سلفیت اپنے مداحوں اور ناقدین کے نرغے میں

رفیق احمد رئیس سلفی

سلفی عقیدہ وعمل اپنی تعبیرات اور مظاہر کے اعتبار سے اس اسلام کی ترجمانی کا نام ہے جو قرون مشہود لہا کا اسلام ہے۔سلفیت نصوص کتاب وسنت سے تمسک کرتی ہے ،اس کی نظر میں شخصیات ورجال کی آراء اور اجتہادات قابل استفادہ تو ہیں لیکن فائنل اتھارٹی نہیں بلکہ ان پر نصوص کی روشنی میں غوروفکر کرنے کی پوری گنجایش ہے اور اگر کہیں یہ نظر آتا ہے کہ اقوال فقہاء وائمہ کتاب وسنت سے متعارض ہیں تو ان کو ترک کردینا ہی اولیٰ اور بہتر ہے۔
سلفی دعوت میں مکمل اسلام زیر بحث آتا ہے ۔ہنگامی نوعیت کے بعض وقتی مسائل اس کی ترجیحات میں ضرور شامل ہوجاتے ہیں لیکن وہی اس کا محور اور کل کائنات نہیں بنتے ۔خذما صفا ودع ماکدرکے اصول پر عمل کرتے ہوئے وہ جہاں اور جس مقام پرپہنچتی ہے،اس کے سارے سیاسی، معاشی، سماجی، تہذیبی اور ثقافتی نظام کو کالعدم نہیں قرار دیتی ہے بلکہ اس میں اصلاح کرتی ہے اور جو چیز اس کی نظر میں قابل قبول ہوتی ہے،اسے باقی رکھتی ہے اور جو اس کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں ہوتی ،اسے ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
سلفیت کائنات اور انسان کے اس مقصد تخلیق پر یقین وایمان رکھتی ہے جو اللہ نے قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے اور وہ یہ کہ یہاں انسان کو ہدایت وضلالت اختیار کرنے کی آزادی حاصل ہے،انسان ایک امتحان سے گزررہا ہے،حق کو واضح کیا جاچکا ہے ،انبیائے کرام خصوصاً آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہدایت ربانی سامنے آچکی ہے ۔اس دنیا میں جبر واکراہ نہیں ہے۔یہاں جو بھی شخص اچھا کرے گا ،اسے اچھا بدلہ ملے گا اور جو برا کرے گا،اپنے کیے کی سزا پائے گا۔داعیان اسلام کی ذمہ داری صرف حق کو کتاب وسنت میں بیان کردہ اصولوں کی روشنی میں اللہ کے بندوں تک پہنچادینا ہے، قبول حق کے لیے کسی طرح کا جبر کرنا قطعاً جائز نہیں ہے۔زور وزبردستی اس ابتلاء وامتحان کے منافی ہے جس میں انسان کو ڈالا گیا ہے ۔امتحان ہال میں بیٹھے ہوئے طالب علم کو جس طرح پرچۂ سوالات کو اپنی مرضی کے مطابق حل کرنے کی آزادی حاصل ہوتی ہے ،اسی طرح ایک انسان کو دنیا میں اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے ۔بغیر کسی شرعی جواز کے نہ کسی انسان کی آزادی سلب کی جاسکتی ہے اور نہ اس کی جان ،مال اور عزت پر ہاتھ ڈالا جاسکتا ہے۔انسان اور کائنات کے اس مقصد تخلیق کو پیش نظر رکھنا سلفیت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
سلفی فکر وعمل اپنے معاندین اور مخالفین کے ساتھ اصولی رویے اپناتا ہے۔ان کی درجہ بندی کرتا ہے اور ہر ایک کے ساتھ وہی سلوک کرتا ہے جو نصوص کتاب وسنت میں موجود ہے۔منکرین حق کے تعلق سے اس کا رویہ ان لوگوں سے کہیں مختلف ہوتا ہے جو حق کا اقرار کرنے کے باوجود اپنی باطل تاویلات کے ذریعے حق کو مشتبہ بناتے اور اس کی تبلیغ کرتے ہیں۔پہلے گروہ کو اگر وہ کافروں کی فہرست میں رکھتا ہے تو دوسرے گروہ کے خلاف کتاب وسنت اعمال وافکار کو بدعت وضلالت قرار دیتا ہے لیکن اس دوسرے گروہ کے سامنے وہ ایک داعی کی حیثیت سے سامنے آتا ہے اور حق کے سلسلے میں ان کے شکوک و شبہات کا ازالہ دلائل وبراہین کی روشنی میں کرتا ہے۔
سلفیت رد عمل کا شکار نہیں ہوتی اور نہ باطل کو زیر کرنے کے لیے باطل طریقے اپنانے کو جائز سمجھتی ہے ۔دین کے ہر مسئلے کو اس کے مقام پر رکھتی ہے اور اس کو وہی حیثیت دیتی ہے جو کتاب وسنت میں اسے دی گئی ہے۔کسی معاند یا مخالف کے ورغلانے سے وہ شرعی مسائل کو کھلونا نہیں بناتی۔ دینی مسائل میں فرض،سنت،مستحب اور مباح کی مکمل رعایت کرتی ہے ۔کسی کی ضد اور ہٹ دھرمی کو دیکھ کر طیش میں نہیں آتی اور نہ مسائل کی ترجیحات میں کسی قسم کی تبدیلی روا رکھتی ہے۔
سلفی عقیدہ وعمل اپنے مخالفین کے ساتھ مکمل انصاف کرنے کی پرزور وکالت کرتا ہے۔مخالفین کی تمام باتوں کو یکساں طور پر رد نہیں کرتا بلکہ ان کی مثبت اور صحیح باتوں کی تائید کرتا ہے اور ان کی درستگی کا اعتراف کرتا ہے ۔جن باتوں سے اسے اختلاف ہوتا ہے ،ان کے سلسلے میں وہ افہام وتفہیم کا رویہ اپناتا ہے اور جن باتوں سے اسے اختلاف نہیں ہوتا،ان میں وہ اپنے مخالفین کے شانہ بہ شانہ کھڑا رہتا ہے۔
یہ چند اصولی باتیں تھیں جو سلفی عقیدہ وعمل کے تعلق سے میرے اپنے تجزیے اور فکر ومطالعہ کا حاصل ہیں۔آیندہ سطور میں سلفی تحریک کا جو تجزیہ پیش کیا جارہا ہے ،وہ ان ہی اصولوں پر مبنی ہیں ۔مجھے اپنے اس مطالعہ پر اصرار نہیں ہے ،اگر کوئی صاحب نظر اس سے مختلف نقطۂ نظر رکھتا ہے تو اسے اپنا نقطۂ نظر بھی پیش کرنا چاہیے اور پھر اسے ان سوالات کا جواب دینا چاہیے جو آگے کے مباحث میں اٹھائے جارہے ہیں۔کیوں کہ اصل مسئلہ وہی سوالات ہیں جو اس وقت ہمارے لیے ایک چیلنج بن گئے ہیں اور عالمی سطح پر سلفیت موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔
یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ فکری موضوعات پر ہمارے اسکالرس بہت کم لکھتے بولتے ہیں اور دن بہ دن شبہات بڑھتے جارہے ہیں اور ہم پدرم سلطان بود کا نعرہ لگاکر اپنے بند کمروں میں اپنی پیٹھ تھپتھپالیتے ہیں۔یاد رکھئے!جس تاب ناک ماضی سے حال کی تاریکی دور نہ ہوسکے ،وہ ہمیں خواب غفلت سے کبھی بیدار نہیں کرسکتی۔حال پر گفتگو اور حال کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر صورت حال کا تجزیہ اور اس کا حل پیش کرنا زندہ قوموں کی علامت ہے۔ مردہ پرستی ہمیں صرف کاہل اور بزدل بناتی ہے جب کہ زندوں کی صلاحیتوں سے استفادہ ہمیں حرکت ونشاط سے ہم کنار کرتا ہے۔آج ہمارے بیشتر اسکالرس مستشرقین کی راہ پر چلتے ہوئے قبروں کے کتبے پڑھتے ہیں اور وفات یافتہ شخصیات پر سیمینار کرتے ہیں۔ذرا سوچیے!ممبئی کے بعض مخلصین نے مولانا داود راز رحمہ اللہ پر ایک ہزار صفحات کی دستاویزی کتاب شائع کردی جو کئی ایک اہل قلم کے مضامین ومقالات کا مجموعہ ہے ۔اس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا کے اندر کتنی صلاحیتیں تھیں اور وہ کس قدر تیز کام کرنے والے تھے لیکن اپنی زندگی میں ان کو سکون سے بیٹھنا نصیب نہیں ہوا۔اپنی زندگی کے بیشتر ماہ وسال انھوں نے مسجد کے ایک حجرے میں گزار دیے ۔ انھوں نے ایک ایک روپیہ جمع کرکے پارہ پارہ کرکے وہ ترجمہ وتشریح بخاری شائع کی جس کو آٹھ جلدوں میں آج ہمارے ناشرین شائع کرکے خوب پیسہ کمارہے ہیں لیکن دل میں یہ خیال کبھی نہیں آتا کہ جس باپ کی یہ محنت ہے ،اس کی اولاد کا بھی اس میں حصہ ہے ،ان کو بھی نفع میں شریک کرلیا جائے۔اگر مولانا کی طرف ان کی زندگی میں توجہ ہوجاتی،ان کی صلاحیتوں کا ادراک کرلیا جاتا اور جماعت کو ان کی صلاحیتوں سے متعارف کرادیا جاتا تو وہ اسی طرح صحیح مسلم کا ترجمہ وتشریح مکمل کرلیتے جس طرح انھوں نے صحیح بخاری کی کی ہے۔اسی طرح کئی ایک بڑے علمی کام ان کے ذریعے سامنے آجاتے ۔یہی حال ہماری جماعت کی تمام علمی شخصیات کا ہے ۔ہمیں زندگی میں ان کی قدر وقیمت کا اندازہ نہیں ہوتا یا ہوتا بھی ہے تو ہم معاصرانہ جہالت میں گرفتار ہوتے ہیں ،ان کے خلاف جتھے بناتے ہیں ،دوسروں کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات کو صحیح سمجھ لیتے ہیں اور جب شخصیات رخصت ہوجاتی ہیں اور ان کی فیض رسانی کا چشمہ خشک ہوجاتا ہے تو ہم اپنا قد بڑھانے کے لیے لاکھوں روپیہ صرف کرکے ان پر سیمینار کرتے اور ان کی شخصیت کو نمایاں کرتے ہیں۔ایک معاصر شخصیت نے اپنی کتب تذکرہ میں زندوں کا سوانحی خاکہ لکھ دیا تو ایک ’’مفکر‘‘نے ان کی گردن ناپ لی اور ان کی علمی شخصیت کو مجروح کرڈالا۔علم وتحقیق کے جس بازار میں مردہ فروشی کا کاروبار شباب پر ہو ،اس میں زندوں کی زندہ دلی کی قیمت کون لگائے گا؟
سلفی فکروعقیدہ پر ہماری یہ گفتگو برصغیر کے پس منظر میں ہے ،بعض بین الاقوامی مسائل وحالات بھی اس میں زیر بحث آگئے ہیں اور خاص طور پر سعودی عرب کے حوالے سے اس میں بعض باتیں زیر غور آئی ہیں کیوں کہ گزشتہ ایک صدی سے عالمی سلفیت نے سعودی عرب اور اس کے نظام حکومت کو اپنا آئیڈیل بنا رکھا ہے اور سلفیت کے مخالفین بھی سعودی عرب کو ٹارگیٹ کرتے ہوئے سلفی فکر کو اپنی گفتگو کا موضوع بناتے ہیں اور اس پر طرح طرح کے الزامات عائد کرتے ہیں۔اب جو سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان عبدالعزیز آل سعود کے ذریعے جدید اصلاحات کا سلسلہ شروع ہوا ہے ،اس نے سلفیت کو کئی ایک مسائل سے دوچار کردیا ہے۔اصحاب فضل وکمال کی صفوں میں بے چینی تو ہے لیکن زبان وقلم کو حرکت دینا خلاف مصلحت سمجھ لیا گیا ہے۔
بحث کا مرکزی نقطہ
ہماری گفتگو کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ آج کی سلفیت کتاب وسنت کی ترجمان نہیں بلکہ بہ زعم خویش’’ اپنے تاب ناک ماضی‘‘ کی بعض معروف شخصیات کے ذہنی تحفظات اور ان کی فقہی ترجیحات کی ترجمان بن چکی ہے۔ آج اسے اس سے کوئی مطلب نہیں کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے،اسلام اور اہل اسلام پر کیا گزررہی ہے اور اسلامی قوانین اور اسلامی تہذیب کو کس نوعیت کے خطرات لاحق ہیں۔قرآن کی وہ خاص اصطلاحات جو امت مسلمہ کے منصبی فرائض اور اس کے مقصد وجود کی تعیین کرتی ہیں،ان کو بعض نوتراشیدہ عقائد اور فقہی فروعات تک محدود کردیا گیا ہے ۔اسلامی عبادات کی روح اور اس کے بنیادی مقاصد جو کتاب وسنت میں زیر بحث آئے ہیں،ان سے کوئی سروکار نہیں لیکن ان کے ارد گرد جن متنازع فیہ مسائل کا ہالہ بنادیا گیا ہے ،ان پر اکھاڑوں میں کشتی جاری ہے۔آج ایک نمازی کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس کی نماز اسے اللہ سے قریب کرتی ہے یا نہیں اور وہ خود کو بے حیائیوں اور منکرات سے دور رکھنے میں کامیاب ہورہا ہے یا نہیں لیکن آمین ،رفع یدین،حالت قیام میں ہاتھ سینے پر رہیں یا زیر ناف ،ان پر اس کی پوری توجہ مرکوز ہوتی ہے اور جب بھی وہ نماز کے سلسلے میں کسی دوست سے محو گفتگو ہوتا ہے تو یہی جزئیات اس کی ترجیحات ہوتی ہیں۔اسی طرح اس کا روزہ اس کے اندر تقوی پیدا کرنے میں کامیاب ہورہا ہے یا نہیں ،اس پر وہ خاص توجہ نہیں دیتا لیکن افطار کب کیا جائے،نیت کیسے کی جائے ،تراویح کی رکعتیں بیس ہیں یا آٹھ ،ان پر اس کی معلومات کسی مدرسے کے مولوی سے کم نہیں۔زکوۃ ادا کرتے وقت حساب کتاب کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی ،اس کے مقاصد پیش نظر نہیں ہوتے۔یہ نہیں دیکھتا کہ زکوۃ کی ادائیگی سے مال کی محبت اور دنیا سے لگاؤ کم ہوا یا نہیں۔حج کا معامہ اور زیادہ سنگین ہے ۔دھوم دھام سے پھول مالا کے ساتھ حج پر روانہ ہونا ،وہاں سے واپسی پر شاندار استقبال ہونا اور درجہ بہ درجہ سب کو تحفے تحائف تقسیم کرنا ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ وہ اسلام کے ایک اہم رکن کی ادائیگی کے لیے نہیں بلکہ کسی پکنک یا غیر ملکی سفر پر برائے تفریح نکلا تھا۔دوران حج اسے یہ نظر نہیں آیا کہ کیا بات ہے کہ دنیا کے سارے مسلمان رنگ ونسل کی تفریق مٹاکر ایک ہی لباس میں کعبہ کا طواف کررہے ہیں،منی میں مقیم ہیں اور عرفات کے میدان میں گریہ وزاری کررہے ہیں۔واپس آکر وہ ذات برادری کی اسی جہالت میں گرفتار رہتا ہے جس میں وہ حج پر جانے سے پہلے گرفتار تھا ۔امتیاز من وتو کی وہ مزمن بیماری ابھی تک اس کے جسم وجان سے چمٹی ہوئی ہے ،جس میں وہ حج سے پہلے گرفتار تھا۔یہ کمال ہے ہماری مسلکی جنگوں کا جنھوں نے ہماری عبادات کی ترجیحات بدل دیں اور ہم ایک بے روح عبادت میں خود کو مصروف رکھے ہوئے ہیں۔ان عبادات کے جن فقہی فروعات پر ہماری دھینگا مشتی جاری ہے ،ذرا آپ دونوں فریقوں کے کردار وعمل کا موازنہ کریں ،کیا کوئی فرق نظر آتا ہے ۔جو آمین بالجہر کہتا ہے ،وہ بھی بہنوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیتا اور وہ بھی اپنی بہنوں کو وراثت سے محروم رکھے ہوئے ہے جو سختی کے ساتھ آمین بالسر کو آداب نماز کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ناراض ہونے کی بجائے آپ ذرا سنجیدگی سے غور کریں کہ کیا عبادات کی روح اور اس کے مقاصد کو کتاب وسنت میں بالا دستی حاصل ہے یا متاخرین فقہاء اور مسلکی ترجمانوں کی ان جزئیات کو فوقیت حاصل ہے جو آج ہماری مسلکی شناخت بن چکے ہیں۔کتاب وسنت کی ترجیحات کو بدل دینا سلفیت کی روح اور اس کے مزاج کے خلاف ہے۔
الٰہیات کے تراشیدہ لات ومنات
ایک سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ عقیدہ وفکر کے لحاظ سے آج بھی ان مباحث ومسائل پر گفتگو کی جاتی ہے جو کبھی ماضی میں زیر بحث آئے تھے اورجن کی وجہ سے امت کے عین عروج میں ملت کو کئی ایک مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔حالات بدل گئے ،اب کوئی ان مباحث کو نہیں چھیڑتا بلکہ ان کے مالہ وماعلیہ سے بھی واقف نہیں ،پھر بھی ان کو موضوع گفتگو بنایا جاتا ہے اور مخالفین کو نشانۂ تنقید بنایا جاتا ہے۔مولانا صفی الرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ نے الرحیق المختوم کے علاوہ منۃ المنعم کے نام سے صحیح مسلم کی ایک مختصر شرح بھی لکھی ہے جسے عبدالمالک مجاہد نے اپنے تجارتی ادارہ ’’دارالسلام ریاض‘‘سے شائع کیا ہے۔سعودی عرب کے کئی ایک عالموں نے دونوں کتابوں پر اپنے ملاحظات لکھے ہیں جو انٹرنیٹ پر موجود ہیں ۔ان معزز حضرات نے مولانا مبارک پوری کی اس پہلو سے گرفت فرمائی ہے کہ اپنی دونوں کتابوں میں انھوں نے عقیدہ کے بعض مباحث میں سلف کے منہج کی پیروی کرنے کی بجائے اشاعرہ اور ماتریدیہ کی ترجمانی کی ہے ۔عقیدہ کے باب میں ان کے ذریعے استعمال کیے گئے بعض الفاظ بھی منہج سلف کے خلاف ہیں۔
یہاں سوال یہ ہے کہ خلق قرآن کے مسئلے میں امام اہل سنہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے جو موقف اختیار کیا،اس کے برحق ہونے میں کسے کلام ہوسکتا ہے لیکن اس بحث سے جو دوسرے ذیلی مباحث پیدا ہوئے اور اس دور کے علماء نے اس کے تعلق سے جو موقف اپنایا ،وہ ایک وقتی مسئلہ تھا، اسے ہمیشہ کے لیے اسلامی عقیدہ وفکر کا بنیادی مسئلہ بنادینا اور پھر اس کی وجہ سے دور حاضرکے مصنفین کی تحریروں میں تاک جھانک کرنا اور اسے منہج سلف کے خلاف کہہ کر عوام کو گمراہ کرنا کہاں تک درست ہے جب کہ لکھنے والا لکھتے وقت ذرا بھی خیال نہیں کرتا کہ ہمارے ان الفاظ سے وہ مراد ہے جو معتزلہ،اشاعرہ یا ماتریدیہ مراد لیتے ہیں۔ قرآن کریم بلاغت ومعانی کا شاہکار ہے ۔اس میں ایک اچھے کلام کی تمام خوبیاں موجود ہیں۔اس کے ہر لفظ کے ظاہری معنی پر اصرار وہی دشواری پیدا کرے گا جو روزہ کے سلسلے میں وارد آیات میں خطوط ابیض اور خطوط اسود کے سلسلے میں ایک صحابی کے سامنے ظاہر ہوئی تھی ۔اسی طرح قرآن کی آیت:{من کان فی ھذہ اعمی فھو فی الآخرۃ اعمی }کے الفاظ کا ظاہری مفہوم آیت کی معنویت کھودے گا۔ یہی حال خدا،نماز اور روزہ وغیرہ الفاظ کے استعمال کا ہے جواللہ،صلوٰۃ اور صوم کے معنی میں یہ بہ کثرت استعمال کیے جاتے ہیں۔ان الفاظ کااستعمال کرنے والا ان کا کوئی دوسرا معنی بھی مراد نہیں لیتا ۔قرآن اور حدیث میں استعمال کیے جانے والے الفاظ کو ترجیح ضرور حاصل ہے لیکن اسلامی مفہوم کو ادا کرنے کے لیے دوسرے الفاظ کے استعمال کو عقیدہ سے جوڑدینا اور اسے منہج سلف کے خلاف کہنا سراسر زیادتی ہے اور ایسے لوگوں کے خلاف فتوی کی زبان استعمال کرنا ایک سنگین جرم ہے۔شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کے ترجمۂ قرآن میں لفظ خدا کا استعمال بڑی کثرت سے ملتا ہے ۔کیا کوئی سلفی عالم شیخ الاسلام کے خلاف فتوے کی زبان استعمال کرنے کی جرا ء ت کرسکتا ہے۔علمائے حنابلہ کے یہاں اس باب میں جو شدت ہے ،وہ امام احمد رحمہ اللہ کی تقلید کے نتیجے میں ہے ،سلفیت تو ہر قسم کی تقلید سے بے زاری کا اظہار کرتی ہے ۔کہیں ایسا تونہیں کہ سعودی عرب کے علمائے حنابلہ کے غیر مرئی اثرات ہم نے قبول کیے اور ان کی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے اس پوری بحث کو منہج سلف قرار دے ڈالا۔مجھے یاد ہے کہ ایک بڑے ادارے نے اپنے ایک استاذ کو مامور کیا کہ دور حاضر کی ایک مقبول عام اردوتفسیر میں صفات الٰہیہ کی کیا تفسیر وتشریح کی گئی ہے ،اس کو جمع کیا جائے اور پھر عربی میں منتقل کرکے سعودی علماء کی خدمت میں پیش کرکے یہ فتوی حاصل کیا جائے کہ یہ تفسیر منہج سلف کے خلاف ہے ،اس میں صفات الٰہیہ کی تاویلات کی گئی ہیں۔دینی اداروں اور تنظیموں میں منافرت اور مخاصمت کا یہ ایک ادنی نمونہ ہے ۔یہاں مقصد خدمت اسلام نہیں بلکہ ’’دست غیب ‘‘کی داد ودہش کی توجہ کو اپنی طرف موڑنا تھا۔اپنے اصولوں سے انحراف کرکے سلفیت زندہ کیسے رہ سکتی ہے لیکن اس کو کیا کیجیے کہ خود اس کے ترجمانوں نے اسے اس فرقہ پرستی اور مسلکی جنگ وجدال میں گھسیٹ لیا جس کی جڑوں پر تیشہ چلانا اس کا اولین ہدف تھا۔
فرقہ پرستی اور مسلکی حزبیت
فرقہ پرستی اور مسلکی حزبیت کتاب وسنت کی زبان میں قابل مذمت اور باعث ہلاکت ہے۔اس بیماری کے درآنے سے سماج مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔سماج کی دینی ترجیحات بدل جاتی ہیں،اپنی بے عملی اور بدعملی کوئی خوبصورت وجہ جواز تلاش کرلیتی ہے ،حق کی پاسداری اور اس کی وکالت کا جذبہ سرد پڑجاتا ہے ۔اپنے جتھے کی آنکھوں کی شہتیر بھی نظر نہیں آتی جب کہ دوسروں کی آنکھوں کے تنکے مناظرے کا موضوع بنتے ہیں۔شریعت کے فقہی احکام ومسائل کی ترتیب الٹ پلٹ جاتی ہے اور سب سے بڑی خرابی یہ کہ وقت اور حالات کی ضرورتوں کا احساس ختم ہوجاتا ہے اور ایسے مباحث دینی مجلسوں کو گرمانے لگتے ہیں جن سے اسلام کے دینی تقاضوں پر برف کی سلی پڑجاتی ہے۔ہندوستان کی دینی تاریخ پر جن حضرات کی نظر ہے،وہ اس سچائی سے واقف ہیں کہ جب مغل حکومت اپنی زندگی کی آخری سانس لے رہی تھی اور ایسٹ انڈیا کمپنی ایک ایک کرکے تمام مسلم حکمرانوں کو موت کی نیند سلا رہی تھی ،اس وقت دارالحکومت دہلی میں امکان نظیر کا مسئلہ چھڑا ہوا تھا،تقلید اور عدم تقلید کی جنگ ہورہی تھی اور اللہ جھوٹ بولنے پر قادر ہے یا نہیں ہے ،جیسے مسائل دینی حلقوں کو روحانی غذا فراہم کررہے تھے۔فرقہ پرستی اور مسلکی حزبیت کوئی جزئی مسئلہ نہیں بلکہ اسلام کے متوازی ایک دوسرا دین ہے جس کا اس کتاب وسنت سے کوئی تعلق نہیں جس سے تمسک اختیار کرنا سلفیت کی علامت وشناخت ہے۔آج یہ بحث لایعنی ہے کہ ابتدا کس نے کی اور اس کے پیچھے کون تھا؟سوال یہ ہے کہ ہماری بصیرت وبصارت کہاں چلی گئی تھی جب ہم دین کے اصل تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر ان شیطانی جالوں میں خود کو الجھائے ہوئے تھے۔ایسے نازک ترین دور میں ہمارے مدارس کے شیوخ الحدیث اور شیوخ التفسیر اپنے طلبہ کو اپنی فقہی ترجیحات پر دھواں دھار درس دے رہے تھے۔اس کے اثرات کتب حدیث کی بعض شرحوں میں آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔معاملات اور اخلاقیات سے متعلق احادیث کی تشریحات صرف غریب الفاظ کے معنی بتانے تک محدود ہیں جب کہ فقہی تنازعات سے متعلق احادیث کی تشریحات کئی کئی صفحات تک پھیلی ہوئی ہیں۔مغلوں کے زوال کے بعد جس مہیب تاریکی سے ہم دوچار ہوئے تھے ،ابھی تک اس سے باہر نہیں نکل سکے ہیں ۔آج جب کہ ملت اسلامیہ کے وجود اور اس کی تہذیب پر تلوار لٹک رہی ہے ،ہمارے واعظین اور شعلہ بیان مقررین اپنے جتھے کی ترجیحات بیان کرکے داد وتحسین حاصل کرنے اور گھنٹہ ومنٹ کو شمار کرکے اپنا معاوضہ وصول کرنے میں مصروف ہیں بلکہ برادرس اور سسٹرس کی ایک ایسی کھیپ وجود میں آگئی ہے جو اس غریب ملت سے دو چار گھنٹوں میں لاکھوں روپے اپنا اسٹیج سجانے اور روشنی کے انتظامات پر خرچ کررہی ہے۔ان کے موضوعات بھی ایسے ہوتے ہیں جن کا سیاست حاضرہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
گمراہ فرقوں کی سازشوں کا عدم ادراک
انگریزوں نے جس وقت ہندوستان کی سرزمین پر قدم رکھا،ان کے تھنک ٹینکس کو اندازہ ہوا کہ یہاں کی اسلامی فضا پر خانوادۂ ولی اللہ کا کنٹرول ہے ۔اس اعتبار واستناد کو نقصان پہنچانے اور اس متحدہ دینی پلیٹ فارم کو سبوتاژ کرنے کے لیے انھوں نے کئی ایک وظیفہ خوار کھڑے کیے اور انھوں نے بعض ایسے مسائل دین کے عنوان سے ابھارے جن کا دین سے کوئی لینا دینا نہیں تھا اور جو وقت کی اقتضاء کے خلاف تھے ۔بعد کے سالوں میں قادیانیت،انکار حدیث اور رسول گرامی کی بشریت اور آپ کی برزخی حیات وغیرہ مسائل نے اندرون ملت خانہ جنگی تیز کردی اور ہندو مذہب کے کئی ایک نمایندے بھی اسلام،قرآن اور محمد (ﷺ)پر اپنی زبانیں دراز کرنے لگے۔تھوڑے عرصے کے لیے تحریک شہیدین نے گرتی ہوئی اسلامی تہذیب کو سنبھالا دینے کی کوشش کی لیکن وہ بھی سرحد کے افغانی سرداروں کی نیتوں کا قبل از وقت ادراک کرنے میں ناکام رہی اور سکھوں کے ہاتھوں اس کی قیادت میدان بالا کوٹ میں شہید ہوگئی۔کہنے کو باقیات تحریک شہیدین ۱۹۴۷ء تک گوریلا جنگوں میں مصروف عمل رہی لیکن اس کا کوئی ایسا نتیجہ سامنے نہیں آیا جو ہندوستان کی عظمت رفتہ کو واپس دلانے میں امید کی کرن ثابت ہو۔اس پہلی اسلامی تحریک کے اثرات کو مٹانے کے لیے وہابی اور غیر وہابی کا فتنہ کھڑا کیا گیا اور ایک ایسی جماعت کو انگریزی سرکار کا ایجنٹ بتایا گیا جو شاید پہلی بار ہندوستان میں تشکیل پائی تھی اور ایسے مخلص افراد اب شاید ہی دیکھنے کو مل سکیں۔تحریک کے دوسرے قائد شاہ اسماعیل شہید کی مشہور زمانہ کتاب’’تقویۃ الایمان‘‘کو موضوع بحث بنایا گیا اور ان کی طرف بعض غلط باتیں منسوب کی گئیں اور ان پر کفر کا فتوی لگایا گیا ۔فتوے میں یہ بھی ارشاد ہوا کہ جو ایسے لوگوں کو کافر نہ کہے وہ خود کافر ہے۔حیرت ہے کہ انگریزی حکومت کو مسلمانوں اور ہندوستانیوں کے ان مذہبی تنازعات سے خصوصی دل چسپی تھی اور کئی ایک عدالتوں میں ان کے تعلق سے مقدمات چل رہے تھے ۔بعض فقہی فروعی مسائل کی بنیاد پر لوگوں کو مساجد سے نکالا جارہا تھا اور کسی ایک خاص فقہی مکتب فکر کے فضائل ومناقب بیان کرکے اس سے وابستگی اختیار کرنے کو حصول جنت کی شاہ کلید بتایا جارہا تھا۔’’فتوحات اہل حدیث‘‘نام سے کتاب شائع کی گئی جس میں ان مقدمات کی تفصیل درج ہے جن میں مسلک اہل حدیث کو اہل سنت میں شمار کرکے مساجد میں اس سے وابستہ لوگوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی اور ان کی اقتدا میں نماز کو درست بتایا گیا۔
مرزا غلام احمد قادیانی کو انگریزوں نے استعمال کیا ۔اس نے مرحلہ وار کئی دعوے کیے اور آخر میں نبوت کا مدعی بن گیا۔ہماری بصیرت انگریزوں کی اس سازش کو سمجھ نہ سکی اور قادیان کی ایک گلی میں پیدا ہونے والا شخص آن واحد میں برصغیر میں مشہور ومعروف ہوگیا۔اس کی تکفیر پر علماء سے فتوے تیار کرائے گئے اور برصغیر میں اس کا خوب خوب پرچار کیا گیا۔مناظرہ اور مکالمہ کی گہما گہمی شروع ہوگئی اور انگریز سرکار کی نگرانی میں مناظروں کے نتائج طے کیے جانے لگے ۔قادیانیت آج بھی سرگرم عمل ہے اور ہماری ماضی کی جدوجہد کو آئینہ دکھارہی ہے۔مباہلہ وغیرہ کی روایت ہماری خوش فہمی ہے اور اپنی کامیابی کا جشن منانے کی ایک علامت،اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
انگریزی سرکار کے ایک وظیفہ خوار نے یہ نعرہ بلند کیا کہ تفہیم اسلام کے لیے صرف قرآن کافی ہے،حدیث کی کوئی ضرورت نہیں۔احادیث صرف ایک تاریخی سرمایہ ہیں،ان سے دین میں استناد درست نہیں۔اسلام کی پوری شریعت نئی تشریح وتاویل کی محتاج ہے اور اسے قرآن کی روشنی میں ازسر نوترتیب دینے کی ضرورت ہے۔یہاں بھی ہمیں اس تحریک کے منظر وپس منظر کا ادراک نہیں ہوسکا اور ہم اپنے ملک کے نازک ترین دور میں اس جال میں پھنس گئے اور تحریری وتقریری مناظروں کی ایک باڑھ سی آگئی۔فتنہ انکار حدیث کی سرکوبی کا ہمارے اپنے حلقوں میں خوب خوب چرچا ہے لیکن شاید ہمیں معلوم نہیں کہ اب اس نے دانش وری کا روپ دھارن کرلیا ہے اور ہمارے بڑے بڑے مسلم اسکالرس اس کے فکر وفہم کا شکار ہورہے ہیں۔
ذرا اندازہ کیجیے!کم وبیش ایک ہزار سالہ مسلم حکومت اپنی شناخت کھوبیٹھی تھی ،شرفاء ذلیل کیے جارہے تھے ،حکومتی نظام سے مسلمان ایک ایک کرکے بے دخل کیے جارہے تھے،معمولی شبہات پر جائیدادیں قرق کی جارہی تھیں اور بغاوت کے الزام میں پھانسی دینے کا سلسلہ جاری تھا ۔ملت کے اس عذاب کا درد محسوس کرنے اور اس سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کی بجائے ہمیں ان مذہبی تنازعات میں الجھا دیا گیا اور ہماری سادہ لوحی دیکھیے کہ ہم اعدائے اسلام کے لیے نرم چارہ بن گئے۔اس تاریخی تعذیب کی اذیت یہ کہہ کر آج کم کی جارہی ہے کہ ہماری جد وجہد کے نتیجے میں ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزادی ملی جب کہ دنیا کو معلوم ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد انگریزی حکومت کے اندر سکت نہیں رہ گئی تھی کہ وہ ہندوستان جیسے بڑے ملک کو اپنے زیر تسلط رکھ سکے اور اس نے یہاں سے اپنا بوریا بستر لپیٹ لینے میں ہی عافیت سمجھی لیکن جاتے جاتے ملک کی تقسیم کا ایک ایسا زخم دے گیا جو رستے رستے ناسور بن گیا ہے اور ملت کی جان ،مال، عزت آبرو ابھی تک داؤ پر لگی ہوئی ہے ۔کیا اس پورے عمل میں سلفیت کا کوئی کردار بنتا تھا اگر جواب اثبات میں ہے تو اس کی تفصیل کہاں ملے گی؟؟تقسیم کے مسئلے میں مختلف مسلکوں اور فرقوں کے علماء دو خانوں میں تقسیم ہوگئے ۔اپنے بیٹے کی شہادت اور ساری جائیداد کے تباہ ہوجانے کے بعد جب شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری سرگودھا پہنچے تو مولانا ابراہیم سیالکوٹی سے پوچھا:کیا یہی وہ پاکستان ہے جس کے لیے شب وروز آپ سرگرم عمل رہا کرتے تھے۔ہماری ملی تاریخ میں ایسا بھیانک وقت کبھی نہیں آیا جب علمائے اسلام کی جم غفیر میں ایک ایسا شخص ملت کی قیادت کررہا تھا جس نے زندگی میں کبھی ایک وقت کی نماز نہیں پڑھی تھی اور جس نے ممبئی کی عدالت میں ایک پارسی لڑکی سے اپنی شادی کے موقع پر کھڑے ہوکر یہ بیان دیا تھا کہ میرا اپنے آبائی مذہب سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔اپنے اپنے فرقوں اور مسلکوں کی ترجمانی کرتے کرتے علماء اپنی متفقہ شناخت کھوچکے تھے اور ان کی قیادت متنازعہ فیہ بن گئی تھی۔امتیاز من وتو کے دلدل میں ہم آج بھی دھنسے ہوئے ہیں اور اس سے نکلنے کی کوئی کوشش کہیں سے نظر نہیں آتی۔
سعودی عرب اور وہابیت کا شاخسانہ
برصغیر کی ہی نہیں بلکہ عالمی سلفی دعوت سعودی عرب کے آل سعود کی حکم رانی سے اظہار اطمینان کرتی رہی کیوں کہ اس نے قبرپرستی کا مکمل طور پر خاتمہ کردیا تھا جو آج کی دنیا میں شرک جلی کا سب سے نمایاں مظہر ہے۔جس دور میں آل سعود نے مقابر کو منہدم کیا ،ہندوستان میں ایک زلزلہ آگیا۔ فرقوں اور مسلکوں کے علماء جگہ جگہ جلسے کرکے آل سعود کی مذمت کرنے لگے ۔اسی طرح کا ایک جلسہ مولانا عبدالباری فرنگی محلی کی صدارت میں لکھنؤ میں ہورہا تھا ۔ایک نوجوان کو خطاب کی دعوت دی گئی ،اس نے جلسہ کے مقصد کے خلاف آل سعود کی حمایت میں تقریر کردی ۔مولانا فرنگی محلی نے تیز نظروں سے اسے دیکھا ،اس نے جواب میں کہا:جوتے کھانے کے لیے میرا سر حاضر ہے لیکن بات وہی درست ہے جو میں عرض کررہا ہوں۔
آل الشیخ اور آل سعود کی مشترکہ حکمرانی دوسری مسلم حکومتوں کے مقابلے میں بہت اچھی رہی ۔عوام میں خوش حالی آئی ،اللہ نے تیل کی دولت سے نوازا اور صحرانشینوں کو جسم وجان کو راحت پہنچانے والی ایر کنڈیشن کی فضا میسر آئی۔انھوں نے دنیا کے مسلمانوں کو اپنی رفاہی کاموں سے مستفید کیا اور دنیا بھر کے مسلم طلبہ کو اپنی جامعات میں داخلہ دے کر ان کے لیے وظائف جاری کیے ۔لیکن یہ سلسلہ زیادہ دنوں تک جاری نہیں رہ سکا ،جس مذہبی قید میں وہ اپنی عوام کو مقید کیے ہوئے تھے ،آہستہ آہستہ اس کی زنجیریں ایک ایک کرکے ٹوٹتی گئیں۔خود آل سعود کی نوجوان نسل جس نے امریکہ اور یورپ کی جامعات میں تعلیم حاصل کی تھی ،اسے اپنے یہاں وہی آزادی بھلی لگنے لگی جو وہ امریکہ اور یورپ میں دیکھ چکی تھی۔سیر وتفریح کے لیے اور اپنی چھٹیاں گزارنے کے لیے شاہی خاندان کے افراد بڑی تعداد میں یورپین ملکوں کا سفر کرتے رہے اور پھر شاہی گھرانے میں ایک ایسا طبقہ وجود میں آگیا جس نے حکومتی پروجیکٹوں میں کمیشن خوری کا سلسلہ شروع کردیا۔ادھر عراق میں صدام حسین کی وجہ سے امریکہ کا حلیف بننا پڑا اور بے پناہ دولت صرف ہوئی ۔یمن سے الجھنا پڑا جس میں ہتھیاروں کی کھیپ منگانے کے لیے سرکاری خزانے خالی کرنے پڑے۔تیل کی قیمت عالمی مارکیٹ میں ایک سو بیس ڈالر فی بیرل سے چالیس ڈالر فی بیرل ہوگئی اور پوری معیشت زمیں بوس ہوگئی۔محمد بن سلمان آل سعود نوجوان ہیں ،انھوں نے جراء ت دکھائی اور اپنے خاندان کے کمیشن خوروں کو جیل میں ڈال دیا تاکہ ان کی جمع کی ہوئی ناجائز رقم ہاتھ آسکے۔اس سلسلے میں انھیں کتنی کامیابی ملی ،اس تعلق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن جو دولت ناجائز طریقے سے کمائی جارہی تھی ،اس پر بند تو لگ ہی چکا ہے۔معاشیات کو سدھارنے کے لیے انھوں نے بازار کو مہنگا کیا، اشیائے خورد ونوش پہلے سے گراں کی گئیں اور ملکی وغیر ملکی سارے افراد پر خاص نوعیت کے ٹیکس لگائے گئے۔غیر ملکی ملازمین کا دباؤ کم کرنے کے لیے سعودی خواتین کو مختلف شعبوں میں ملازمت دی گئی تاکہ ملک کی دولت باہر نہ جائے۔مشاہدین کا خیال ہے کہ تعلیم یافتہ خواتین کی وجہ سے سارے آفس متحرک ہیں اور ان کے اس فیصلے کو بہ نظر تحسین دیکھا جارہا ہے۔خوش حال افراد کی خواہش کے مطابق ایک ایک کرکے وہ ساری تفریحات فراہم کی جارہی ہیں ،جن سے لطف اندوز ہونے کے لیے انھیں غیر ممالک کا سفر کرنا پڑتا تھا۔ان کی ان اصلاحات کی راہ میں لبرل طبقہ روڑا بنا تو انھوں نے کئی ایک آزاد خیال صحافیوں کو جیل میں بند کردیا اور جن روایتی علماء نے ان اصلاحات کے خلاف زبان کھولی ،وہ بھی حوالۂ زنداں کردیے گئے۔سعودی عرب کے بعض مخالفین کو امید ہے کہ اس سے اندرون ملک بغاوت ہوگی اور ملک میں جمہوری نظام قائم ہوگا۔لیکن بظاہر ایسا نظر نہیں آرہا ہے کیوں کہ زیادہ تر عوام ان اصلاحات سے خوش ہے اور وہ اپنے حکم راں کے ساتھ ساتھ ہے ۔اب دیکھنا صرف یہ باقی ہے کہ محمد بن سلمان آل سعود کی ان اصلاحات سے معاشی مسئلہ حل ہوتا ہے یا نہیں۔اگر معاشیات مستحکم ہوگئیں تو سعودی عرب مزید وسعت ذہنی کو کام میں لائے گا اوروہ ایک ماڈرن ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرے گا۔خواتین کی آزادی کا مسئلہ سب سے زیادہ زیر بحث آیا ہے لیکن یہاں سلفیت کی روایت پرستی عصری چیلنج کا جواب نہیں دے سکی۔سیدنا شعیب علیہ السلام کی بیٹیاں اگر اپنے جانوروں کو پانی پلانے کے لیے کنویں پر جاسکتی ہیں اور سیدنا زبیر کی اہلیہ محترمہ اگر اپنے کھجور کے باغ سے سر پر بوجھ لاد کر لاسکتی ہیں تو ایک مسلمان خاتون ملازمت کیوں نہیں کرسکتی۔قصہ مختصر یہ کہ سعودی عرب کی ان اصلاحات کو سلفی نقطۂ نظر سے دیکھنا ان اہل بصیرت کا کام ہے جو واقعی سلفیت کو سمجھتے ہیں ،جنھوں نے سلفیت کو اپنے روایتی علماء سے سمجھا ہے ،ان کے لیے یہ ایک امتحان کی گھڑی ہے ۔اگر وہ اس میں کامیاب ہوگئے تو اپنی سلفیت کو بچا سکیں گے ،ورنہ ان کی سلفیت زمیں بوس ہوجائے گی۔
ہم نے سلفی دعوت کو سعودی عرب کے نظام حکومت سے ہم آہنگ سمجھنے کی جو غلطی کی تھی ،آج اس کا احساس شدید سے شدید تر ہوتا جارہا ہے۔لکھنے بولنے کی آزادی سعودی عرب میں کبھی نہیں رہی،انسانی حقوق کی رعایت کم ہی کی جاتی رہی،قیدیوں کے حقوق ہمیشہ سلب کیے گئے اور اس کے عدالتی نظام میں سعودی وغیر سعودی کا امتیاز برتا گیا۔ہم نے ان مسائل پر کبھی سلفی دعوت کے حوالے سے گفتگو نہیں کی۔ایک بڑے عالم کو جیل سے رہا گیا تو انھوں نے بڑی حسرت سے کہا:آج پندرہ سالوں کے بعد آنکھوں سے آسمان دیکھا ہے ۔عزیز واقارب سے قیدیوں کو نہ ملنے دینا کون سا اسلام ہے ؟اسی طرح کسی قیدی کو اپنی صفائی میں کچھ کہنے کی اجازت نہ دینا انصاف کے کون سے تقاضے پورے کرتا ہے ۔ایک دوست جنھوں نے برسوں تک سعودی عرب کی ایک عدالت میں برصغیر کے ملزمین کی ترجمانی کی تھی،میرے سامنے ایک دوست نے ان سے درخواست کی کہ سعودی عرب کے عدالتی نظام پر ایک مقالہ تحریر فرمادیں تو انھوں نے صاف انکار کردیا اور یہ بتایا کہ ایک بے قصور شخص اپنے خلاف جج کا فیصلہ سن کر اپنی زبان میں بے تحاشا گالیاں بکنے لگتا ہے لیکن جج کو اپنے سعودی مالک کے خلاف قائل نہیں کرسکتا۔یہ تنقید نہیں بلکہ صورت حال کی واقعی تصویر ہے ۔بادشاہت میں یہ جبر چلتا ہے اور علماء کو بھی اجازت نہیں ہوتی کہ وہ خطبہ جمعہ زبانی ارشاد فرماسکیں۔عام علماء کو نہ سہی،آل شیخ کو تو اس کی اجازت ہونی چاہیے جو اسی نظام کا حصہ ہیں بلکہ قیام حکومت کے پہلے دن سے ان کے درمیان معاہدے ہیں۔
حرمین شریفین کے متولی کی حیثیت سے خادم الحرمین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کریں۔لیکن آج جب کہ ایک ایک کرکے مسلمان ممالک تباہ وبرباد کیے جارہے ہیں ،روس اور امریکہ اپنی جنگ شام میں لڑرہے ہیں،سعودی عرب نے اس حوالے سے اپنی کوئی ذمہ داری نہیں نبھائی۔ریلیف کے کام وقتی ہم دردی کے کام ہیں ،ہم کب تک ریلیف کا فريضہ انجام دیں گے ،یہ کوشش کیوں نہیں ہوتی کہ ریلیف کا کام کرنے کی نوبت نہ آئے۔بین الاقوامی ادارے ریلیف کے بہانے کیا گل کھلارہے ہیں،وہ بتانے کی ضرورت نہیں۔عالمی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ ملکوں کی عطیات وخیرات کی تقسیم پر مامور افراد جنسی جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں اور قحبہ خانے آباد کرتے ہیں اور ہم خون کے آنسو رو کر اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہیں لیکن کچھ کر نہیں سکتے۔
ہمارے بعض اخوان بڑی آسانی سے یہ بات کہہ جاتے ہیں کہ سعودی عرب نے سب کا ٹھیکہ نہیں لیا ہے لیکن شاید انھیں معلوم نہیں کہ حرمین شریفین مسلمانوں کا عالمی مرکز ہے اور دنیا کا ہر مظلوم مسلمان اپنے اس مرکز سے ہمدردی پانے کا مستحق ہے۔عالمی مسائل میں سعودی عرب کی خاموشی کیا معنی رکھتی ہے۔افریقہ میں کہیں عیسائیت فرقہ پرستی کا شکار ہوتی ہے تو سارے عیسائی ممالک اور ان کا مرکز اس کے لیے ہم آواز ہوتے ہیں۔ یہاں سوال سعودی عرب کا نہیں ہماری اپنی سلفیت کا ہے ،اس کی غیرت کو کیا ہوگیا ،وہ اگر کتاب وسنت سے تمسک کی دعوے دار ہے تو معروف کا حکم دینا اور منکر سے روکنااس کی منصبی ذمہ داری تھی ،اس نے اس کے لیے آواز کیوں نہیں اٹھائی۔کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے اپنی سلفیت کو سعودی عرب کا طفیلی بنادیا ہے اور اپنی علاحدہ شناخت کھودی ہے۔
عصری مسائل سے بے اعتنائی
معاصر دنیا طرح طرح کے مسائل سے دوچار ہے ۔فکروعمل کے تضادات اس قدر پیچیدہ ہیں کہ عام لوگوں کو صحیح موقف سمجھ میں ہی نہیں آتا۔ خواتین سمیت کئی ایک طبقات ظلم وستم کے سایے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔کمزوروں کا معاشی اور سماجی استحصال زوروں پر ہے ۔طاقت ور ممالک کی اجارہ داری کا حال یہ ہے کہ وہ دوسرے کمزور ممالک کو آزادی کے ساتھ جینے کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔کہیں مذہبی تصادم نے انسانیت کو ذلیل ورسوا کررکھا ہے تو کہیں تہذیبی تصادم نے معصوم انسانوں کو جنگ کی آگ میں جھونک دیا ہے۔اصول وضابطہ اور حق وانصاف کی بات کہنے کے لیے کوئی تیار نہیں۔حقوق انسانی کی خلاف ورزی مسلسل کی جارہی ہے۔مظلوموں کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔آخری دین کی حیثیت سے اسلام کا دعوی یہ ہے کہ وہ تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہے ۔اللہ کا دین اگر اللہ کے بندوں کے درمیان اٹھنے والے مسائل کو حل نہیں کرتا تو اس کی صداقت اور حقانیت پر سوالیہ نشان لگ جائے گا اور دنیا تاریکیوں میں ڈوب جائے گی۔اگر سلفیت اللہ کے سچے دین کی ترجمان ہے اور یقیناً ہے تو دنیا کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ معاصر دنیا کے ان سنگین مسائل کے سلسلے میں اس کا موقف کیا ہے اور وہ ان کو کیسے حل کرسکتی ہے۔
دنیا کے ان سنگین مسائل کو فرد نہیں بلکہ کوئی اجتماعیت دور کرسکتی ہے اور مسلکوں اور فرقوں میں منقسم امت صرف اپنے بل بوتے پر ان کو نہیں حل کرسکتی ہے بلکہ اسے ساری ملت کا تعاون درکار ہے۔بدقسمتی سے ہم سلفیوں کی تنظیم اس تعلق سے کوئی قدم اٹھانے میں بری طرح ناکام ہے۔بند کمروں میں قرار دادیں منظور کرکے چند ایک اخبارات میں شائع کرادینے کے علاوہ اس کا کوئی کام نہیں ہے۔بلکہ بعض حساس مسائل میں وہ وہی موقف اپنا لیتی ہے جو اعدائے اسلام کا ہے ۔اس کی نمایاں مثال دہشت گردی کا معاصر قضیہ ہے۔آج تک ایسا کوئی مکالمہ کرانے میں ہم ناکام ہیں جس میں یہ طے کیا جاسکے کہ دہشت گردی کی تعریف کیا ہے،کن واقعات وحادثات کو دہشت گردی کہیں گے اور کن کو معمول کا واقعہ۔جراثیمی ہتھیار کا الزام لگاکر چند ممالک ایک مسلم ملک کی اینٹ سے اینٹ بجادیتے ہیں اور جب ہتھیار نہیں ملتے تو یہ کہہ کر افسوس جتاتے ہیں کہ ہمیں غلط اطلاعات ملی تھیں۔لاکھوں مردوں،عورتوں اور بچوں کو خاک وخون میں تڑپا دیا گیا اور ایک ترقی یافتہ ملک کو پتھر کے عہد میں پہنچادیا گیا ،کوئی پوچھنے والا نہیں کہ اس ظلم وبربریت کا جواز کیا تھا۔کیا یہ دہشت گردی نہیں ہے ۔افغانستان،لیبیا اور شام کے معصوموں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی گئی ،کیا یہ دہشت گردی نہیں ہے۔ایک بھیڑ معصوم انسانوں کی جان لے لیتی ہے،کیا یہ دہشت گردی نہیں ہے۔ایک جنونی چند مسلمانوں کو دیکھ کر گولیاں برسانے لگتا ہے،کیا یہ دہشت گردی نہیں ہے۔قرآن مجید میں امت مسلمہ کے فرائض منصبی کی تعیین کرنے والی تمام آیات کو ذہن میں رکھیں اور تمسک بالکتاب والسنہ کی دعوے دار سلفیت سے پوچھیں کہ اس نے دہشت گردی کے حوالے سے کوئی اصولی موقف کیوں نہیں اپنایا ۔بین الاقوامی پلیٹ فارم پر کسی مکالمہ کا آغاز کیوں نہیں کیا گیا کہ دنیا کو پتا چلتا کہ اسلام کے سچے ترجمانوں کے شبہات واشکالات کیا ہیں۔جسم وجان کو ہلادینے والی مردہ سنتوں کو زندہ کریں کیوں کہ آپ کو تو یقین ہے کہ کسی مردہ سنت کا زندہ کرنے والا شہید کے برابر ثواب پاتا ہے ۔سنت صرف میٹھی اور آسان چیزوں کا نام نہیں بلکہ اس کے وسیع دائرے میں وہ تمام سنتیں بھی شامل ہیں جن پر عمل کرنے سے تختۂ دار پر کھینچ لیے جانے کا بھی امکان ہے۔
برصغیر میں ہماری اپنی بھی تنظیمیں ہیں ۔لیکن ان میں انتشار وخلفشار اس قدر ہے کہ اس کی ہر میقات بغیر کسی کام کاج کے ختم ہوجاتی ہے۔لے دے کر صرف ایک کام یہ رہ گیا ہے کہ ہر سال ایک عرس دھوم دھام سے کرلیں۔چھ ماہ اس کی تیاری میں لگے رہیں اور باقی چھ مہینے اس کی کامیابی کا جشن منانے میں گزار دیں۔تنظیم میں کاموں کی تقسیم نہیں،حساب کتاب میں شفافیت نہیں،ایمان دار اور سچے لوگوں کی کوئی قدر نہیں ،جی حضوریوں کی ایک فوج ہے جو اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے تنظیم کا استحصال کرتی ہے۔یہ تو سلفی علماء میں حدیث ورجال کے متخصصین بتائیں گے کہ نماز میں رفع یدین کی حدیث کا مقام زیاہ بلند ہے یا وہ حدیث زیادہ اہمیت رکھتی ہے جس میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ منصب طلب نہ کرو اور جو منصب طلب کرے ،آپ نے اسے منصب دینے سے منع فرمایا ہے۔قرآن کا یہ واضح حکم کہ امانتوں کو ان کے مستحقین کے حوالے کردو ،کس چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔تنظیم کے انتخاب کے لیے ہماری تمام بے اعتدالیاں تمسک بالکتاب والسنہ کے دعوے کی مکمل نفی کرتی ہیں۔
خواتین کے سلسلے میں عصر حاضر نے جو مسائل ابھارے ہیں ،ان کا تسلی بخش جواب دینے سے ہم قاصر ہیں۔طلاق ثلاثہ کا مسئلہ ہو یا ملعون حلالہ کی سنگینی،خلع کے سلسلے میں فقہاء کی پیدا کردہ الجھنیں ہوں یا میان بیوی کے حقوق وفرائض کی تقسیم ۔عورتوں کی آزادی کا دائرۂ کار ہو یا ان کی ملازمت کے مسائل۔دور حاضر کی سلفیت خواتین کے ان مسائل میں خاموش ہے ۔اجتہاد کا دروازہ کھلا رکھنے کا دعوی کرنے والی سلفیت روایتی رسوم ورواج کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔مسلمان مردوں کے ظلم وستم نے مظلوم خواتین کو عدالتوں تک پہنچادیا ہے اور اللہ کا وہ قانون موضوع بحث بن چکا ہے جو دنیا میں دکھی انسانیت کے لیے سراپا علاج تھا۔کم ازکم سلفی مساجد کے آس پاس تو کوئی مسلمان عورت اپنے شوہر کے ظلم وستم کا شکار نہ ہوتی لیکن شاید وہاں بھی ایسا نہیں ہے کیوں کہ عورتوں کے حقوق کی ادائیگی کا تعلق شاید تمسک بالکتاب والسنہ سے نہیں ہے کیوں کہ ہماری عوام نے فقہی تنازعات والے مسائل کو تو سمجھ لیا ہے لیکن متفق علیہ مسائل انھیں بتائے نہیں گئے یا بتائے تو گئے لیکن اسے سلفیت کا امتیاز نہیں قرار دیا گیا۔اس منفی اور رد عمل کی شکار دعوت کا پشتارہ کب تک اپنی پشت پر ہم لادے رہیں گے اور کب ہم مکمل کتاب وسنت کا پیغام لے کر دنیا کے سامنے آئیں گے۔

آپ کے تبصرے

2 Comments on "سلفیت اپنے مداحوں اور ناقدین کے نرغے میں"

avatar
newest oldest most voted
Abdul Rahman Siddiqui
Guest
Abdul Rahman Siddiqui

ماشااللہ ۔ تحریکی ذہن اود سلفی ذہن کی کشمکش پر بھی راے آتی تو بہتر ھوتا

عطا رحمانی
Guest

“معاملات اور اخلاقیات سے متعلق احادیث کی تشریحات صرف غریب الفاظ کے معنی بتانے تک محدود ہیں جب کہ فقہی تنازعات سے متعلق احادیث کی تشریحات کئی کئی صفحات تک پھیلی ہوئی ہیں۔”
بالکل مبنی بر حقیقت