تعارف

یعنی مباحثے کا ایک انصاف پسند اسٹیج

  1. ہندوستان میں جتنی جماعتیں ہیں



    سب اپنے اپنے پروپیگنڈوں میں جٹی ہوئی ہیں۔ اور لطیفہ یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر دنیا بھر کا تجربہ اپنے ہی لوگوں پر کررہی ہیں۔ یعنی باتیں دوسروں کی گمراہیوں سے متعلق ہوتی ہیں مگر سنائی جاتی ہیں اپنے لوگوں کو۔ لکھا جاتا ہے مخالفین کی رد میں، پڑھ کر مزہ لیتے ہیں اپنے لوگ۔ بریلیوں کی مجلس میں ”وہابیوں“ کو گالی دی جارہی ہے تو دیوبندیوں کے اجتماعات میں بریلیوں کی گمراہیاں گنوائی جاتی ہیں۔ اور ان دونوں کی اکابر پرستی پر زور دار تقریریں ہوتی ہیں اہل حدیثوں کے جلسوں میں…سمجھ میں نہیں آتا کہ دوسروں کے لیے نسخہ تجویز کرکے یہ لوگ اپنے ہی افراد پر کیوں آزماتے ہیں؟

    کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ

    ﴿فلیبلغ الشاھد الغائب﴾
    کا ہندوستانی مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہمیشہ ”لگی سے گھاس کھیاؤ“(کھلاؤ)۔ ہمارے یہاں یہ محاورہ بڑا مشہور ہے۔ اور عام طور پر تب بولا جاتا ہے جب باپ یا ماں اپنے کسی بیٹے یا بیٹی کو کسی کام کا حکم دے اور وہ اپنے سے چھوٹے کو، تو کہتے ہیں: تم کو کہا جارہا ہے تو تم خود کیوں نہیں کرتے، اُس کو کرنے کے لیے کیوں کہہ رہے ہو؟… علماء حضرات شاید یہی کررہے ہیں۔ ساری ترکیبیں اپنے لوگوں کو بتادیتے ہیں تاکہ وہ سماج میں پھیل جائیں اور خوب مباحثے کریں۔ اللہ رب العزت انھیں عمل کی بھی توفیق دے۔آمین


    ”فری لانسر“ کا مقصد ایسے لوگوں کے لیے ایک اسٹیج فراہم کرنا تھا تاکہ مختلف فیہ مسائل پر بات ہو اور کوئی نتیجہ سامنے آئے۔ بہت ساری باتیں ہوئی بھی مگر جس سماج میں اجتماعی رویہ یہ ہو کہ سامنے والے کے منہ پر سینٹر فریش لگاکر اپنی بات کہہ لو اور چلتے بنو، چاہے کسی کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے، وہاں اس طرح کا مقصد تو ڈھیر سارے سوالوں کا باؤنس بورڈ بنے گا ہی۔ اس مقصدکی معنویت جاننا ہو تو تبلیغ دین کے نام پر منعقد ہونے والے جلسوں میں تشریف لے جائیے۔ آپ دیکھیں گے کہ وہاں تقریریں کرنے والے علماء، تقریریں سننے والے علماء وائمہ مساجد، کسی دعوتی ادارے کے ذمہ دار یا کارکن، کسی تبلیغی ٹکڑی سے جڑے ہوئے افراد یا ایسے ہی لوگ آئے ہوں گے کہ کسی شناسا سے ملاقات کا اچھا بہانہ ہوتے ہیں ایسے جلسے۔ بیشتر علماء وائمہ مساجد اس لیے آجاتے ہیں کہ اسی بہانے مدرسے یا مسجد سے چھٹی مل جاتی ہے اور جلسہ سننے کے ساتھ ایک قسم کی تفریح بھی ہوجاتی ہے۔ البتہ کچھ ایسے لوگوں کی شرکت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا جو صرف دین کی باتیں سننے کی غرض سے آتے ہیں۔ اللہ رب العزت ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ کرے۔ آمین

    سوال یہ ہے کہ سماج کا وہ اکثریتی طبقہ جو اپنا کام دھندہ چھوڑ کر ایسے جلسوں میں اس لیے نہیں آپاتا کہ مہنگائی اس کی کمر پہ روز کوڑے برسارہی ہے، اس تک دین کی بات کیسے پہنچے؟… اگر تبلیغ دین کا جذبہ پیشہ ورانہ ہے تو بلاشبہ آپ صرف اپنے کام سے مطلب رکھئے اور اگر مقصد زندگانی ہے تو کیا وہ جذبہ آپ کو مدعوئین کی فہرست سازی پر نہیں اکساتا؟… اتفاق سے اگر کسی کے ذہن میں یہ بات ہے کہ جلسہ کرنا تبلیغ کا بہت اہم ذریعہ ہے، لوگ سننے نہیں آتے تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔ تو کیا ایسا نہیں ہوسکتا تھا کہ رسول اللہﷺ طائف نہ جاتے اور کسی کے ذریعے یہ خبر بھیجوادیتے کہ ”الدین عند اللہ الاسلام“ کے موضوع پر مکے میں تقریر ہونے والی ہے، آپ لوگ ضرور تشریف لائیں…؟

    مسلمانوں کا افتراق تو اظہر من الشمس ہے، سب کے اپنے اپنے مابہ الامتیاز نظریے ہیں، اور سب کے پاس اپنے اپنے نظریات کے دلائل بھی۔ اپنے طرز عمل کا جواز پیش کرنے میں کوئی نہیں ہچکچاتا ہے۔ ان کا دین، قرآن، نبی، سب ایک ہیں، راستے کیوں جدا ہوگئے؟ یہ کم سوچتے ہیں۔ سب اپنی اپنی کمین گاہوں سے باہر کا نظارہ کررہے ہیں۔ کچھ لوگ دوسروں کو گالی دے کر سکون پالیتے ہیں اور کچھ جھگڑے کرنے کے لیے آستینیں چڑھالیتے ہیں۔ کچھ لوگ مابہ الامتیاز مسائل میں دلائل کی بنیادوں پر ایک صحیح بات کو ماننے کی دعوت دیتے ہیں اور کچھ اسے جھمیلا سمجھ کر چھوڑ ہی دیتے ہیں۔ کچھ لوگ قرآن کو دین کامل ٹھہراکر شتر مرغ کی طرح ریت میں سر چھپالیتے ہیں اور کچھ حدیثوں کو افتراق کا سبب مان کر بڑی بے رحمی سے اپنی عقلیں استعمال کرتے ہیں اور چودہ سو سالوں پر مشتمل محدثین کی خدمات جرح وتعدیل پر پانی پھیر دیتے ہیں۔

    ہماری کوشش یہ ہوگی کہ ان سب کے لیے ”دی فری لانسر“ ایک تحفہ ثابت ہو۔ اس کے ذریعے ہم تمام مختلف الرائے مسلمانوں کو مباحثے کا ایک انصاف پسند اسٹیج فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ سب دلائل کی بنیادوں پر اپنی اپنی بات کہیں اور دوسری کی باتوں پر غور بھی کریں ، پھر ان میں جو باتیں مناسب اور درست لگیں انھیں تسلیم کریں۔

  2. اچھوت موضوعات اور ہماری گستاخیاں


    ”فری لانسر“ کے صفحات پر کہیں کہیں آپ کو لگتا ہوگا کہ یہ کیا ڈراما ہے، کہیں کوئی مولویوں کے پیچھے پڑا ہے اور کہیں مسلک کے نام پر لے دے ہورہی ہے، کوئی قلم کاروں کا شدید محاسبہ کررہا ہے اور کسی کا قلم صرف التباسات اگل رہا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگ ان موضوعات پر بات کرنے سے ڈرتے ہیں جو Untouchableیعنی اچھوت قرار دے دیے گئے ہیں۔ جہاں تک ہماری جانکاری ہے، اچھوت قرار دے دینے کی وجہ سے تو اب تک کوئی بھلا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے، اس لیے ہمیں لگتا ہے کہ اب انھیں چھوکر دیکھا جانا چاہیے۔ کسے پتا کہ وہ پھنسی ہے یا پھوڑا بن چکا ہے۔

    ”المومنون والمومنات بعضھم اولیاء بعض“… جب مومن مرد اور مومنہ عورتیں ایک دوسرے کے لیے دوست اور خیر خواہ کا درجہ رکھتے ہیں تو یہ بات بالکل صاف ہوجاتی ہے کہ انھیں باہم کسی طرح کے سوال وجواب میں کوئی دشواری نہیں ہوسکتی۔ کسی کے کسی عمل پر پسندیدگی اور ناپسندیدگی کا اظہار آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔

    ہاں چھونے کا سلیقہ ہوتا ہے، ویسے جراحت کرنی ہے تو چھونا ہی پڑے گا۔ کب تک یوں پھوڑوں کے ساتھ جیتے رہیں گے ہم؟ یہ بات ہمیں بہت اچھے طریقے سے معلوم ہے کہ سارے مسلمان ہمارے بھائی ہیں، ان کی گمراہی پر ہمیں تکلیف ہونی چاہیے۔ اور خود ہم گمراہ نہ ہوں، اس کے لیے سارے مسلمانوں سے ہمیں ایک ایسا رشتہ بناکر رکھنا چاہیے کہ ذرا سا قدم بہکے اور لوگ ہمیں تنبیہ کرنے یا ہماری رہنمائی کرنے میں بالکل نہ ہچکچائیں۔

    اگر ہم خود کو اتنے Reservedبنالیتے ہیں کہ لوگ ہمارے بارے میں سوچنے سے ڈرنے لگیں، چاہ کر بھی ہم سے کچھ نہ کہہ پائیں تو ہمارے لیے اس سے بڑی بدنصیبی اور کیا ہوسکتی ہے؟


    یہ بات ہمیں بہت اچھے طریقے سے معلوم ہے کہ سارے مسلمان ہمارے بھائی ہیں، ان کی گمراہی پر ہمیں تکلیف ہونی چاہیے۔ اور خود ہم گمراہ نہ ہوں، اس کے لیے سارے مسلمانوں سے ہمیں ایک ایسا رشتہ بناکر رکھنا چاہیے کہ ذرا سا قدم بہکے اور لوگ ہمیں تنبیہ کرنے یا ہماری رہنمائی کرنے میں بالکل نہ ہچکچائیں۔
    ہر فرد کی اپنی جانکاریاں اور اس کے ذرائع ہوتے ہیں، سب کی اپنی رائیں اور اس کی دلیلیں ہوتی ہیں۔

    مناسب خطوط پر معقول باتیں کرنے والے کا استدلال غلط بھی ہوسکتا ہے اور صحیح بھی، جس کی تائید اور تردید دونوں ضروری ہے۔ غلط رائے کی تردید کرکے یا پھر صحیح فیصلے کی تائید کرکے ہم بہر صورت اپنے بھائی سے دوستی کا حق ہی نبھانے والے ہیں۔

    اب اس میں اندیشے پالنے جیسی کون سی بات ہے؟… ضروری نہیں ہے کہ ہمیشہ اس کا نتیجہ مثبت ہی ہو، اس لیے کہ # توفیق باندازہ ہمت ہے ازل سے...


  3. فری لانسر کی پالیسی


    اچھا یہ بتائیے، کسی مسلمان کی زندگی کی کیا پالیسی ہوسکتی ہے؟… بھائی!دنیا اتنی پالیسی باز یا پالیسی ساز ہوگئی ہے کہ بلاوجہ بھی پالیسیاں وضع کرتی رہتی ہے۔ آدمی کا کوئی بچہ کسی سماجی سرگرمی کا ذمے دار بنتا ہے تو سب سے پہلے وہ پالیسیوں کی بات کرتا ہے، خواہ وہ پالیسیاں کاغذ سے آگے نہ جاپائیں۔ بلکہ بسا اوقات تو ایسا دیکھا گیا ہے کہ سال بھر پالیسی اور پالیسی ساز دونوں گدھے کی سینگ کی طرح غائب رہتے ہیں۔ اور رمضان کا استقبال اپنی مقفیٰ پالیسیوں سے اس لیے کرتے ہیں تاکہ مالوں کے میل کا مستحق بن سکیں، یا نذرانوں کی کھالیں اپنے گھروں میں اتار کر روپیوں کی چربی نکال سکیں۔ زکوٰ ةمیل نہیں تو کیا ہے؟ اور قربانی کا چمڑا؟ ؟؟ اگر لوگ ”فری لانسر“ کی پالیسیاں پوچھتے ہیں تو ہمیں نہیں لگتا کہ ان کا سوال نامعقول ہے۔ ان کا اندازہ صحیح ہوگا کہ بے شمار رسالوں کی بھیڑ میں اس”ایک اور“ کا اضافہ اگر صرف اضافہ ہوگا، تو 


    اب اس منظرنامے میں سوچئے اور بتائیے کہ کسی کی ذات سے ہماری یا کسی اور کی کیا دشمنی ہوسکتی ہے، نہ کبھی دیکھا، نہ ملے اور نہ بات کی۔ ہم انھیں گالی تو نہیں دے رہے ہیں، انھوں نے اگر کسی چیز کو جائز قرار دیا، اوراللہ کے کہنے پر ہمارے نبیﷺ نے ناجائز، تو ہم کیا کریں؟… کیا ہم ان لوگوں کو، جو نہیں جانتے، یہ بتانے کا حق نہیں رکھتے کہ بھائی اگرچہ وہ بڑے عالم تھے، مگر اس مسئلے میں ان اعلیٰ حضرت سے غلطی ہوئی تھی۔
    ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا۔ جواب ہوگا تو کم سے کم اتنا تو پتا چل ہی جائے گا کہ یہ کتنے فیصد گمراہی کی پیداوار ہے۔” عصری اسلوب کا ابجد“ تو صرف لباس کا رنگ بتاتا ہے۔ یہ کسی مدرسے یا تنظیم کا ترجمان ہوتا تو سوال کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ اس کی پالیسی کیا ہے۔ مگر اسلام کی باتیں کرنے والے اتنے سادہ لوح یا اتنے سادہ دل کیسے ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ ہر شخص یہاں کسی نہ کسی کھونٹے سے ضرور بندھا ہوا ہوتا ہے۔ بلکہ کھونٹے سے بندھنے کی یہ روایت اتنی پائیدار ہے کہ مجال کیا جو لچک جائے، بھلا وہ عقیدت ہی کیا جو نظر جھپکائے۔ حالانکہ جرح وتعدیل کی پوری تاریخ احادیث کے بے شمار راویوں کے بایو ڈیٹا سے بھری ہوئی ہے۔

    کوئی ثقہ تھا، کوئی ضعیف، کوئی کذاب تھا تو کوئی مجہول۔ ہمارا ان سے کوئی گہرا ناطہ نہیں ہے اس لیے ان پر کمنٹ سن کرہم ہندوستانی مسلمان کبھی نہیں بلبلاتے۔ مگر جوں ہی یہ سلسلہ ہماری زمین میں قدم رنجہ ہوتا ہے ہماری حالت غیر ہونے لگتی ہے۔ بلکہ بسا اوقات تو تکلیف برداشت نہ کرپانے کی وجہ سے ہم درخواستوں پر اتر آتے ہیں، کہ صاحب!ان کی مٹی کیوں پلید کرتے ہو جن کی ہڈیاں تک سڑ چکی ہوں گی۔ (بھولے بھنڈاری! کیا باقی راویان حدیث کی ہڈیاں ابھی تک محفوظ ہیں؟) ذرا غور کیجئے کہ آج اگر ہمارے سامنے ان رواة کی کیفیات نہ ہوتیں تو کیا ہوتا؟…دین کا وہ حصہ جو اللہ رب العزت نے قرآن کی شکل میں ہمیں عنایت کی ہے، وہ تو حافظوں کے سینے میں محفوظ ہے۔

    جہاں تک ”فری لانسر“ کے قلم کاروں کی تحریروں اور ان میں موجود افکار ونظریات کی بات ہے، تو اس سلسلے میں ہم صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ اسلام اور جاہلیت حق وباطل کی کشمکش سے عبارت وہ رویے ہیں جن کا ٹکراؤ قیامت تک باقی رہے گا۔ رہی بات اس اختلاف کی جو کسی صاحب فکر کے یہاں پیدا ہوتی ہے، وہ سراپا گمراہی نہیں ہے۔ ہر انسان کی سمجھ بوجھ اور اس کی بنیادیں متفرق ہوتی ہیں۔ اس مسئلے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ قرآن وحدیث ہی وہ سرچشمے ہیں جن سے اسلام کا سوتا پھوٹتا ہے۔ ان سے مستنبط کیے جانے والے مسائل میں غلطیاں ہوسکتی ہیں… اب ان مسلمات کو مان لینے کے بعد، ہمیں نہیں لگتا کہ کسی کی بات سننے میں کوئی پریشانی ہونی چاہیے۔ البتہ کہنے والا اگر اپنی بات کی صحت پر دلیلیں نہیں پیش کرپاتا ہے یا پھر اس کے خلاف دلیلیں سامنے آجاتی ہیں، تو اسے اپنی بات یا رائے کو چھوڑ دینا چاہیے۔

    مگر اس کی تشریح یا تفصیل جو رسول اللہ ﷺ کے اقوال کی روشنی میں احادیث کی شکل میں ادھر ادھر بکھرے ہوئے تھے۔ بلکہ عبد اللہ بن سبا اور اس کی ذریت نے مل کر جو باتیں گڑھیں اورپھر ان پر انٹ شنٹ لیبل چپکاکر حدیث کے نام پر روایت کرنے لگے تھے، انھیں پہچاننے اور احادیث کے ذخیرے میں سے صحیحح اور ضعیف کو الگ کرنے کا کیا معیار ہوسکتا تھا اگر علوم احادیث کے ذریعے تمام رواة کی جیونی نہ پتا ہوتی۔ وہ کیسے تھے؟ ان کا دینی رجحان کیسا تھا؟ کسی کی بات نقل کرنے میں وہ اس میں اپنی طرف سے کتنا ملاتے تھے؟ ان کے آس پاس والے لوگ انھیں کیا مرتبہ دیتے تھے؟ جھوٹ کا صدور ہوتا تھا یا لوگوں نے انھیں ہمیشہ سچ بولتے پایا تھا؟ یا فلاں نام کا کوئی راوی تھابھی یا نہیں؟… اس قسم کے بے شمار سوالات کی چھان بین کرنے کے بعد جاکے سچائی سامنے آتی ہے کہ حدیثوں میں کس جگہ کیا ملایا گیا ہے اور کہاں ملاوٹ بالکل ہی نہیں ہے۔ اگر کسی راوی کے احترام میں ان کے بارے میں قائم کی جانے والی رائے ہم تک نقل نہ کی جاتی اور ہم اس سے مستفید نہ ہوتے تو کیا ہوتا؟
    اور ایسا مرحلہ تب آتا ہے جب سماج کے ذمے دار افراد چلتی پھرتی حقیقتوں کا سامنا کرنے میں ہچکچاتے نہ ہوں۔ چاروں طرف بکھرے ہوئے مسائل کا حل یہ نہیں ہے کہ اپنے آپ کو ذمے دار سمجھنے والے افراد ماتحتوں کے ذہنوں میں پکنے والے سوالوں کو نظر انداز کرتے پھریں۔ یا ان کے استفسارات کو بچکانہ یا جاہلانہ سمجھ کر سننے کے لیے ہی راضی نہ ہوں، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ شبہات، وہ سوالات اور وہ اشکالات جو کسی یقین، کسی جواب اور کسی حتمیے تک پہنچنا چاہتے ہیں، ان کی مناسب رہنمائی کی جائے۔ اور ان کی رہنمائی تبھی ممکن ہوسکتی ہے جب انھیں سنا جائے۔

    سنی ان سنی کرکے اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ اس نے مسئلے کو اٹھنے سے پہلے ہی دبادیا ہے تو یقینا وہ بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہے۔ خیال رہے کہ دل کی دنیا میں نموپذیر ہونے والے بھڑاس اس وقت تک باقی رہتے ہیں جب تک انھیں کسی ”ڈسٹ بن“ یا ”ناگفتنی“ کے حوالے نہ کردیا جائے۔ ظاہر سی بات ہے اگر ”فری لانسر“ کسی مثبت رویے کا پرچار نہیں کرسکتا، تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ لوگ اسے پڑھیں یا پسند کریں۔ بلکہ اس مشن کا تعاون بھی قابل غور وفکر مسئلہ بن جائے گا۔ ہمیں پتا ہے کہ بات کوئی بھی کہے اور کوئی بھی سنے، آواز کسی کی بھی اونچی ہو، بہر حال حق ہی جیتے گا۔ اگر باطل کا شور اتنا ہوجائے کہ حق سنائی نہ دے، تواس سے کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ باطل جیت جائے گا، ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔
    حق کی عدالت میں باطل کو یا پھر جڑوں سے جڑی ہوئی تعبیروں کی مجلس میں اگر بے معنی اور بے سروپا آوازے کو ابھرنے کا حق دیا جائے تو ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اجالے پر اندھیرے کی جیت ہوجائے۔ یہ تو غلط فہمیاں ہیں، عقیدے کی وہ کمزوریاں ہیں جو صاحب معاملہ کو ہمیشہ کسی نہ کسی اندیشے میں مبتلا رکھتی ہیں، ایسی سچویشن میں آدمی اللہ رب العزت کی مسلمات سے اعراض کرکے اپنی حدوں میں فیصلے کرنے لگتا ہے۔ کیا ایسے شخص کو یہ نہیں پتا کہ ﴿جاء الحق وزھق الباطل۔ ان الباطل کان زھوقا﴾… اللہ نے کہہ دیا ہے کہ حق آجائے تو باطل کا مٹنا یقینی ہے، کیونکہ یہ بات شبہے سے بالاتر ہے کہ باطل کا دوسرا نام ہی مٹنے والا ہے“…


    انسان کی بنیادی غلطیاں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو یہودی کرتے ہیں، جنھیں سورہ فاتحہ میں اللہ رب العالمین نے ﴿المغضوب علیھم﴾سے تعبیر کیا ہے اور دوسری وہ غلطی جو عیسائیوں سے سرزد ہوئی طرح جنھیں ﴿الضالین ﴾ کہا گیا ہے۔ جو غلطی جان بوجھ کر کی جاتی ہے، اس سے اور اس کے کرنے والے سے ہر قسم کا احتراز روا ہے۔ البتہ اس کی ہدایت کے لیے دعائیں کی جاسکتی ہیں۔ مزید رویوں سے اسے شہ دینا کسی بھی طور درست نہیں۔ مگر جو غلطی انجانے میں ہوجاتی ہے اس پر رحم کیا جانا چاہیے، اپنے دل میں اس کے تئیں ہمدردی رکھنی چاہیے بلکہ ان سب سے زیادہ اہم وہ خاموشی نما صبر ہوتا ہے جو بے تکے سوالات بھی سن سکے۔ اورپھر اس کا حکیمانہ علاج کرنے کے سو جتن کرے۔ صاحب! بغیر تشخیص کے کوئی معقول علاج تو نہیں ہوتانا۔

    یعنی اختلاف آراء کی پیش کش سے زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ” فری لانسر “ سنجیدہ مذاکرات کا ایک اسٹیج بن جائے جس سے بہرحال ہم فرد فردکو ” احساس ذمے داری“ کا پیغام ہی دینا چاہیں گے۔ ہمارے خیر خواہ حضرات اپنے دل سے یہ شبہ تو بالکل ہی نکال دیں کہ اسے ہم کوئی مکالماتی اکھاڑا بنانے کی کوشش میں لگے ہیں۔ سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ ہم ”فری لانسر“ کے ذریعے ﴿تعالوا الی کلمة سواء بینا وبینکم ﴾ کے مد نظر ایک اشتراک کی بنیاد پر اصلاح باہمی کے علاوہ ان تمام باتوں کوبھی ضرورزیربحث لائیں گے جن کے حل کی بات کرنے پر لوگ سرپھٹول پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔

    سچائی یہ ہے کہ کوئی انسان اگر دانش مندی کی گنگا بھی بہائے اور کہے کہ صاحب چھوٹی چھوٹی بیماریوں کے ساتھ جینا بہادری ہے تو اس پر یقین کرنا بڑا ہی مشکل کام ہے۔ کم از کم ہماری سمجھ میں یہ بات تو ابھی نہیں آرہی ہے کہ سردی، کھانسی اور زکام چھوٹی بیماریاں کیسے ہوگئیں، یہ تو ام الامراض ہیں۔ حالانکہ یہی لوگ جب اسلام کی ، قرآن کی باتیں کرتے ہیں تو بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں کہ اس میں سارے مسائل کا حل موجود ہے، ان مسائل کا بھی جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے ہیں یعنی قیامت تک جنم لینے والے سارے مسائل۔ میری سمجھ میں آج تک نہیں آیا کہ یہ تیس مار خاں لوگ جب مسلمانوں میں رائج مسائل سے روبرو ہوتے ہیں تو گھوڑوں کی طرح بدک کر بھاگنے کیوں لگتے ہیں کہ صاحب، اس مسئلے پر کچھ نہ بولو، کچھ نہ لکھو، چپ ہی رہو تو اچھا ہے۔ ورنہ اختلاف جنمے گا۔ ارے بھائی ایسے موقع پر وہ دعویٰ کہاں چلا جاتا ہے جو کہتا ہے قرآن میں قیامت تک جنم لینے والے سارے مسائل کا حل موجود ہے۔ یا پھر یہ مسئلہ ہی نہیں ہے؟ اگر قرآن میں اس مسئلے کا حل ہے تو بتاتے کیوں نہیں، گھبراکر بھاگتے کیوں ہو؟ ورنہ اپنے دعوے پر نظر ثانی کرو۔

    چونکہ ہمارے رسالے کا زیادہ حصہ اردو پر مشتمل ہے۔ اس لیے اردو پڑھنے والا وہ قاری جو تجارت یا غنڈہ گردی کرنے والے اردو اخبارات کی گمراہیوں کا شکار ہوتا ہے، یا پھر جو ادب کے نام پر رسالوں کے ریت محل کا سیر کرتا ہے، ہمارا ٹارگیٹ ہے۔ ہم اگر مسلمان ہیں، تو صرف مدرسے، مسجد یا کسی مسلم سماج کی ہی باتیں نہیں کریں گے، بلکہ ہماری نظر میں تو ساری دنیا، اس کے مسائل اور ضرورتیں ہونی چاہئیں۔ اسلام آفاقی ہے، مسلمان آفاقی نہ ہو ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔ مسلمان نہ اتنا تنگ دل ہوتا ہے کہ غیر مسلم کے سوال پر بدک جائے اور جواب نہ دے۔ اور نہ ہی مسلمان اتنا تنگ نظر ہوتا ہے کہ پس دیوار کے امکانات سے مایوس ہوجائے۔ جیسے اردو سمجھنے والے کے سامنے انگریزی جھاڑنا حماقت ہے، ویسے ہی جوان آدمی کو لوریاں سنانا بھی بیوقوفی ہے۔


    ” فری لانسر“ خطبہ جمعہ کا منبر تھوڑی ہے کہ سننے والوں کو سلانے کے سو جتن کیے جائیں۔ نہ سب کی پسند ایک ہوتی ہے، نہ سب رونے گانے والے ہوتے ہیں۔ کسی کا بچپن Entertainment کے گھیرے میں ہوتا ہے، کوئی ادھیڑ عمر ناکامی کی کھائیوں میں گررہا ہوتا ہے، کسی کی ترقی جوان ہورہی ہوتی ہے، کوئی اپنی محنت کیش کررہا ہوتا ہے، کسی کو موٹی موٹی باتیں ہی سمجھ میں آتی ہیں، اور کوئی موٹی باتوں کو بھونڈی سمجھتا ہے۔ حالت یہ ہے کہ ایک بوڑھا آکے کہتا ہے،امام صاحب نماز میں دیر دیر تک قیام نہ کیا کرو، کھڑا رہنے میں تکلیف ہوتی ہے۔ دوسرا آکے کہتا ہے، امام صاحب رکوع وسجود جلدی جلدی نہ کیا کرو، بڑھاپا ایک لمحے میں اتنے جھٹکے نہیں برداشت کرپاتا ہے۔ ایک جوشیلا نوجوان آکے کہتا ہے، امام صاحب نماز میں آپ اتنی جلدی کیوں کرتے ہیں، ہم اطمینان سے دعائیں بھی نہیں پڑھ پاتے۔ ایک تاجر آکے کہتا ہے، امام صاحب تشہد میں بیٹھتے ہیں تو کیا آپ بھول جاتے ہیں کہ سلام پھیرنا ہے یا نیند آجاتی ہے۔ کچھ سرپھرے آکر کہتے ہیں، امیر صاحب فلاں سپرہٹ (بازاری) مقرر کو آپ اپنے اسٹیج پر کیوں نہیں بلواتے؟ …دوسرے آکر اسی کے بارے میں کہتے ہیں، فلاں مقرر بے سر پیر کہانیاں سناکر اور جذباتی باتیں کرکے لوگوں کو بھٹکارہا ہے، اسے ٹھیک کرنا چاہیے۔

    یعنی اس پوری کہانی میں وہ پھنستا ہے جس کے ذمے اسٹیج یا بینر ہوتا ہے۔ اعتراضات کرنے والے تو اپنی بات کہہ کر دوبارہ بھیڑ میں غائب ہوجاتے ہیں۔ پالیسیاں پوچھنے میں کیا لگتا ہے، ایک زبان، تھوڑی سی انرجی یا پھر ایک قلم، تھوڑی سیاہی اور تھوڑا سا وقت …عام طور پر ہوتا ایسا ہے کہ سوال پوچھنے والا صرف اپنی سوچ کوزبان یا قلم کے سہارے سوال بناکر ذمے دار کی طرف اچھال دیتا ہے، مگر ذمے دار صرف اپنی سوچ کو قلم یا زبان کا سہارا لے کر جواب نہیں بناسکتا۔ اور ہماری پالیسی یہی ہے کہ” فری لانسر“ کے ذریعے ہم ہر مسلمان کو ذمے دار بنانا چاہتے ہیں۔


فری لانسر
یعنی اندیشوں سے بالاتر ہوکر سوچنے کی دعوت


’فری لانسر“ کو ”
ادع الی سبیل ربک بالحکمة والموعظة الحسنة وجادلھم بالتی ھی احسن
“ کی ایک ایسی تعبیر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ، جس کو پڑھنے کے بعد ہر مسلمان عافیت محسوس کرے۔ ایک ایسی عافیت جوتمام اندیشوں سے پرے ہوتی ہے۔ بوڑھوں کے اپنے اندیشے ہیں اور جوانوں کے اپنے … جسے مسلکی جنگ کی تاریخ معلوم ہے وہ کہہ رہا ہے… ”بس! بہت ہوگیا، لاحاصل کام کرنے سے کیا فائدہ؟“… اور جو مسلکی اختلافات کے ابجد سے ناواقف ہے وہ کہتا ہے… ”صرف اسلام کی بات کرو، کسی کو تکلیف دے کر کیا ملنے والا ہے؟“

اور اندیشوں سے بالاتر ہوکر سوچنے کی دعوت ہی ”فری لانسر“ کی دعوت ہے۔ جب تک ہم کتاب وسنت کو مضبوطی سے پکڑے رہیں گے، بھٹکنے کا امکان تو ہے نہیں۔ اس لیے کہ تقریباً ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی اللہ رب العزت نے اپنے نبیﷺ کی زبانی اس بات کی ضمانت دے دی ہے کہ: ”ترکت فیکم امرین لن تضلوا ماتمسکتم بھما کتاب اللہ وسنتی“… میں تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں، جب تک تم ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رہوگے گمراہ نہ ہوگے، (ایک )اللہ کی کتاب اور( دوسری) میری سنت… جس طرح کپڑوں میں میل لگ جاتا ہے، بالکل اسی طرح انسان کے دل اور دماغ میں بھی میل لگ جاتا ہے۔ دن اور رات میں پانچ وقت کی نمازیں اس میل کو دھونے کا آلہ ہیں۔ لیکن کچھ میل ایسے ہوتے ہیں جنھیں دھونے کے لیے سرگوشی نہیں، شور کی ضرورت پڑتی ہے۔ نماز میں اللہ رب العزت سے کی جانے والی سرگوشی جتنے میل دھوپاتی ہے، دھوتی ہے، باقی جمعہ کے دن کا اجتماع دھودیتا ہے۔(جملہ معترضہ : جنھیں اصلاح عقائد اور تبلیغ دین کے جلوے دیکھنے ہیں وہ جمعہ کے دن اردو زبان میں بیان کی تاریخ اٹھاکر دیکھیں کہ ہندوستان میں اس کی شروعات کب اور کیسے ہوئی؟… کچھ نہ کچھ اندیشہ تو ختم ہی ہوجائے گا۔)

اور یہ یک ماہی ریفریشر کورس جسے ہم رمضان کے نام سے جانتے ہیں، اللہ رب العزت کی جانب سے ایک ایسا اہم انتظام ہے جو فری بھی ہے اور بہت قیمتی بھی۔ فری اس لیے کہ اس کورس کو جوائن کرنے کے لیے صرف پاک صاف مسلمان ہونا کافی ہے۔ اور بہت قیمتی اس لیے کہ اس سے متعلق سارے شرائط پر کھرا اترا جائے تو اس کے اثرات دور رس ہوسکتے ہیں، یعنی سال بھر اس کے زیر اثر جیا جاسکتا ہے۔

اس کورس کے اثرات اس طور ظاہر ہوتے ہیں کہ کوئی بھوکا اپنی بھوک کی دہائی دے کر ہم سے کھانا مانگے تو اس کا درد اور تکلیف سمجھنے میں ہمیں کوئی دشواری نہیں ہوتی، اس لیے کہ ہم نے طلوع فجر سے لے کر غروب شمس تک بھوکا رہ کر دیکھ لیا ہے کہ بھوک کیسی ہوتی ہے۔ پیاسا رہ کر ہم نے پانی کی قدر جان لی ہے، اور بیوی کے پاس نہ جاکر ہم نے خود کو کنٹرول کرنا سیکھ لیا ہے۔ الم غلم سے اپنی زبانوں کو روک کر ہمیں پتا چل گیا ہے کہ ضرورت بھر بولنے میں کتنا سکون ملتا ہے۔ یہ وہ موٹی موٹی باتیں ہیں جو رمضان ہمیں سکھاتا ہے۔ دل اور دماغ میں لگنے والے میل کو دھونے میں رمضان کے روزے ہماری بہت مدد کرتے ہیں۔

میل دھونے کے جتنے مراحل ہیں ان سے گزرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ بصورت دیگر ہم دن بدن گندے ہوتے چلے جائیں گے۔ اور عقائد میں لگنے والے میل کو کتاب وسنت کے آلے سے دھویا جاتاہے۔ اس حقیقت کو جاننے کے باوجود کہ سارے مسلمانوں کے عقائد واعمال کی بنیاد قرآن وسنت پر رکھی گئی ہے، کیوں مسلمانوں کے راستے جدا ہوجاتے ہیں؟… یہ سوچنا، اس کے اسباب تلاش کرنا کتنا ضروری ہے یہ جاننے کے لیے صرف اتنا جان لینا کافی ہے کہ نومسلم کا تذبذب ہمارے اندیشوں کی بہ نسبت کتنا زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔

چلئے ہمارے اور آپ کے درمیان اختلاف ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم ایک کام کرتے ہیں اور آپ دوسرا، آئیے پلٹ کر وہاں چلتے ہیں جہاں سے ہمارے اور آپ کے اختلاف کی ابتدا ہوتی ہے۔ شریعت محمدی کی تاریخ کا وہ موڑ تلاش کرتے ہیں جہاں مسلمانوں کے درمیان اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ اور وہاں پہنچ کر ہم دیکھیں کہ اس وقت لوگ وہ کام کیسے کرتے تھے؟… میں کہتا ہوں اگر اس طرز فکر کو اپنا کر ہم سر پھٹول سے بچ جاتے ہیں، ایک سنجیدہ حل ڈھونڈلیتے ہیں، اس کو عمل میں لے آتے ہیں اور اس سے ہمارے اختلافات دور ہوجاتے ہیں تو اس میں برائی کیا ہے؟اگر آپ اسے جھگڑا کہتے ہیں تو ہم غلطی پر بالکل نہیں ہیں۔ اللہ نے کہہ دیا ہے: ”وجادلھم بالتی ھی احسن“… (جھگڑا کرنے سے کون روکتا ہے، لیکن اچھے طریقے سے کرو…!!!)

© تمام جملہ حقوق بحق ماہنامہ دی فری لانسرمحفوظ ہیں ۔ بشکریہ DeveloperZone

ٹول بار پر جائیں