مسئلۂ رؤیتِ ہلال کے دو فراموش کردہ پہلو

حافظ عبدالحسیب مدنی

بسم اللہ الرحمن الرحیم
تمہید

الحمد للہ رب العالمین و الصلوٰۃ و السلام علیٰ نبینا محمد و علیٰ آلہ وصحبہ أجمعین ۔ اما بعد

دین اسلام اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے ، یہ ایک مکمل دین ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

’’ الیوم أکملت لکم دینکم و أتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا ‘‘ ( المائدۃ :۳)

ترجمہ: آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا ہے اور تم پر اپنا انعام بھر پور کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔
اسی لئے قیامت تک آنے والے سارے انسانوں کے مسائل کا حل اس میں بیان کر دیا گیا ہے ۔ بالخصوص مسلمانوں کی تمام دینی ضرورتوں کی تکمیل کا سامان اللہ نے اپنی کتاب اور نبی کی سنت کی شکل میں مہیا کر دیا ہے ۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :

’’ ترکنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم و ما طائر یقلب جناحیہ فی الھواء الا وھو یذکرنا منہ علما قال فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ما بقی شيء یقرب من الجنۃ و یباعد عن النار الا و قد بین لکم ‘‘ (ا لمعجم الکبیر للطبرانی ۱۶۴۷، صححہ الالبانی ، الصحیحہ ۱۸۰۳)

ترجمہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے رخصت ہوئے تو اس طرح کہ آسمان میں کوئی پرندہ اپنے پر پھڑ پھڑا رہا ہو تو آپ نے اس سے متعلق بھی ہمیں علم دیا ، مزید کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا جنت سے قریب کرنے اور جہنم سے دور کرنے والی جو بھی چیز بچی تھی وہ تمہیں بتا دی گئی ۔
زمانے کے بدلتے حالات اور تقاضوں کے مطابق اگر مسلمان اس کی روشنی میں اپنے مسائل حل کرتے رہیں تو یہ بے مثال شریعت ان کے درمیان پیدا ہونے والے بہت سے تنازعات کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم کر دے گی ۔
مسئلہ رؤیتِ ہلال پچھلے کچھ سالوں سے عوام الناس کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے ، رمضان کا مہینہ جو مختلف عبادتوں اور اللہ تعالیٰ سے خصوصی تعلق جوڑنے کا زرین موقع ہے ، اکثر انتشار و افتراق اور بسا اوقات لڑائی جھگڑ ے کی نذر ہو رہا ہے ۔ ایسے حالات میں اگر ہم کتاب و سنت کی طرف لوٹیں اور سلف صالحین و علماء سابقین کی فہم و فراست کی روشنی میں مسئلہ کو حل کرنا چاہیں تو یہ بآسانی حل ہو جائے گا۔ زیر مطالعہ کتابچہ میں اسی بات کی کوشش کی گئی ہے کہ اس مسئلہ کے بعض ان پہلوئوں کو سامنے لایا جائے جن کی طرف سے غفلت کا اس تنازعہ میں بہت حد تک عمل دخل ہے ۔ اس سلسلہ میں کوئی نئی بات نہیں پیش کی جارہی ہے اپنے اپنے وقت کے علماء نے جو باتیں بیان کی ہیں انہیں کی روشنی میں یہ رسالہ ترتیب دیا گیا ہے ۔ اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسئلہ کو حل کرنے کی طرف قدم بڑھانے کی توفیق بخشے گا ۔
مسئلہ کے متعلق تفصیلی گفتگو سے قبل چند وضاحتیں ضروری ہیں :
(۱) رؤیتِ ہلال کے مسئلہ میں فلکیات (Astronomy)کے حساب و کتاب کے مطابق روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے سلسلہ میں اہل علم کا یہ واضح موقف ہے کہ اللہ کے نبیﷺ نے چاند دیکھنے یا پچھلے ماہ کے چاند کے حساب سے تیس دن مکمل کرنے کا حکم دیا ہے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے رمضان کا تذکر ہ فرمایا تو آپ نے کہا ’’ لا تصوموا حتی تروا الھلال و لا تفطروا حتی تروہ فان غم علیکم فاقدروا لہ‘‘ ( متفق علیہ ) ترجمہ : تم لوگ روزہ شروع نہ کرو یہاں تک کہ چاند دیکھ لو ، اور روزہ ترک نہ کرو یہاں تک کہ اس کو دیکھ لو ، اگر وہ تم سے بادلوں میں چھپ جائے تو اس کا حساب کرلو ۔ لہذا اس مسئلہ میں ’’ رؤیت‘‘ سے ہٹ کر ’’ حساب ‘‘ پر اعتماد کرتے ہوئے فیصلہ کرنا شرعا درست نہیں ہے ۔ ( تفصیل کے لئے دیکھیں فتاوی اللجنۃ الدائمہ فتوی نمبر : ۳۸۶وغیرہ )
علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس مسئلہ پر امت کا اجماع نقل کیا ہے ۔ ( مجموع الفتاویٰ (۲۵/۱۳۲)
(۲) رؤیتِ ہلال کے مسئلہ میں اختلاف مطلع کا اعتبار کیا جائے یا اس کا اعتبار نہ کرتے ہوئے (توحید رؤیت کے مطابق ) سارے عالم اسلام میں ایک ساتھ رمضان اور عید کا اہتمام کیا جائے ۔ اس مسئلہ میں علماء نے دونوں کی تائید و تردید میں خوب لکھا ہے ۔ اس تحریر کا مقصد کسی ایک کی تائید یا تردید نہیں ہے ،جو اس پہلو سے استفادہ کرنا چاہتے ہوں وہ علماء کی لکھی مطول کتابوں کی طرف رجوع کریں ، اس رسالہ کا موضوع وہ صورت حال ہے جو پچھلے چند سالوں سے اس مسئلہ کو لے کر ہر رمضان کے وقت پیدا ہوتی ہے ۔
میں اللہ تعالیٰ کا شکر گذار ہوںاور جن بھائیوں نے اس رسالہ کی ترتیب میں تعاون کیا ، مسودہ کا مراجعہ او ر تبییض کی اورجن بھائیوں نے اس کی اشاعت کے سلسلہ میں تعاون کیا ان سب کے حق میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ سب کی کوششوں کو اپنے فضل خاص سے قبول فرمائے ۔ بے شک وہی سچا قدر دان ہے ۔

مسئلہ کی نوعیت /وضاحت
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

’’ یسئلونک عن الأھلۃ قل ھی مواقیت للناس و الحج ‘‘ ( البقرۃ : ۱۸۹)

ترجمہ: لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ یہ لوگوں ( کی عبادت) کے وقتوں اور حج کے موسم کے لئے ہے ۔
مزید فرمایا :

’’ ھو الذی جعل الشمس ضیاء و القمر نورا و قدرہ منازل لتعلموا عدد السنین و الحساب ما خلق اللہ ذٰلک الا بالحق یفصل الآیات لقوم یعلمون ‘‘ ( یونس : ۵۰)
ترجمہ: وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو نور انی بنایا اور اس کے لئے منزلیں مقرر کیں تا کہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کر لیا کرو ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں بے فائدہ نہیں پیدا کیں وہ یہ دلائل ان کو صاف صاف بتلا رہا ہے جو دانش رکھتے ہیں ۔
صحابی رسول ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

’’ ان الشمس و القمر آیتان من آیات اللہ ‘‘ ( بخاری مسلم )

ترجمہ : بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ۔
مذکورہ آیات و حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ چاند اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم مخلوق ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے کئی مقاصد وابستہ کئے ہیں ۔ ان مقاصد میں سے ایک عظیم مقصد ماہ و سال کا حساب و کتاب ہے ۔ شریعت مطہرہ میں کسی بھی مہینہ کے آغاز و اختتام کا حساب چاند کی رؤیت یا دنوں کی تعداد سے کیاجاتا ہے ۔
شریعت اسلامیہ میں مہینہ کے آغاز و اختتام کا صحیح حساب و کتاب بہت ضروری ہے ۔ اور مسلمانوں کی ایک شرعی ذمہ داری ہے ۔ کیونکہ شریعت مطہرہ کے کئی مسائل اس مسئلہ سے جڑے ہوئے ہیں ۔ عورتوں کی عدت، حج کا موسم، عاشوراء و عرفہ کا روزہ ، بچوں کی عمر کا حساب ( جس پر بعض حالات میں ان کے مکلف ہونے نہ ہونے کا دار و مدار ہے ) ایام بیض کے روزے ، عید الاضحی و ایام تشریق کی تعیین اور ان سب سے بڑھ کر ماہ رمضان کے آغاز و اختتام کا مسئلہ وغیرہ اسی بنیادی مسئلہ سے وابستہ ہیں ۔
رؤیتِ ہلال ( چاند کے دیکھنے ) کی اسی اہمیت کے پیش نظر شریعت نے و لی الأمر یعنی حاکمِ وقت یا اس کی نیابت میں قاضی کی ذمہ داریوں میں سے چاند کی رؤیت کا فیصلہ کرنا بھی شامل کیا ہے۔ سیاسہ شرعیہ کے موضوع پر لکھی گئی کتابوں میں اس کی صراحت موجودہے، چنانچہ محمود الجذبتی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے ’’ ثم لا بد للناس من نصب امام یقوم بمصالحھم من انصاف المظلوم من الظالم …و اقامۃ الأعیاد و الجمع و الحدود‘‘( الدرۃ الغراء فی نصیحۃ السلاطین و القضاۃ و الامراء ۱/۵)ترجمہ : پھر یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کا کوئی حاکم مقرر کیا جائے جو ان کے مصالح کا خیال رکھے جیسے ظالم سے مظلوم کو انصاف دلانا …عیدوں، جمعہ اور حدود کا قائم کرنا ۔
اور تاریخ اسلام میں یہی ہوتا آرہا ہے اور فقہاء نے اسی بنیاد پر کتب فقہ میں کئی مسائل بیان کئے ہیں جیسے رؤیت کے سلسلہ میں شہادت کس کی معتبر ہوگی، کتنے افراد کی مطلوب ہوگی وغیرہ ۔
چاند کے سلسلے میں یہ ایک حقیقت ہے کہ بیک وقت پوری دنیا میں اس کا دیکھا جانا ممکن نہیں ہے ۔ اسی لئے اس مسئلہ میں اختلاف ہوا کہ پوری دنیا کے لئے کسی بھی مقام کی ایک ہی رؤیت کافی ہوگی یا ہر علاقہ کے لوگ اپنے اپنے علاقہ میں چاند دیکھیں گے اور اسی کا اعتبار کریں گے ۔ !!!
ظاہر بات ہے کہ مذکورہ دونوں آراء میں سے جو رائے بھی راجح قرار پائے اس کا نتیجہ ان سارے احکام پر مرتب ہوگا جن کی طرف مختصراً اشارہ کیا گیا۔ مگر بالخصوص رمضان المبارک کی مناسبت سے یہ مسئلہ ہر سال اختلاف کا سبب بنتاہے ۔
فقہاء کے درمیان یہ اختلاف بہت قدیم ہے اور اس اختلاف کے باوجود امت میں انتشار کی وہ کیفیت پہلے نہیں دیکھی گئی جو آج کل بالخصوص جنوبی ہندوستان کے کئی ایک علاقوں میں دیکھی جارہی ہے ۔ ماضی میں دونوں قسم کی رائے رکھنے والے علماء کی ایک بڑی تعداد گذری ہے اور ان میں سے ہر ایک رائے کی تائید اور مخالف رائے کی تردیدمیں مضامین رسالے اور کتابیں لکھی جاتی رہی ہیں ۔ اور علمی بنیادوں پر سبھی کویہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ جس رائے کو دلائل کی بنیاد پر صحیح سمجھیں اختیار کر لیں ۔ لیکن انتشار و افتراق کی جو شکل ماضی قریب میں دیکھی گئی نہ تو یہ شرعا درست ہے اور نہ ہی امت مسلمہ جیسی زندہ قوم کے شایان شان ہے جس کے پاس کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ جیسے فیصلہ کن ذرائع موجود ہوں ۔
راقم کی نظر میں اس مسئلہ کے دو بنیادی پہلو ہیں جن کو نظر انداز کرنا ہی اس سارے قضیے کی بنیاد ہے اور ان پہلوؤں کو ملحوظ رکھنا ہی در اصل اس انتشار و اختلاف کے خاتمہ کا واحد ذریعہ ہے ۔ ماضی میں اکابر علماء نے ان پہلوئوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہی اختلاف کے باوجود انتشار سے خود کو اور امت کو بچائے رکھا تھا۔ لہذا ذیل میں ان دوپہلوئوں کو دو مسئلوں کی حیثیت سے واضح کیا جا رہا ہے ۔

پہلا مسئلہ
آغاز و اختتامِ رمضان کا فیصلہ کون کرے گا؟

رمضان کے آغاز و اختتام کا فیصلہ رؤیتِ ہلال ( چاند کے دیکھنے) پر موقوف ہوتا ہے ۔ رؤیت کے ثابت ہونے یا نہ ہونے کے سلسلے میں شریعتِ اسلامیہ کا یہ اصول رہا ہے کہ رؤیت عام ہو تو اختلاف کی گنجائش نہیں رہ جاتی مگر رؤیت عام نہ ہو ، مخصوص افراد نے دیکھا ہو یا مطلع ابر آلود ہوتو فیصلہ حاکمِ وقت یا اس کی نیابت میں قاضی شہر کرے گا۔ اسی لئے شریعت نے یہ اصول متعین کیا کہ رؤیت کی شہادت قاضی یا حاکم کے سامنے دی جائے ۔ اور اگر مسلمان کسی غیر مسلم حکومت کے تحت اقلیت یا اکثریت کی حیثیت سے رہ رہے ہوں تو حاکم وقت کے مسلمان نہ ہونے کی بنا پراس فیصلہ کا اختیار اس مرکز، جماعت یا کمیٹی کے حوالے ہو جاتا ہے جس کو مسلمانوں نے یہ اختیار سونپاہو۔
چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا:
’’ الصوم یو م تصومون ‘ و الفطر یوم تفطرون و الأضحی یوم تضحون ‘‘
( رواہ الترمذی و صححہ الألبانی)

ترجمہ : روزہ اس دن ہے جس دن تم سب روزہ رکھو، اور افطار (روزہ چھوڑنایا عید الفطر منانا) اس دن ہے جس دن تم سب افطار کرو ، اور عید قرباں اس دن ہے جس دن تم سب عید قرباں منائو ‘‘
شیخ ابو الحسن السندی مذکورہ حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
’’ ظاہراًاس کا معنی یہی ہے کہ اس جیسے معاملات (روزہ اورافطار) میں افراد کا کوئی دخل نہیں ہے ۔ ان کو اختیار نہیں ہے کہ ان معاملات میں انفرادی فیصلے کریں ، بلکہ یہ معاملہ امامِ وقت اور جماعت کے سپرد ہے اور افراد پر واجب ہے کہ وہ امام اور جماعت کے تابع رہیں ۔ ‘‘ ( حاشیۃ السندی علی ابن ماجہ )
علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
و قول النبیﷺ اذا رأیتموہ فصوموا و اذا رأیتموہ فافطروا والصوم من الوضح الی الوضح و نحو ذلک خطاب للجماعۃ ( مجموع الفتاویٰ ۲۵/۱۱۷)
ترجمہ: اللہ کے نبی کا یہ قول کہ جب تم اس ( چاند) کو دیکھو تو روزہ رکھو اور جب تم اس کو دیکھ لو تو افطار کرو اور چاند کے دکھائی دینے سے چاند کے دکھائی دینے تک روزہ رکھو اور اسی جیسے دوسرے اقوال میں خطاب جماعت سے ہے ۔
مذکورہ بالا حدیث اور اہل علم کی وضاحتوں کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ رمضان کے آغاز و اختتام کا فیصلہ ایک اجتماعی معاملہ سے متعلق فیصلہ ہے لہذا شریعت نے اسے امت کے افراد کے اختیار میں نہیں دیا ہے ۔ تلاشِ بسیار کے باوجودمجھے اہل علم میں سے کسی کا قول اس سلسلے میں نہیں ملا کہ فرد یا کوئی مخصوص جماعت جسے امت نے نمائندگی کا حق نہ دیا ہو رؤیت کے ثبوت یا اس کے نتیجہ میں رمضان کے آغاز یا اختتام کا فیصلہ کر سکتی ہے ۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے صرف ایک صورت کا تذکرہ کیا ہے ۔ فرماتے ہیں:
’’ …البتہ ایک ایسا آدمی جو کسی ایسے مقام پر ہو جہاں اس کے علاوہ کوئی اور نہ ہو تو وہ جب چاند دیکھے روزہ رکھ لے اس لئے کہ وہاں اس کے علاوہ کوئی اور موجود نہیں ہے ۔ ‘‘ ( مجموع الفتاویٰ ج۲۵/ ۱۱۷)
گویا یہ معاملہ عوام کا نہیں خواص کا ہے اور شریعت کا اس سے مقصود یہ ہے کہ رمضان اور عید الفطرو عید الاضحی مسلمانوں کی اجتماعی عبادات میں سے ہیں اور ان میں اجتماعیت کی بقاء اور انتشار سے احتراز کرنا ایک لازمی امر ہے ۔
یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ مذکورہ اصول کہ فیصلہ قاضی یا کمیٹی کرے گی اس مسئلہ میں بھی لاگو ہوتا ہے کہ رؤیت ہلال کے سلسلے میں اہل علم کے مذکورہ دونوں اقوال میں سے کس قول کا انتخاب کیا جائے ۔ افراد اپنے طور پر ان دونوں(توحیدِ رؤیتِ ہلال یا اختلاف مطلع کا اعتبار) میں اپنا فیصلہ نہیں لے سکتے ۔
سعودی عرب کی دائمی کمیٹی برائے فتویٰ و بحوث علمیہ کے پاس مالی ، سنغال وغیرہ جیسے افریقی ممالک سے یہ سوال آیا کہ وہ ریڈیو کی خبر کے ذریعے سعودی عرب کے چاند کا اعتبار کریں یا اپنے اپنے علاقوں کی رؤیت کا انتظار کریں؟؟ اس لئے کہ لوگ وہاں آپس میں شدید اختلاف کا شکار ہیں تو مذکورہ کمیٹی نے یہ تفصیلی فتویٰ دیا :
’’ چاند کے مطلع کا مختلف ہونا ان امور میں سے ہے جو عقلی و حسی طور پر مسلّم ہیں ۔ اس میں مسلمان اور غیر مسلم کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا ہے ۔ البتہ مسلمان علماء کے درمیان اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ ماہِ رمضان کے روزوں کے آغاز و اختتام کے موقعہ پر اس اختلافِ مطلع کا اعتبار کیا جائے کہ نہیں؟ اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ یہ مسئلہ ان (نظری) اجتہادی مسائل میں سے ہے جن میں اجتہاد کی گنجائش ہے۔ اسی لئے پرانے زمانے سے اب تک علماء اسلام کی اس مسئلہ میں دو رائے رہی ہیں۔ ان میں سے بعض ماہِ صیام کے آغاز و اختتام کے سلسلہ میں اختلاف ِمطلع کا اعتبار کرنے کے قائل ہیں اور بعض اس کا اعتبار نہیں کرتے ۔ ہر ایک فریق نے کتاب و سنت اور قیاس کی مختلف دلیلوں کا سہارا لیا ہے اور بسا اوقات دونوں فریق ایک ہی نص(آیت یا حدیث) سے استدلال کرتے ہیں ۔ جیسے ان آیات و احادیث کے ساتھ ہوا ’’ فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ‘‘ (البقرہ:۱۸۵)ترجمہ: تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزہ رکھنا چاہئے۔ ’’یسألونک عن الأھلۃ قل ھی مواقیت للناس و الحج‘‘ ( البقرہ:۱۸۹) ترجمہ: لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ یہ لوگوں کے وقتوں اور حج کے موسم کے لئے ہے ۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ حدیث کہ ’’ صوموا لرؤیتہ و أفطروا لرؤیتہ‘‘ ترجمہ: اس (چاند) کو دیکھ کر روزہ رکھو اور اس کو دیکھ کر روزہ چھوڑ و۔ ان کے علاوہ اور بھی آیات و احادیث ہیں ۔
اور ایسا دونوں فریق کے ان نصوص کو سمجھنے میں اختلاف اور ان سے استدلال کے انداز و طریقے میں اختلاف کی وجہ سے ہے ۔ ان علماء کے اس اختلاف کا ان کی اپنی حسن نیت اور ان میں سے ہر مجتہد کے دوسرے مجتہد کے اجتہاد کا احترام کرنے کی وجہ سے ماضی میں کوئی ایسا برا اثر مرتب نہیں ہوا جس کے انجام کا ڈر ہو۔ اب جب اس مسئلہ میں ائمہ فقہ میں سے سابقین نے اختلاف کیا ہے اور ہر ایک کے پاس اپنے دلائل ہیں تو آپ لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ آپ تک ریڈیو یا کسی اور ذریعہ سے اپنے مطلع کے علاوہ کسی اور جگہ کے چاند کی رؤیت کی خبر پہونچے تو آپ لوگ روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا معاملہ اپنے ملک کے حکمران پر چھوڑ دیں ، وہ روزہ رکھنے یا چھوڑنے کا جوبھی فیصلہ کرے آپ لوگوں پر اس کی اطاعت واجب ہے ۔ اس لئے کہ اس قسم کے مسائل میں حاکم کا فیصلہ جھگڑے اور نزاع کے خاتمہ کا ذریعہ ہے ۔ اس طرح اپنے ملک کے حکمران کے فیصلہ کے مطابق روزہ رکھنا یا چھوڑنا آپ کے اندر اتفاق پیدا کر دے گا اور پیش آمدہ مشکل ختم ہوجائے گی ۔ ( فتاویٰ اللجنۃ الدائمہ ، فتویٰ نمبر ۳۱۳)
مذکورہ کمیٹی اپنے ایک اور فتویٰ میں مزید یہ وضاحت کرتی ہے کہ :
’’ اگر ان کے اپنے علاقہ کا حکمران مسلمان نہ ہو تو یہ لوگ اس فیصلہ کے مطابق عمل کریں گے جو ان کے اپنے ملک کے اسلامی مرکز کی کمیٹی کرے ‘‘ ( فتاویٰ اللجنۃ الدائمہ،فتویٰ نمبر ۳۱۹)
گویا یہ بات طے ہے کہ اس اجتماعی عبادت میں اللہ تعالیٰ نے عام مسلمانوں کو حاکم وقت یا قاضی یا اس جماعت کے تابع رکھا ہے جن کے حوالے فیصلہ کا اختیار کیا گیا ہے لہذا اہل علم کو چاہئے کہ اگر وہ عام مسلمانوں یا امت کی طرف سے اس کمیٹی یا مقام پر فائز نہ کئے گئے ہوں تو اپنے اجتہادات کو عوام میں پھیلا کر انتشار کی فضا کو عام نہ کریں ۔ صحابہ کرام میں ایسی بے شمار مثالیں ملتی ہیں کہ اجتہادی مسائل میں اگر انہیں کسی موقف سے اختلاف ہوتا تو اجتماعی مسائل میں وہ اپنی رائے دے کر انتشار پیدا کرنے سے بچتے تھے ۔ اور اگر اہل علم میں سے کوئی اس قسم کی رائے ظاہر کر بھی دے تو عوام کو چاہئے کہ وہ اس نکتہ کو ملحوظ رکھیں کہ شریعت نے انہیں اس قسم کی اجتماعی عبادات میں افراد کے اجتہاد کا نہیں بلکہ حاکم وقت یا قاضی کا پابند کیا ہے ۔

دوسرا مسئلہ

اس موضوع کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ حاکمِ وقت یا قاضی کا فیصلہ اس رائے کے خلاف ہو جو دلائل کی روشنی میں ایک فرد نے اپنائی ہو اور اسے صحیح سمجھتا ہو تو شریعت مطہر ہ اس شخص کو کیا ہدایت دیتی ہے ؟
یعنی ایک شخص رؤیتِ ہلال کے مسئلہ میں اختلاف مطلع کے اعتبار کا قائل ہو اور حاکم وقت توحیدِ رؤیت کے مطابق فیصلہ کر دے یا اس کے بالکل بر عکس آدمی توحید رؤیت کا قائل ہو اور حاکم وقت کسی جگہ چاند نظر آجانے کے باوجود اختلاف مطلع کا اعتبار کرتے ہوئے رمضان کے آغاز یا اختتام کا فیصلہ نہ کرے جیسا کہ ہندوستان میں عملا ہو رہا ہے ۔ تو آدمی کیا کرے ؟؟؟یہ وہ سوال ہے جس کا صحیح جواب دلائل کی روشنی میں تلاش کرنا از حد ضروری ہے ۔
یہ انتہائی غلط بات ہے کہ دلائل کی روشنی میں توحید رؤیت یا اختلاف مطلع کا اعتبار ان دونوں آراء میں سے کسی ایک کو راجح سمجھ لیا جائے یا علماء کی طرف سے ترجیح عوام کے سامنے بیان کر دی جائے اور مسئلہ کے اس دوسرے رخ سے متعلق کتاب و سنت اور سلف صالحین کی تصریحات کو نظر انداز کر دیا جائے ۔
ہندوستان میں جہاں بھی توحیدِ رؤیت ہلال کے سلسلے میں بات کی گئی یہی غلطی دہرائی گئی ہے ۔ اس مخصوص صورت حال میں کتاب و سنت سے کیا رہنمائی ملتی ہے اور اہل علم کی تصریحات کیا بتلاتی ہیں اس طرف ذرہ برابر توجہ نہ دی گئی۔ اس چیز نے عوام کے اندر بے چینی اور انارکی پیدا کی ، غیروں کے سامنے اسلام اور مسلمانوں کی جگ ہنسائی ہوئی اور اسی کے نتیجہ میں لوگ اس عبادت کے سلسلے میں انتشار کا شکار ہوئے اور ہر کسی نے من مانے طریقے اپنانے شروع کر دیئے ۔ چنانچہ کوئی عام مسلمانوں سے ہٹ کر رمضان کا آغاز و اختتام کرتا ہے ، کوئی آغاز ہٹ کر کرتا ہے اور عید عام مسلمانوں کے ساتھ کرتا ہے ، کوئی آغاز و اختتام دونوں میں ایک سال عام مسلمانوں سے ہٹ کر اور دوسرے سال عام مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوتا ہے ، اور اکثر ایسے بھی ہیں جو آغاز و اختتام تو عام مسلمانوں کے ساتھ ہی کرتے ہیں مگر بے اطمینانی سے دو چار اور اپنی عبادتوں کے سلسلے میں غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ کیا ان میں سے ہر ایک نے جو بھی طریقہ اپنایا ہے کتاب و سنت سے اس سلسلے میں رہنمائی لی؟ یا مسئلہ کو جزوی طور پر کتاب و سنت اور اہل علم کی تصریحات کی روشنی میں حل کیا جس رائے کو دلائل کی روشنی میں صحیح سمجھا اپنا لیا اور پھر مخالف صورت حال میں اپنی اپنی صوابدید کے مطابق کوئی ایک صورت اپنے لئے متعین کر لی۔
مشاہدہ سے پتہ چلتا ہے کہ دوسری ہی بات درست ہے اور اگر بات ویسی ہی ہے تو ظاہر ہے کہ یہ دین نہیں ہے اور اس غلطی کا ذمہ دار بھی وہ فرد خود ہی ہے ، شریعت مطہرہ اس کی ذمہ دار نہیں ہے اس لئے کہ شریعت نے رہنمائی کردی ہے ۔ اب یہ لوگوں پر ہے کہ وہ اس کی طر ف لوٹتے ہیں یا :
من الذین فرقوا دینھم و کانوا شیعا(کل حزب بما لد یھم فرحون) ‘‘ (الروم ۳۲)

ترجمہ: ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے اور خود بھی گروہ گروہ ہوگئے ۔ ہر گروہ اس چیز پر جو اس کے پاس ہے اترا رہا ہے ۔
کے مصداق مست و مگن رہتے ہیں ۔
کتاب و سنت اور علماء راسخین کی تحریروں کا جائزہ لیتے ہیں تو اس سلسلے میں ہمیں مکمل رہنمائی ملتی ہے ۔ ذیل میں ایسی کئی ایک باتیں حوالۂ قرطا س کی جارہی ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ شریعت نے افراد کو انفرادی طور پر رمضان کی مختلف عبادتوں (روزہ ، تراویح ، اعتکاف ، لیلۃ القدر) کی جستجو یا عید منانے کے مسئلہ میں اپنی اپنی رائے اور اجتہاد پر عمل پیرا ہونے کے بجائے حاکمِ وقت ، قاضی یا ان کے قائم مقام کمیٹی کے فیصلہ کے تابع رہنے اور اجتماعیت کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے ۔
(۱) سب سے پہلی چیز جو اس پر دلالت کرتی ہے وہ پچھلے صفحات میں بیان کر دہ مسئلہ کہ فیصلہ کا اختیار عوام کو نہیں ہے ۔ ظاہر بات ہے کہ اس حکم کا مقصد ہی یہ ہے کہ افراد اپنے اجتہادات سے اوپر اٹھ کر اس کمیٹی کے فیصلہ کے تابع رہیں ورنہ یہ ایک بے مقصد ہدایت ہوگی کہ مسلمانوں کی جماعت کا فیصلہ ایک کمیٹی کے اختیار میں دیا جائے اور افراد کو یہ آزادی دے دی جائے کہ وہ اس کے فیصلے کو قبول یا رد کرتے رہیں ۔ یہ کارِ عبث ہوگا جس سے شریعت مطہر ہ بری ہے ۔ اس کی مزید وضاحت اگلے نکتہ سے ہوتی ہے ۔
(۲) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث جس کا پچھلے صفحات میں ذکر ہوا اس بات کی سب سے واضح دلیل ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
’’ الصوم یوم تصومون و الفطریوم تفطرون و الأضحی یوم تضحون ‘‘ (رواہ الترمذی و صححہ الالبانی)

روزہ اس دن ہے جس دن تم سب روزہ رکھو اور افطار (عید منانا ) اس دن ہے جس دن تم سب افطار کرو اور عید قرباں اس دن ہے جس دن تم سب عید قرباں منائو۔
مذکورہ حدیث کی شرح میں اہل علم کے جو اقوال وارد ہیں ان سب سے پتہ چلتا ہے کہ افراد کو اپنے اجتہاد یا مسئلہ میں اپنی رائے کو بر قرار رکھتے ہوئے بھی جماعت سے الگ نہیں ہونا چاہئے بلکہ اکثر اہل علم نے یہ لکھا ہے کہ اس حدیث کی اصل دلالت ہی یہ ہے کہ افراد کی رائے کا اعتبار نہ کیا جائے ۔بلکہ جماعت کے ساتھ رہا جائے ۔
امام ترمذی نے اس حدیث کو باب کا مستقل عنوان بنایا ہے ۔(باب الصوم یوم تصومون والفطر یوم تفطرون و الاضحی یوم تضحون)
اس سے متعلق شارح ترمذی انور شاہ کشمیری تحریر کرتے ہیں:
’’ لا أعلم وجہ تبویب المصنف ھذا الباب فان مسألۃ اختلاف المطالع مرت سابقا اللھم الا أن یقال أن الغرض أن الیوم الذی وقع الفطر فیہ بحکم الشریعۃ ھو یوم الفطر فی الواقع و لا یجوز تطریق الوساوس و الأوھام الباطلۃ بل یوافق فیہ الجمہور و کذلک الحکم فی الاضحی ‘‘ ( العرف الشذی ۲/۲۲۵)ترجمہ : مصنف نے یہ باب کیوں باندھا ہے سمجھ میں نہیں آتا کیونکہ اختلاف مطلع کا مسئلہ اس سے قبل گذر چکا ہے ۔ الا یہ کہ یہ کہا جائے کہ شریعت کے احکام کے مطابق عمل کرتے ہوئے جس دن عید الفطر منالی جائے وہی حقیقت میں عید الفطر کا دن ہوگا اور اس سلسلے میں مختلف وسوسوں اور بے کار کے وہم کا دروازہ نہیں کھولا جائے گا بلکہ اس معاملہ میں جمہور کی موافقت کی جائے گی ۔ اور یہی مسئلہ عید الاضحی کا بھی ہے ۔
خود امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے روایت کرنے کے بعد بعض متقدمین اہل علم سے یہ قول نقل کیاہے کہ:
’’ اس حدیث کا مفہوم ہی یہ ہے کہ روزہ کا آغاز اور اختتام جماعت اور لوگوں کی اکثریت کے ساتھ ہوگا۔ (ترمذی باب ما جاء الصوم یوم تصومون۔۔۔۔۔۳/۷۹)
امام صنعانی نے بھی مذکورہ حدیث اور قول کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:
’’ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ عید کے ثبوت کے سلسلے میں لوگوں کی موافقت کا اعتبار کیا جائے گا اور ایسا شخص جو رؤیت کے ذریعہ اپنے طور پر عید کے دن کا پتہ لگا لیتاہے اس پر بھی واجب ہے کہ وہ دوسروں کی موافقت کرے اور نماز ، عید الفطر اور عید الاضحی منانے میں جو حکم عام لوگوں کا ہوگا اس شخص پر بھی وہی لازم ہوگا۔ ( سبل السلام شرح بلوغ المرام ۲/۶۳) اور یہی بات مناوی نے التسیر شرح الجامع الصغیر (۲/۲۰۸)اور صاحب تحفۃ الاحوذی علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ نے بھی ذکر کی ہے ۔(۳/۳۱۲،۳۱۳)
(۳) مذکورہ مسئلہ کی تائید حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایک اثر سے بھی ہوتی ہے ۔ امام بیہقی نے اپنی سنن میں ایک باب با ندھا ہے ’’ باب القوم یخطئون فی رؤیۃ الھلال ‘‘ یعنی باب ان لوگوں کا مسئلہ بیان کرنے کے لئے جو چاند دیکھنے میں غلطی کر بیٹھیں ۔ اور اس میں یہ واقعہ نقل کیا ہے:
عرفہ کے دن مشہور تابعی حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس پہنچے (یہ حج میں نہیں تھے ) عائشہ رضی اللہ عنہا کو پتہ چلا کہ انہوں نے عرفہ کا روزہ نہیں رکھا ہے ۔(اس ڈر سے کہ چاند دیکھنے میں غلطی ہوئی ہے اور یہ عید کا دن ہے)تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا مسروق کو ستو گھول کر پلائو اور اس میں میٹھا خوب ڈالو ( یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا ان کے فعل پر نکیر کر رہی تھیں ) تو مسرو ق نے عذرپیش کیا اور کہنے لگے کہ آج کے دن روزہ رکھنے سے مجھے صرف اس بات نے باز رکھا کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں آج عید کا دن نہ ہو ( اور عید کے دن روزہ رکھنا حرام ہے ) تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ :’’ النحر یو م ینحر الناس و الفطر یوم یفطر الناس ‘‘ ترجمہ : عید قرباں اس دن ہے جس دن لوگ عید قرباں منائیں اور عید الفطر اس دن ہے جس دن سب لوگ عید منائیں ۔ ( السنن الکبریٰ للبیہقی :۴/۲۵۲)
مذکورہ اثر سے جہاں جماعت کی موافقت کا حکم معلوم ہوتا ہے وہیں اس اشکال کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ چاند کہیں بھی دیکھ لیا جائے تو دوسرا دن عید کا ہو گا اب اگر کسی اور علاقہ کے لوگ اس دن روزہ رکھتے ہیں تو ان کا روزہ عید کے دن کا روزہ ہے جو کہ حرام ہے ۔ مذکورہ اثر سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ جماعت نے جب اس دن کو عید کا دن نہیں سمجھا ہے تو وہ ان لوگوں کے حق میں عید کا دن نہیں ہوگا۔
اس بات کی تائید امام خطابی کے بیان کردہ اس مسئلہ سے بھی ہوتی ہے کہ حج میں وقوف عرفہ ہی اصل ہے اور وقوف عرفہ ۹ ذی الحجہ کو ہوتا ہے ۔ اگر سارے لوگ غلطی سے ۹ کے بجائے ۸ یا ۱۰ذی الحجہ کو وقوف کر لیں تو ان کا حج صحیح ہوگا کہ نہیں ؟ تو جواب دیا گیا ہے کہ ان کا حج صحیح ہوگا۔ (تحفۃ الاحوذی ج۳/۳۱۲)
(۴)اس مسئلہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آیت :
’’ یسئلونک عن الأھلۃ قل ھی مواقیت للناس و الحج ‘‘ ( البقرۃ : ۱۸۹)

ترجمہ: لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ یہ لوگوں ( کی عبادت) کے وقتوں اور حج کے موسم کے لئے ہے ۔
اور
فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ (البقرۃ :۱۸۵)

تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزہ رکھنا چاہئے ۔
میں ’’ہلال‘‘ سے مراد کیا ہے ؟ اور ’’شھر‘‘ کب شروع ہوتا ہے ؟ علامہ ابن تیمیہ نے اس سلسلہ میں علماء کے نقطۂ نظر کو بیان کرنے کے بعد یہ لکھا ہے کہ ’’ھلال‘‘صرف پہلی رات کے چاند کو نہیں بلکہ اس چاند کو کہتے ہیں جس کو دیکھ کر لوگ دعا یا ایک دوسرے کو خبر دینے کے لئے آواز بلند کریں اس لئے کہ ’’اھلال‘‘ کا معنی آواز بلند کرنا ہے اور چاند کو ہلال اسی مناسبت سے کہا جاتا ہے اور ’’شھر‘‘ یعنی مہینہ کا آغازبھی اسی وقت ہوگا جب اس کے آغاز کی لوگوں میں شہرت ہوگی ۔ لہذا صحیح بات یہ ہے کہ اگر فردیا کچھ افراد خواہ وہ دس ہی کیوں نہ ہوں چاند دیکھ لیں لیکن ان کی شہادت رد ہو جائے تو اس رؤیت کے بارے میں یہ نہیں کہا جائے گا کہ ’’ھلال‘‘ کی رؤیت ہوئی ہے ۔ اور جب لوگوں کے اندر مہینہ کے آغاز کی شہرت نہ ہو تو ’’شھر‘‘ کی ابتداء بھی نہیں ہوئی ۔ ( دیکھیں: مجموع الفتاویٰ ۲۵/۱۱۷)
گویا علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے نزدیک مذکورہ بالا آیتوں میں لفظ ’’ ھلال‘‘ اور ’’شھر‘‘ بھی اس مسئلہ میں اجتماعیت کی رعایت کا ثبوت ہیں ۔
(۵) اجتماعیت کا خیال رکھنے اور اپنی عبادت کو مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ انجام دینے کی تائید فقہاء کے ذکر کردہ ایک اورمسئلہ سے بھی ہوتی ہے ۔ اور یہ مسئلہ بہت حد تک ان حالات سے مشابہت رکھتا ہے جن کا سامنا ہم لوگوں کو اکثر کرنا پڑتا ہے کہ قریب کے علاقوں میں عید اور رمضان کی خبر ملتی ہے مگر اپنے علاقہ کا قاضی یا کمیٹی فیصلہ نہیں کرتی ۔
فقہاء نے اس آدمی کے بارے میں جس نے خود اپنی آنکھوں سے چاند کو دیکھا ہو مگر قاضی وقت نے اس کی شہادت کو قبول نہیں کیا ہو تو ایسے شخص کے متعلق اختلاف کیا ہے کہ اس کی شہادت سے دوسروں پر تو حکم لاگو نہیں کیا گیا لیکن فی نفسہ وہ شخص کیا کرے گا۔؟ وہ روزہ رکھے گا کہ نہیں ؟ اس سلسلہ میں تین قول منقول ہیں :
(۱) آغاز و اختتام رمضان دونوں میں روزہ رکھ لے گا اور چھوڑ دے گا مگر خفیہ طور پر، لوگوں کے سامنے ظاہر نہیں کرے گا۔
(۲) آغاز اپنے طور پر کر لے سکتا ہے مگر اختتام اور عید عام مسلمانوں کے ساتھ ہی کرے گا
(۳) روزہ رکھنے اور روزہ چھوڑنے دونوں میں لوگوں کے ساتھ رہے گا۔
علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ مذکورہ تینوں اقوال کو ذکر کرنے کے بعد تیسرے قول کے متعلق فرماتے ہیں:
’’ و ھذا أظہر الأقوال لقول النبی صلی اللہ علیہ و سلم ’’ صومکم یوم تصومون و فطرکم یو تفطرون و اضحاکم یوم تضحون ۔‘‘ ( مجموع فتاویٰ ۲۵/۱۱۷) یعنی ان تینوں اقوال میں سب سے صحیح قول تیسرا ہے اللہ کے نبی کی اس حدیث کی وجہ سے ۔
شیخ ابوالحسن سندی نے بھی مذکورہ حدیث کی شرح میں یہ لکھنے کے بعد کہ فیصلہ افراد کے اختیار میں نہیں ہوتا لکھا ہے:
و علیٰ ھذا فاذا رأی أحد الھلال و رد الامام شہادتہ ینبغی أن لا یثبت فی حقہ شيء من ھذہ الأمور و یجب علیہ ان یتبع الجماعۃ فی ذلک ‘‘ ( حاشیۃ السندی علی ابن ماجہ ) یعنی جب یہ طے ہے کہ معاملہ افراد کے اختیار میں نہیں ہے تو ایک ایسا شخص جس نے اکیلے چاند دیکھا ہو اور امام نے اس کی گواہی رد کر دی ہو تو ہونا تو یہی چاہئے کہ اس شخص پر ان احکام میں سے کوئی حکم لاگو نہ ہو اور اس پر یہ واجب ہوگا کہ وہ اس معاملہ میں جماعت کے تابع رہے ۔
علامہ البانی رحمہ اللہ سندی کی مذکورہ بات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں ’’ و ھذ المعنی ھو المتباد ر من الحدیث ‘‘ ( السلسلۃ الصحیحۃ ۹/۲۲۳) یعنی حدیث کا یہی معنی سمجھ میں آتا ہے ۔
اگر مذکورہ مسئلہ کو ہم اپنے حالات سے مشابہ قرار دے لیں تو مزید یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ مسلمانوں کی جماعت سے ہٹ کر علی الاعلان رمضان کا آغاز اور عید الفطر کا اہتمام کرنا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ایسا نہ کرنے والوں کو گمراہ قرار دینا اور لوگوں تک پہنچ کر ان کو روزہ رکھنے یا توڑنے کے لئے دبائو ڈالنا یا عید الاضحی میں عام مسلمانوں سے ایک دن قبل قربانی دے کر گوشت تقسیم کرتے پھرنایہ سب وہ صورتیں ہیں جن کا اہل علم میں سے کوئی قائل نہیں ہے ۔ اہل علم کی تصریحات میں زیادہ سے زیادہ اس بات کی گنجائش ہے کہ خفیہ طور پر آدمی روزہ رکھ لے یا چھوڑ دے مگر عام مسلمانوں کے سامنے ان کی طرح بنا رہے ۔
ایک اشکال :
یہاں یہ اشکال پیدا ہو سکتا ہے اور عملًا پیدا کیا بھی گیا کہ شریعت میں اکثریت کسی مسئلہ کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں ہو سکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’ و ان تطع أکثر من فی الأرض یضلوک عن سبیل اللہ ‘‘ ( الانعام : ۱۱۶)

ترجمہ : اور دنیا میں زیادہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کا کہنا ماننے لگیں تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بے راہ کریں گے
یہ بات بالکل بجا ہے کہ اکثریت کسی بھی مسئلہ کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں ہو تی مگر جن مسائل میں شریعت نے خود اکثریت کا اعتبار کرنے یا اجتماعیت کا ساتھ دینے کا حکم دیا ہو ۔ جیسا کہ خود زیر بحث مسئلہ ہے وہاں جماعت کا ساتھ دینا شرعا مطلوب ہے ۔ اسی حقیقت کے پیش نظر اہل علم نے اس باب میں جو بھی فتویٰ دیا اس اجتماعیت کے پہلو کو ملحوظ رکھا ہے ۔
علامہ البانی رحمہ اللہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے مذکورہ اثر کا تذکرہ کرنے کے بعد جماعت کے ساتھ رہنے کی تاکید کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
یہی بات اس آسان شریعت کے شایانِ شان ہے جس کے مقاصدمیں لوگوں میں اجتماعیت کا احساس جگانا، ان کی صفوں کو متحد کرنا ، اور انہیں ان انفرادی آراء سے دور کرنا شامل ہے جو ان کی اجتماعیت کو پارہ پارہ کردیں ۔ اسی لئے شریعت کسی بھی اجتماعی عبادت میں جیسے روزہ ، عید اور نماز با جماعت ، فرد کی رائے کا اعتبار نہیں کرتی ہے اگر چہ وہ رائے اس کی اپنی نظر میں درست ہی کیوں نہ ہو۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ صحابہ کرام آپس میں ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے حالانکہ ان میں سے بعض اس کے قائل تھے کہ عورت یا شرمگاہ کو چھولینا اور خون کا خارج ہونا وضو ء کو توڑنے والی باتوں میں سے ہیں ۔ جبکہ ان میں سے بعض اس کے قائل نہیں تھے ۔ اسی طرح ان میں سے بعض سفر میںپوری نماز پڑھتے اور بعض قصر کرنے کے قائل تھے ۔ مگر ان کا یہ یا اس جیسا اختلاف ان کے ایک ہی امام کے پیچھے نماز پڑھنے کے لئے اکٹھا ہو جانے اور اس نماز کو صحیح سمجھنے میں مانع نہیں تھا۔ اور یہ اس لئے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ دین میںگروہ بندی کا شکار ہوجانا رائے کے اختلاف سے زیادہ برا ہے
ان میں سے بعض صحابہ کا معاملہ تو یہ تھا کہ منٰی جیسے عظیم اجتماع کے موقع پر وہ امام وقت کی رائے کی مخالف رائے کا شمار نہ کرنے کے معاملہ میں یہاں تک خیال رکھتے تھے کہ اس عظیم اجتماع میں اپنی رائے کے مطابق عمل کرنا مطلقاً ترک کر دیتے ان برے نتائج سے ڈرتے ہوئے جو اپنی رائے پر عمل کرنے کے نتیجہ میں پیدا ہو سکتے ہیں ۔
چنانچہ امام ابوداود (۱/۳۰۷) نے روایت کیا ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے منٰی میں چار رکعت نماز پڑھائی تو عبد اللہ بن مسعود نے ان پر نکیر کرتے ہوئے کہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ دو ہی رکعت پڑھی ، ابو بکر کے ساتھ دو ہی پڑھی ، عمر کے ساتھ دو ہی پڑھی پھر عثمان کے ساتھ بھی ان کی خلافت کے آغاز میں دو ہی پڑھی پھر عثمان نے اتمام کرنا (مکمل چار رکعت پڑھنا ) شروع کر دیا ۔ پھر تم الگ راستوں پر چل پڑے ۔ میری تو تمنا یہ ہے کہ چار رکعات کے مقابلہ دو ہی رکعت اللہ قبول کر لے تو کافی ہے ۔ پھر عبد اللہ بن مسعود نے اس کے بعد چار رکعت پڑھ لی ۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے تو عثما ن پر اعتراض کیا کہ وہ چار پڑھنے لگے ہیں ؟ ( پھر آپ نے کیوں پڑھی) تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اختلاف بری بات ہے ۔ ( سندہ صحیح ) اور امام احمد نے ایسی ہی بات ابو ذر رضی اللہ عنہ سے بھی نقل کی ہے ۔ ( السلسلۃ الصحیحہ ۱/۲۲۳۔۲۲۴)
(۶) زیر بحث مسئلہ میں اس بات کی تائید کہ انفرادی اجتہاد کے بجائے جماعت کے فیصلہ کے تابع رہا جائے اس بات سے بھی ہوتی ہے محققین اہل علم میں سے جو توحید رؤیت کے قائل ہیں اور اختلاف مطلع کے اعتبار کو دلیل سے عاری ایک قول قرار دیتے ہیں ان میں سے تقریبا ًسبھی نے اپنے فتوؤں اور تحریروں میں اس مسئلہ پر تنبیہ کی ہے کہ مقامی مسلمان اگر اس رائے سے اتفاق نہ کر رہے ہوں تو مقامی مسلمانوں سے اختلاف نہ کیا جائے ۔
(۱) علامہ البانی رحمہ اللہ توحید رؤیت کے مسئلہ کو ترجیح دینے کے بعد لکھتے ہیں:
’’ اور جب تک مسلم حکومتیں اس پر اتفاق نہیں کر لیتیں میں یہی صحیح سمجھتا ہوں کہ ہر ملک کی مسلم آبادی اپنے ہی ملک کے حساب سے روزہ رکھے اور آپس میں منقسم نہ ہو جائیں اس طرح کہ ان میں سے بعض اپنے ملک کے حساب سے روزہ رکھیں اور بعض دوسروں کے ساتھ جو اپنے روزوں میں ان سے پہلے یا بعد میں ہیں ۔ اس لئے کہ اس میں ایک ہی قوم میں اختلاف کا دائرہ مزید وسیع ہوجاتا ہے ۔ جیسا کہ کچھ سالوں سے بعض عرب ممالک میں ہو رہا ہے ۔ واللہ المستعان ۔ ( تمام المنۃ ۱/۳۹۸)
علامہ البانی نے جس صورت حال پر اپنے افسوس کا اظہار کیا ہے وہی صورت حال ہندوستان میں در پیش ہے ۔
(۲) سابق مفتی سعودی عرب شیخ ابن با ز رحمہ اللہ نے بھی جو کہ دلائل کی روشنی میں توحید رؤیت کے قائل ہیں اور ان کے ساتھ سعودی عرب کی دائمی کمیٹی برائے فتویٰ و بحوث علمیہ نے بھی یہی فتویٰ جاری کیا ہے ۔ :
’’ یجب علیھم ان یصومو ا مع الناس و یفطرو مع الناس و یصلو العیدین مع المسلمین فی بلادھم ‘‘ ( فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ و الافتاء : ۱۰/۹۴) یعنی ان لوگوں پر واجب ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ روزہ رکھیں اور لوگوں کے ساتھ روزہ چھوڑ یں اور اپنے ملک کے مسلمانوں کے ساتھ ہی عیدین کی نماز پڑھیں ۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جن لوگوں نے توحید رؤیت کے اثبات کے لئے ان اہل علم کی رائے سے استفادہ کیا اور اس کے حوالے بھی دیئے انہوں نے اس دوسرے پہلو کو بالکل نظر انداز کر دیا حالانکہ اکثر ان کے فتاویٰ اور تحریروں میں دونوں باتیں ساتھ ساتھ ذکر کی جاتی ہیں ۔
یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ دوہرا معیار کیوں ہے کہ توحید رؤیت کے اثبات کے لئے تو ان کی رائے معتبر تھی ان کی علمی تحقیق پر اعتماد تھا لیکن اسی موضوع کے دوسرے پہلو میں وہ غیر معتبر ہو کر رہ گئے اور ان کی علمی تحقیق ناقابل التفات بن کر رہ گئی !!کیا وہ مسئلہ کے ایک پہلو میں متبع سنت تھے اور دوسرے پہلو میں تارک سنت ہو گئے ؟؟‘‘ و ان تعجب فعجب قولھم ‘‘(الرعد :۵) ترجمہ :اور اگر تجھے تعجب ہو تو واقعی ان کا یہ کہنا عجیب ہے ۔
(۷) روزہ جیسی اجتماعی عباد ت میں اجتماعیت کا خیال رکھنے کی تائید میں بعض اہل علم نے اپنے فتاویٰ میں یہاں تک رعایت کی کہ مہینہ کی حدود کو بھی نظر انداز کرنے کی تاکیدکردی ۔ یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ عربی مہینہ ۲۹یا ۳۰ دن کا ہوتا ۔ اسی سلسلے میں کسی نے سابق مفتی سعود ی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے استفسار کیا کہ اس نے سعودی عرب میں رمضان کا آغاز کیا ہے اور اسی ماہ کے دوران وہ اپنے ملک واپس ہو رہا ہے جہاں کہ لوگوں نے سعودی عرب کے ایک دن بعد رمضان شروع کیا ہے تو شیخ نے جواب دیا :
’’ جب آپ لوگوں نے سعودی عرب یا کسی اور علاقہ میں رمضان کا آغاز کیا ہو پھر بقیہ مہینہ اپنے ملک میں روزہ رکھ رہے ہوں تو آپ لوگ اپنے ملک کے لوگوں کے ساتھ ہی روزہ چھوڑ یں ۔ اگر چہ روزوں کی تعداد تیس سے زائد ہو جائے ۔ اللہ کے نبی کے اس قول کی وجہ سے ’’ روزہ اس دن ہے جس دن تم سب روزہ رکھو اور افطار اس دن ہے جس دن تم سب افطار کرو ۔ ‘‘ اور اگر مہینہ پورے ۲۹ دن کا مکمل نہ ہوسکا ہو تو اس تعداد کو پورا کر لو ۔ اس لئے کہ مہینہ ۲۹دن سے کم کا نہیں ہوتا ۔ ( مجموع فتاویٰ ابن باز ۱۵/۱۵۵)
شیخ ابن باز نے اپنے دوسرے فتوی میں صراحت کی ہے کہ ایسا کرنے سے اگر سعودی عرب میں روزے ۲۹اور اس کے اپنے ملک میں ۳۰ہوں تو کوئی فر ق نہیں پڑتا اور اگر ۳۱روزہ ہوتے ہوں تو ۳۱ویں دن نفل روزہ کی نیت کر لے اس لئے کہ مہینہ ۳۰دن سے زیادہ کا نہیں ہوتا۔ (فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ فتویٰ نمبر ۵۰۸۴)
اس قسم کا فتویٰ سعودی عرب کی دائمی کمیٹی برائے فتویٰ و بحوث علمیہ نے بھی دیا ہے ۔ (فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ فتویٰ نمبر ۲۶۶۵)
متقدمینِ اہل علم کی تصریحات کی روشنی میں یہ کچھ باتیں تھیں جن سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ جماعت کی موافقت ہی شرعا مسلمانوں سے مطلوب ہے لہذا رمضان یا اس کی عبادتوں میں سے کسی بھی عبادت میں عام مسلمانوں سے ہٹ کر اہتمام کرنا شرعا غلط اور ناقابل قبول ہے ۔

چند اشکالات

اس موضوع سے متعلق کچھ اشکالات جو عام طور پر لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جن کی وجہ سے آدمی صحیح بات قبول کرنے سے رک جاتا ہے ذیل میں درج کئے جارہے ہیں ۔ حالانکہ جو مسئلہ دلائل اور اہل علم کے اقوال کی روشنی میں واضح ہو جائے اسے قبول کرلینا چاہئے۔اشکالات کو بنیاد بنا کر مسئلہ ہی کو رد کر دینے کے بجائے طریقہ یہ ہونا چاہئے کہ مسئلہ کو قبول کر لیں اور اشکالات اہل علم سے حل کروائیں یا ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں ۔
(۱)سب سے پہلا اشکال یہ ہے کہ اگر جماعت کی موافقت کر لی جائے تو پھر لیلۃ القدر کا مسئلہ کیسے حل ہوگا ؟اس لئے کہ یہ بات طے ہے کہ یہ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ہوگی ۔ مگر اس اختلاف سے وہ جفت راتوں میں آجائیگی۔
اس سلسلہ میں پہلی بات تو یہ ہے کہ جماعت کی موافقت کا حکم اپنے نبی کی زبانی اسی رب ذو الجلا ل نے دیا ہے جس نے لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کا حکم دیا ہے ۔ جب ایک اصل (رمضان کے آغاز) کو آپ نے اس کے حکم کے مطابق اپنا لیا ہے تو اس کے فروع ( لیلۃ القدر وغیرہ ) بھی اسی کے تابع ہیں لہذا اس معاملہ کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں ۔ اس قسم کے وسوسوں میں مبتلا ہونا بلاوجہ کا مسئلہ ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ بعض اہل علم نے اس کے جواب میں یہ پہلو بھی اجا گر کیا ہے کہ ہمیں تعلیم آخری عشرہ کی ساری راتوں میں عبادت کی ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’ التمسوھا فی العشر الأواخر من رمضان ‘‘ ( رواہ البخاری) ترجمہ:اس ( لیلۃ القدر) کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ گرچہ لیلۃ القدر طاق راتوں ہی میں ہوگی۔ لہذا ایک شخص اصل سنت ( مکمل عشرہ میں عبادت کرنا )پر عامل ہوگا تو وہ اس رات کو پالے گا۔
اس سلسلہ میں ایک تیسری بات یہ بھی ہے کہ لیلۃ القدر کی اصل مسنون عباد ت قیام اللیل ہے ۔ اگر بالفرض لیلۃ القدرجفت راتوں میں آجاتی ہویا اکیسویں رات ہوجو کہ حاکمِ وقت کے فیصلہ کی وجہ سے بیسویں رات ہوگی تب بھی ایک ایسا شخص جس نے اس رات کے قیام کا مکمل اہتمام کیا ہو ان شاء اللہ وہ اس اجر سے محروم نہ ہوگا اس لئے کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ انہ من قام مع الامام حتی ینصرف کتب لہ قیام لیلۃ ‘‘ (رواہ ابو داود و الترمذی وغیرھما و صححہ الالبانی) ترجمہ: جس نے امام کے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہوجائے تو اس کے حق میں پوری رات کے قیام کا اجر لکھا جاتا ہے ۔
(۲) دوسرا اشکال : یہ ہے کہ جس کمیـٹی یا قاضی کے حوالے فیصلہ کیا جاتا ہے وہ کس حد تک معتبر ہے ؟ بسا اوقات اس میں بدعتی قسم کے لوگ بھی تو ہوتے ہیں تو ان کے فیصلے پر عمل کیسے کیا جاسکتا ہے ۔؟
اس سلسلے میں یہ بات یاد رکھی جائے کہ اس مسئلہ میں قاضی یا کمیٹی کی حیثیت حاکمِ وقت کے نائب کی ہے لہذا ان کی اطاعت کا بھی وہی حکم ہوگا جو حاکمِ وقت کی اطاعت کا ہے ۔ اور حاکم وقت کے سلسلے میں حضرت عبادۃ بن صامت رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کیا ہے ’’ بایعنا علیٰ السمع و الطاعۃ فی منشطنا و مکرھنا و عسرنا و یسرنا و أثرۃ علینا وأن لا ننازع الأمر أھلہ قال الا ان ترو ا کفرا بواحا عندکم من اللہ فیہ برھان ‘‘ (متفق علیہ ) ترجمہ : ہم سے اقرار لیا کہ سنیں گے اور اطاعت کریں گے اپنی آمادگی میں بھی اور اپنی ناراضگی میں بھی ، اپنی تنگی میں بھی اور آسانی میں بھی اور ہم پر دوسروں کو ترجیح دئے جانے کی صوت میں بھی اور اس کا بھی اقرار لیا کہ ہم حکمرانوں سے ان کی حکومت کے سلسلہ میں نہیں جھگڑیں گے ۔ فرمایا: الا یہ کہ تم کھلا کفر دیکھو جس کے سلسلہ میں تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھلی دلیل ہو۔
پتہ یہ چلا کہ جب تک وہ لوگ اہل قبلہ میں سے ہوں مسلمان ہوں مسلکی اختلاف ان کے فیصلے کو لینے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے ۔ پھر یہ بات ان پر جاتی ہے کہ وہ پوری دیانتداری کے ساتھ فیصلہ کریں گے تو اللہ کے پاس اجر کے مستحق ہوں گے اور اگر کسی قسم کی خیانت ہوگی تو اپنے اور سب کے گناہوں کا بوجھ خود اپنے سر لیں گے ۔ عوام اس سلسلے میں بری ہوں گے ۔
البتہ ہر علاقہ کے علماء وذمہ داران کا یہ فرض بنتا ہے کہ اس کمیٹی کے اعتبار کو لوگوں میں قائم رکھیں اگر واقعی کمیٹی یا قاضی میں کوئی ایسا نقص ہو جو بے اعتمادی کی فضا پیدا کررہا ہو یا بات غلط فہمی کی ہو تو اس کی درستگی اور ازالہ کی فکر کی جائے ۔
(۳) تیسری بات در حقیقت اشکال نہیں بلکہ موضوع کے ایک پہلو سے متعلق ضروری وضاحت ہے ۔ وہ یہ ہے کہ لوگوں نے سعودی عرب کے چاند کو بنیاد بنا لیا اور وہاں کے فیصلہ کو چاہے رؤیت وہیں کی ہو یا کہیں اور کی معیار تسلیم کر لیا ہے جبکہ یہ سراسر ایک بے بنیاد بات ہے ۔ رؤیت کے سلسلے میں دو ہی رائے ہیں اختلاف مطلع کا اعتبار ہو یا پھر دنیا کے کسی بھی حصہ میں چاند سب سے پہلے جہاں بھی نظر آئے اس رؤیت کو لیا جائے ۔
اس طرح یہ بھی ممکن ہے کہ سعودی عرب کی مغربی سمت میں واقع بعض ممالک بسا اوقات سعودی عرب سے پہلے چاند دیکھ لیں ۔
ظاہر بات ہے یہ ایک بے بنیاد مسئلہ ہے ، حرمین کے وجود کی وجہ سے سعودی عرب کی فضیلت و اہمیت مسلم ہے لیکن رؤیت کے مسئلہ کو حرمین کے تقدس سے نہیں جوڑا گیا ہے ۔ اس لئے یہ فیصلہ بھی غلط ہے کہ ہمیشہ سعودی عرب کے تابع رہا جائے ۔

خلاصہ
اس ساری بحث کا خلاصہ جو کہ اس رسالہ کا پیغام بھی ہے درج ذیل باتیں ہیں ۔
(۱) رؤیت کے مسئلہ میں علمی اختلاف سے قطع نظر عملا شریعت نے ہمیں حاکمِ وقت ، قاضی یا کمیٹی کے تابع رکھا ہے ۔ لہذا اسے ہم اپنی شرعی ذمہ داری سمجھیں ۔
(۲) کتاب و سنت کی تعلیمات اور سلف صالحین کے اقوال کی روشنی میں جب ایک فیصلہ ہو جائے تو اس پر پورے شرح صدر کے ساتھ عمل کریں اور اپنی عبادتوں کے سلسلے میں بے یقینی کی کیفیت سے خود کو بچائے رکھیں ۔
(۳) رمضان کا آغاز ، اعتکاف، شب قدر کی تلاش، عید الفطر، عید الاضحی ان ساری عبادتوں بلکہ چاند کے مسئلہ سے متعلق جملہ عبادات و معاملات میں اپنے علاقہ کے لوگوں کے ساتھ رہیں اور ان سے اختلاف نہ کریں ۔
(۴)حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس قول کو یاد رکھیں ’’ کونوا لقبول العمل أشد ھما منکم بالعمل ألم تسمعوا اللہ یقول :إانما یتقبل اللہ من المتقین ‘‘ (الاخلاص و النیۃ لابن ابی الدنیا )ترجمہ : لوگ عمل کرنے سے زیادہ عمل کی قبولیت کے سلسلہ میں فکر مند رہو ، کیا تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو کہتے ہوئے نہیں سنا :اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کا ہی عمل قبول کرتا ہے ۔

مملکت سعودی عرب کی
ہیئۃ کبار العلماء کی قرار داد

’’۔۔۔ونظرا لاعتبارا ت رأتھا الھیئۃ و قدرتھا، و نظرا الی أن الاختلاف فی ھذہ المسألۃ لیست لہ آثار تخشی عواقبھا،فقد مضی علی ظھور ھذا الدین أربعۃ عشر قرنا ، لا نعلم فیھا فترۃ جری فیھا توحید الأمۃ الاسلامیۃ علی رویۃ واحدۃ فان أعضاء مجلس ھیئۃ کبار العلماء یرون بقاء الأمر علیٰ ما کان علیہ ، و عدم اثارۃ ھذا الموضوع ، و أن یکون لکل دولۃ اسلامیۃ حق اختیار ماتراہ بواسطۃ علمائھا من الرأیین المشار الیھما فی المسألۃ ، اذ لکل منھما أدلتہ و مستنداتہ‘‘(فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ رقم الفتویٰ۳۶۸۶)
ھیئۃ کبار علماء کئی چیزوں کا خیال کرتے ہوئے اور کئی پہلوئوں کو دیکھتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ اس مسئلہ میں اختلاف سے کوئی ایسے برے اثرات مرتب نہیں ہوں گے جن کے انجام کا ڈر ہو ۔ اور اس بات کے مد نظر بھی کہ اس دین کو آئے ہوئے چودہ صدیاں گذر چکی ہیں اس دوران ہمارے علم کے مطابق کبھی پوری امت اسلامیہ ایک رویت پر متفق ہو کر عمل نہیں کرسکی ہے ۔ اس مجلس کے ارکان یہی مناسب سمجھتے ہیں کہ مسئلہ جوں کا توں رہنے دیا جائے ۔ اور اس موضوع کو بار بار بھڑکایا نہ جائے ۔ اور یہ بھی رائے دیتے ہیں کہ ہر مسلم حکومت کو اختیار ہے کہ وہ مسئلہ میں مذکور دونوں آراء میں سے اپنے علماء کے ذریعہ جس رائے کو مناسب سمجھے اپنا لے ۔ اس لئے کہ ہر ایک کے اپنے دلائل موجود ہیں ۔

وضاحت: یہ مضمون 2001 میں کتابچہ کی شکل میں چھپ چکا ہے –

آپ کے تبصرے

Be the First to Comment!

avatar