دینی مدارس میں عصری علوم کی تعلیم وتدریس

رفیق احمد رئیس سلفی

(پس پردہ حقائق، امکانات، مسائل اور ان کا حل)

ہمارے ملک میں دینی مدارس وجامعات کی خاصی بڑی تعداد ہے جن کا قیام علوم شرعیہ کی تعلیم وتدریس کے لیے عمل میں آیا ہے اور جو عام طور پر سرکاری تعاون کے بغیر مسلمانوں کی مدد سے چلائے جارہے ہیں۔ان کے علاوہ دینی مکاتب کا ملک میںایک جال پھیلا ہوا ہے جہاں اسلامیات کے علاوہ انگریزی،ہندی،اردو،تاریخ ،جغرافیہ اورابتدائی سائنس اور ریاضی کی تعلیم بھی دی جاتی ہے ۔بعض ریاستوں میں دینی مکاتب سے پرائمری کا سرٹیفکٹ حاصل کرنے کے بعد سرکاری تعلیمی اداروں کی چھٹی کلاس میں طلبہ وطالبات کو داخلہ بھی ملتا ہے اور وہ اپنی صلاحیتوں اور سرپرستوں کی توجہ اور حیثیت کے مطابق اعلی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔اترپردیش میں عربی فارسی کا سرکاری بورڈ بھی ہے اور اسی طرح کے بورڈ دیگر ریاستوں میں بھی ہیں جو مدارس کی درخواست پر حکومت کے ذریعے منظور کیے جاتے ہیں ،ان کے اساتذہ کو تنخواہیں سرکاری سطح پر ملتی ہیں ۔سرکار کی طرف سے منظور کیے گئے ان مدارس کا نصاب بھی تقریباً وہی ہے جو غیر سرکاری جامعات اور مدارس کا ہے ۔ایسے سرکاری دینی اداروں کے سند یافتہ طلبہ وطالبات کو ملازمت بھی ایسے ہی سرکاری تعلیمی اداروں میں ملتی ہے ۔سرکار سے منظور یافتہ تعلیمی بورڈوں کی سندیں ملک کی کئی ایک یونیورسٹیاں تسلیم کرتی ہیں اور وہ سماجی علوم کے شعبوں میں ٹیسٹ کے بعد ان کے فارغ طلبہ وطالبات کو داخلہ دیتی ہیں جہاں ان کو بی اے،ایم اے اور پھر پی ایچ ڈی کرنے کی سہولت حاصل ہے۔ملک کی بعض یونیورسٹیوں نے کئی ایک ایسے مدارس وجامعات کی سندیں بھی منظور کررکھی ہیں جو سرکاری تعاون کے بغیر چلائے جاتے ہیں لیکن ان کا معیار تعلیم کافی بلند ہے ۔ایسے تعلیمی اداروں کے فارغین کو بھی یونیورسٹیوں کے کئی ایک شعبوں میں داخلہ ملتا ہے اور وہ ان میں اعلی تعلیم کی ڈگریاں حاصل کرتے ہیں بلکہ مدارس کے پس منظر سے تعلق رکھنے والوں کی خاصی بڑی تعداد ہے جو یونیورسٹیوں میں تدریس کے فرائض انجام دے رہی ہے اور بعض حضرات دوسرے سرکاری محکموں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ابھی دوتین سال پہلے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ایک نیا شعبہ ’’برج کورس‘‘کے نام سے کھولا ہے جس میں صرف فارغین مدارس کو داخلہ دیا جاتا ہے اور سال بھر کی تعلیم کے بعد ان کو اس بات کا اہل سمجھا جاتا ہے کہ وہ میڈیکل سائنس اور انجینئر نگ کے علاوہ باقی تمام تعلیمی شعبوں میں داخلہ پاسکیں۔’’برج کورس‘‘میں یہ بھی کوشش کی جارہی ہے کہ بعض ذہین اور ہونہار طلبہ کو ریاضی اور سائنس کی اضافی تعلیم دے کر انھیں میڈیکل سائنس اور انجینئر نگ کے شعبوں میں بھی داخلہ پانے کا اہل بنایا جائے ۔امید ہے کہ جلد ہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا یہ شعبہ اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرلے گا اوران شاء اللہ فارغین مدارس کے لیے یہ بند دروازہ بھی کھل جائے گا۔

یہ ہے مختصر صورت حال جو یہ بتاتی ہے کہ دینی جامعات اور مدارس کے فارغین کے لیے ملک میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بھر پور مواقع موجودہیں ،بہت سے مسلمان بچے ان سے فائدہ اٹھا بھی رہے ہیں اور جو حضرات ان مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ،ان کے لیے تمام سہولتیں اور آسانیاں فراہم ہیں۔اس کے باوجود بار بار یہ آوازیں اٹھتی ہیں کہ دینی مدارس وجامعات کے نصاب تعلیم کو تبدیل کیا جائے ،ان کے نصاب اور نظام تعلیم کو سرکاری تعلیمی اداروں سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ فارغین مدارس بھی سرکاری تعلیمی اداروں کے فارغین کی طرح ملک کی تمام سرکاری ملازمتوں میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوسکیں۔بظاہر یہ آوازیں خیر خواہی پر مبنی دکھائی دیتی ہیں اور ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ملک کے ارباب حل وکشاد کو مسلم طلبہ وطالبات کی کافی فکر ہے اور وہ انھیں بھی ترقی کی عام دوڑ میں شامل کرنے کا نیک جذبہ رکھتے ہیں۔کوئی وجہ نہیں کہ ان کی اس ہم دردی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے اور ان کے اخلاص پر شبہ کیا جائے ۔اگر وہ مسلمان بچوں کے لیے ایسا سوچتے ہیں تو ہم ان کے شکرگزار ہیں۔

لیکن یہاں کچھ سوالات ایسے ہیں جن کا جواب ہمیں نہیں ملتا اور ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ آخر اس ہمدردی کے پیچھے کیا مقاصد کارفرما ہیں۔پہلا سوال یہ ہے کہ مدارس وجامعات میں تعلیم حاصل کرنے والے مسلم طلبہ وطالبات کی تعداد اس تعداد سے کہیں زیادہ کم ہے جو سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتی ہے۔کیا ان جدید تعلیم یافتہ مسلم طلبہ وطالبات کو سرکاری ملازمتوں میں برابر کی حصہ داری مل رہی ہے اور ان کی بے روزگاری ختم ہورہی ہے۔جب ہم اس سوال کا جواب زمینی حقائق سے معلوم کرتے ہیں تو ہمیں سخت مایوسی ہوتی ہے ۔کیا جدید تعلیم یافتہ مسلم طلبہ وطالبات میں وہ ذہانت وصلاحیت نہیں ہے جو مقابلہ جاتی امتحانات میں انھیں کامیابی سے ہم کنار کرسکے یا تمام تر آئینی ودستوری تحفظات کے باوجود کچھ لوگوں نے ملک کی یہ پالیسی بنادی ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کی شمولیت ایک مخصوص تعداد سے زیادہ نہیں ہوگی۔خدا نخواستہ اگر اس قسم کی سوچ پیدا کی جاچکی ہے تو پھر دینی اداروں سے اظہار ہمدردی کوئی معنی نہیں رکھتی اور ان کے فارغین کے لیے خیر خواہی اخلاص پر مبنی نظر نہیں آتا۔

دینی مدارس وجامعات کے نصاب اور نظام تعلیم کو تبدیل کرنے کے پیچھے جو مقاصد کارفرماہیں ،ان کو سمجھنا ہمارے لیے انتہائی ضروری ہے ۔ملک کے ایک خاص طبقے کو مسلمانوں سے ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے کئی ایک معاملات میں اپنے مذہب کی تعلیمات پر سختی کے ساتھ عمل کرتے ہیں ،ملک کی عام فضا اور ماحول سے خود کو ہم آہنگ نہیں کرتے۔خاص طور پر حلال وحرام اشیائے خورد ونوش اور معاشیات کے کئی ایک مسائل میں وہ ملک کی اکثریت کی روش کے خلاف چلتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔اس طبقے کا خیال اور اس کا تجزیہ یہ ہے کہ مدارس وجامعات میں جو تعلیم دی جاتی ہے اور اس کے جو فارغین مسلم عوام میں ان کی دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں ،وہ عام مسلمانوں کو ان کی مذہبی تعلیمات سے جوڑے ہوئے ہیں ،اگر یہ نہ رہیں تو آہستہ آہستہ مسلمانوں کی زندگی ٹھیک اسی طرح ہوجائے گی جو عام ہندوستانیوں کی زندگی ہے،جنھیں نہ صحیح معنوں میں آخرت کی جواب دہی کا احساس ہے،نہ حلال حرام کی تمیز ہے اور جو سود،رشوت اور قمار بازی کو اپنے لیے نہ صرف جائز بلکہ اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔اس طبقے کا خیال یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے اوپر یہ پابندیاںبلاوجہ عائد کی ہیں،ان سے ان کی معاشی وسماجی ترقی رکی ہوئی ہے اور یہ قومی دھارے میں خود کو شامل نہیں کرپارہے ہیں۔

اگر خفیہ ایجنڈا یہ ہے اور اس کے پیچھے یہ سوچ کام کررہی ہے تو پھر مسلمانوں کو ہوشیار رہنا ہوگا،یہ ان کے دین اور مذہب کے خلاف ایک منظم سازش ہے ۔یہ سازش اگر کامیاب ہوجاتی ہے تو دین کا بچا کھچا سرمایہ بھی ختم ہوجائے گا اور مسلمان اپنے دین سے وابستہ نہیں رہ پائے گا۔اسلام اور مسلمانوں سے بلاوجہ بغض رکھنے والوں کو یہ اندیشہ ستارہا ہے کہ مسلمان کیوں اپنے مذہب سے وابستہ ہے اور کیوں وہ بعض ایسی باتیں بھی کرتا ہے جو ملک کے سیکولردستورکے خلاف ہے۔حالانکہ ملک کے آئین کے پس منظر میں لفظ سیکولر کا استعمال بے دینی اور الحاد کے معنی میں نہیں ہوتا بلکہ تمام مذاہب کے ساتھ یکساں سلوک اور تمام مذاہب کا یکساں احترام ہوتا ہے۔ملکی دستور کے لحاظ سے ملک کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہے لیکن وہ ملک میں موجود تمام مذاہب کے وجود کو تسلیم کرتا ہے اور ان کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔جو لوگ آج سرکاری طور پر کسی خاص مذہب کو اہمیت دیتے اور اسے زبردستی دوسروں پر تھوپنا چاہتے ہیں ،وہ ملک کے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہیں،ایسے لوگ انعام کے نہیں سزا کے مستحق ہیں۔

حیرت کی بات ہے کہ ہمارے ملک کا آئین اس خفیہ ایجنڈے کا ساتھ نہیں دیتا بلکہ اس قسم کی کوشش اور سازش ہمارے دستور کے خلاف ہے۔ہمارا آئین ہمیں اپنے مذہب کی تعلیم حاصل کرنے ،اپنے مذہبی تعلیمی ادارے قائم کرنے،اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اپنے مذہب کی تبلیغ واشاعت کرنے کی اجازت دیتا ہے۔مذہبی تعلیمی اداروں پر جو لوگ اپنی خواہشات تھوپ رہے ہیں،وہ ملک کے دستور کی خلاف ورزی کررہے ہیں ،انھیں عدالت میں چیلنج کیا جانا چاہئے۔ہمارے ملک کے پرائمری اسکول جن میں ہندوستان کے ۷۵ فی صد بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں،ان کی تعلیمی صورت حال کو سدھارنے اور غریب عوام کے بچوں کو صحیح تعلیم دینے کی کوئی کوشش نظر نہیں آتی ،ان اسکولوں کے پاس نہ ضروری عمارتیں ہیں اور نہ بچوں کی تعداد کے مطابق اساتذہ موجود ہیں اور جو اساتذہ ہیں بھی ،وہ غریب عوام کے بچوں کو ڈھنگ سے تعلیم نہیں دیتے بلکہ وہ پانچویں کلاس تک پہنچتے پہنچتے اتنے کمزور ہوجاتے ہیں کہ آگے کسی طرح سے اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے۔اگر ٹیوشن کے بغیر بچے تعلیم میں آگے نہیں بڑھ پاتے تو پھر اسکولوں کی ضرورت کیا ہے ،کیا ہم نے اسکول اس لیے کھولے ہیں کہ وہاں سے ایک ایسا سرٹیفکٹ مل جاتا ہے جو حکومت کی نظر میں قابل قبول ہے۔ہمارے ملک کی آبادی میں کتنے والدین ہیں جو اپنے بچوں کے لیے ٹیوشن کا انتظام کرسکتے ہیں۔مڈل اسکولوں ،ہائی اسکولوں اور ڈگری کالجوں کا حال پرائمری اسکولوں سے کچھ مختلف نہیں ہے ۔ملک کی تعلیمی صورت حال کو سدھارنے اور اسے غریب عوام کے لیے بھی مفید بنانے کی بجائے ہماری تعلیمی وزارتیں دینی مدارس وجامعات کے لیے فکر مند ہیں اور ان کو آکسفورڈ اور کیمبرج بنانے کی بات کرتی ہیں۔ہمارے یہ دینی ادارے ملک اور قوم کی خدمت ہمیشہ سے کرتے رہے ہیں اور ان کے فارغین نے ملک کی آزادی اور اس کی تعمیر وترقی کے لیے جو قربانیاں دی ہیں،ان پر انھیں کسی صلہ وستائش کی تمنا نہیں ہے،آج بھی وہ ملک اور قوم کی خدمت میں مصروف ہیں اور الحمدللہ ملک کے آئین اور دستور کے دائرے میں رہ کر اپنا فرض ادا کررہے ہیں۔ملک سے وفاداری اور آئین کے احترام کا سبق انھیں ان لوگوں سے لینے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے جن کا ماضی ملک کی وفاداری کے تئیں مشکوک ہے۔

ملک کے مسلمانوں سے زکوۃ اور عطیات اکٹھا کرکے جو دینی ادارے چلائے جارہے ہیں ،ان کی مشکلات کا ہمیں اندازہ نہیں ہے۔یہ بات صحیح ہے کہ ان میں سرکاری انداز سے حساب کتاب لکھنے والا عملہ موجود نہیں ہے جو زمین سے ہٹ کر کاغذ پر حساب کتاب درست رکھنے کا ہنر جانتا ہے اور سفید کو سیاہ کرنے اور سیاہ کو سفید کرنے کا جسے فن آتا ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ اس کا حساب کتاب نہیں لکھا جاتا ۔سرکاری طور پر اگر اب یہ مطالبہ شروع کیا گیا ہے تو ان شاء اللہ جلد ہی مدارس اپنی اس کمی پر قابو پالیں گے اور مجھے امید ہے کہ ان کا حساب کتاب تمام آلائشوں سے پاک اور سرکاری تعلیمی اداروں سے کہیں زیادہ صاف ستھرا ہوگا۔ہمارے مدارس کو چاہئے کہ وہ کسی جگہ انگلی رکھنے کی گنجائش نہ رکھیں۔سفید لباس زیب تن کرنے والوں کے کپڑوں میں معمولی دھبہ بھی دور سے نظر آتا ہے لیکن جن کے لباس دھبوں سے بنے ہوں،ان کا دھبہ کوئی کہاں سے دیکھ سکتا ہے۔محض ایک اضافی بوجھ ڈالنے کے اندیشے سے چارٹر اکاؤنٹنٹ مدارس میں نہیں رکھے جاتے کیوں کہ وہ اپنی خدمات کی بھاری اجرت وصول کرتے ہیں اور زکوۃ اور عطیات پر چلنے والے دینی ادارے اس اضافی بار کے متحمل نہیں ہیں۔

دینی مدارس وجامعات میں عصری علوم کی تدریس پر زور دینے والے حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ فارغین مدارس کو ملک اور سماج کی سمجھ نہیں ہوتی اور وہ دنیا سے مکمل طور پر غافل ہوتے ہیں ۔ان کو دنیا اور انسانی سماج کی تفہیم کرانے کے لیے ضروری ہے کہ عصری علوم کی تعلیم دی جائے تاکہ وہ ملک اور سماج کے لیے زیادہ سے زیادہ مفید ثابت ہوں۔اس طرح کے خیالات کا اظہار کرنے والوں سے یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ کیا آپ کے پاس اس کا کوئی ثبوت ہے۔اب تو بعض علماء جن کی تعلیم خالص مذہبی دائرے میں ہوئی ہے،وہ میدان سیاست میں نہ صرف سرگرم عمل ہیں بلکہ بعض سیاسی جماعتوں کے بانی اور ان کے روح رواں ہیں ۔کیا ان میں سے کسی پر یہ الزام لگانے کی جراء ت کی جاسکتی ہے کہ وہ دنیا،ملک اور انسانی سماج کی سمجھ نہیں رکھتے۔ یہاں بھی اصل حقیقت کو چھپایا جارہا ہے ۔علماء اور فارغین مدارس کی قناعت بھری زندگی اور سفید پوشی ان کی آنکھوں میں کھٹک رہی ہے ۔بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی روش جو آج ہر تعلیم یافتہ شخص نے اپنا رکھی ہے اور کچھ لے کر اور کچھ دے کر ہر قسم کے سمجھوتے کرلیتا ہے ،چوں کہ علمائے کرام کا دامن بحمد اللہ عام طور پر ان آلائشوں سے پاک ہے ،اس لیے ان کو قدامت پرستی اور دنیا کی سمجھ نہ ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔دنیا کے مارے ہوئے یہ بے چارے اس حقیقت کو کہاں چھوسکتے ہیں جو علمائے کرام کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔وہ باطل کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتے،دنیا کی لالچ انھیں برائیوں سے سمجھوتا نہیں کرنے دیتی اور وہ روکھا سوکھا کھاکر بھی کلمہ حق کہنے اور اس کی اشاعت سے باز نہیں آتے۔چوں کہ تمام تر زوال ،غربت اور تعلیمی پس ماندگی کے باوجود انھیں علماء کو مسلم عوام اپنا مقتدا اور پیشوا سمجھتی ہے ،اس لیے دینی اور مذہبی معاملات میں کسی دانش ور کی بات چلنے نہیں پاتی ،اس لیے یہ سارا فساد کھڑا کیا جاتا ہے تاکہ مسلم عوام کی رائے عامہ کو تبدیل کیا جاسکے اور علماء کی قیادت سے اسے متنفر کیا جاسکے۔

مدارس میں پڑھائے جانے والے یہی علوم تھے جن کی تعلیم حاصل کرکے ماضی میں حکومت کی کئی ذمہ داریاں علماء اٹھاتے تھے اور ان کے ساتھ انصاف کرتے تھے ۔ماضی کا آٹھ سوسالہ تجربہ کیا یہ بتانے کے لیے کافی نہیں ہے کہ کمی صلاحیتوں میں نہیں بلکہ کھوٹ نیتوں میں ہے۔انگریزوں نے مسلم دشمنی میںمدارس میں پڑھائے جانے والے علوم کو خالص مذہبی تعلیم قرار دے دیا اور مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں سے بے دخل کردیا گیا،افسوس یہ ہے کہ آزادی کے بعد بھی انگریزوں کی یہ گندی سیاست چلتی رہی اور علوم شرعیہ کو بے معنی سمجھنے کی روایت باقی رہی۔اگر ایمان داری اور انصاف سے کام لیا جائے تو فارغین مدارس کو سال چھ مہینے کی اضافی تربیت دے کر کئی ایک سرکاری ملازمتوں کے لیے تیار کیا جاسکتا ہے۔کیا فارغین مدارس اتنی بھی صلاحیت نہیں رکھتے کہ وہ کسی پرائمری یا ہائی اسکول میں تدریس کے فرائض انجام دے سکیں۔اگر ضرورت ہو اور تعصب کو دلوں سے نکال دیا جائے تو کئی ایک مضامین کی تدریس کے لیے فارغین مدارس سرکاری تعلیمی اداروں کے فارغین سے بدرجہا بہتر ثابت ہوں گے۔ہمیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ آج سرکاری تعلیمی اداروں میں اردو زبان کی تدریس ایسے اساتذہ کے حوالے ہے جو درست املا لکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے،ہماری عصری جامعات میں اسلامک اسٹڈیز،عربی زبان اور دینیات کی تدریس کے لیے ایسے اساتذہ کرام موجود ہیں جو نہ عربی زبان سے کما حقہ واقف ہیں اور نہ عربی زبان انھیں آتی ہے کہ براہ راست بنیادی مصادر سے اسلام کو سمجھ سکیں۔یہ ٹھیک ہے ہم نے ایک سرکاری تعلیمی نظام بنایا ہے ،اس نظام سے وابستہ ہوکر جو حضرات اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ،ان سے مدارس کے لوگوں کو کوئی شکایت نہیں ہے اور نہ کوئی پریشانی ہے بلکہ اب تو الحمد للہ ایسی فضا بن گئی ہے کہ دونوں طرح کے اداروں کے علمی سیمیناروں میں علماء بھی شریک ہوتے ہیں اور دانش ور حضرات بھی ۔دلوں میں گنجائش موجود ہو تو فارغین مدارس کے لیے بہت کچھ کیا جاسکتا ہے ،مشکل سے مشکل امتحان لے کر ان کو کئی ایک سرکاری ملازمتوں کا اہل قرار دیا جاسکتا ہے۔بشرطے کہ خیرخواہی کا صحیح جذبہ موجود ہو اور مدارس وجامعات سے واقعی اور سچی ہم دردی ہو۔

اوپر کی مذکورہ تفصیلات سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ دینی مدارس اور جامعات میں عصری علوم کی تدریس کی تحریک اپنے پیچھے بعض ایسے خفیہ عزائم رکھتی ہے جو مسلمانوں کے لیے ہرگز قابل قبول نہیں ۔مدارس اپنی جگہ مکمل ہیں اور جن مقاصد کے لیے ان کا قیام عمل میں آیا تھا ،ان کے حصول کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ وہ اپنے حساب سے مسلم عوام کی ضرورت اورملکی حالات کے تقاضوں کے پیش نظر ہمیشہ اپنے نصاب میں حذف واضافہ کرتے رہے ہیں۔ان کے نصاب میں جمود نہیں ہے۔وہ آج بھی اس بات کے لیے تیار ہیں کہ علوم شرعیہ کو نقصان پہنچائے بغیر نصاب پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے،بعض مضامین کا اضافہ کیا جاسکتا ہے اور جن مضامین کی افادیت محدود یا ختم ہوگئی ہو،ان کو نصاب سے باہر کیا جاسکتا ہے اور ماضی میں وہ عملاً ایسا کرتے بھی رہے ہیں اور آج بھی مفید چیزوں کو قبول کرنے میں انھیں تأمل نہیں ہے۔

مجھے یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ ایک مرکزی ادارے نے ایک سرکاری تعلیمی ادارے کو مکلف کیا کہ وہ مدارس میں سائنس کی تدریس کے لیے درسی کتابوں کی کوئی سیریز تیار کرے۔کئی سالوں کی محنت اور لاکھوں روپے صرف کرکے صرف ایک جلد پر مشتمل کتاب تیار کی گئی جو کسی طرح بھی نصابی کتاب نہیں کہی جاسکتی ۔مدارس کا مزاج مخصوص نوعیت کا ہے ،ان کے اساتذہ کو کمیٹی میں شامل کیے بغیر نصاب کی جو بھی کتاب تیار کی جائے گی ،وہ ناقص ہوگی اور مدارس کے لوگ اسے قبول نہیں کریں گے۔سرکاری تعلیمی اداروں میں جو نصاب تعلیم منظور ہے اور جو کتابیں تیار کی جاتی ہیں ،اگر ان کی کہانی ہمیں معلوم ہوجائے تو پتا چلے گا کہ کس طرح ہیرا پھیری سے کام لیا جاتا ہے ۔ کتاب کوئی اور تیار کرتا ہے،شائع کسی اور کے نام سے ہوتی ہے ،سرکاری معاوضے کا مستحق کوئی اور ہوتا ہے،مزدوری کسی دوسرے کو کرنی ہوتی ہے۔نتیجہ ظاہر ہے ،میڈیا میں سرکاری نصابی کتابوں سے متعلق شکایات اسی لیے سننے کو ملتی ہیں۔مدارس کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا ،اگر سماجی علوم سے متعلق بعض مضامین پر کتابیں ان کے مزاج کے مطابق تیار کردی جائیں تو وہ اسے اپنے یہاں شامل نصاب نہ کریں۔صرف شور مچانے اور الزام لگانے سے کوئی کام ہونے والا نہیں ہے۔مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ بار بار دینی مدارس وجامعات کو نشانہ بنانے کا مقصد ان کی اصلاح نہیں بلکہ ان کو بند کرنا ہے۔لیکن دنیا کو شاید معلوم نہیں کہ ستر سال تک جس روسی حکومت نے قرآن پڑھنے،قرآن کی اشاعت کرنے اور ملک میں قرآن لانے پر پابندی عاید کیے رکھی ،اسے مجبور ہوکر جب مذہب سے یہ پابندی ہٹانی پڑی تو پتا چلا کہ ملک میں حفاظ کرام اور علمائے کرام کی کوئی کمی نہیں ہے ،تہ خانوں میں اپنے دین کو محفوظ رکھنے کے جتن کیے گئے اور علوم شرعیہ کی تدریس کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔اسلام بڑا سخت جان واقع ہوا ہے ،اس کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ جس قدر اسے دبانے کی کوشش کی جائے گی،وہ اسی قدر ابھرے گا۔ایک بابری مسجد کو شہید کرنے کے بعد یہ سمجھا گیا تھا کہ مسلمانوں سے ان کی علامت چھن جائے گی لیکن انھیں معلوم ہونا چاہئے کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ایک خاص جذبے کے تحت ہزاروں مساجد اس ملک میں تعمیر کی گئیں اور مساجد میں نمازیوں کی تعداد میں بے پناہ اور غیر مسبوق اضافہ ہوا۔

آئیے ذرا پیش نظر مسئلے پر مثبت انداز میں ایک نظر ڈالتے ہیںاور اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کا جائزہ لیتے ہوئے ،ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ مدارس عصری تقاضوں سے کس طرح ہم آہنگ کیے جاسکتے ہیں:

(۱)مختلف زبانوں پر توجہ

ہم علوم شرعیہ کی تعلیم وتدریس کے لیے عام طور پر اردو ،عربی یا بعض علاقائی زبانوں کا سہارا لیتے ہیں۔ کسی زبان کو سیکھنے اور اس میں لکھنے بولنے کی بھرپور صلاحیت پیدا کرنے کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے۔جس طرح ہم عربی زبان کی تعلیم وتدریس کے لیے اس کے قواعد اور اس کے ادبی لٹریچر کا سہارا لیتے ہیں ،اسی طرح ہمیں اردو یا دوسری علاقائی زبانوں کے تعلق سے ان کے قواعد اور ادبی لٹریچر کا سہارا لینا چاہئے۔عربی زبان میں لکھنے اور بولنے کی صلاحیت جیسی پیدا ہونی چاہئے ،ہمارا تعلیمی نظام اس صلاحیت کو پیدا کرنے میں ناکام ہے۔کمی کہاں ہے اور کیوں ہے؟اس پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اسی طرح اردو زبان کا اپنا ادبی سرمایہ ہے،اس کی گرامر ہے ،اس کی سیر کیے بغیر اچھی اور صحیح اردو نہ لکھی جاسکتی ہے اور نہ بولی جاسکتی ہے۔دینی مدارس اور جامعات کی فضا کو علمی بنانے کی کوشش کی جائے اور طلبہ میں شوق پیدا کیا جائے ۔یہ ضروری نہیں ہے کہ تمام فارغین مدارس کے اندر ہم یہ صلاحیتیں پیدا کرسکیں لیکن خاصی بڑی تعداد مطلوبہ معیار پر پوری اترسکتی ہے ۔تحریر اور خطابت کی اضافی تربیت کا نظام بالکل ڈھیلا نہ رکھا جائے اور نہ اس تربیت کے لیے کسی ایسے استاذ کی تقرری کی جائے جو اس میدان میں کمزور ہو لیکن انتظامیہ کا نور نظر ہو۔نور نظر اساتذہ کرام اپنی ذمہ داریوں سے کبھی انصاف نہیں کرتے ،بلکہ وہ جی حضوری اور کاسہ لیسی سے اپنا الو سیدھا کیے رہتے ہیں۔جس استاذ کے اندر تحریر اور خطابت کا ملکہ خود نہ ہو وہ اپنے شاگردوں کو مصنف اور خطیب کیسے بناسکتا ہے۔درجات عالیہ میں بھی اردو زبان کو بہ حیثیت زبان کے داخل کیا جائے تاکہ اس کی نزاکتوں اور اس کے اسالیب سے طلبہ واقف ہوسکیں۔

(۲)تاریخ ،جغرافیہ اور معلومات عامہ

دینی مکاتب میں یہ تمام مضامین پڑھائے جاتے ہیں لیکن اس مرحلے میں طلبہ کے اندر اتنا شعور نہیں ہوتا کہ وہ ان کو سمجھ سکیں لہذا ان مضامین پر کچھ باصلاحیت اساتذہ تیار کیے جائیں اور جو سرکاری نصاب ان مضامین کا موجود ہے یا بعض پرائیویٹ پبلشنگ اداروں نے ان مضامین پر برائے نصاب جو کتابیں تیار کی ہیں،ان کو قابل لحاظ تعداد میں فراہم کیا جائے ۔درجات علیا کے طلبہ ان کتابوں کا مطالعہ بھی کریں اور ہفتے میں ایک یا دو پیریڈ ان مضامین کے لیے خاص کیے جائیں جس میں استاذ لیکچر دے اور طلبہ کی معلومات کی جانچ کرے اور ان کے اندر یہ ذوق پیدا کرے کہ وہ ان مضامین کا از خود مطالعہ کریں۔یہ ضرورت ہم درسی مطالعہ کا شوق پیدا کرکے کی بھی پوری جاسکتی ہے۔طلبہ کے اندر ان مضامین کی اہمیت بتانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ سال میں کم سے کم ایک لکچر کسی ماہر فن سے دلایا جائے جس میں طلبہ واساتذہ کی بھرپور شرکت ہو اور وہ ماہر فن زیر بحث مضمون کی اہمیت،افادیت،ضرورت پر گفتگو کرتے ہوئے ان مصنفین اور کتابوں کی نشان دہی کردے جن کا مطالعہ کرکے طلبہ ان مضامین میں اپنے اندر پختگی پیدا کرسکتے ہیں۔

(۳) توسیعی خطبات

انسانی زندگی میں پیش آنے والی تمام ضروریات کی تدریس کہیں بھی کسی تعلیمی ادارے میں ممکن نہیں، محدود دورانیہ میں مخصوص اور ضروری مضامین ہی پڑھائے جاسکتے ہیں۔دینی مدارس وجامعات میںسیاسیات،معاشیات،سماجیات اور میڈیکل سائنس میں رونما ہونی والی مشکلات کی تدریس کسی بھی طرح ممکن نہیں ہے۔مبادیات کی تدریس سے انکار نہیں اور بعض دینی مدارس ان مضامین کی مبادیات سے طلبہ کو واقف کراتے بھی ہیں لیکن اس کمی کو بہتر طور پر توسیعی خطبات سے پورا کیا جاسکتا ہے۔ان مضامین کے ماہرین یونیورسٹیوں میں موجود ہیں،ان سے وقت لے کر ہمارے دینی مدارس وجامعات کو اپنے یہاں ہر ماہ خطبات کا سلسلہ شروع کرنا چاہئے ،اس کے لیے بہت زیادہ تیاری کی ضرورت نہیں ہے ۔تمام بڑے دینی مدارس میں ہال موجود ہیں،مائک کا انتظام ہے ۔صرف ایک مہمان کی آمد ورفت کا خرچہ اٹھانا ہے اور اس کی میزبانی کے فرائض انجام دینے ہیں ۔اگر ایک بار ان ماہرین سے رابطہ استوار کرلیا جائے اور ان کو اپنی ضرورتوں کا احساس دلادیا جائے تو ان شاء اللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ان توسیعی خطبات کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ طلبہ اور اساتذہ میں ان موضوعات ومضامین کے تئیں بیداری پیدا ہوگی ،وہ ضروری کتابوں سے واقف ہوسکیں گے اور ان کے اندر مطالعہ کا شوق بھی پیدا ہوگا۔جدید دنیا میں اسلام اور مسلمانوں پر اعتراضات کیا ہورہے ہیں ،ان کا علمی اور مثبت جواب کیا ہوسکتا ہے ،اس کو بھی توسیعی خطبات میں شامل کیا جاسکتا ہے اور ایک ماہر شخص کتاب وسنت کی ان نصوص کی نشان دہی کرسکتا ہے جن کی مدد سے ان اعتراضات کے جواب دیے جاسکتے ہیں۔علوم شرعیہ پڑھتے ہوئے ان نصوص سے وہ گزرتے ہیں ،اگر اعتراض سامنے ہو تو اساتذہ کرام ان کی صحیح تفہیم کراسکتے ہیں اور طلبہ خود کو جواب دینے کا اہل بناسکتے ہیں۔ملکی انتظام وانصرام کے کئی شعبے جیسے ڈاک خانہ،کچہری،تھانہ،بینک،تحصیل،تمام سطح کے الیکش کے سلسلے کو بھی ان توسیعی خطبات سے جوڑا جاسکتا ہے ۔ہمارے دینی مدارس وجامعات کو الحمد للہ کوئی تحفظ نہیں ہے اگر ضلع کا سربراہ آکر طلبہ کو خطاب کرے اور ضلع کے مختلف سرکاری آفیسرز اپنے اپنے شعبوں کے دائرہ کا راور ان کے میکانزم کی تفہیم کرائیں ۔مدارس کی انتظامیہ کو اپنے ضلع کے سرکاری آفیسرز کے رابطہ میں رہنا چاہئے ،اس سے ان شاء اللہ غلط فہمیاں دور ہوں گی اور مدارس وجامعات کی شفافیت مزید نکھر کر سامنے آئے گی۔ہندو دھرم اور عیسائیت کے پرچارکوں کو دعوت دینے میں بھی ہمیں عار نہیں ہے۔ہم ان سے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ آخر ان مذاہب کی وہ خصوصیات کیا ہیں جن کی وجہ سے آپ عام انسانوں کو ان کی طرف دعوت دیتے ہیں۔مذاہب کا تقابلی مطالعہ ہمارے فارغین کی بنیادی ضرورت ہے،اس سے انشاء اللہ ان کے اندر دوسرے مذاہب کے مطالعہ کا بھی شوق پیدا ہوگا۔

(۴)علمی وثقافتی سرگرمیوں میں اضافہ

دینی مدارس وجامعات کے کیمپس میں علمی وثقافتی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں ،ان کو مزید منظم کرنے کی ضرورت ہے۔اساتذہ کرام کی نگرانی لازماً ہونی چاہئے اور ایسے اساتذہ کی جو ان سرگرمیوں کا خصوصی ذوق رکھتے ہوں۔ ہمارے محترم اساتذہ ایسی کسی ذمہ داری کو بار محسوس کرتے ہیں۔انھیں یہ سوچنا چاہئے کہ یہ بھی طلبہ کی جسمانی،ذہنی اور فکری نشوونما کے لیے ضروری ہیں۔انتظامیہ بھی اگر محسوس کرے اور وسائل دستیاب ہوں تو ان سرگرمیوں کے لیے بطور خاص کسی استاذ کی تقرری کرے تاکہ وہ ان سرگرمیوں کو موثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے منصوبہ بندی کرے اور کیمپس سے باہر کے ماہرین کی خدمات حاصل کرکے ان کو زیادہ سے زیادہ مفید بنائے۔مختلف قسم کے کھیل ،دوڑ کے مقابلے،تیراکی،گھوڑ سواری ،نشانہ بازی ،تحریر وتقریر کے مقابلے،بیت بازی،شعر گوئی ،نظم خوانی ،کسی موضوع پربرجستہ بولنے کی مشق،خطاطی، ڈرائنگ وغیرہ سرگرمیاں تعلیم وتربیت میں معاون ہیں۔ہر طالب علم کا ذہن یکساں نہیں ہوتا اور اللہ نے ہر ایک کو کسی نہ کسی خصوصیت سے نوازا ہے۔ان سرگرمیوں کو اصول اور ضابطے کے ساتھ جاری رکھا جائے۔ہمارے طلبہ والی بال،فٹ بال یا کرکٹ کھیلتے ہیں لیکن ان کھیلوں میں ان کے ضابطوں کی پابندی نہیں کی جاتی۔کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ مدرسے کا کوئی طالب علم ان کھیلوں میں ضلعی سطح کے مقابلوں میں شریک ہوکر مدرسے کا نام روشن کرے اور اگر وہ مزید تیاری کرے تو قومی سطح پربھی اس کا نام روشن ہو۔

مختصر یہ کہ دینی مدارس وجامعات میں پڑھایا جانے والا نصاب اپنے خاص مقاصد رکھتا ہے۔یہاں علوم شرعیہ کے ماہرین تیار کیے جاتے ہیں،جو مدارس وجامعات میں تدریس کی خدمت بھی انجام دیتے ہیں،مسلم عوام کی دینی رہنمائی بھی کرتے ہیں اور مشکل مسائل میں ان کے سوالات کے جوابات بھی دیتے ہیں۔امامت اور خطابت کا منصب بھی سنبھالتے ہیں۔اللہ کا شکر ہے کہ مسلم امہ کی یہ تمام ضروریات مدارس وجامعات کے ذریعے پوری ہورہی ہیں اور اپنی تمام تر کوتاہیوں اور کمیوں کے باوجود مسلم عوام پر دینی رنگ غالب ہے اور وہ اپنی نجات وفلاح کے لیے اسلام سے محبت اور اس سے وابستگی کو ضروری سمجھتے ہیں۔ان حالات میں مدارس کے نصاب میں عصری علوم کی شمولیت اور اس حد تک شمولیت کہ ان کے مقاصد کو نقصان پہنچے ،کسی بھی طرح مناسب نہیں۔ویسے بھی ملک کی کئی ایک یونیورسٹیوں نے بعض مدارس وجامعات کی سندیں منظور کررکھی ہیں،اعلی تعلیم کے شعبوں میں جانے کے لیے دروازے کھلے ہوئے ہیں ،صرف میڈیکل سائنسز اور انجیئنرنگ میں ان کی سندیں قابل قبول نہیں ہیں لیکن بی یوایم ایس اور آیورویدک کالجوں میں فارغین کو داخلہ ملتا ہے ،پھر یہ پریشانی اور بے چینی کیوں ہے ۔مدارس وجامعات پر اتنا دباؤ کیوں ہے۔جہاں تک سوال سرکاری ملازمتوں کا ہے ،کیا ہماری حکومتیں جدید تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو نوکریاں دے چکی ہیں ،کیا عصری علوم کے فارغین روزگار سے وابستہ ہوچکے ہیں کہ نگاہ کرم مدارس کے فارغین کی طرف اٹھ رہی ہے۔عجیب حال ہے ،جو لوگ ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے دھرنا دیے بیٹھے ہیں ،ان کی آواز تو سنی نہیں جاتی اور جن بے چاروں نے حکومتوں کے سامنے کبھی دست سوال دراز نہیں کیا ،ان پر عنایتوں کی بارش ہونے کو بے تاب ہے ۔یاد رکھیں !علوم شرعیہ میں کسی ایسے مضمون کی مداخلت جو ان کے مزاج سے ہم آہنگ نہ ہو ،مدارس کے مقاصد قیام کے لیے سخت نقصان دہ ہے ۔معجون مرکب والا نصاب پڑھ کر ایک طالب علم نہ عالم بن سکے گا اور نہ مسٹر بن پائے گا اور شاید ہمارے بدخواہ یہی چاہتے ہیں۔

فاعتبروا یا اولی الابصار۔

آپ کے تبصرے

avatar