مولانا شمس الحق صاحب سلفی

ڈاکٹر محمد اسلم مبارکپوری

ولادت: ۹۱۵ ۱ء ــــــــــــــــ وفات: ۱۹۸۶ء

حضرت مولاناشمس الحق صاحب سلفی رحمہ اللہ کا شمار مشاہیر علماء اہل حدیث میں ہوتا ہے ۔ آپ ان اعاظم رجال میں سے ہیں جن کی تدریسی ، دعوتی اوراصلاحی خدمات نصف قرن پرمحیط ہیں ۔ آپ ایک اچھے مدرس ،با کمال مقررو داعی اوربذلہ سنج انسان تھے ۔ جامعہ سلفیہ(مرکزی دارالعلوم ) بنارس میں شعبہ افتاء کی نگرانی کے ساتھ شیخ الحدیث کے منصب جلیل پر فائز تھے ۔
آپ کی ولادت ۱۳۳۳ھ مطابق ۱۹۱۵ء میں اپنے آبائی وطن بہار کے ایک گاؤں بلکٹوا ضلع مدھوبنی میں ہوئی ۔ آپ کے والد مولانا رضاء اللہ صاحب علاقے کے جید علماء اور متمول افراد میں شمار کیے جاتے تھے ۔آپ نے اپنی اولاد کی ابتدائی تعلیم کے لیے گھرہی پر ایک استاد مقرر کر رکھا تھا ، جن سے مولانا شمس الحق صاحب نے قرآن مجید ، اردو اور فارسی کی کتابیں پڑھیں ۔جب سن شعور کو پہنچے تو علاقے کی مشہوردرس گاہ مدرسہ محمدیہ دیودھامیں داخلہ لیا ، جہاں مولانا عبد الوہاب دیودھاوی سے عربی پڑھنا لکھنا شروع کیا ۔ ایک مدت تک وہاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد دارالعلوم محمدیہ سلفیہ آرہ (سن تاسیس ۱۲۹۸ھ مطابق ۱۸۸۰ء)کے لیے رخت سفر باندھا ۔اس وقت احمدیہ سلفیہ میں مولانا علی اصغر چھپروی ، مولانا محمد اسحاق آروی(وفات ۱۳۶۹ھ)مولانا عبد الغفور جیراج پوری (وفات ۱۳۷۱ھ) اور مولانا محمد عثمان ازہری جیسے اجلہ علماء کرام کی مسند درس سجی ہوئی تھی ۔مولانا یہاں رہ کر دل جمعی کے ساتھ علوم نبویہ اور معارف شرعیہ کے حصول میں لگ گئے۔ اور ۱۳۵۵ھ مطابق ۱۹۳۶ء میں فارغ التحصیل ہوئے ۔ اس وقت مولانا کی عمر ۲۱/۲۲سال تھی ۔آپ کی تبحر علمی کے پیش نظر فراغت کے سال یہ شرف حاصل رہا کہ آپ نے دوران تعلیم تین ماہ (مارچ، اپریل اورمئی ۱۹۳۶ء) پڑھانے کا فريضہ بھی ادا کیا۔
دارالعلوم احمدیہ سلفیہ سے فراغت کے بعد مولاناکے دل میں یہ امنگ پیدا ہوئی کہ ملازمت کے بجائے آزادی کے ساتھ علاقے میں دینی اور تبلیغی کاموں میں جٹ جائیں ۔ اور تجارت کو ذریعہ معاش بنائیں ۔چنانچہ اسی منصوبے کے تحت ڈیڑھ سال تک گھر ہی پر قیام کیا اور اطراف واکناف میں دین اسلام کی اشاعت میں لگ گئے ۔ مگر طبیعت میں طلب علم کی کسک باقی تھی اس لیے۲۴ ربیع الاول ۱۳۵۶ھ مطابق ۴جولائی۱۹۳۷ء بروز یکشنبہ گھر سے روانہ ہوئے اور دہلی کا رخ کیا ۔ وہاں مسجد فتح پوری کے زیر اہتمام جاری مدرسے میں داخلہ امتحان دیا ۔ ضروری کاروائی کے بعد ۱۹ جولائی کو داخلہ ملا ۔ اس مدرسے میں طلبہ کو پنجاب یو نیورسٹی لاہور سے ’مولوی‘ اور’ فاضل‘ کے امتحان میں بیٹھنے کی تیاری کرائی جاتی تھی ۔ اس کا فائدہ آپ کو یہ ملا کہ ۱۹۳۸ء میں’ مولوی‘ اور ’فاضل ‘ کے امتحانات کو اچھے نمبروں سے پاس کیا ۔
قیام دہلی کے دوران اسی مدرسے میں مولانا سعید احمد صاحب اکبر آبادی ایڈیٹر برہان سے کسب فیض کیا ۔ ان کے سایہ عاطفت میں رہ کر عربی علوم وادب کی خوشہ چینی کی۔ اور عربی انشاء وترجمے کی مشق کی ۔آپ کی صلاحیت سے خوش ہو کر مولانا سعید احمد صاحب آپ سے حد درجہ محبت اور شفقت کیاکرتے تھے ۔
مولانا سعید احمد صاحب اکبر آبادی یہی وہ ادیب عصر ہیں جو اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اس وقت ہندوستان میں عربی کے تین ہی ادیب ہیں ، اور تینوں ہی اہل حدیث (۱) مولانا محمد سورتی (۲) مولانا عبد العزیز میمنی (۳) اور مولانا عبد المجید حریری بنارسی – رحمہم اللہ
دہلی سے واپسی کے بعد پھر دعوت وتبلیغ میں منہمک ہو گئے۔ اور اپنے بڑے بھائی مولانا عین الحق سلفی (وفات ۱۹۸۱ء ) کے ساتھ مل کر اپنی جائے ولادت سے قریب نیپال کے ترائی علاقوں میں دعوتی اور اصلاحی کاموں میں لگ گئے ۔یہ علاقہ اس زمانے میں اسلامی شعائر اور دینی احکام وارشادات سے بالکل نا آشنا تھا ۔ جہالت کی وجہ سے طرح طرح کی ہندوانہ رسم ورواج اور مشرکانہ اعمال وافعال میں ڈوبا ہواتھا ۔الغرض ان کی زندگی اسلام سے کوسوں دور تھی ۔ مسلم اور غیر مسلم کے درمیان نام کے علاوہ کوئی اورچیز وجہ امتیاز نہ تھی ۔ دونوں صاحبان کی دعوت وتبلیغ اور انتھک کوششوں سے یہاں کے حالات بدلنے لگے ۔ دن بدن تحسن کے آثار نمودار ہونے لگے ۔ اور طرز حیات کا نقشہ بدل گیا ۔ دینی شعائر سے انسیت ہوئی ۔ دعوت وتبلیغ کے ساتھ دینی مدارس کے قیام کی طرف توجہ دی ۔مکاتب کھولے اور مسجدیں تعمیر کرائیں ۔ دعوتی میدان میں مصائب وآلام سہے۔ بائیکاٹ ہوا اور مقدمات قائم ہوئے ۔ تحدیاں اور دھمکیاں دی گئیں ۔ مگر ان اللہ والوں نے خندہ پیشانی سے سب کچھ برداشت کیا ۔ اور اپنے کام میں لگے رہے ۔ ابھی مختصر مدت ہی گذری تھی کہ اللہ تعالی کے فضل خاص سے لوگوں کی عداوتیں الفتوں میں بدل گئیں ۔ کدورتیں چھٹ گئیں ۔ اور دل آپس میں بھائی بھائی بن گئے ۔
دعوت وتبلیغ کے علاوہ دارالعلوم احمدیہ سلفیہ میں پہلی مرتبہ مسلسل پانچ سال تک تدریسی فرائض بھی انجام دیا۔اس کے بعد ۱۳۶۵ھ مطابق ۱۹۴۶ء میں مولانا محمد عفان سلفی صاحب کی دعوت پر مدرسہ نجم الہدی آم تلہ ضلع مرشدآباد (بنگال) میں تدریس کے لیے رخت سفر باندھا ۔ یہاں دس سال گزارنے کے بعد ۱۳۷۵ھ مطابق ۱۹۵۶ء میں مرشدآباد کے مو ضع صالح ڈانگر میں واقع مدرسہ اسلامیہ میں خدمت تدریس پر مامور ہو گئے ۔ ان تمام جگہوں پر دعوت وتبلیغ کو اپنے معمولات میں شامل کیا ۔
۱۳۷۶ھ مطابق ۱۹۵۷ء میں مشرقی یوپی کی مشہور درس گاہ جامعہ فیض عام مئو ناتھ بھنجن میں تدریسی اور دعوتی خدمات کے لیے قدوم میمنت سے سرفراز کیا ۔ اوریہاں کی متعدد سر گرمیوں میں شریک و سہیم رہے ۔ اس عرصے میں آپ سے بے شمار طلبہ نے کسب فیض کیا ۔ تبلیغی اور دعوتی اجلاس میں شرکت کی وجہ سے مقبولیت انام حاصل ہوئی ۔ اور آپ کی شہرت وسمعت میں اضافہ ہوا ۔ جامعہ فیض عام میں مشیخت حدیث کے مسند پر رونق افروز ہونے کے ساتھ افتاء کاکام بھی آپ ہی کے ذمے رہا ۔چھوٹے بڑے کئی فتاوے مدلل تحریر کیے ۔ بعض زیور طبع سے آراستہ بھی ہوئے۔
جامعہ فیض عام میں تدریس کے دوران ۱۳۸۰ھ مطابق ۱۹۶۱ء میں پہلی مرتبہ حرمین شریفین کے دیدار سے مشرف ہوئے ۔ وہاں کے علماء اور فضلاء سے ملاقاتیں ہوئیں اور بعض مسائل میں تبادلہ خیال بھی ہوا ۔
اسی عرصے میں ۱۳۸۶ھ مطابق ۱۹۶۶ء میں آپ نے برادر مکرم مولانا عین الحق سلفی کے تعاون سے جنک پور( نیپال) میں ایک دینی ادارہ جامعہ سلفیہ شمس الہدی کی تاسیس کی ۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں آپ اور آپ کے برادر مکرم نے ایک مدت تک دعوت وتبلیغ میں اپنے شب وروز گزارے تھے۔ جامعہ فیض عام مئو میں دس سال کا طویل عرصہ گزارنے کے بعد وہاں سے مستعفی ہو کر اپنے وطن کی راہ لی ۔ اور مادر علمی دارالعلوم احمدیہ سلفیہ میں شیخ الحدیث کے منصب جلیل پر فائز ہوئے ۔ ڈیڑھ سال بعد یعنی۱۳۸۷ھ مطابق۱۹۶۸ء کانیا تعلیمی سال مدرسہ دارالحدیث بیل ڈانگہ ضلع مرشدآباد (بنگال) کی نذر ہوا۔
ان چھ مدارس میں خدمات انجام دینے کے بعد ۱۳۸۹ھ مطابق ۱۹۶۹ء میں جماعت اہل حدیث کی مرکزی درس گاہ جامعہ سلفیہ (مرکزی دارالعلوم )میں بحیثیت شیخ الحدیث تشریف لائے ۔ اور مسلسل چودہ سال تک درس وتدریس ، دعوت وتبلیغ سے منسلک رہے ۔بنارس کی سرزمین آپ کے لیے بڑی زرخیز ثابت ہوئی ۔بہت سے علاقوں کا دورہ کیا ۔اور حسب ضرورت وہاں اصلاح کا کام کیا ۔ بعض مقامات پر منکرین حدیث اور اہل بدعت سے مناظرہ بھی کیا ۔خصوصاً آخری دو سال دعوت وتبلیغ سے خوب وابستگی رہی ۔ اور یہی آپ کی خرابی صحت کا سبب بھی بنا ۔
جامعہ سلفیہ بنارس میں تدریس کے علاوہ فتوی نویسی یا فتاوی پر نظر ثانی اور ان کی تصدیق کا کام بھی ساتھ رہا جسے وہ دیگر اوقات میں انجام دیا کرتے تھے۔ جامعہ سلفیہ کے اولین مفتی جناب مولانا محمد ادریس آزاد رحمانی (وفات ۱۳۹۸ھ مطابق ۱۹۷۸ء)باقاعدہ آنے والے فتاوے کاکتاب وسنت کی روشنی میں جواب لکھا کرتے تھے ۔ اور مولانا شمس الحق صاحب اس پر نظر ثانی اور اس کی توثیق وتائیدکرتے تھے ۔ اور کبھی کبھی وضاحتی اور اختلافی نوٹ لکھتے تھے ۔اس کے بر عکس ایسا بھی ہواہے کہ مولانا شمس الحق صاحب جواب دیتے تو مولانا آزاد صاحب اس پر نظر ثانی اور اس کی توثیق کرتے۔ اورحسب ضرورت وضاحتی یا اختلافی نوٹ لکھتے تا کہ عوام کے سامنے جو نوشت جائے وہ مدلل اور موثق ہو ۔ اختلافات سے بالا تر ہو۔ اور قلوب واذہان میں کسی الجھن کا باعث نہ بنے ۔ آپ کے سارے فتاوے دارالافتاء میں رجسٹروں میں محفوظ ہیں ۔آپ کے فتاوے نصوص شرعیہ سے مدلل ہوا کرتے تھے۔قرآن وحدیث سے مسائل کی تخریج اور استنباط پر قدرت حاصل تھی۔ فقہی اختلاف پر وسیع نگاہ رکھتے تھے۔ سوال کی اہمیت کے اعتبار سے جواب سلجھے ہوئے انداز میں مختصر اور کبھی طویل ہوا کرتے تھے ۔
تصنیف وتالیف کے میدان میں مولانا نے کوئی خاطرخواہ کام نہیں کیا ۔اگر چہ بعض مضامین ’الہدی‘ دربھنگہ اور جامعہ فیض عام مئوسے صادر ہونے والی میگزین میں شائع ہوئے ۔ آپ کا انتقال ۲۵ شوال ۱۴۰۶ھ مطابق ۳جولائی ۱۹۸۶ء کو بروز جمعرات، پونے تین بجے شام کے وقت دربھنگہ میں ہوا۔ وفات کے وقت ان کی عمر ستر سال سے متجاوز تھی ۔
دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کی بال بال مغفرت کرے ۔اوران متنوع خدمات کو قبول کرتے ہوئے ان کے صلے میں جنت الفردوس نصیب فرمائے ۔

آپ کے تبصرے

avatar