قلم گوید کہ من شاہ جہانم

عبداللہ عین الحق

يہ ايک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر دور میں قلم اور قلم کار کی بڑی اہمیت و ضرورت رہی ہے، اللہ رب العالمین نے نزولِ وحی کی ابتدائی پانچ آیتوں میں لفظ “قلم” ذکر فرما کر اور ایک دوسری آیت: {ن والقلم و ما يسطرون} میں قلم کی قسم کھا کر اس کی اہمیت کو بخوبی اجاگر اور واضح کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان” …رفعت الأقلام وجفت الصحف” کی روشنی میں اسی قلم ہی کے ذریعے انسان کے مقدر میں پنہاں خیر وشر بھی لکھا گیا ہے، جس سے بھی نمایاں طور پر قلم کی اہمیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے اقوال وفرامین کو محفوظ رکھنے کی غرض سے ہمیشہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مستقل جماعت ہوا کرتی تھی، چنانچہ جب تدوین حدیث کا معاملہ سامنے آیا تو کاتبین حدیث اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلنے والے کلمات جمع کرنے والے اصحاب اسی قلم ہی سے احادیث کی ترتیب و تنقیح کا عمل انجام دیا کرتے تھے، بعد ازاں اس کا استعمال امراء و حکام اور ادباء وکتاب مختلف کاموں جیسے پیغام رسانی، خطوط نویسی، ادبی رسالے اور سماجی و دعوتی کاموں میں کرتے رہے ہیں.
اسی قلم کی طاقت اور اس کی تاثیر کا نتیجہ ہے کہ ہمارے سامنے اسلاف کرام کی مجاہدانہ قلمی کاوشوں و تحریری شہ پاروں کا واضح نمونہ کتابی اور تصنیفی شکل میں موجود ہے، اور ان شاء اللہ تا صبح قیامت باقی رہے گا۔
یہ قلم کوئی معمولی چیز نہیں، بلکہ دنیا کے تمام قیمتی جواہرت اور لعل و گوہر سے بھی زیادہ قیمتی شی ہے، کیونکہ یہ انسانی زندگی کے ہر ہر لمحے کو ضبط کرتا، اور انسانوں اور قوموں کی تقدیر اور تاریخ لکھا کرتا ہے.
بقول شاعر مشرق علامہ اقبال رحمہ اللہ:
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا؟ لوح وقلم تیرے ہیں!

بلاشبہ ہم پورے وثوق سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر یہ قلم نہ ہوتا تو قرآن و احادیث نبویہ کا اتنا عظیم ذخیرہ من وعن ہمارے درمیان محفوظ نہ ہوتا، اور اسلام کی گراں قدر تعلیمات صفحہ ہستی سے مٹادی جاتیں، اہل باطل اور فاسق حق کو باطل طریقے سے پیش کر کے دین حنیف کے رخ انور کو مکدر کر دیتے، اور اسلام اپنی تمام تر خصوصیات کے ساتھ شاید باقی نہ رہ پاتا، اس کی سطوت و صداقت کا اندازہ لگانا ہے تو ائمہ و فقہاء، حکماء و علماء اور مفکران و دانش وران کے اقوال سے لگایا جاسکتا ہے.
اس ضمن میں کسی مفکر کا یہ مشہور مقولہ “میں توپوں کی گھن گرج سے زیادہ قلم کی سرسراہٹ سے ڈرتا ہوں” قلم کی قوتِ تاثیر بتلانے کے لیے بہت کافی ہے.
حقیقت میں یہ قلم ایک انتہائی مضبوط ہتھیار ہے، نیز یہ اس کا کمال ہی ہے کہ وہ کسی بھی قوم کے عروج و زوال کی تاریخ، دین اسلام کی بکھری ہوئی تعلیمات، ملک و ملت کے الجھے ہوئے مسائل و مشکلات اور سماجی خوبیوں و خرابیوں کو عوام کے سامنے پیش کر دیتا ہے، الغرض اس کے ذریعے دنیا میں بادشاہت و سلطنت قائم کی جا سکتی ہے، مال و متاع سے دامن بھرا جا سکتا ہے، اور کوئی ملک اور قوم ادبار و انحطاط سے نکل کر اقبال و سربلندی حاصل کر سکتی ہے.
بقول شاعر:
قلم گوید کہ من شاہ جہانم
قلم کش را بدولت می رسانم!

دنیائے قلم و قرطاس کی سیاحت کرنے والا انسان بلا تامل ہمیشہ سے ہی قلم کی غیر معمولی اہمیت و افادیت کا اقرار و اعتراف کرتا ہے، لیکن پریشان کن مسئلہ اس کے غیر مناسب و بے ڈھنگے استعمال کا ہے، بالخصوص آج کے ہندوستانی ماحول میں اس کا صحیح و حق بجانب استخدام مشکل ترین اور پیچیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے، کتنے افسوس کی بات ہے کہ جہاں ایک طرف ملک کے ماہر و مشہور صحافی حضرات بھی اپنے مالی و مذہبی مفاد میں کھلے طور پر صحافت کے اصول و ضوابط کی پامالی کرتے نظر آتے ہیں، تو دوسری طرف بعض قلم کار اس کے ذریعے ملک و ملت اور سماج و سوسائٹی میں فسادات و نزاعات کی مسموم فضا قائم کرتے، اور کچھ محررین لوگوں میں مسلکی اختلافات کو ہوا دے کر مسلم قوم کو جماعتوں میں بانٹنے کی سعی مذموم کرتے رہتے ہیں۔اگر سلف صالحین کے حالات زندگی پر غور کیا جائے تو یہ بات طشت از بام ہو جاتی ہے کہ وہ قلمی طاقت کو فقط اظہارِ حق اور ابطالِ باطل نیز دین کی تقویت و اشاعت میں ہی صرف کرتے تھے، لیکن زمانے کی تبدیلی سے انسان کے سوچنے اور سمجھنے کے معیار و انداز میں فرق آتا گیا، اس کا استعمال گردش لیل و نہار کے ساتھ اسلاف کے طرز نگارش سے ہٹ کر کیا جانے لگا، اور یہ قلم جستہ جستہ اپنی اہمیت کھوتے کھوتے بد امنی و فساد کا جڑ بن گیا ہے.

ہمارے اسلاف عظام، خدام دین، محدثین، محققین، مصنفین اسی طرح جتنے بھی کتاب و محررین تھے، سب کا خالص مقصد اپنی اپنی قلمی طاقتوں سے اسلام کی خدمت کرنا تھا، وہ نوکِ قلم کو حرکت میں لانے سے قبل بعد ازیں حاصل ہونے والے مثبت و منفی نتائج پر غور کر لیتے، قلم کے حقوق اور اس کے تقاضے بجا لاتے، اور اس کا استعمال کبھی سطحی کاموں اور خلاف شرع معاملات میں نہیں کرتے تھے، الغرض وہ پوری دیانت داری سے قلم و قرطاس کی عظمت وتقدس کا پاس و لحاظ ہر حال میں ملحوظ خاطر رکھا کرتے تھے.

لیکن حیف در حیف!
آج قلم کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے، اس کے جملہ حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، پرنٹ میڈیا، الکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا میں قلم کو منفی تحریروں کی جانب موڑ کر اس کی عظمت کو مجروح کرنے کی ناپاک کوششیں ہو رہی ہیں.

کس کو نہیں معلوم؟ کہ قلم اور قلم کی سیاہی ایک صحافی، کاتب، محرر اور صاحب قلم کی ایک عظیم ذمہ داری ہے، اور اس کا صحیح استعمال ایمانی اور اخلاقی تقاضہ ہے!! ایک ایک لفظ اور ایک ایک جملے کا انتخاب غور وفکر کے کا متقاضی ہے، جس طرح کسی بھی سکہ کا دو رخ ہوتا ہے، ویسے ہی قلم کا بھی ہے؛ ایک مثبت، دوسرا منفی، اب یہ چیز کاتب کی امانت و صداقت پر منحصر ہے، اس لحاظ سے ہم قلم کار کو دو حصے میں منقسم کر سکتے ہیں؛
ایک مُصلِح قلم کار
دوسرا مُفسِد قلم کار!
مصلح قلم کار وہ ہوتے ہیں جو قلم کے مناسب استعمال کے ساتھ ساتھ کتابت کی پوری امانت و دیانت داری کا پاس و لحاظ کر کے سنجیدہ علمی باتیں کرتے ہیں، اس کے ذریعے کسی کی عزت و آبرو سے کھلواڑ نہیں کرتے، حق بات کو ثابت کرنے اور باطل کی تردید میں اخلاقی حدود کی پامالی نہیں کرتے، سوچ سمجھ کر قدم اٹھاتے ہوئے مدلل اور ٹھوس مباحثہ فرماتے، جذبات و احساسات میں نہ بہہ کر کسی کو ذرہ برابر تکلیف و اذیت نہیں پہنچاتے، لوگوں کو انسانیت کا سبق سکھاتے، تہذیب حاضر اور مغربی ثقافت سے نکال کر مشرقی کلچر سے واقف کراتے، اور فکری پاکیزگی و ذہنی شفافیت کا خوب مظاہرہ کر کے قوم و ملت اور سماج و معاشرہ میں اصلاحی و تعمیری شعبوں کو فروغ دیتے ہیں.
لیکن اس کے بر خلاف مفسد قلم کار وہ ہوتا ہے جو اپنی صلاحیت کا درست استعمال نہیں کرتا، بلکہ اس کے ذریعے عباد و بلاد میں تخریبی کام کرتا، سوشل میڈیا میں زہر افشانی، فتنہ پروری، ریشہ دوانی اور مختلف سیاسی جماعتی، تنظیمی اور ملی اجتماعیت کے خلاف ماحول تیار کرتا ہے، الغرض اس کی ذات سے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچنے کے بجائے ہمیشہ خسارہ اور نقصان کا سامنا ہوتا ہے.
اگر کسی کو اللہ رب العالمین نے قلمی صلاحیت سے نوازا ہے تو وہ فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے ڈھنگ سے استعمال میں لائے، اپنی فکری وسعت اور علمی برتری سے قوم وملت کو خوب فائدہ پہنچائے، اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے حصول میں اپنے قلم کی سیاہی حتی المقدور صرف کرے، لیکن اللہ کے واسطے اپنی بے ایمانی و بد دیانتی سے قلم کے تقدس کو داغ دار نہ کرے، اور نہ ہی اس کو خود غرضی، شہرت طلبی اور اظہار بڑکپن میں برباد کرے، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ ذہنی غلاظت اور فکری گندگی سے اپنے دامن کو پاک کر کے قلم کو حرکت دے، یہ قلم گرچہ ظاہری طور پر بہت معمولی سا نظر آتا ہے، لیکن اندرونی طور پر اتنا طاقت ور کہ ایٹم بم کی مانند ہے، وہ لمحوں میں قوم کے عروج و زوال کی تاریخ و داستان رقم کر سکتا ہے.

بلاشبہ لکھنا ایک مشکل فن ہے، اس کے لیے انسان کو مشق و ممارست کی ضرورت پڑتی ہے، اس سلسلے میں ماضی و حال کے علماء، ادباء، دانشورں، قلم کاروں و فلاسفر کی حالات زندگی لائق نصیحت ہے.
جارج سائیمینسن نے ایک انٹرویو میں کہا تھاـ” لکھنا ایک عام پیشہ نہیں ہے بلکہ ایک ناشاد پیشہ ہےـ میرے خیال سے ایک قلم کار کبھی مطمئن نہیں رہ سکتا”.
اس فن میں کامیابی آسانی سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے کئے بار ناکامی کے مراحل طے کرنے بعد کامیابی مل سکتی ہے.
نوبل انعام یافتہ ادیب گبرائیل گارشیا مارکیوز زندگی کے چالیس سال تک بطور قلم کار ناکام رہاـ وہ اپنے متعلق لکھتا ہےـ”میں نے سوچا کہ بطور قلم کار یا کسی کام کے لیے میں موزوں نہیں، جذباتی اور نفسیاتی طور پر یہ لمحات میرے لیے دو بھر تھےـ مجھے اپنے متعلق یہ خیال تھا کہ میرا کوئی وجود نہیں، میں فالتو اور بے کار ہوں کسی شمار وقطار میں نہیں، تب one hundred years of solitude نے میری زندگی کا رخ بدل دیا”اسی پر مصنف کو نوبل پرائز ملا تھا.
ایک تجربہ کار مفکر کے مطابق ۱۷ محنتی قلم کاروں میں اوسطا ایک قلم کار کامیابی سے ہم کنار ہوتا ہےـ برسوں کی محنت کے بعد اچانک اس کی کتاب قبول عام کی سند حاصل کرتی ہے.
ایک قلم کار کو متعدد اوصاف کا حامل ہونا چاہیے، وہ قوت ارادی، عزم مصمم، بلند حوصلہ، ناکامی پر صبر وتحمل، جہد مسلسل کا خوگراور وقت کا پابند انسان ہوں. یہی وجہ ہے کہ جب سے مجھے قلم اور اہل قلم سے محبت ہوئی ہے اس وقت سے میں قلم کاروں، مضمون نگاروں، صحافیوں،ادیبوں، دانشورں اور کاتبوں کی تحریریں بڑے ذوق و شوق سے پڑھتا ہوں، ان کے ذوقِ مطالعہ اور تحریر نویسی کا اسلوب سمجھنے کا مشغلہ بنا رکھا ہے اور ہمیشہ یہ کوشش کرتا ہوں ان سے کچھ سیکھ سکوں اور قلم کو صالح منصف اور عادل قاضی کا درجہ دے سکوں ـ میں نے آج تک قلم کو کسی کے خلاف اس کی عزت پر حملہ کرنے کے ارادے سے استعمال نہیں کیا، بس ٹوٹے پھوٹے جملوں میں حق بات کرنے، منہج سلف کی ڈگر پر چل کر جتنا بھی ہو سکا ہے اس نازک قلمی نوک کو اصلاح اور لوگوں کی خیر خواہی میں صرف کرنے کی کوشش ہی کرتا ہوں، اور ان شاءاللہ اسی نہج پر چل کر قلمی حقوق ادا کرتا رہوں گا.

ضرورت اس بات کی ہے کہ آج ہم عہد کریں کہ قلم کو اس کے مکمل آداب و تقاضے کے ساتھ حرکت دیں گے، اور اپنے دل و دماغ میں اس کی عظمت کو رکھتے ہوئے استعمال کریں گے، تاکہ ہم قوم و ملت کے سچے مصلح اور مفید خادم بن سکیں، اور حتی المقدور علمی کارناموں اور تحریری خدمات سے دین کی حفاظت و صیانت کی عظیم ذمہ داری اٹھا سکیں!

اللہ ہم سب کو حق کہنے اور قلم و قرطاس کو صحیح طور پر استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

1
آپ کے تبصرے

avatar
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
جمیل ذکی Recent comment authors
newest oldest most voted
جمیل ذکی
Guest
جمیل ذکی

ماشاءاللہ بہت خوب