں گا ان شاء اللہ۔ کئی مرتبہ پڑھ چکا ہوں۔ انتہائی پر سوز ناول ہے۔ پڑھتے ہوئے آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔۔۔۔افسانوں کے بعد اس کی بھی باری آئے گی ان شاء اللہ۔۔۔اللہ رب العالمین سے توفیق و مدد کا طالب ہوں!

س: عبدالعزیز میمنی، محمد بن عبداللہ سورتی اور عبدالمجید حریری کو سعید اکبرآبادی نے عربی کا ‘عناصر ثلاثہ، کہا تھا، ماضی ہمارا اتنا شاندار تھا لیکن حال؟
ج: ہر قوم کا آنے والا کل گزرے ہوئے کل سے بہتر ہو رہا ہے،  ہمارا معاملہ بر عکس ہے۔۔۔اللہ رحم کرے!

س: عالمگیریت کے عفریت نے بہتیری زبانوں کا وجود خطرے میں ڈال دیا ہے، کیا عربی جیسی زندہ زبان پر بھی اس کا کوئ اثر پڑا ہے؟
ج: عربی زبان کے پاس ایک مضبوط خطہ ہے۔ اس میں سیندھ لگایا جا سکتا ہے لیکن مسمار نہیں کیا جا سکتا۔۔۔
عربی خود کو عالمی سطح پر منوا چکی ہے۔ اقوام متحدہ میں ایک رسمی زبان کے طور پر تسلیم شدہ ہے۔ جدید عربی ادب بھی عالمی سطح پر نمایاں ہے۔۔۔’تیل کی زبان’ ہونے کی وجہ سے خاص اہمیت ہے۔۔۔لیکن…
عالمگیریت کے اس دور میں زبان کا وجود کوئی مسئلہ نہیں ہے، وجود برقرار رہے گا۔۔۔مسئلہ حیثیت و مرتبہ کا ہے۔۔۔غالب رہے گی یا مغلوب، وغیرہ وغیرہ! اس کا فیصلہ ابھی کرنا دشوار ہے۔ لیکن عالمگیریت چونکہ بنیادی طور پر ایک اقتصادی مظہر ہے،  اس لئے مستقبل میں عربی زبان کے مقام و مرتبہ کا تعین بھی خطہ زبان کے اقتصادی مقام و مرتبہ، زبان کے تئیں اہل زبان کے رویہ اور خود زبان کی عالمگیریت کے عناصر قوت سے خود کو لیس کرنے کے تئیں استعداد و کامیابی پر موقوف ہوگا۔۔۔

س: مدارس کے وہ طلبا جو عربی سے شغف رکھتے ہیں ان کیلیۓ کوئ پیغام؟
ج: زبان و ادب کے علم میں گہرائی و گیرائی لائیں۔ مطالعہ کرتے رہیں. ہمیشہ سیکھتے رہیں چھوٹے بڑے ہر کسی سے۔۔۔اور۔۔۔
عربی کے ساتھ انگریزی پر بھی توجہ دیں۔ ترجمہ و ترجمانی پر دھیان دیں۔ ان دونوں زبانوں میں مہارت آپ کو معاشی طور پر مضبوط بنائے گی۔۔۔یہ اہم ہے اور جدید دور کی حقیقت ہے۔۔۔معاش کے علاوہ اعلی تعلیم کے حصول میں مددگار ثابت ہوگی۔۔۔علمی و عملی میدان میں اس کی ضرورت قدم قدم پر پڑے گی۔۔۔

س: طلباۓ مدارس عالمیت یا فضیلت کے بعد مزید تعلیم کیلیۓ سعودی جامعات کا رخ کریں یا ہندوستانی جامعات کا؟ کیا ہندوستان میں ان کا مستقبل روشن ہے؟
ج: طلبائے مدارس اعلی تعلیم کے لئے پہلے سعودی جامعات ہی کا رخ کرتے تھے، اب بھارتی یونیورسٹیوں میں بھی جانے لگے ہیں۔۔۔اس رجحان کے پیچھے کچھ تو اسباب ہوں گے۔۔۔
کون کہاں جائے، اس کا فیصلہ خود وہی اپنے ذوق و شوق کے مطابق کرے۔ دینی تعلیم کے لئے میرے خیال سے سعودی یونیورسٹیوں کا ثانی نہیں۔۔۔اس لئے جنہیں دینی علوم میں شغف ہو ان کے لئے سعودی جامعات بہتر رہیں گے۔۔۔
جن کی دلچسپی زبان و ادب سے ہے، میرے خیال سے ان کے لئے ہندوستانی یونیورسٹیاں بہتر ہیں، اس لئے کہ یہاں تعلیم اقتصادی شعبہ کو ذہن میں رکھ کر دی جاتی ہے۔ بھارت بڑا اقتصادی ملک ہے۔ یہاں غیر ملکی سرمایہ کاری زیادہ ہے۔ بیرون ملک تجارت کرنے والی کمپنیاں بہت ہیں۔ سیاحت و طبی سیاحت نے نئی راہیں کھولی ہیں۔ نیز ادب کی بھی اچھی خاصی تعلیم دی جاتی ہے۔۔۔
میں چونکہ ایک بھارتی یونیورسٹی سے جڑا ہوا ہوں اس لئے ہو سکتا ہے کہ کچھ تعصبات در آئے ہوں، اس پر بھی دھیان دیں۔۔۔
آخر میں فیصلہ آپ کے ہاتھوں میں۔۔۔

س: ہندوستانی جامعات میں عربی کے جو شعبے ہیں، اس میں سب سے زیادہ اسٹرانگ کس یونیورسٹی کا شعبۂ عربی ہے، جے این یو کا کالی کٹ یونیورسٹی کا؟
ج: میرے خیال سے جے این یو کا شعبہ قوی ترین ہے۔ شعبہ اپنے آپ میں قوی ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ دوسری یونیورسٹیوں کے شعبوں سے زیادہ قوی نہ ہو لیکن جے این یو کا عمومی کلچر اس کو قوی ترین بناتا ہے۔۔۔

س: مدارس کے وہ طلبا جن کی عربی اچھی ہے، وہ کس شعبے میں اپنا کیریئر بنایئں؟
ج: انگریزی بھی اچھی کرنی پڑے گی۔ اس کے بعد، تحقیق و تدریس، تصنیف و تالیف، ترجمہ و ترجمانی، صحافت، سیاحت، اسلامی اقتصادیات وغیرہ وغیرہ

س: نصاب تعلیم اور نظام تعلیم میں تبدیلی وبدیلی ہوتی رہے گی… زائد از سو سالوں سے اس طرح کے مطالبے اور مشورے جاری وساری ہےن… نتیجتا تھوڑا بہت ٹس سے مس ہوگیا.. میرا سوال یہ ہے کہ
اب پتا نہیں کب یہ سب بدلے یا بدلے بھی نہیں ایسی صورت میں رائج الوقت کو مدنظر رکھتے ہوئے دینی مدارس کے طلبہ زمانہ کا مقابلہ یا ساتھ دینے کے لیے کیا راستہ اختیار کریں؟
ج: بہت محنت کرنی ہوگی، غیر معمولی محنت مناسب رہنمائی کے ساتھ۔۔۔یہ سمجھ لیں گے کہ دو کلو میٹر کے ریس میں آپ  پہلے ہی سے ایک کلومیٹر پیچھے ہیں۔ محنت، جذبہ اور لگن سے پہلے اس دوری کو پاٹنا ہوگا اور پھر دوسروں کو پیچھے چھوڑنے کے لئے مزید محنت درکار ہے۔۔۔لیکن گھبرائیں نہیں۔۔۔کسی مناسب شخص سےرہنمائی لیں اور لگ جائیں۔۔۔سب کچھ آسان ہو جائے گا ان شاء اللہ۔۔۔

س: جے این یو میں مدرسہ سے فارغ علماء کی تعداد کتنی ہے ؟ کس جامعہ کے فارغین زیادہ ہیں ؟ کس جامعہ کے فارغین پرفامنس اچھا ہے ؟
ج: تعداد کا احصاء نہیں ہے۔ لیکن اچھی خاصی تعداد ہے۔
سنا تھا کہ پہلے ندوہ کے فارغین زیادہ تھے، لیکن اب سنابل، سلفیہ، اثریہ،تیمیہ، اشرفیہ وغیرہ سے بھی فارغین اچھی خاصی تعداد میں ہیں۔
وہاں داخلہ حاصل کرنے والے عموما سب اچھے ہوتے ہیں۔ معاملہ تقریبا برابری کا ہے۔۔

س:  کیا آپ کو خطابت سے بھی دلچسپی ہے؟ جمعہ وغیرہ پڑھاتے ہیں؟ جلسوں میں شریک ہوتے ہیں؟ دینی جلسوں اور ان میں تقریر کرنے والے خطبا کے بارے میں آپ کا تاثر کیا ہے؟
ج: علمی خطابت میں دلچسپی ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ میں عموما مختصر لکھنے اور بولنے کا عادی ہوں۔ اس لئے۔۔۔
جمعہ کو یونیورسٹی میں رہنا پڑتا ہے۔ اس لئے جمعہ پڑھ سکتا ہوں، پڑھا نہیں سکتا۔
جلسوں میں حسب توفیق شرکت کرتا ہوں۔ زیادہ تر یک خطیبی پروگرام میں شرکت کرنا پسند کرتا ہوں۔ کبھی کبھی جلسوں میں بھی شرکت کرتا ہوں۔ آپ کی تقریر پہلی بار گھاٹ کوپر میں تقلید کے موضوع پر سنی۔ آپ ایک ماہر خطیب ہیں، ما شاء اللہ۔
شیخ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ کا حدیث کا گہرا علم متاثر کرتا ہے۔ دینی جلسوں کی افادیت ہے ضرور، کم یا زیادہ!

س: جماعت کے حفظ کے اداروں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کس قسم کی تبدیلیاں اور اصلاحات چاہتے ہیں؟
ج: حفظ کے ساتھ نقل و املاء کی مشق کرائی جاتی ہے۔ میرے خیال سے ہلکا پھلکا ہی سہی کچھ مضامین کی تعلیم دینی چاہئے۔ لیکن میں اس کی افادیت کے تعلق سے بہت پرامید نہیں ہوں۔۔

س: جے این یو میں قیام کے دوران کیمپس میں کسی دعوتی سرگرمی میں شامل رہے؟ کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ کے درمیان دعوتی کام کرنے کے سلسلے میں آپ کے کچھ مشورے؟
ج: نہیں، کیمپس میں رہتے ہوئے کسی “دعوتی” سرگرمی میں شامل نہیں ہوا۔ کبھی کبھی دینی دروس میں شرکت کیا کرتا تھا بطور سامع۔
کالج و یونیورسٹی میں یا کہیں اور، دعوت کے لئے ایک طریقہ بیحد کارگر ہے:
ہر مسلمان یا ہر عالم یا کم از کم اکثر علماء با اخلاق ہونے چاہئیں۔ اچھے اخلاق سے ان کو خود سے قریب کریں یا کم از کم ان کو دین کی بات سننے کے لئے آمادہ کریں. پھر غیر شعوری طور پر اس کو دین کی دعوت دیں زیادہ تر اعمال سے اور کبھی کبھی الفاظ سے۔۔۔یہ واعظانہ طور طریقہ سے کہیں زیادہ کارگر ہے۔۔۔اگر دین نہیں قبول کرے گا تو کم از کم دین بیزار یا اسلامو فوبیا کا شکار نہیں رہ جائے گا۔۔۔ہماری شکایت یہ ہے کہ کمیونسٹ ہمیں چپکے سے زہر پلا دیتے ہیں۔ آؤ ہم بھی ان کو کچھ پلاتے ہیں ، ہمارے پاس تو شہد ہے۔۔۔

س: قارئین کی تعداد اور گھٹتے بڑھتے ترجیحات و رجحانات کو دیکھتے ہوئے کس زبان میں صحافت کو ترجیح دی جائے..
اردو رسالوں کے قارئین کو ذہن میں رکھتے ہوئے بتایئے اردو رسالوں میں اب کس طبقہ کو ٹارگیٹ کیا جائے جس کا نتیجہ واہ واہی کے علاوہ بھی ہو؟
ج: موجودہ دور میں صحافت دنیا کی تقریبا ہر زندہ زبان میں ہو رہی ہے۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ ایک خاص زبان میں صحافت کے رینج، اثر اور کردار میں تفاوت ہے۔۔۔
مثال کے طور پر بھارت میں زبان کے اعتبار سے صحافت کی تقسیم یوں کی جا سکتی ہے:
1- قومی، با اثر مباشر، با اقتدار
2- علاقائی، با اثر غیر مباشر، با اقتدار
3- قومی، با اثر غیر مباشر، بے اقتدار
پہلی قسم سے میری مراد ان زبانوں سے ہے جن کی صحافت قومی سطح پر ہے، جن کا براہ راست اثر با اثر لوگوں پر ہے اور جن کی آواز ایوان اقتدار میں براہ راست پہونچتی ہے یا جو با اقتدار طبقہ کی ترجمانی کرتی ہیں۔ بھارت میں یہ مقام انگریزی اور کچھ حد تک ہندی صحافت کو حاصل ہے۔۔۔۔
دوسری قسم کی صحافت میں ان زبانوں کی صحافت آتی ہے جو علاقائی سطح پر ہیں، جن کا ملکی سیاست پر اثر براہ راست نہیں بالراست ہے اور جو اقتدار کی مالک یا شریک ہیں۔ اس قسم کی صحافت میں مراٹھی، تمل، گجراتی وغیرہ زبانوں کی صحافت آتی ہے۔
تیسری قسم کی صحافت میں ان زبانوں کی صحافت آتی ہے جو قومی سطح پر ہیں، جن کا اثر براہ راست نہیں بالراست ہے اور جن کی آواز با اقتدار طبقہ کے لئے غیر اہم یا صرف وقتی طور پر ہی اہم ہے۔ اردو زبان کی صحافت اسی قسم میں آتی ہے۔
اردو صحافت کے حق میں یہ بات جاتی ہے کہ یہ قومی سطح پر ہے۔ اردو صحافت کو اس پہونچ کو مزید وسعت و گہرائی دینی چاہئے۔
اردو صحافت کا اثر براہ راست نہیں بلکہ بالراست ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اردو صحافت اپنے قاری طبقہ کو خصوصا سیاسی طور پر مضبوط کر کے ہی مضبوط ہو سکتی ہے۔
اقتدار کے حصول کے لئے یا ایوان اقتدار میں با اثر ہونے کے لئے، موجودہ قومیت زدہ معاشرہ میں، اردو زبان کی دبی ہوئی قومی شناخت کو برانگیختہ کرنا چاہئے۔ مولوی عبد الحق کی اسٹریٹجی مناسب وقت آنے پر پھر سے کام کرے گی۔۔۔مراٹھی قومیت اور اس کا طریقہ کار ایک اور زندہ مثال ہے۔
اشارہ سمجھئے، غور کیجئے اور عمل کیجئے۔ تعداد، اثر اور طاقت کسی چیز کے بارے میں شکایت نہیں رہ جائے گی۔۔۔بإذن الله تعالى!

س: شمس الرب بھائی سے بس ایک سوال اور عرض کرنا ہے………. کیا آپ نے کبھی سول سروسز میں آنے کا ارادہ نہیں کیا؟؟؟  اپنے احباب کو اس فیلڈ سے متعلق کوئی مشورہ دینا چاہیں گے؟؟؟؟
ج: سول سروسز میں آنے کا ارادہ فضیلت سال اول میں آیا تھا۔ اسی وقت سے تیاری بھی شروع کر دی تھی۔ سلفیہ میں رہتے ہوئے،  تیاری کی رفتار دھیمی تھی۔ جے این یو میں آنے کے بعد ماحول بھی سازگار تھا اور رہنمائی بھی خوب، اس لئے تیاری کی رفتار اور افادیت بڑھی۔ سول سروسز کی تیاری کے ساتھ اکیڈیمکس پر بھی توجہ تھی۔ جے این یو کے پانچ سالوں میں سول سروسز کے پورے نصاب کو کم و بیش مکمل کیا۔۔۔
ایم اے کے بعد، ممبئی چلا آیا۔ پہلی مرتبہ امتحان یہیں دیا۔ تدریسی ذمہ داری مل جانے کے بعد، سول سروسز کی تیاری کو کم وقت دے پاتا ہوں۔ لیکن ریس میں ابھی بھی ہوں۔ قانون کی رو سے، میری پانچ کوششیں ابھی بھی باقی ہیں اور عمر کی حد ابھی بھی مجھے کم از کم پانچ کوششوں کی اجازت دیتی ہے۔ اس لئے، ان شاء اللہ میں باقی بچی پانچوں کوششوں کو بھناؤں گا ضرور۔ الحمد للہ کچھ زیادہ دباؤ بھی نہیں ہے نوکری کے لئے اس لئے ہو تو ٹھیک نہ ہو تو ٹھیک۔۔۔
فضیلت سال اول سے لے کر اب تک سول سروسز کو لے کر میرے افکار و خیالات میں بنیادی تبدیلیاں آ چکی ہیں، اور یہ تبدیلیاں اندرونی حقائق اور ٹھوس تجزیہ پر مبنی ہیں۔ تبدیلیوں کی نوعیت مثبت ہے یا منفی، اس کو میں خود تک محدود رکھنا چاہوں گا۔۔۔
جو لوگ سول سروسز میں جانا چاہتے ہیں،  ان کو میرا مشورہ ہے کہ پہلے کچھ کام کریں:
1- سول سروسز میں کامیابی پانے کے لئے کیا صلاحیتیں درکار ہیں؟
2- ان میں سے کون سی صلاحیتیں پہلے سے موجود ہیں، اور معیار کے مطابق قوی ہیں یا کمزور؟ نیز کون سی صلاحیتیں موجود نہیں ہیں؟
3- موجود صلاحیتیں قوی ہیں تو قوی تر کیجئے لیکن اس پر زیادہ وقت مت لگائیے۔۔۔
4- موجود صلاحیتیں کمزور ہیں تو ان کو قوی کرنے کی کوشش کریں۔ اس کو پہلے سے زیادہ وقت دیں۔
5- غیر موجود صلاحیتوں کو وجود میں لائیے، قوی کیجئے، پھر قوی تر۔۔۔یہ بہت زیادہ وقت طلب ہے۔۔۔
6- سول سروسز میں کوششوں اور عمر وغیرہ کی قیود کو دھیان میں رکھتے ہوئے نتائج کو ‘زمنی’ بنائیں۔۔۔
آخر میں، اصل امتحان ‘امتحان’ میں کامیابی کے بعد ہے:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

س: جو ہے وہ کافی ہے لیکن ہل من مزید کا نعرہ اس لیۓ لگا رہا ہوں کہ اس گروپ میں کچھ طلبا ہیں، جو سول سروسز میں انٹرسٹڈ ہیں، ان کیلیۓ کچھ اور، پلیز!
ج: علامہ اقبال کا یہ شعر بہت روندا جا چکا ہے، لیکن ہے اب بھی ہمہ گیر:
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

اسی کو حرز جاں بنائیں، فیلڈ چاہے جو بھی ہو۔۔۔
بقیہ، اگر کسی کو دلچسپی ہے اور مجھ سے ذاتی سطح پر بات کرنے کا خواہاں ہے تو بالکل نہ ہچکچائیں۔ میں اپنی بساط بھر معلومات ساجھا کرنے کی کوشش کروں گا۔۔۔

س: ڈاکٹر شاہد صاحب اور آپ کے آنے کے بعد معیار تعلیم میں کتنی تبدیلی آئی ہے… اس سے پہلے عربی ڈیپارٹمنٹ کی حالت کافی خستہ تھی… …
وہاں کے بچوں کی شکایت کچھ یوں تھی:
جی حضوری میں بجٹ پورا واپس ہوجاتا تھا… دروس کا انحصار چٹکلوں اور لطیفوں پر ہوتا تھا… بچوں کی تعداد کم سے کم تر ہوتی جارہی تھی….
اور اب کیا نقشہ ہے؟ اور کیا ارادے ہیں؟

ج: موجودہ حالت یوں ہے:
– بجٹ پورا خرچ کر چکے ہیں۔ بلکہ ‘غیر متعینہ فنڈ’ سے بھی بجٹ کے لئے درخواست کی جا چکی ہے۔
– سارا وقت چٹکلوں میں گزارنے والوں کو فارغ کیا جا چکا ہے۔
– فی الحال، ریگولر کورسیز کی ساری سیٹیں مکمل ہیں۔ کچھ لوگوں کو اسی وجہ سے واپس بھی لوٹانا پڑا۔
– ریگولر اور غیر ریگولر کورسز میں مجموعی طور پر تقریبا چھ سو بچے ہیں۔ قصر مدتی کورسیز میں 20 سے 25 فیصد بچے غیر مسلم ہیں۔
– پہلے سعودی جامعات کے فارغین کو کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر داخلہ نہیں دیا جاتا تھا۔ اب ہمارے پاس ان کی اچھی خاصی تعداد ہے۔
– پہلے مدرسہ بیک گراونڈ سے آنے والے طلبہ کے داخلہ میں رکاوٹیں پیدا کی جاتی تھیں۔ اب وہ اکثریت میں ہیں اور بسا اوقات ہم ان کی مدد ‘مختلف طریقوں’ سے بھی کرتے ہیں۔
ہم دونوں کا ایک مشترکہ منصوبہ ہے۔۔۔
-اس منصوبہ میں درج ذیل فرعی منصوبہ کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے:
– ہماری بنیاد مسلمان اور مسلمان علاقے ہیں۔ ممبئی میں آمد و رفت کے مسائل ہیں، اس لئے ہم شعبہ کو مسلمانوں کا پڑوسی بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے مطابق،  ہم نے ممبئی میں مسلم اکثریتی علاقوں کی تحدید کی ہے۔ ہمارا ارادہ ان تمام علاقوں میں رفتہ رفتہ شعبہ کا کم از کم ایک مرکز کھولنا ہے۔ الحمد للہ ہم اس کی شروعات بھی کر چکے ہیں۔ رائل کالج، میرا روڈ میں کالج کے اشتراک سے اسی سال ہم شعبہ کا ایک مرکز کھول چکے ہیں، جہاں ابھی سرٹیفیکیٹ دستیاب ہے۔ ہر سال اس کا مرحلہ بڑھتا جائے گا ان شاء اللہ۔۔۔
ہمارا ارادہ شعبہ کو خود منحصر اور پائدار بنانے نیز مسلم سماج سے جوڑنے کا ہے۔۔۔
اللہ رب العالمین سے کامیابی کی التجا کرتے ہیں۔۔۔

س: مدرسوں کی سند سے بھی داخلہ فاصلاتی میں مل سکتا ہے؟
ج: ممبئی یونیورسٹی میں میرے علم کی حد تک اب تک یہ سہولیت نہیں ہے۔ مدرسہ بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر مدرسوں کی سند کی بنیاد پر مولانا آزاد یونیورسٹی وغیرہ سے گریجویشن وغیرہ کر کے آتے ہیں۔ اس کے بعد ہی  ممبئی یونیورسٹی انہیں داخلہ دیتی ہے۔ سعودی جامعات جیسے جامعہ اسلامیہ، مدینہ منورہ وغیرہ کی بات الگ ہے،  ان کی سندیں قبول کی جاتی ہیں کیونکہ وہ بھارت میں سرکاری سطح پر بھی تسلیم شدہ ہیں۔

س: مستقبل کے لیے کیا ٹارگیٹ ہیں ۔ کوئی ایسا کام جس کے لیے شمس الرب سلفی کو ان کے بعد بھی کیا جاتا رہے؟
ج: ان شاء اللہ، یاد کیا جائے گا۔۔۔مجھے یہی امید ہے اپنے رب سے!کس کام کے لئے؟  ابھی معلوم نہیں!

س: ممبئی دہلی دونوں جگہ کا تجربہ ہے آپ کو ۔ دونوں شہروں میں فرق؟ دونوں میں آپ کا پسندیدہ کون سا شہر ہے ؟

ج: دونوں شہروں میں موسم، بنیادی مزاج، آمد و رفت، تعلیمی مزاج، اقتصادی ماحول، لسانی و سیاسی اعتبارات وغیرہ وغیرہ کا فرق ہے۔۔۔
ممبئی بیحد پسند ہے۔۔۔ اس لئے جے این یو جیسی جگہ چھوڑ کر آیا، فی الحال رتی بھر بھی افسوس نہیں ہے۔۔۔ممبئی میں خوش ہوں۔۔۔الحمد لله.

س: برادرم شمس الرب صاحب. سلامت رہیں. ایک اہم معلومات افزا اور تشجیعی اور عزم وحوصلہ سے بھرپور انٹرویو کے لئے تہ دل سے شکریہ .
اپنے تعلیمی زندگی کے تجربات اور سول سروسز کے حوالہ سے معلومات تفصیلی انداز میں شیر کریں گروپ میں بھی اور عموما مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ کے لئے یہ سب انتہائی مفید اور کارآمد موضوع ہے.  برائے مہربانی اس پر مزید روشنی ڈالیں کیونکہ عام طور پر یہ مزاج بنا ہوا ہے کہ داخل ملک طلبہ مدارس کے لئے ترقی کے  راستے محدود ہیں. جبکہ حقیقت میں یہ صرف ایک وہم ہے. ان کے لیے آپ کے پاس کیا مشورے ہیں. ایک بار پھر شکریہ.
ج: سول سروسز مشکل ضرور ہے، لیکن کوئی ” راکٹ سائنس” نہیں ہے، نا ہی بہت بڑی چیز! عزم کر لیا ہے تو لگ جائیں، ان شاء اللہ کامیاب ہوں گے۔۔۔
شاید ابھی زیادہ تفصیل سے نہ بتا پاؤں، لیکن حکم ہوا ہے تو کچھ بنیادی چیزیں ساجھا کر رہا ہوں:
– سول سروسز میں کامیابی کے لئے اب انگریزی زبان پر مہارت ناگزیر ہو چکی ہے۔ اگر آپ ‘مینز’ کے مرحلے میں جوابات اردو یا دیگر کسی تسلیم شدہ زبان میں لکھنا چاہتے ہیں، تو کر سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں انگریزی میں لکھنے کی مہارت بہت ضروری نہیں ہے۔ لیکن، انگریزی زبان کا دقیق فہم بہر حال ضروری ہے، اخبارات، مجلات، کتابوں، دیگر مواد وغیرہ کو سمجھنے کے لئے۔
– انگریزی زبان میں آپ کے فہم کا رینج متنوع اور وسیع ہونا چاہئے تاکہ نصاب میں شامل مضامین و موضوعات کا ادراک ہو سکے۔
– سول سروسز کے تینوں مرحلوں میں سے پہلے مرحلے میں سائنس، ماحولیات، جغرافیہ، تاریخ، اقتصادیات، آئین و قانون، معلومات عامہ، بنیادی ریاضی، مینٹل آپٹی ٹیوڈ، تشریح بیانات، عبارت فہمی،  انگریزی فہمی وغیرہ وغیرہ کا امتحان لیا جاتا ہے۔ یہ آبجیکٹیو قسم کا ہوتا ہے۔ دوسرے مرحلہ میں، تاریخ،……. معلومات عامہ، دفاع، بین الاقوامی تعلقات،  بین الاقوامی ڈپلومیسی وغیرہ کا امتحان لیا جاتا ہے۔ یہ سبجیکٹیو ہوتا ہے۔ ایک اختیاری مضمون بھی ہوتا ہے۔ تیسرا مرحلہ انٹرویو کا ہے۔ اس میں آپ کی شخصیت پرکھی جاتی ہے۔۔۔
– سب سے پہلے سیلیبس دیکھ لیں۔ قوی و کمزور مضامین کا تعین کر لیں۔ پھر مناسب مواد کے سہارے تیاری شروع کیں۔
– این سی آر ٹی کی کتابوں سے شروعات کریں۔
– این سی آر ٹی کے بعد، پڑھی جانی والی کتابوں کا تعین کسی تجربہ کار اور اس میدان کے ماہر شخص سے شخصی طور پر مل کر کریں۔ مارکیٹ میں بہت زیادہ کتابیں دستیاب ہیں۔ بغیر مناسب رہنمائی کے، حیران و پریشان ہو جائیں گے اور نتیجہ بھی بہت حوصلہ افزا نہیں ہوگا۔۔۔
– سول سروسز کی تیاری پوری یکسوئی کے ساتھ کریں، لیکن متبادل منصوبہ بھی رکھیں اور اس کو بھی مناسب وقت دیں۔ اسی میں سب کچھ جھونک دینا سراسر حماقت ہے، اس لئے کہ سول سروسز میں کامیابی مختلف عوامل پر منحصر ہے۔
– بقیہ، تیاری شروع کر دینے اور اس میدان میں لگے ہوئے لوگوں کے ساتھ تعامل کے بعد،  بہت سی چیزیں خود بخود سمجھ میں آ جائیں گی اور آپ اپنی سمت خود متعین کر لیں گے۔۔۔
نیک خواہشات کے ساتھ!

س: جامعہ سلفیہ کے فارغین میں مؤ کے حماد ظفر بھائی بھی ہیں….شمس بھائی آپ اگر ان کے بارے میں کچھ بتا سکیں…. تو ضرور شیر کریں…
ج: جی ہاں،  حماد بھائی جے این یو میں میرے بغل والے کمرہ میں رہتے تھے۔ ہم دونوں بے تکلف دوست ہیں۔ آج بھی رابطے میں ہیں۔ ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ہم دونوں اخبارات کا مطالعہ اور ان کے اہم موضوعات پر بحث و مباحثہ ساتھ میں کیا کرتے تھے۔
سول سروسز کے تعلق سے لکھتے ہوئے، ان کے بارے میں بہت سی باتیں ذہن میں تھیں۔ لیکن میں فی الحال زیادہ طوالت نہیں چاہتا ہوں۔پھر کبھی، ان شاء اللہ۔

س: مدارس کے طلبہ میں یونیورسٹی کی طرف جانے کا جو رجحان پچھلے کچھ سالوں میں بنا ہے اس کے بارے میں کیا رائے ہے آپ کی ؟
مسئلہ یہ ہے کہ مدراس کا بنیادی مقصد مسلم معاشروں کو علماء، محدّثین، فقہاء ،ائمہ فراہم کرنے تھا۔ ادھر یونیورسٹی سے فارغین کی دس فیصد بھی مسجد مدرسہ یا دعوت کے معروف میدانوں میں نہیں آرہے ۔ امّت کو اچھے علماء اور دعاۃ کی قلّت کا شدید سامنا ہے ۔
ج:
1- میرے خیال سے مدارس کے طلبہ میں یونیورسٹیوں کی طرف جانے کا رجحان خوش آئند ہے۔ میرے خیال کے پیچھے دو بنیادی اسباب ہیں:

ا- زیادہ سے زیادہ علم کا حصول:

علم کی موجودگی ہی کسی قوم کو ترقی یافتہ بناتی ہے اور اس کا عدم ہی کسی قوم کو زوال یافتہ بناتا ہے۔ مدارس کے بعد، یونیورسٹیاں ہی حصول تعلیم کا اگلا مرحلہ ہیں،  اس لئے مدارس کے طلبہ انہیں کی جانب رخ کرتے ہیں۔

ب- مدارس کے فارغین میں وسیع تر سماجیت کا فروغ:

اس سے میری مراد یہ ہے کہ مدارس میں کم و بیش ایک ہی قسم کا ماحول ہوتا ہے: ایک ہی مذہب، ایک ہی مسلک، ایک ہی زبان، ایک ہی لباس، ایک ہی طرز معاشرت وغیرہ وغیرہ۔ اس کی وجہ سے، مدارس کے طلبہ مذہبی، مسلکی، لسانی، تہذیبی وغیرہ اعتبارات سے ایک ‘محفوظ علاقہ’ میں رہتے ہیں، جہاں ان کی حالت موجودہ کو کوئی خاطر خواہ چیلنج نہیں ملتا ہے۔ اس کی وجہ سے، ان کی دنیا باہر کی دنیا سے مختلف ہوتی ہے اور ان میں باہر کی دنیا کا سامنا کرنے کے لئے مناسب صلاحیتیں پروان نہیں چڑھ پاتی ہیں۔

یونیورسٹیوں میں جانے کے بعد، ماحول کی تعددیت انہیں قدم قدم پر چیلنج کرتی ہے اور وہ “تہذیبی صدمہ” کی زد میں ہوتے ہیں۔ اس “تہذیبی صدمہ” اور دیگر نظریاتی و عملی چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے وہ مختلف صلاحیتوں کو اپنے اندر پروان چڑھانے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی سطح پر اپنا تشخص برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی کامیاب ہو پاتے ہیں اور کبھی ناکام ہوجاتے ہیں۔۔۔

2- اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ مدارس کے طلبہ میں یونیورسٹیوں کی طرف جانے کا رجحان کیوں پیدا ہوا؟ اس کے دو خاص اسباب ہیں:

ا- معاشی صورتحال: مدارس کے فارغین ہوں یا غیر مدارس کے فارغین، ہر ایک کو ‘متوسط معیاری زندگی’ گزارنے کا حق ہے۔ اچھا کھانا، اچھا لباس، اچھی رہائش، اچھی صحت اور اچھی تعلیم ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ کیا ‘صرف مدارس’ کی تعلیم کی بنیاد پر ‘اکثر فارغین’ کو ایک ‘متوسط معیاری زندگی’ گزارنے کے سامان فراہم ہو جاتے ہیں؟ یہ سچ ہے کہ یونیورسٹیوں میں پڑھ لینے کے بعد بھی اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے، لیکن یونیورسٹیاں اس محاذ پر خصوصی توجہ دیتی ہیں اور ان کی پڑھائی تعلیمی امور کے ساتھ ساتھ معاشی امور پر بھی توجہ دیتی ہے۔ مزید برآں فارغین مدارس کے لئے،  یونیورسٹیاں مدارس کے بعد کا مرحلہ ہیں، اس لئے وہ اپنی حالت کی بہتری کے لئے اسی جانب رخ کرتے ہیں۔ اگر حقیقت میں یونیورسٹیوں میں جانے کے بعد وہ معاشی طور پر مستحکم ہوتے ہیں، تو کم از کم معاشی طور پر ‘تلاش راہ کا عمل’ رک جاتا ہے، اور اگر وہاں جانے کے بعد بھی وہ معاشی طور پر مستحکم نہیں ہو پاتے ہیں، تو ان کی تلاش جاری رہتی ہے۔۔۔بالکل انسانی جبلت کی طرح! آپ کے پاس دوبارہ وہ تبھی آئیں گے جب آپ ان کو ‘مناسب معاشی معاوضہ’ دیں گے، ورنہ اللہ کی زمین حلال کمائی کے دیگر طریقوں اور دین کی خدمت کے دیگر طریقوں دونوں کے لئے کشادہ ہے۔
ب- عزت نفس:

مساجد و مدارس میں عزت نفس کا خیال رکھنے کی طرف بہت کم توجہ ہوتی ہے۔ خود مساجد و مدارس کے ذمہ داران، علماء کرام کو ایک ‘فقیر ملازم’ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ بھارتی سلفی معاشرہ بھی انہیں فقراء و مساکین سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔۔۔آپ پیسہ بھی نہیں دو گے اور عزت بھی نہیں، تو کس کو پڑی ہے ‘گھن چکر’ بننے کی۔۔۔فی الحال جو لوگ مساجد و مدارس میں ہیں، وہ یا تو دین سے حد درجہ محبت رکھتے ہیں، اس لئے سب کچھ پی جاتے ہیں، یا پھر مجبوری میں وہاں پڑے ہیں، یا یہ دونوں عوامل ایک ساتھ پائے جاتے ہیں۔ کچھ بھی ہو، مساجد و مدارس میں جو علماء کرام ہیں وہ لائق تحسین ہیں اور حد درجہ اعزاز و اکرام کے مستحق ہیں۔ اس لئے کہ پیسہ اور عزت نفس کے بغیر صرف دین کی محبت کی خاطر سرگرم عمل رہنا بڑے دل گردے کا کام ہے،  إن ذلك لمن عزم الأمور!  میرا سلام!

اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یونیورسٹیوں میں پڑھ لینے کے بعد اور مساجد و مدارس کے علاوہ دیگر میدان عمل میں سرگرم ہونے کے بعد، ان کو عزت نفس مل پاتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں بھی “تلاش پیہم” کا وہی کلیہ منطبق ہوتا ہے جو معاشی صورتحال کے تعلق سے منطبق ہوتا ہے۔ عزت نفس کی خواہش ہر فرد کی طبیعت میں ودیعت ہے اور یہ اس کا بنیادی حق بھی ہے۔ ایک جگہ عزت نفس نہ مل جانے پر انسان،  تلاش کی استطاعت و وسائل مہیا ہونے کی شرط پر، دوسری جگہ اس کی تلاش کرتا ہے۔ اس کی یہ تلاش جاری رہتی ہے یہانتک کہ اسے عزت نفس مل جائے یا موت اس کو دبوچ لے۔ اس لئے پہلی جگہ پر عزت نفس نہ ملنے کی صورتحال کو دوسری جگہ بھی عزت نفس نہ ملنے کی صورتحال سے رد کرنا اور یہ توقع رکھنا کہ دوسری جگہ بھی عزت نفس نہ ملنے پر وہ پہلی جگہ پر لوٹ آئے گا اور عزت نفس کی پہلی صورتحال سے سمجھوتہ کر لے گا، سراسر نادانی اور انسانی طبیعت و نفسیات نہ سمجھ پانے کا نتیجہ ہے۔ اگر کوئی اس کو پہلی جگہ پر لانا چاہتا ہے تو اسے عزت نفس دینی پڑے گی۔۔۔دوسرا کوئی اختیار ہی نہیں ہے۔۔۔

ہاں، ایک بات اور! یہ کہنا کہ دین کی خاطر عزت نفس کی قربانی دے دینی چاہئے! اس سادگی پر مجھے کچھ زیادہ نہیں کہنا ہے۔ صرف یہ یاد رکھئے کہ حصول عزت نفس ایک بنیادی انسانی، قانونی اور اخلاقی حق ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بنیادی دینی حق بھی ہے۔ اس لئے، “دینی قلعہ” کا پاسبان ہونے کا دعوی کرتے ہوئے بھی آپ کسی کی عزت نفس کی قربانی چاہتے ہیں، تو آپ اپنے دعوی اور اس دعوی کی بنیاد پر دینی مطالبہ کی دینیت کی جانچ کر لیجئے۔ ایک بات اور! عزت نفس کا یہ مطالبہ آپ سے ہے، دیگر قوموں یا اعداء سے نہیں ہے کہ آپ قرون اولی کے واقعات کے سہارے خلط مبحث کا شکار ہو جائیں یا کریں اور/یا ‘جذباتی بلیک میل’ پر اتر آئیں!

3- اب آتے ہیں مدارس کے بنیادی مقصد کی طرف۔ یہ درست ہے کہ “مدارس کا بنیادی مقصد مسلم معاشروں کو علماء، محدثین، فقہاء، ائمہ فراہم کرنے کا تھا۔” الحمد للہ،  مدارس اب بھی یہ کام خوبی و خامی کے ساتھ کر ہی رہے ہیں۔ شاید مسئلہ یہ نہیں ہے کہ مدارس کے طلبہ یونیورسٹیوں کی راہ پکڑ رہے ہیں کیونکہ میرے خیال سے علماء کرام کی موجودہ تعداد ہی عددی طور پر مساجد و مدارس کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی ہے۔ اصل مسئلہ شاید یہ ہے کہ مدارس کے اچھے طلبہ یونیورسٹیوں کی طرف جا رہے ہیں جس کی وجہ سے معیار مجموعی طور پر گر رہا ہے۔

اچھے طلبہ یونیورسٹیوں کی طرف کیوں جا رہے ہیں، اس کے دو بنیادی اسباب میں اوپر بیان کر چکا ہوں۔ تیسرا سبب جو دونوں اسباب کی اقتصادی توجیہ ہے وہ یہ ہے: معاشرہ میں ‘مساجد و مدارس’ کی ضروریات سے زیادہ علماء کا ہونا۔ اس کی وجہ سے ‘لاء آف سپلائی اینڈ ڈیمانڈ’ اپنا کام کرتا ہے،  اور مساجد و مدارس میں موجود لوگوں کی موجودہ صورتحال اور دیگر لوگوں کی دیگر راہوں کو تلاش کرنے اور اختیار کرنے کا سبب بنتا ہے۔

اب رہا معاملہ امت کو اچھے علماء اور دعاۃ کی قلت کا، تو اس کا حل بہت آسان ہے۔ ہم کو صرف کام کرنے کا طریقہ بدلنے کی ضرورت ہے:

حقیقت یہ ہے کہ مدارس کے طلبہ کو یونیورسٹیوں کی جانب جانے سے نہیں روک سکتے ہیں اور نہ ہی ان کو روکنا مناسب ہے۔ کیوں نہیں روک سکتے ہیں؟  یہ آپ مجھ سے زیادہ اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ روکنا اس لئے مناسب نہیں ہے کیونکہ، اولا، علم کے حصول سے کسی کو بھی روکنا مناسب نہیں ہے؛ ثانیا، روکنا اس لئے بھی مناسب نہیں ہے کیونکہ اگر روکنا ہی تھا تو مدارس کا یونیورسٹیوں کے ساتھ الحاق اور مدارس کی اسناد کو یونیورسٹیوں سے تسلیم کروانے کا کیا مطلب ہے؟

اب آئیے کام کی بات کرتے ہیں:

بنیادی ذہنی تبدیلی:

مدارس سے یونیورسٹی چلے جانے والے طلبہ کو “اچھوت” نہ سمجھا جائے، انہیں اپنا ہی سمجھا جائے اور قوم کی تعمیر و ترقی میں ایک حصہ دار۔ یہ سوچ لے کر آگے بڑھئے اور کچھ کام کیجئے:

1- موجودہ دور میں مدارس کی “مذہبی یک رنگی” کو ایسی “مذہبی تعددیت” میں بدلنے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا، جہاں مختلف مذاہب کے لوگ بھی تعلیم حاصل کر سکیں، گوکہ کچھ مدارس کی ابتدائی تاریخ میں ایسی مثالیں ملتی ہیں۔ داخلہ اور/یا عمومی سلوک -تعلیم اور اس کے منھج کی بات نہیں ہو رہی ہے- کی سطح پر مسلکی اعتبار سے بھی ‘امتیازات’ روا رکھنے والے مدارس دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو اصولی طور پر ہی سہی اپنے یہاں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دے پائیں گے یا نہیں اور یہ اجازت عملی، مطلوب اور کارگر ہے یا نہیں، فی الحال اس پر بحث کرنا بے سود ہے۔۔۔

مدارس اپنی موجودہ مذہبی، مسلکی، لسانی اور معاشرتی شناخت برقرار رکھتے ہوئے بھی وسیع تر ماحول کو نظر میں رکھتے ہوئے کم از کم دو بنیادی کام کر سکتے ہیں:

ا- نصاب تعلیم میں دینی علوم کے ساتھ رائج الوقت زبان/زبانوں اور کم از کم سماجی و انسانیاتی علوم کے لئے گنجائش نکالنی چاہئے۔ لیکن چونکہ یہ آج کا مطالبہ نہیں ہے اور اس کو جزئی یا کلی طور پر مدارس نے مانا اور نافذ بھی کیا ہے، اس لئے اس پر حد درجہ اصرار کئے بغیر، معاملہ کو ذمہ داران کی صوابدید پر چھوڑتے ہوئے اور حالت موجودہ کو حقیقت تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہوں۔

ب- مدارس جائز حدود میں رہتے ہوئے اپنے طلبہ کو مختلف پروگراموں کی مدد سے باہر کی بدلتی دنیا سے روشناس کرا سکتے ہیں۔ دینی، سماجی، سیاسی، ثقافتی اور تہذیبی سطح پر دنیا میں وقوع پذیر ہو رہی تبدیلیوں سے روشناس اور عملی نہ سہی کم از کم نظریاتی سطح پر ان کے ساتھ طریقہ تعامل سے واقف طلبہ یونیورسٹیوں یا دیگر مختلف ماحول میں جاکر کم از کم نظریاتی سطح پر “تہذیبی صدمہ” سے دوچار نہیں ہوں گے، تشنجاتی اور غیر منظم رد عمل پیش نہیں کریں گے اور نہ ہی ماحول سے مبہوت ہو کر اس کے دھارے میں بہیں گے۔ کہنے کو تو یہاں بھی کوئی کہہ سکتا ہے کہ موجودہ ماحول کو پیش نظر  رکھتے ہوئے مدارس میں طلبہ کی نظریاتی ذہن سازی کی جاتی ہے۔ میں بھی مانتا ہوں کہ کم و بیش یہ کام ہوتا ہے۔۔۔لیکن اس نظریاتی ذہن سازی اور میری مجوزہ ذہن سازی میں فرق ہے۔ فی الحال مدارس میں ذہن سازی کا سارا دارومدار صرف ‘تقبیح نظریات’ کے پہلو پر ہوتا ہے، ‘تقبیح نظریات’ کے بعد کے مرحلہ پر نہیں۔ یہ آدھا ادھورا عمل ہمیں فائدہ کے بجائے نقصان پہونچا رہا ہے، کیونکہ اس کے نتیجہ میں طلبہ کے ذہن میں صرف یہ پیغام بیٹھتا ہے کہ فلاں فلاں نظریہ اور اس کے حاملین سے دور رہنا ہے۔ یہ طریقہ عمل زیادہ سے زیادہ دفاعی ہے اور اس کا سہارا پہلے باطل نظریات اسلام اور مسلمانوں سے بچنے کے لئے لیتی تھیں۔ ہم کب سے شعوری یا لاشعوری طور پر باطل نظریات کے ہتھکنڈے اپنانے لگے، شاید اس کی تعیین کے ساتھ ہی ہمارے زوال کے شروعات کی تعیین ہو جائے گی۔

قصہ مختصر یہ کہ ہماری ذہن سازی دفاعی نہیں ہجومی، اثر پذیری نہیں اثر اندازی اور بے اعتمادی نہیں خود اعتمادی کی بنیادوں پر مرتب ہونی چاہئے، کیونکہ دشمن کو اپنے گھر میں لڑنے دینے والا کچھ نہ کچھ نقصان ضرور اٹھاتا ہے۔۔۔

1- یونیورسٹیوں میں چلے جانے والے طلبہ کو مدارس سے جوڑے رکھنے کے لئے انتظامات کئے جائیں، بدلتے ماحول میں ان کی رہنمائی کی جائے اور مدارس کے بنیادی مقاصد کے تئیں ان کو وفادار بنائے رکھا جائے۔

2- یونیورسٹیوں سے فارغ ہونے کے بعد ان کی خدمات حاصل کی جائیں۔ اس کے لئے، مناسب معاشی معاوضے دئے جائیں اور عزت نفس کا خیال رکھا جائے۔ اس سے کم از کم تین انقلابی تبدیلیاں پیدا ہوں گی:

ا- مساجد و مدارس میں پہلے سے موجود لوگ بھی معاشی و نفسیاتی طور پر مضبوط ہوں گے.

ب- مدارس و یونیورسٹیوں اور ان کے طلبہ و اساتذہ کے درمیان مثبت تعلقات پیدا ہوں گے اور فائدہ مند تعلیمی لین دین کی فضا قائم ہوگی۔

ج- قوم کا دماغی سرمایہ کلی طور پر قوم ہی کے پاس رہے گا۔ ہمارے پاس اس کی ایک روشن مثال ہے۔۔۔ وہ نیر تاباں جس کا نام تھا مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ۔ آپ نے جامعہ سلفیہ کی خدمت کرنے کے لئے یونیورسٹی کی ملازمت کو ٹھوکر مار دی تھی۔۔۔۔انہوں نے کیا خدمات انجام دیں؟  یہ بھی بتانا پڑے گا؟

4- مدارس کے جو فارغین یونیورسٹیوں سے فراغت حاصل کرنے کے بعد بھی مساجد و مدارس میں نہ آکر عصری میدان میں چلے جائیں، ان کو بھی اپنا سمجھا جائے اور ان سے کام لینے کے طریقے تلاش کئے جائیں۔ وہ بھی ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں۔ وہ جس میدان میں رہیں گے مدارس کی چھاپ لے کر جائیں گے اور اپنے ماحول پر اثر انداز ہوں گے۔

5- قوم کو علماء، محدثین، فقہاء وغیرہ کے ساتھ دینی و ملی شعور رکھنے والے قائدین کی بھی ضرورت ہے۔ مدارس و یونیورسٹیوں کے یہ فارغین یہ کام اچھی طرح کر سکتے ہیں۔ مدارس کو ان سے استفادہ کرنے کے مواقع تلاش کرنے چاہئے اور تعلقات کی ڈوری کو بدگمانی کی بنیاد پر توڑنا نہیں چاہئے۔۔۔اگر وہ بہک بھی جائیں تو ان کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے، جو تعلقات کے استوار رہنے پر ہی ممکن ہے۔

6- دعوت و تبلیغ ایک مقدس فریضہ اور ایک وسیع عمل ہے جو سماج کے ہر چھوٹے بڑے پلیٹ فارم پر، شعوری یا لا شعوری ہر سطح پر، ہمہ وقت اور یہاں تک کہ بنا بولے ہوئے انجام دیا جا سکتا ہے۔ دعوت و تبلیغ کو صرف خطیبانہ و تحریرانہ میدانوں میں محدود کردینے والا نقطہ نظر حد درجہ تنگ نظری پر مبنی ہے۔ کردار اپنے تمام ناحیوں کے ساتھ سب سے کار آمد ذریعہ دعوت و تبلیغ ہے۔ دعوت و تبلیغ کے اس وسیع مفہوم پر نظر رہے گی، تو اس میدان میں تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی اور ہماری مجموعی اسٹریٹجی میں ایک دوسرے کے لئے مناسب و متکامل جزئی کردار کی تعیین آسان ہو جائے گی۔

آخر میں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ یہاں مساجد و مدارس کا ذکر مدارس کے فارغین کی اکثریت کے مکان عمل کے طور پر ہوا ہے اور عددی ضرورت کی تعیین مساجد و مدارس کو دھیان میں رکھ کر کی گئی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ مساجد و مدارس کے علاوہ بھی مدارس کے فارغین کے لئے عمل کے بہت سے میدان ہیں، جہاں ان کی تعداد بہت کم ہے،  لیکن فی الحال وہ میدان انتہائی قلیل اور غیر منظم ہیں۔ مساجد و مدارس میں تعداد کی کثرت اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل، اور مساجد و مدارس کے علاوہ دیگر میدانوں میں تعداد کی قلت اور اس کی وجہ سے مساجد و مدارس پر بڑھتے بوجھ کی ایک توجیہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ فی الحال مدارس میں ہماری تعلیم کا محور مساجد و مدارس کے لئے ‘عاملین’ (قائدین نہیں) کی تیاری ہے۔ اس کی وجہ سے مدارس کی موجودہ تعلیم موجودہ مساجد و مدارس کی بار آور تشکیل نو اور ان کے علاوہ دیگر میدانوں کی فائدہ مند کثرت و تنظیم کے لئے درکار صلاحیتیں پیدا کرنے کے لئے ناکافی ہے۔
اس لئے اگر صرف مدارس کے فارغین ہی سے کام لینا ہے اور مدارس کے فارغین کو موجود و ضروری لیکن کم توجہ پانے والے میدانوں میں لگا کر یونیورسٹیوں میں جانے سے روکنا ہے، تو مدارس کی سطح پر ہی ان میدانوں کے لئے مطلوب صلاحیتوں کی افزائش و نمو کی طرف دھیان پڑے گا، نیز مدارس کے فارغین کی مناسب معاشی و نفسیاتی ضرورتوں کو پورا کرنا پڑے گا۔ اور اگر یہ کام صرف مدارس کی سطح پر نہیں ہو پائے گا تو مدارس و یونیورسٹیوں دونوں سے فیضیاب مطلوبہ صلاحیت مند لوگوں کو ساتھ میں لینا ناگزیر ہے۔ شاید یہ دہرانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ان کو ساتھ میں لینے کے لئے ان کے مناسب مطالبات پر توجہ دینی پڑے گی۔ میرے خیال سے، آخر الذکر طریقہ زیادہ قابل عمل اور فائدہ مند ہے۔ لیکن اگر آپ کو اول الذکر طریقہ زیادہ بہتر لگ رہا ہے تو کر گزریں، اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو!

میں اپنی بات ختم کرتا ہوں ایک مختصر جملہ کے ساتھ، جو اس طویل گفتگو کا ما حصل ہے:
توافق ہی حل ہے….

آپ کے تبصرے

1 Comment on "شمس الرب سلفی"

avatar
newest oldest most voted
اسحاق ابراہیم
Guest
اسحاق ابراہیم

“نافع”