حصول علم کے تین مراحل اور مرحلہ تکبر کا پھندا

شمس الرب

 

حصول علم کے مراحل اور ہر مرحلے میں طالب علم کی ذہنی و فکری ہیئت کے تعلق سے ایک مشہور قول ہے۔ اس قول کے مطابق، حصول علم کے تین مراحل ہیں: پہلا مرحلہ تکبر کا ہے، دوسرا مرحلہ تواضع کا ہے اور تیسرا مرحلہ حیرت و استعجاب کا ہے۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ پہلے مرحلہ میں طالب علم کا سابقہ پہلی مرتبہ جانکاریوں سے پڑتا ہے۔ وہ کچھ کتابیں پڑھ لیتا ہے، کچھ نئے موضوعات کے بارے میں جانکاری حاصل کر لیتا ہے، کچھ نئی اصطلاحات سے واقف ہو جاتا ہے اور کچھ ڈگریاں حاصل کر لیتا ہے۔ یہ سب ہضم کرنا اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے اور وہ خود کو بہت بڑا جانکار، ماہر اور ہنر مند سمجھنے لگتا ہے اور دوسروں کو جاہل، بیوقوف اور اناڑی سمجھنے لگتا ہے۔ یہ علمی تکبر کا مرحلہ ہے۔
دوسرے مرحلہ میں طالب علم کے اندر تجزیاتی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ اپنے اردگرد موجود دنیا اور اپنے علم کا موازنہ کرنے لگتا ہے۔ اس وقت اسے احساس ہوتا ہے کہ دنیا میں علم کا حجم اتنا بڑا اور وسیع ہے کہ وہ اگر اپنی پوری زندگی مکمل طور پر حصول علم ہی کے لیے وقف کردے تو بمشکل ایک یا دو فروع علم میں مہارت حاصل کر پائے گا۔ اس مرحلہ میں اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کا جہل اس کے علم کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے، گویا اس کا جہل سمندر ہے اور اس کا علم سمندر کا محض ایک قطرہ۔ یہ احساس اس کے اندر تواضع پیدا کرتا ہے اور اس کے اندر سے علمی تکبر کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
تیسرے مرحلہ میں، اس کی نظر وسیع کائنات پر جاٹکتی ہے۔ وہ زمین و آسمان، ستاروں، کہکشاؤں اور لامتناہی کائنات پر غور و فکر کرنے لگتا ہے۔ وہ حیرت و استعجاب کی چپیٹ میں ہوتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ کائنات کی نامعلوم وسعت اور اس کے نامعلوم اسرار و رموز جہاں تک ابھی انسانی علم کی رسائی تک نہیں ہو سکی ہے، وہ اس کے ذہن کی پہنچ سے بھی پرے ہیں۔ اس مرحلہ میں اسے اپنی علمی بے بضاعتی کا احساس ہوتا ہے اور اسے لگتا ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں جانتا۔
علم کے یہ تین مراحل اور ان کی خصوصیات کی جانکاری ہمارے لیے بے حد اہم ہیں۔ ان کی مدد سے ہم اپنا احتساب کرسکتے ہیں اور پتہ لگا سکتے ہیں کہ ہم علم کے دوسرے یا تیسرے مرحلے میں ہیں جو مطلوب اور قابل ستائش ہے یا ہم ابھی علم کے پہلے ہی مرحلے میں اٹکے پڑے ہیں جو غیر مطلوب اور انتہائی مذموم ہے۔
علم کے دوسرے یا تیسرے مرحلے میں ہونے کے بہت سارے فائدے ہیں۔ پہلا فائدہ یہ ہے کہ انسان ان مراحل میں تواضع و خاکساری کا پیکر بن جاتا ہے۔ وہ خود کو دوسروں سے برتر نہیں سمجھتا ہے اور سب کو مناسب عزت دیتا ہے۔ وہ اختلاف آراء کا احترام کرتا ہے۔ ہمیشہ سیکھتا رہتا ہے۔ دوسروں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ صلاحیتوں کا اعتراف کرتا ہے۔ غلطیوں کو مان کر ان کی اصلاح کے لیے کوشش کرتا ہے۔ کسی کو حقیر نہیں سمجھتا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ سماج میں رہ کر، لوگوں کے ساتھ مل جل کر سماج میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ اس کا مثبت اثر لوگوں کے ساتھ اس کے تعلقات پر پڑتا ہے۔ لوگوں کے درمیان جلد یا بدیر اس کی پذیرائی ہوتی ہے اور وہ ایک ایسا حلقہ احباب بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو دکھ سکھ میں اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ نتیجتاً، وہ رجائیت پسند ہوتا ہے، قنوطیت سے دور ہوتا ہے، قناعت پسند ہوتا ہے اور زندگی میں خوش و خرم رہتا ہے۔
اس کے برعکس، مرحلہ تکبر ہی میں پھنسا رہ جانے والا شخص خود کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے۔ دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے۔ انھیں مناسب عزت نہیں دیتا۔ اختلاف آراء پر معاندانہ رویہ اختیار کرتا ہے۔ اس کے سیکھنے کا عمل رک سا جاتا ہے۔ دوسروں کی حوصلہ شکنی کرتا رہتا ہے اور اسی کو اپنے علم و فن کا معراج سمجھتا ہے۔ اپنے سوا کسی کو باصلاحیت ہی نہیں سمجھتا اور اپنی غلطیوں پر اڑ جاتا ہے۔ سماج کے تئیں ہمیشہ بدظن اور اس سے کنارہ کش رہتا ہے۔ اس کا منفی اثر لوگوں کے ساتھ اس کے تعلقات پر پڑتا ہے۔ لوگ اسے بداخلاق، متکبر، سرکش اور ناقابل اصلاح گردانتے ہیں۔ نتیجتاً، وہ الگ تھلگ پڑجاتا ہے اور دھیرے دھیرے اس کے اندر یاسیت و قنوطیت پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ ایک نفسیاتی مسئلہ بن جاتا ہے۔ وہ زندگی سے نالاں ہوتا ہے اور زندگی اس سے۔ مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ ایسا شخص لوگوں کی ناقدری کا شاکی رہتا ہے۔ اسے ہمیشہ یہ شکایت رہتی ہے کہ اس زمانے میں لوگ اس کی صلاحیتوں کو نہ تو پہچانتے ہیں اور نہ ہی اس کی قدر کرتے ہیں، جبکہ اصل معاملہ یہ ہوتا ہے کہ خود اس کا رویہ انتہائی خراب ہوتا ہے اور وہ اپنی مبینہ صلاحیتوں کے بارے میں خودفریبی کا شکار ہوتا ہے۔ خراب رویہ اور خودفریبی کا یہ کاک ٹیل اس کے لیے مہلک ثابت ہوتا ہے۔
یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ مرحلہ تکبر سے گزرنے والے اشخاص کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا ہونا چاہیے؟ جواب ہے احتیاط اور ہمدردی کا رویہ۔ اس مرحلہ میں پائے جانے والے اشخاص دو اقسام کے ہو سکتے ہیں۔ پہلی قسم میں وہ طلبہ آتے ہیں جو طبعی طور پر ایک ارتقائی عمل کے تحت اس مرحلہ سے گزرتے ہیں اور ایک محدود مدت کے بعد اس مرحلہ سے گزر کر دوسرے یا تیسرے مرحلہ میں داخل ہوجاتے ہیں۔ ایسے طلبہ کا معاملہ بہت پیچیدہ نہیں ہوتا۔ عموماً اساتذہ کی مناسب رہنمائی اور توجہ سے ایسے طلبہ اس مرحلہ کو خیر وخوبی کے ساتھ طے کر لے جاتے ہیں۔ اس لیے، اس مرحلہ سے گزرنے والے طلبہ کے تعلق سے اساتذہ کی ذمہ داری انتہائی اہم ہے اور ان کی رہنمائی کافی حد تک نتیجہ خیز بھی۔ اصل مسئلہ دوسری قسم کے اشخاص کا ہوتا ہے جو طالب علمی کے دور کو پار کر چکے ہوتے ہیں بلکہ کچھ تو کئی سالوں کی پیشہ وارانہ خدمات بھی انجام دے چکے ہوتے ہیں اور پختہ عمر کے ہوچکے ہوتے ہیں۔ ایسے اشخاص کا مسئلہ بے حد پیچیدہ ہوتا ہے اور بظاہر ناقابل حل لگتا ہے۔ لیکن اگر سماج اور اس کے ذمہ دار افراد ایسے اشخاص کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں اور انھیں ایک نفسیاتی مسئلہ سمجھ کر ان کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کریں، تو ایسے لوگ بھی نارمل زندگی کی ڈگر پر واپس آسکتے ہیں۔
ایسے لوگوں کے تئیں ہماری ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ ہم ایسے لوگوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کریں، انھیں خاطر خواہ توجہ دیں اور پیار محبت سے انھیں سماج کے عام دھارے میں لانے کی کوشش کریں۔ ہمیں ایسے لوگوں کے ساتھ مکالمہ قائم کرکے انھیں ان کے رویہ کی اصلاح کی ضرورت کی طرف توجہ دلانی چاہیے اور شعوری یا لاشعوری طور پر انھیں یہ احساس دلانا چاہیے کہ وہ خود فریبی کے جس اندھیرے غار میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں، وہ اصولاً غلط ہے اور اس کا نتیجہ سوائے تباہی و بربادی کے کچھ نہیں ہے۔ ایک بار ہم ان کے اندر خراب رویہ کی تبدیلی اور خود فریبی سے چھٹکارا پانے کی جوت جگا لے گئے، تو مرحلہ تکبر سے مرحلہ تواضع یا مرحلہ استعجاب کی جانب ان کی منتقلی انتہائی آسان ہو جائے گی۔ یہ قوم و ملت کی بہت بڑی خدمت ہوگی۔

آپ کے تبصرے

Be the First to Comment!

avatar