دوہرا نظریہ

عامرسہیل

 

بات گزشتہ برس 7 اکتوبر بروز سنیچر کی ہے، دوپہر گزر جانے کے بعد بی بی سی عربی، آر ٹی نیوز، الحیاة اور الجزیرہ نے ایک خبر شائع کی، میں چونک سا گیا، ایک لمحے کے لیے میں شک و تردد کے مرحلے میں رہا لیکن حقیقت سے کب تک نظریں چرائی جا سکتی ہیں، سوائے یقین کے کوئی چارہ نہ رہا – ترکی صدر نے شام  کے علاقے ادلب میں حکومت کے باغیوں کے خلاف روس کی حمایت سے ترکی فوج کی کارروائی کا اعلان کیا اور واضح کیا کہ روسی فوج ادلب کی حدود کے باہر کاروائی کرے گی اور ترکی فوج ادلب کے اندر رہے گی – اس خبر کے بعد ادلب کا جو حال ہوا وہ جگ ظاہر ہے، چند مہینوں کے بعد شام کے ایک دوسرے شہر پر قہر برسا اور شامی صدر نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ غوطہ کی اینٹ سے اینٹ بجادی تو دوسری جانب ترکی صدر نے “غصن الزيتون” کے نام سے الگ ملک کے خواہاں کردوں پر فوجی آپریشن چلایا اور ان کی آواز بند کرنے کی کوشش کی-
اگر دیکھا جائے تو اردگان اور بشار دونوں بغاوت کو کچلنے کی آڑ میں اپنے مفادات کی تکمیل میں مصروف ہیں اور انسانی خون پانی کی طرح بہا رہے ہیں، عجیب اتفاق یہ کہ دونوں روس کے اتحادی ہیں – اس اتحاد ہی کا کرشمہ ہے کہ اردگان نے شامی صدر بشار اسد کی حمایت میں اپنے فوجیوں کو شام میں اتار دیا اور ظلم و زبردستی پر قائم حکومت کی پوری مدد کی – اس حکومت کے قیام کا منظر مختصر انداز میں پیش خدمت ہے:
1970 میں موجودہ شامی صدر بشار الاسد کے والد حافظ الاسد نے نورالدین العطاشی اور یوسف زین کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا واضح ہو کہ حافظ الاسد کا تعلق نصیری(علوی)فرقے سے تھا، اقتدار ہاتھ میں آنے کے بعد سنی مسلمانوں پر ظلم اور جبر کے پہاڑ توڑے گئے، جولائی 2000 میں حافظ الاسد کی موت کے بعد اس کے بیٹے بشار الاسد نے حکومت سنبھالی اور ظلم کی موروثی داستانوں کو از سر نو دوہرانا شروع کیا، جس کے نتیجے میں عوام حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا، اسکولی طلبہ نے حکومت کے خلاف دیواروں پر نعرے لکھ دیے جن پر ایکشن لیتے ہوئے اسد حکومت نے مظاہرین پر ٹینک چڑھادیے اور طلبہ پر تشدد کیا گیا – اسی بیچ شام کو بشار کے مظالم سے نجات دلانے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی، اس کمیٹی نے “جبهة النصرة”کے نام سے اپنے آپ کو متعارف کیا، شامی حکومت عوام کو ظلم و جور کی چکی میں پیستی رہی اور مظاہرین بھی پیچھے ہٹنے کا نام نہیں لے رہے تھے یہاں تک کہ چند مہینے پہلے حلب کو توڑ پھوڑ دیا گیا، جابجا دیوراوں پر خون کے چھینٹے نظر آئے اور شہر جلتا رہا، حکومت مخالف افراد کے وجود کا جہاں بھی شائبہ ہوا اس شہر کو نشان زد کرکے فوجیوں کے حوالے کیا گیا جب اپنے دم پر بات نہ بنی تو اتحادیوں سے گفت و شنید کی گئی، روس اور ترکی نے بلا تردد حامی بھرلی پھر ترکی صدر نے میدان کارزار میں اترنے کا اعلان کیا اور یکے بعد دیگرے دو شامی شہروں کو خون سے نہلا دیا گیا-
ظاہر ہے کہ کوئی بھی باشعور انسان یہ کہہ سکتا ہے کہ کوئی بھی ملک اپنے داخلی و خارجی معاملات کا بذات خود ذمہ دار ہے، سربراہ مملکت کی صوابدید کے اعتبار سے ملکی سلامتی کے لیے کیے گئے اقدامات پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی ہے، جس طرح ملک کی سرحد کی حفاظت کے لیے بیرونی حملہ آوروں سے دو دو ہاتھ کرنا لازم ہے اسی طرح داخلی تحفظات کے لیے باغیوں سے بھی نپٹنا ضروری ہے.
یہاں تک تو بات ٹھیک ہے لیکن جب اسی نظریے کی تطبیق کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو سارے اخلاقی پہلو دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور دوہرا نظریہ اپنا اثر دکھانے لگتا ہے.
مملکت سعودی عرب نے جب اپنی سیاسی پالیسی اور امن کے پیش نظر اخوان اور حماس جیسی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیا اس کے بعد قطر کا بائیکاٹ ہوا تو ایک ٹولے کی جانب سے بہت واویلا مچا اور سعودیہ کے خلاف خوب زہر افشانی کی گئی جس میں آل سعود کو آل سلول، امریکہ و اسرائیل کے ایجنٹ جیسے القاب سے نوازا گیا، اسی تناظر میں ترکی صدر کو امیرالمؤمنین جیسے بھاری بھرکم خطاب دیا گیا – سوال یہ ہے کہ ترکی صدر کے بیان اور روس و ایران کی حمایت سے اہل ادلب و غوطہ پر ہونے والی کاروائی کو کیا نام دیا جائے گا اور ترکی صدر کو کس لقب سے یاد کیا جائے گا؟ واضح ہو کہ ترکی اور شامی فوج کی ملی جلی کاروائی کے نتیجے میں متعدد شہریوں کی موت ہوگئی جن میں بچے بھی شامل ہیں، یہ وہی بشار اسد ہے جو کھلے لفظوں میں اعتراف کرتا ہے کہ ہم اسرائیل سے حمایت یافتہ ہیں، روس میں بھی غیر مسلم حکومت ہے، غیر مسلموں کے تعاون سے اہل اسلام پر ظلم ڈھانے والی حکومت کا دفاع کیا معنی رکھتا ہے؟ یہاں آکر زبانیں خاموش کیوں ہوجاتی ہیں؟ قلم خشک کیوں ہوجاتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا صحیح جواب اس وقت تک نہیں دیا جاسکتا جب تک کہ دوہرے نظریے سے خود کو دور نہیں کرلیاجاتا – سعودی کے بارے میں کوئی بھی بات آتی ہے تو عموماً لوگ منفی نظریہ اپناتے ہوئے عیب جوئی میں لگ جاتے ہیں اس کے برخلاف تحریکیت کے پشت پناہ ممالک کے عیوب کو بھی رنگ و روغن چڑھاکر  نیکی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں-
شام و اسرائیل سے ہٹ کر اگر ترکی و اسرائیل کے تعلقات اور ان کے مابین ہونے والی خرید و فروخت کی بات کی جائے تو اس کے لیے الگ مضمون درکار ہے، جبکہ سعودیہ عربیہ نے ابھی تک اسرائیل کے وجود کو تسلیم ہی نہیں کیا ہے-
یہ دور ایسا ہے کہ بغیر آپسی تعلقات کے ممالک کا کام کاج چل ہی نہیں سکتا اسی لیے ممالک کی خارجہ پالیسیوں کو ان کے حکام کے لیے چھوڑ دیا جائے اور اگر رائے کا اظہار کرنا ہی ہو تو مثبت رویہ اپنایا جائے، اختلاف،حسد اور عصبیت عدل و انصاف کے لیے زہر ہیں جب ہم ان سے خود کو دور کر لیں گے تو ہم دوہرے نظریے سے خود بخود دور ہوجائیں گے-

آپ کے تبصرے

avatar