شب قدر کے فضائل

شب قدر کے فضائل

رفیق احمد رئیس سلفی

خطبہ جمعہ: از ڈاکٹر عبدالرزاق البدر

اردو ترجمہ: رفیق احمد رئیس سلفی

تمام حمد وشکر اللہ کے لیے ہے،ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں،اسی سے مدد چاہتے ہیں،اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور اسی کے حضور توبہ کرتے ہیں۔ہم اپنے نفس کی شرانگیزیوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ ہی کی پناہ چاہتے ہیں۔جس کو اللہ ہدایت سے سرفراز کردے ،اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ کردے،اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،وہ اکیلا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔آپ ﷺ پر اور آپ کی تمام آل واصحاب پر خوب خوب رحمتیں اور سلام نازل ہوں۔حمد وصلوۃ کے بعد:
اللہ کے بندو!میں تمھیں اور اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کا تقوی اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں اور اس بات کی تاکید کرتا ہوں کہ کھلے چھپے اور غائب وحاضر ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے رہیں۔
یہ بھی یاد رہے،اللہ تمھارے اوپر رحم فرمائے،کہ اللہ تعالیٰ پیدا کرنے اور منتخب کرنے میں منفرد ہے جیسا کہ اس کا ارشاد ہے:

﴿ وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ ﴾ [القصص:68/28]

“اور آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے”۔
اس آیت میں اختیار کرنے سے مراد چننا اور منتخب کرنا ہے۔اللہ جل و علا اپنی کمال حکمت و قدرت اور کمال علم اور ہر چیز پر محیط ہونے کی وجہ سے اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا ہے،منتخب فرماتا ہے۔ جن اوقات، مقامات اور اشخاص کو چاہتا ہے اپنے مزید فضل، بھرپور توجہ اور بہت زیادہ انعام واکرام سے نوازتا ہے۔ یہ بلاشبہ اس کی ربوبیت کی ایک عظیم نشانی ہے ،اس کی وحدانیت کی ایک بڑی شہادت ہے اور اس کے کمال کی ایک نمایاں صفت ہے۔ یہ اللہ کے کمال قدرت وحکمت کی سب سے واضح دلیل بھی ہے ۔ یقیناً اللہ جل وعلا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے منتخب فرماتا ہے اور یہ کہ تمام معاملات کی شاہ کلید اس کے ہاتھ میں ہے۔ پہلے بھی حکم اسی کا تھا اور بعد میں بھی حکم اسی کا چلے گا، اپنی مخلوق کے اندر اپنی مشیت کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور اپنی مرضی کے مطابق جو چاہتا ہے حکم نافذ کرتا ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے:

﴿ فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الْأَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ وَلَهُ الْكِبْرِيَاءُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴾ [الجاثية:36-37/45] .

“پس اللہ کی تعریف ہے جو آسمانوں اور زمین اور تمام جہان کا پالنہار ہے ۔ تمام بزرگی اور بڑائی آسمانوں اور زمین میں اسی کی ہے اور وہی غالب اور حکمت والا ہے”۔
اللہ کے بندو! اللہ عزوجل نے جن اوقات کو اپنے مزید فضل وتکریم سے نوازا ہے، ان میں رمضان کا بابرکت مہینہ بھی ہے ۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس مہینہ کو باقی مہینوں پر فضیلت بخشی ہے ،رمضان کے آخری عشرے کی راتوں کو اس کی دوسری راتوں پر فضیلت عطا کی ہے اور آخری عشرے کی ایک رات(لیلۃ القدر)کو اپنے مزید فضل سے نوازا ہے اور اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے اسے ایک ہزا مہینوں سے افضل بتایا ہے۔اسی رات کو اپنی وحی مبین، کلام کریم، تنزیل حکیم جو متقیوں کے لیے ہدایت اور مومنوں کے لیے فرقان، ضیاء، نور اور رحمت ہے، کو نازل فرماکر اس کو مہتم بالشان بنایا یے،اس کی عظمت بڑھائی ہے اور اس کا مقام بلند کیا ہے جیسا کہ اس کا ارشاد ہے:

﴿ إِنَّا أَنْزَلْنٰهُ فِي لَيْلَةٍ مُبٰرَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ أَمْرًا مِنْ عِنْدِنَا إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ إِنَّهٗ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا إِنْ كُنْتُمْ مُوقِنِينَ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ رَبُّكُمْ وَرَبُّ اٰبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ ﴾ [الدخان:3-8/44]

“یقیناً ہم نے اسے بابرکت رات میں اتارا ہے، بے شک ہم ڈرانے والے ہیں۔ اسی رات میں ہر ایک مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے ، ہمارے پاس سے حکم ہوکر، ہم ہیں رسول بناکر بھیجنے والے، آپ کے رب کی مہربانی سے ،وہی ہے سننے والا جاننے والا۔ جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ۔ اگر تم یقین کرنے والے ہو۔ کوئی معبود نہیں اس کے سوا، وہی جلاتا ہے اور مارتا ہے، وہی تمھارا رب ہے اور تمھارے اگلے باپ دادوں کا”۔
اس رات کی فضیلت میں اللہ نے ایک مکمل سورہ ہی نازل فرمائی ہے:

﴿ إِنَّا أَنْزَلْنٰهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرٰكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلٰئِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ سَلٰمٌ هِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ ﴾ [سورة القدر1-5/97]

“یقیناً ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا، تو کیا سمجھا کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔اس(میں ہر کام) کے سرانجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل) اترتے ہیں۔ یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے)”۔
اللہ اللہ! اس رات کی عظمت کا کیا کہنا،یہ بڑی جلیل القدر رات ہے، ایک مکرم رات ہے، اس کی برکتوں کا شمار نہیں، ایک ہی رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ اللہ بندو! ایک ہزار راتیں ۸۳/سال سے زیادہ ہیں ۔ اگر ایک مسلمان ان تمام سالوں کو اللہ عزوجل کی اطاعت میں گزارے تو اسے ایک طویل عمر درکار ہے ۔ ان ۸۳/سالوں کے مقابلے میں ایک ہی رات افضل ہے ۔ یہ اللہ کا بہت بڑا فضل اور اس کا ایک بڑا انعام ہے۔ امام مجاہد رحمہ اللہ آیت کریمہ:

﴿ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ﴾

کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ وہ ہزار مہینے ہیں جن میں لیلۃ القدر نہ شامل ہو۔یہی بات امام قتادہ ،امام شافعی اور بعض دوسرے حضرات نے بھی کہی ہے۔
اللہ کے بندو! اس معزز اور بابرکت رات میں اس کی برکتوں کی کثرت اور اس کی بھلائیوں کی عظمت کی وجہ سے بہ کثرت فرشتوں کا نزول ہوتا ہے ۔ فرشتے برکت، بھلائی اور رحمت کے نزول کے ساتھ اسی طرح نازل ہوتے ہیں جس طرح وہ قرآن کی تلاوت کے وقت اور ذکر واذکار کے حلقوں میں نازل ہوتے ہیں۔ یہ رات طلوع فجر تک سراسر سلامتی والی رات ہوتی ہے یعنی مکمل رات بھلائی کی ہوتی ہے،اس میں کوئی شر نہیں ہوتا اور یہ سلسلہ فجر کے طلوع ہونے تک دراز ہوتا ہے۔اس معزز اور بابرکت رات سے متعلق قرآن یہ بھی کہتا ہے:

﴿ يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ ﴾۔

یعنی غالب اور حکیم اللہ کی طرف اس سال انجام پانے والے تمام کاموں کی تقدیر لکھی جاتی ہے ۔ یہاں تقدیر سے مراد سال بہ سال والی تقدیر ہے، رہی وہ عمومی تقدیر جو لوح محفوظ میں ہے تو وہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے لکھی جاچکی ہے جیسا کہ اس بابت صحیح احادیث موجود ہیں۔ لیلۃ القدر کی فضیلت میں نبی اکرم ﷺ سے یہ حدیث ثابت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا:

مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. (صحیح البخاری،رقم الحدیث:1901)

“جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئےشب قدر میں قیام کرے تو اس کے پچھلے تمام گناہوں کی مغفرت کردی جائے گی”۔
اللہ کے بندو!لیلۃ القدر رمضان کے بابرکت مہینے کا ایک حصہ ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے:

﴿ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ ﴾ [البقرة:185/2]

“ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں”۔
زیادہ امید اس کی ہے کہ یہ رات رمضان کے آخری عشرے میں ہوتی ہے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:

تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الوِترِ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ (صحیح البخاری،رقم الحدیث:2017،صحیح مسلم،رقم الحدیث:1169)

“لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوںمیں تلاش کرو”۔
اللہ کے بندو!رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کی تلاش نبی اکرم ﷺ کے مندرجہ ذیل ارشاد سے مزید موکد ہوجاتی ہے:

الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ تِسْعٍ يَبْقَيْنَ أَوْ سَبْعٍ يَبْقَيْنَ أَوْ خَمْسٍ يَبْقَيْنَ أَوْ ثَلَاثٍ يَبْقَيْنَ۔ (سنن الترمذی،رقم الحدیث:794،السنن الکبری للنسائی،رقم الحدیث:3403،

امام ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ملاحظہ ہو:ہدایۃ الرواۃ الی تخریج احادیث المصابیح والمشکوۃ،رقم الحدیث:2034)
“لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرےمیں اس وقت تلاش کرو جب رمضان کی نو،سات،پانچ یا تین راتیں باقی ہوں”۔
جس رات کے لیلۃ القدر ہونے کی زیادہ امید کی جاتی ہے ،وہ رمضان کی ستائیسویں رات ہے جیسا کہ صحابہ کرام کی ایک بڑی تعداد جس میں سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابی شامل ہیں،کا یہی قول ہے۔
اللہ کے بندو!لیلۃ القدر کو مخفی رکھنے اور کتاب وسنت میں اس کی تعیین نہ کرنے کی حکمت یہ ہے کہ مسلمان پورے عشرے کو نماز تہجد،تلاوت قرآن اور احسان واخلاص کے ذریعے اللہ کی اطاعت میں گزاریں ۔اسی سے یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ بھلائیوں کی طلب وتلاش میں کون چستی دکھاتا ہے ،کوشش کرتا ہے اور کون سست اور غافل ہے۔اگر لوگوں کو متعین طور پر وہ رات معلوم ہوتی تو اکثر لوگ صرف اسی رات کو قیام میں گزارتے اور باقی راتیں غفلت میں گزاردیتے۔لیلۃ القدر کی تعیین اگر کردی جاتی تو کمال امتحان وآزمائش نہ ہوپاتا۔
اللہ کے بندو!ہمارے اوپر فرض ہے کہ ہم اس بابرکت رات کی تلاش کے حریص بنیں تاکہ اس کے ثواب سے اپنا دامن بھرنے میں کامیاب ہوسکیں،اس کی بھلائیوں کو اپنے لیے غنیمت خیال کریں اور اس کا اجروثواب حاصل کریں۔اللہ کے بندو!محروم اور بدقسمت انسان تو وہی ہے جو ثواب سے محروم رہ جائے ،جس سے مغفرت کے مواقع گزرتے رہیں اور وہ اپنی غفلت ،اعراض اور لاپرواہی کی وجہ سے اپنے گناہوں کا پشتارہ اپنی پیٹھ پر لادے رہے۔
اللہ کے بندو!خوش خبری ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے شب قدر کی تلاش میں فوز وفلاح سے ہم کنار ہونے والوں جیسی سبقت کی اور شب قدر میں قیام اور عمل صالح کے سلسلے میں اللہ کے نیک بندوں کی راہ اختیار کی ۔اس کے برعکس ہلاکت اور بربادی ہو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے اس رات کو دروازے سے دھتکار دیا اور بند کمروں میں غفلت کی نیند سوتے رہے اور یہ رات آکر چلی گئی،وہ معصیت اور گناہ کے کاموں میں مشغول رہے ،جھوٹی آرزووںمیں مبتلا رہے اور جھوٹے خواب دیکھتے رہے۔اس طرح انھوں نے سب سے افضل اور بہتر شب وروز ضائع کردیے۔اس بدقسمتی پر جس قدر بھی افسوس کیا جائے اور جس قدر بھی ندامت ظاہر کی جائے ،کم ہے۔
اللہ کے بندو!جو شخص اس باعظمت رات میں فائدہ نہیں اٹھا سکا،وہ آخر کس وقت فائدہ اٹھائے گا؟ جو اس باعزت رات میں اللہ کی طرف رجوع نہیں ہوا ،وہ کس وقت اللہ سے رجوع ہوگا؟اور جو اس بابرکت رات میں نیکیوں سے غافل رہا وہ کب نیک اعمال انجام دے گا؟
اللہ کے بندو!اللہ تمھارے اوپر رحم فرمائے،اس بابرکت اور باعزت رات کی تلاش میں محنت کرواوراس کی نیکی وبرکت کی جستجو میں لگے رہو۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ فرض نمازوں کی ادائیگی کی حفاظت کرو،بہ کثرت قیام کرو،زکوۃ ادا کرو،صدقات دیتے رہو ،روزوں کی حفاظت کرو،اللہ کی بہ کثرت اطاعت کرو ،کارہائے معصیت اور گناہوں سے پرہیز کرو ،گناہوں اور غلطیوں پر اظہار ندامت کرو اور ان سے توبہ کرو ،اللہ کا کثرت کے ساتھ ذکرکرو اور قرآن کی بہ کثرت تلاوت کرو۔ایک مسلمان کے لیے مستحب ہے کہ اس رات میں زیادہ سے زیادہ دعا کرے کیوں کہ یہ رات دعا کی مقبولیت کی رات ہے اور بہتر ہوگا کہ دعا میں جامع ترین دعاؤں کا انتخاب کرے۔امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کی ہے ،وہ کہتی ہیں کہ اے اللہ کے رسولﷺ!اگر مجھے شب قدر کا علم ہوجائے تو میں اس میں کون سی دعا مانگوں؟آپ ﷺ نے جواب دیا:تم یہ دعا کرو:

اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي (صحيح الترمذي:3513،صحیح ابن ماجہ:3119)

“اے اللہ تو سراپا کریم معاف کرنے والا ہے،معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے لہذا مجھے بھی معاف فرمادے”۔
یہ دعا عظیم معنی پر مشتمل ہے،اس میں بڑی گہرائی ہے اور یہ دعا اس رات کے لیے حددرجہ مناسبت رکھتی ہے کیوں کہ اسی رات میں ہر حکیمانہ کام کے فیصلے کیے جاتے ہیں اور بندوں کے لیے پورے سال یعنی آیندہ شب قدر تک کے اعمال طے کیے جاتے ہیں ،جسے اس رات میں عافیت مل گئی اور اس کے رب نے اسے معاف کردیا وہ کامیابی کی آخری سیڑھیوں پر پہنچ گیا اور جسے دنیا میں عافیت مل گئی اور آخرت میں وہ عافیت سے ہم کنار ہوگیا تو وہ مکمل طور پر کامیاب ہوگیا۔عافیت جیسی کوئی چیز نہیں اور نہ کوئی نعمت اس سے بڑھ کر ہے۔امام ترمذی نے اپنی سنن میں روایت نقل کی ہے ،سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُهُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ؟ قَالَ سَلْ اللَّهَ الْعَافِيَةَ ، فَمَكَثْتُ أَيَّامًا ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُهُ اللَّهَ ؟ فَقَالَ لِي يَا عَبَّاسُ يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ سَلْ اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۔(صحيح الترمذي:3514)

“میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ!مجھے وہ چیز بتائیں جسے میں اللہ عزوجل سے طلب کروں؟آپ ﷺ نے جواب دیا:اللہ سے عافیت طلب کریں۔میں نے چند دنوں بعد پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ!مجھے وہ چیز بتائیں جسے میں اللہ عزوجل سے طلب کروں؟آپ ﷺ نے جواب دیا:اے عباس!اے عم رسول اللہ!اللہ سے دنیا وآخرت میں عافیت طلب کریں”۔
اللہ کے بندو!اللہ سے عفو وعافیت بہ کثرت طلب کرو بطور خاص ان باعزت اور افضل راتوں میں اور یاد رہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ بہت معاف کرنے والا اور بخشش فرمانے والا ہے۔اسی کا ارشاد ہے:

﴿ وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ ﴾ [الشورى:25/42]

اللہ ہمیشہ سے معاف کرنے میں معروف رہا ہے اور ہمیشہ معاف کرتا رہے گا، یہ اسی کی دائمی صفت ہے کہ وہ اپنے بندوں کی مغفرت کرتا اور ان کی خطاؤں سے درگزر فرماتا ہے ۔ہر شخص جس طرح اس کے رحم وکرم کا محتاج ہے،اسی طرح وہ اس کے عفو ومغفرت کا محتاج ہے۔
اے اللہ!ہمیں اپنے عفو میں ڈھانپ لے،اپنی رحمت میں داخل فرمالے،اے اللہ!ہم تجھ سے دنیا وآخرت کی عافیت طلب کرتے ہیں ،اے اللہ !ہم تجھ سے دین ،دنیا اور آخرت کے لیے عفو وعافیت کی درخواست کرتے ہیں، اے اللہ تو سراپا معاف کرنے والا ہے،معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے لہذا مجھے بھی معاف فرمادے، اے اللہ تو سراپا معاف کرنے والا ہے،معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے لہذا مجھے بھی معاف فرمادے، اے اللہ تو سراپا معاف کرنے والا ہے،معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے لہذا مجھے بھی معاف فرمادے، اے اللہ تو سراپا معاف کرنے والا ہے،معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے لہذا مجھے بھی معاف فرمادے۔
دوسرا خطبہ:
تمام حمد وشکر اس اللہ کے لیے ہےجس کا احسان عظیم ہے اور جس کا جود وکرم اور فضل وامتنان بڑا وسیع ہے۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ،وہ اکیلا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔آپ پر،آپ کی آل پر اور آپ کے تمام صحابہ پر بے انتہاء رحمتیں اور سلام نازل ہوں۔
حمد وصلوۃ کے بعد:
اللہ کے بندو!میں تمھیں اور اپنی ذات کو اللہ عزوجل کا تقوی اختیار کرنے ،اس کی اطاعت کے کاموں میں محنت کرنے اور جن نیک اعمال کو وہ محبوب رکھتا ہے ،ان کے ذریعے اس کا تقرب حاصل کی سعی وجہد کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔اللہ کے بندو!خاص طور پر ان حالات میں جب کہ ہم ان افضل شب وروزگزررہے ہیں،بابرکت اوقات سے ہمارا سابقہ ہے اور ہم ماہ رمضان المبارک کے آخری عشرے سے فیض یاب ہورہے ہیں۔
اللہ کے بندو!نبی اکرم ﷺ اس عشرے میں بطور خاص اعمال صالحہ کے لیے جس قدر محنت فرماتے تھے ،اس طرح کی محنت دوسرے ایام میں نہیں کرتے تھے جیسا کہ صحیح مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں ہے،وہ بیان کرتی ہیں:

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ ۔(صحیح مسلم:1175)

“رسول اللہ ﷺ دوسرے ایام میں اس قدر محنت نہیں کرتے تھے جس قدر محنت رمضان کے آخرے عشرے میں کرتے تھے”۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے،وہ بیان کرتی ہیں:

كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَهُ ، وَأَحْيَا لَيْلَهُ ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ.(صحیح البخاری:2024، صحیح مسلم:1174)

“جب رمضان کاآخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی اکرم ﷺ کمر کس لیا کرتے تھے،اس کی راتوں میں بیدار رہتے تھے اور اپنے اہل وعیال کو بھی بیدار رکھتے تھے”۔
اللہ کے بندو!یہ ایک جامع حدیث ہے،اس میں وہ تمام اطاعتیں اور عبادات شامل ہیں جو اللہ جل وعلا سے قریب کرنے والی ہیں جیسے قرآن مجید کی تلاوت،اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر،نماز،اعتکاف،صدقہ، مال خرچ کرنا،صلہ رحمی،اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک وغیرہ ۔یہ وہ طاعات اورصالح اعمال ہیں جو بندے کو اللہ جل وعلا کا تقرب عطا کرتے ہیں۔نبی اکرم ﷺ اس عشرے میں ان اعمال کے لیے خود کو فارغ کرلیتے تھے لہذا ہمارے لیے مناسب ہوگا کہ ہم اس سلسلے میں نبی اکرم ﷺ کی اقتدا کریں ،اسی طرح اللہ کے بندو!یہ بھی ہمارے لیے مناسب ہوگا کہ ہم اپنے اہل وعیال کو بھی بیدار کریں اور انھیں اس بات کی ترغیب دیں کہ وہ عام مسلمانوں کے ساتھ اسلام کے اس شعار کا مظاہرہ کریں ،اجر وثواب میں ان کے ساتھی بنیں اور اس طرح اللہ کی عبادت اور اطاعت پر ان کی تربیت کا کام زیر عمل لایا جائے۔
اللہ کے بندو! آج بہت سے لوگ اپنی اولاد سے غافل ہیں، انھوں نے ان کو سڑکوں پر آوارہ گردی کرنے اور لہولعب کے لیے بیدار رہنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا ہے، ان کے بچے ان راتوں کا احترام نہیں کرتے، انھیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اللہ کی نظر میں ان راتوں کا تقدس کیا ہے اور ان کی عظمت کیا ہے، اسی لیے ان کے دلوں میں ان راتوں کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ اللہ کے بندو!یہ بڑی بد نصیبی اور بڑے خسارے کی بات ہے کہ یہ بابرکت راتیں آئیں اور گزر جائیں اور اکثر لوگوں کا حال یہ ہو کہ وہ غفلت میں ڈوبے رہیں، ان راتوں سے منہ موڑے رہیں، ان کا کوئی اہتمام نہ کریں اور نہ ان سے کوئی فائدہ اٹھائیں۔ مزید ستم یہ کہ پوری پوری رات یا اس کا بیشتر حصہ ایسے کاموں میں جاگ کر گزاردیں جن کا کوئی فائدہ نہیں یا تھوڑا بہت فائدہ ہوبھی تو ان کو دوسرے اوقات میں کیا جاسکتا تھا لیکن ان راتوں کو وہ کام نہ کریں جن کے لیے یہ مخصوص کی گئی ہیں۔اور ستم بالائے ستم یہ کہ بعض لوگ ان بابرکت،باعزت اور افضل راتوں میں گناہوں، غلطیوں اور معصیت کے کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں بلکہ بعض لوگ تو ان راتوں میں گناہ کبیرہ اور بڑے بڑے جرائم تک کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم .
ہم اللہ جل وعلا سےاس کے اسمائے حسنی اور صفات علیا کے وسیلے سے دعا کرتے ہیں کہ وہ گمراہ مسلمانوں کو ہدایت دے،

ان کے نوجوانوں اور خواتین کی اصلاح فرمائے،

سب کو بہت خوبصورتی سے حق کی طرف آمادہ کردے،

ان کے نیک لوگوں کو ہدایت اور تقوی پر ثابت قدم رکھے۔

اے اللہ! اپنی اطاعت کے کاموں میں ہماری مدد فرما،

اپنی ہدایت کی ہمیں توفیق دے اور ہمارے اوقات کو اپنی پسندیدہ اور اپنی مرضی کے کاموں سے معمور کردے،

تو ہی بزرگی اور عزت والا ہے۔
اللہ تمھارے اوپر رحم فرمائے! تم سب روزہ داروں کے امام، قیام اللیل کرنے والوں کے لیے قدوہ اور غر محجلون کے قائد محمد بن عبداللہ ﷺ پر ٹھیک اسی طرح درود و سلام بھیجو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں حکم دیا ہے:

﴿إِنَّ اللّٰهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيماً ﴾ [الأحزاب:56/33]

” اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو”۔
اور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے:

﴿مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلاةً صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا﴾(سنن أبی داود،رقم الحدیث:523،

امام البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔)

“جس نے میرے اوپر ایک مرتبہ درود بھیجا،اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔” .

اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی آل پر جس طرح رحمت نازل کی تو نے ابراہیم علیہ السلام اور آل ابراہیم علیہ السلام پر تو ستودہ صفات اور بزرگ ہے،

اے اللہ! درود نازل فرما محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی آل پر جس طرح درودنازل کی تو نے ابراہیم علیہ السلام اور آل ابراہیم علیہ السلام پر تو ستودہ صفات اور بزرگ ہے۔

اے اللہ! اپنے فضل وکرم سے خلفائے راشدین، ائمۂ ہدی ابوبکر، عمر، عثمان اور علی سے راضی ہوجا، دوسرے تمام صحابہ، تابعین اور ان لوگوں سے بھی راضی ہوجا جو قیامت تک ان کی مخلصانہ پیروی کریں اور ہم سے بھی راضی ہوجا۔ تو ہی سب سے بڑا کریم ہے۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت وسربلندی عطا فرما،

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت وسربلندی عطا فرما،

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت وسربلندی عطا فرما، شرک اور مشرکین کو ذلیل ورسوا کردے اور دشمنان دین کو ملیا میٹ کردے۔

اے اللہ! اس کی مدد کر جو دین کی مدد کرتا ہے ۔

اے اللہ! اپنے دین کی مدد فرما، اپنی کتاب کی مدد فرما اور اپنے نبی محمد ﷺ کی سنت کی مدد فرما۔

اے اللہ! دنیا کے ہر گوشے میں ہمارے مسلمان بھائیوں کی مدد فرما،

اے اللہ! دنیا کے تمام خطوں میں ہمارے مجاہدین بھائیوں کی مدد فرما جو تیری راہ میں جہاد کررہے ہیں،

اے اللہ! ان کے دلوں کو باہم جوڑ دے، انھیں ثبات قدمی عطا فرما اور انھیں اپنے حفظ و امان میں رکھ، تو ہی بزرگی اور عزت والا ہے۔

اے اللہ! تمام اعدائے دین کے لیے تو ہی کافی ہے، وہ تجھے عاجز نہیں کرسکتے،

اے اللہ! تو اکیلا ہی ان کے لیے کافی ہے، اے اللہ ! ان کا شیرازہ منتشر کردے،

اے اللہ! تمام اعدائے دین کے لیے تو ہی کافی ہے، وہ تجھے عاجز نہیں کرسکتے،

اے اللہ! تو اکیلا ہی ان کے لیے کافی ہے، اے اللہ! ان کا شیرازہ منتشر کردے، ان کے دلوں میں اختلاف ڈال دے، ان کی جمعیت کو پارہ پارہ کردے اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دے ۔ تو ہی ہمیشہ زندہ رہنے والا اور نظام عالم کو سنبھالنے والا ہےاورتو ہی بزرگی اور عزت والا ہے۔
اے ہمیشہ زندہ رہنے والی اور نظام عالم کو سنبھالنے والی ذات! ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ اس بابرکت عشرے کو دنیا کے تمام مسلمانوں کی سرخ روئی کا سبب بنادے،

اے اللہ! دنیا کے ہر خطے میں اسے مسلمانوں کی عزت وسربلندی کا باعث بنادے،

اے اللہ! دنیا کے ہر خطے میں اسے مسلمانوں کی عزت وسربلندی کا باعث بنادے، تو ہی بزرگی اور عزت والا ہے۔

اے اللہ! غم زدہ مسلمانوں کے غم دور کردے، پریشان حال لوگوں کی پریشانیاں دور فرمادے، قرض داروں کا قرض ادا کرادے، ہمارے اور تمام مسلمانوں کے بیماروں کو شفا عطا فرمادے۔ تو ہی ہمیشہ زندہ رہنے والا اور نظام کائنات کو سنبھالنے والا ہے اور تو ہی بڑا بزرگ اور عزت والا ہے۔
اے اللہ !ہمیں ہمارے وطنوں میں امن وامان عطا فرما، ہمارے ائمہ اور حکومتی سربراہوں کی اصلاح فرما، ہمیں اس قیادت کی رعایا بنا جو تجھ سے ڈرتی ہو، تیرا تقوی اختیار کرتی ہو اور تیری رضا کی پیروی کرتی ہو، تو ہی سارے جہان کا پالنہار ہے۔ اے اللہ! ہمارے سربراہ مملکت کو اس چیز کی توفیق دے جو تجھے محبوب ہے اور جس سے تو راضی ہے، نیکی اور تقوی کے کاموں میں ان کی مدد فرما، ان کے اقوال و اعمال میں درستگی پیدا فرما، انھیں صحت وعافیت عطا کر اور ایسے وزراء عطا فرما جو انھیں نیکی کی طرف لے جائیں اور ان کے دست و بازو بن کر رہیں۔

اے اللہ! تمام مسلم سربراہوں کو اپنی کتاب اور اپنے نبی محمد ﷺکی سنت پر عمل کرنے کی توفیق دے اور انھیں اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت بنادے۔
اے اللہ! ہمارے نفسوں میں تقوی پیدا کردے، ان کا تزکیہ فرمادے، تو ہی بہترین تزکیہ فرمانے والا ہے، تو ہی ان کا مالک اور مولی ہے ۔

اے اللہ! ہم تجھ سے سچے ایمان ،مستحکم یقین اور توبۃ النصوح کی درخواست کرتے ہیں،

اے اللہ! ہم تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت اور بے نیازی طلب کرتے ہیں ،

اے اللہ! ہمارے اس دین کو درست کردے جس کے ہاتھ میں ہمارے سارے معاملات کی کنجی ہے، ہماری اس دنیا کو بنادے جس میں ہمارے لیے سامان زیست ہے، ہماری آخرت کو سنوار دے جو ہمارا آخری ٹھکانا ہے ۔ ہماری زندگی کو ہر طرح کی نیکیوں میں اضافہ کرنے کا موجب بنا اور موت کو ہر برائی سے محفوظ رہنے کا سبب بنا۔
اے اللہ! ہم تجھ سے جنت کے طلب گار ہیں اور ہر اس قول وعمل کی توفیق کے خواستگار ہیں جو جنت سے قریب کرنے والا ہو ،ہم تیری پناہ چاہتے ہیں جہنم سے اور ہر اس قول وعمل سے جو جہنم سے قریب کرنے والا ہو۔

اے اللہ! ہمارے حالات درست فرمادے، ہمارے دلوں میں محبت پیدا کردے، سلامتی کے راستہ کی ہمیں ہدایت دے، ہمیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے چل، ہمارے مال، ہمارے اوقات، ہماری ازواج اور ہماری اولاد میں برکت عطا فرما، ہم جہاں کہیں بھی ہوں تیری برکتوں سے فیض یاب رہیں۔

اے اللہ! ہمارے تمام چھوٹے بڑے، اول وآخر، کھلے اور پوشیدہ گناہوں کو بخش دے۔

اے اللہ! ہمارے تمام اگلے پچھلے، پوشیدہ طور پر کیے گئے اور کھلے عام کیے گئے گناہوں کو معاف کردے، ان گناہوں کو بھی معاف کردے جن کے بارے میں تو ہم سے زیادہ جانتا ہے ۔ تو ہی آگے کرنے والا اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔

آپ کے تبصرے

avatar