جماعت صحابہ کا انتخاب

رفیق احمد رئیس سلفی

منہج سلف کی تشریح وتوضیح میں اقوال وآثار صحابہ کی خاص اہمیت ہے۔ اسلام کے کئی ایک معتقدات کی صحیح تصویرکشی اور اس کے کئی ایک فقہی مسائل و احکام کی عملی تطبیق کی تفہیم میں ان سے کافی مدد ملتی ہے۔ بسا اوقات نصوص کتاب وسنت کے حقیقی معنی کے استنباط میں ان سے استناد لازمی ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آخری نبی ﷺ کی مصاحبت کے لیے جن نفوس قدسیہ کا انتخاب فرمایا ، ان سے الگ ہوکر فہم دین کا دعوی کرنا ضلالت و گمراہی کے سوا کچھ نہیں۔ کتب احادیث میں محدثین کرام نے آثار صحابہ کو بھی جگہ دی ہے بلکہ بعض محدثین کے یہاں اس کا خصوصی اہتمام پایا جاتا ہے۔ ان اقوال وآثار کی صحت وضعف کو جانچنے کا پیمانہ وہی ہے جو احادیث نبویہ کا ہے ۔ کسی قول صحابی کی سند درست نہیں ہے تو اس سے استدلال کرنا درست نہیں ہوگا۔ بعض عرب اہل علم نے آثار صحابہ کی جمع وتدوین کا کام بھی موجودہ علمی تحقیقات کی روشنی میں کردیا ہے ۔ ہمیں اردو دنیا کو بھی اس سے مستفید کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اسی ضرورت کے تحت آثار واقوال صحابہ کا ایک سلسلہ یہاں شروع کیا جارہا ہے ، امید کہ قارئین کو پسند آئے گا اور ان کے علم میں اضافہ ہوگا۔ اس سلسلے میں مزید کچھ تجاویز ہوں تو ان سے مستفید ہونے کا ضرور موقع دیں۔ (رفیق احمد رئیس سلفی)

{1} عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال: إن اللہَ نَظَرَ فی قلوب العباد فوجَدَ قَلْبَ محمدٍ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیر قلوب العباد؛ فاصْطَفَاہُ لِنَفْسِہِ، فَابْتَعَثَہُ برسالتہ ثم نَظَرَ فی قلوب العباد بعد قَلْبِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَوَجَدَ قلوبَ أصحابہ خیرَ قلوب العباد؛ فَجَعَلَہُمْ وزرائَ نبیہ؛ یقاتلون علی دینِہِ؛ فما رآہُ المَسلمونَ حَسنًا فہو عند اللہِ حَسَنٌ، وما رَأَوْہُ سیئًا فہو عند اللہ سیِّئٌ.
’’سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ نے بندوں کے دلوں کی طرف نظر ڈالی تو اس نے محمد ﷺ کے دل کو تمام دلوں سے بہتر پایا، آپ کو اپنے لیے منتخب فرمایا اور اپنی رسالت کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا۔ اس کے بعد محمد ﷺ کے دل کے بعد دوسرے بندوں کے دلوں کی طرف نظر ڈالی تو آپ ﷺ کے اصحاب کے دلوں کو سب سے بہتر پایا اور پھر انھیں اپنے نبی کا وزیر بنادیا جو اس کے دین کے لیے جہاد کرتے ہیں۔ لہذا مسلمان جس کو اچھا سمجھیں وہ اچھا ہے اور جس کو وہ برا سمجھیں وہ برا ہے‘‘۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا شمار کبار صحابہ میں ہوتا ہے۔آپ ان خوش نصیبوں میں سے ایک ہیں جن کو اسلام قبول کرنے کاشرف ابتدائے اسلام ہی میں حاصل ہوا تھا۔ ترتیب کے لحاظ سے اسلام قبول کرنے میں ان کا چھٹا نمبر بتایا جاتا ہے۔ انھوں نے حبشہ کی طرف بھی ہجرت کی اورمدینہ کی طرف بھی ہجرت کے شرف سے مشرف ہوئے۔ غزوہ بدر میں نہ صرف شریک ہوئے بلکہ ایک روایت کے مطابق ابوجہل کو انھوں نے ہی قتل کیا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے ابوجہل کی تلوار انھیں عطا فرمائی تھی۔ امام ذہبی نے لکھا ہے کہ حضرات ابو موسی، ابو ہریرہ، ابن عباس، ابن عمر ، عمران بن حصین، جابر، انس اور ابو امامہ رضی اللہ عنہم نے ان سے حدیث روایت کی ہے ، اسی طرح تابعین میں ان سے حدیث روایت کرنے والے علقمہ ، اسود ، مسروق ، عبیدہ، ابو وائلہ ،قیس بن ابی حازم ، زر بن حبیش ، ربیع بن خثیم ، طارق بن شہاب ، زید بن وہب ، ان کے دونوں بیٹے ابو عبیدہ اور عبد الرحمن ، ابوا لاحوص عوف بن مالک اور ابو عمرو شیبانی وغیرہ ہیں۔ سیدنا عمر بن خطاب کے دور خلافت میں کوفہ کے قاضی اور بیت المال کے ناظم تھے۔ عمر کے آخری دور میں مدینہ منورہ واپس آگئے تھے اور وہیں عہد خلافت عثمانی میں آپ کی وفات ۳۲ ہجری میں ہوئی۔
اس اثر کی تخریج کئی ایک محدثین نے کی ہے اور اسے سند کے اعتبار سے حسن قرار دیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اثر سے کسی بات پر یا کسی دینی مسئلے پر استدلال کیا جاسکتا ہے اور وہ استدلال درست ہوگا۔
اس اثر سے معلوم ہوتا ہے کہ صفائی قلب کے اعتبار سے نبی اکرم ﷺ کا مقام سب سے بلند ہے اور یہ شہادت اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ کے بعد صفائی قلب کے لحاظ سے صحابہ کرام کا مقام ہے ، یہ شہادت بھی اللہ تعالیٰ کی ہے جسے چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انسان کے جسم میں دل ہی وہ عضو ہے جو نیت اور ارادوں کی جگہ ہے۔ دل ہی سوچتا اور اعضاء وجوارح کو حرکت میں لاتا ہے۔ اگر یہ درست ہے تو سب کچھ درست ہے اور اگر اس میں خرابی آجائے تو حرکت ونشاط کی تمام سرگرمیاں صفر کے درجے میں پہنچ جاتی ہیں۔ دل کی پاکیزگی اور طہارت میں نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
ایک سوال یہاں پیدا ہوتا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات اس قدر وثوق اور اعتماد سے کیوں کر فرمائی۔ صاحب وحی تو نبی اکرم ﷺ تھے ؟ اس کا جواب یہ دیا جاسکتا ہے کہ صحبت نبوی سے فیض یاب ہونے اور مدح صحابہ میں نازل ہونے والی قرآنی آیات نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اندر یہ بصیرت پیدا کردی تھی کہ انھوں نے اتنی بڑی اور اہمیت کی حامل بات بیان فرمائی۔ بھلا صحابہ کرام سے زیادہ مزاج شناس رسول اور مزاج شناس اسلام کون ہوسکتا ہے۔اس بات کا بھی امکان ہے کہ انھوں نے اس طرح کی کوئی بات خود زبان رسالت سے سنی ہو اور اسے اپنے لفظوں میں بیان فرمادیا ہو۔
اس اثر سے ایک خاص اور قابل غور وفکر بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ آخری نبوت کی صحبت ومعیت کے لیے جن نفوس قدسیہ کا انتخاب عمل میں آیا ،وہ اللہ تعالیٰ کا اپنا انتخاب تھا لہذا روئے زمین پر ان سے افضل اور بہتر کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ان کی دینی بصیرت اور فہم اسلام کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی امانت داری اور دین داری تمام شکوک وشبہات سے پاک ہے۔ اسی لیے محدثین کرام نے صحابہ کرام کے لیے یہ قاعدہ کلیہ بیان فرمادیا کہ صحابہ تمام کے تمام عادل ہیں۔ ان کی طرف سے ملنے والی دین کی ہر بات صحیح اور درست ہے۔ ان کے یہاں کسی جھوٹ کی آمیزش نہیں ہے اور ان کی ہر بات پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔
جب حقیقت واقعہ یہ ہے تو صحابہ کرام کی دین داری اور ان کی دیانت داری کو موضوع بحث بنانا خود کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اہل تشیع نے ان نفوس قدسیہ کے خلاف جو کچھ لکھا ہے اور خاص خاص مواقع پر ان کی شان میں جس طرح کی گستاخیاں کرتے ہیں، وہ کفر اور ضلالت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ حیرت ہوتی ہے ان حضرات کی جرأت وجسارت پر کہ یہ کس طرح صحابہ کرام کے فیصلوں اور ان کے فرمودات کو اپنی جارحانہ تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کی ذات پر خود کو قربان کرنے کے لیے تیار رہنے والے صحابہ کرام اہل بیت کے کسی فرد کے خلاف کوئی سازش کیسے کرسکتے ہیں۔
اسی طرح اہل سنت میں وہ حضرات جو تقلید جامد کے شکار ہیں اور اپنے متبوع ائمہ ومجتہدین کی بعض اجتہادی غلطیوں کو درست ثابت کرنے کے لیے بعض صحابہ کرام کو غیر فقیہ قرار دے دیتے ہیں، ان کا جرم بھی کچھ کم سنگین نہیں ہے۔ انھیں ذرا بھی احساس نہیں کہ اپنے اس نظریے سے وہ دین اسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کررہے ہیں اور قرآن وحدیث کے مقابلے میں اقوال رجال کو فوقیت دے کر اسلام کے اصولوں کو کمزور کررہے ہیں۔
اپنے اسی اثر میں ایک اہم بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ مسلمان جس کو اچھا کہیں ، وہ اچھا ہے اور جس کو برا کہیں ، وہ برا ہے۔ اثر کا سیاق بتارہا ہے کہ یہاں مسلمان سے مراد عام مسلمان نہیں بلکہ صحابہ کرام کی مقدس جماعت ہے جس کا تذکرہ وہ کررہے ہیں۔ بعض اہل بدعت نے اسی اثر کے آخری جملے کو اپنی بدعات وخرافات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے بطور دلیل پیش کیا ہے ۔بعض حضرات اپنی تعداد کی کثرت کا حوالہ دے کر خلاف اسلام باتوں کو بھی اسلام ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد گمراہی کا شکار کیوں کر ہوسکتی ہے۔ جب کہ انھیں معلوم ہے کہ اسلام کثرت وقلت دیکھنے کی بجائے دلیل سے اپنا رشتہ استوار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ ورنہ لازم آئے گا کہ نصاری کا تصور تثلیث ، اہل اسلام کے عقیدہ توحید سے زیادہ مبنی برحقیقت ہے کیوں کہ آج کی دنیا میں نصاری کی تعداد اہل اسلام سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی طرح ہمارے ملک میں برادران وطن کی تعداد زیادہ ہے تو ان کے تمام دیومالائی تصورات صحیح اور برحق قرار پائیں گے۔ ایک مسلمان کے لیے دلیل وبرہان اللہ کی کتاب اور نبی اکرم ﷺ کی سنت صحیحہ ہے۔جو کچھ ان دونوں میں ہے،وہ اسلام ہے اور جو کچھ ان دونوں میں نہیں ہے ، وہ اسلام بھی نہیں ہے۔قیاس اور اجتہاد کا نام لے کر کوئی مغالطہ دینے کی کوشش نہ کرے ، قیاس اور اجتہاد دونوں شریعت کے ماخذ ہیں لیکن ان کا سرچشمہ کتاب وسنت ہی ہیں۔ قیاس کے لیے مقیس علیہ نصوص کتاب وسنت ہیں اور اجتہاد کے لیے اسلام کی روح اور مقاصد شریعت کا حوالہ ناگزیر ہے۔
(یہ اثر حسن ہے۔ اس کی تخریج امام احمد نے مسند (379/1، رقم: 3600) میں، قطیعی نے فضائل الصحابہ پر اپنی زوائد (541)میں، امام حاکم نے مستدرک (78/3) میں، امام طبرانی نے معجم کبیر (8582) میں، امام آجری نے الشریعۃ (413/2) میں، امام بزار نے مسند بزار (1816/212/5 البحر الزخار) میں، ابوبکر بن نقور نے اپنی فوائد (32) میں اور ابن الاعرابی نے اپنی معجم (861/443 /2 ) میں کی ہے۔)

آپ کے تبصرے

avatar