کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

رفیق احمد رئیس سلفی

 

رفیق صاحب کے مضمون کے مشمولات پر ملاحظات در ملاحظات سے معلوم ہوتا ہے کہ معترض احباب کو اختلاف مندرجات کے طرز استعمال سے ہے۔بنیادی مسئلے سے ابھی تک کسی نے اختلاف نہیں کیا ہے۔ بلکہ ہندوستانی سلفیت کے سکڑن کو ڈیفائن کرنے میں رفیق صاحب نے جو سعودی حوالے استعمال کیے ہیں وہ اگر نکال دیے جائیں تو یہ ایک عام سے تنقیدی مضمون میں تبدیل ہوجائے گا ۔ اور ایسے مضامین وقتا فوقتا سبھی مضطرب قلم کار لکھتے رہتے ہیں۔
سلفیت ہی ہمارا غرور ہے، اگرچہ زندگی کے محدود شعبوں میں ہے۔ پوری زندگی سلفیت کی نمائندہ ہونی چاہیے، اس کے قائل سبھی ہیں۔ رفیق صاحب بھی اور ان کے مضمون سے اختلاف کرنے والے بھی۔
پھر اختلاف کی وجہ کیا ہے؟وہ ہے سنی حزبیت۔
سنیت سے محبت اور شیعیت سے نفرت تو مستحسن امر ہے۔ مگر اپنے ہم عقیدہ فرد، سماج یا ملک کے غلط اقدام کا دفاع کسی بھی گروپ کو دو حصوں میں بانٹ کر رکھ دیتا ہے ۔ اور جب سے سعودی عرب میں تشویش میں مبتلا کرنے والی تبدیلیاں واقع ہونا شروع ہوئی ہیں ہمارا اہل حدیث طبقہ دو حصوں میں بٹ گیا ہے۔ سعودی عرب سنیما کھول کر بیٹھ گیا، ہم عقیدہ ہونے کی وجہ سے برسوں سے اس ملک سے محبت کرنے والا اس عمل پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنے کے لیے منہ کھول رہا ہے کہ دوسرا طبقہ اس کی زبان کھینچنے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ اب نکیر کرنے والا تحریکی اور اخوانی ہوگیا اور اس غلط اقدام کی خوبصورت تاویل کرنے والا پکا سلفی۔ یہ کون سی سلفیت ہے بھائی؟؟؟
زیر نظر تحریر میں گذشتہ ملاحظات کو مد نظر رکھتے ہوئے نفس موضوع پر زور دیا گیا ہے اور مندرجات کے سلسلے میں اختلاف کے امکان کے ساتھ ایک سوال اٹھایا گیا ہے ۔دراصل وہی سوال اصل مسئلہ ہے جس سے اتفاق کرتے ہوئے اسے پسند کیا گیا تھا ۔ باقی برصغیر میں سلفیت کے چلن کو جن حوالوں سے پیش کیا گیا تھا اور پھر جس طرح تنقید کی گنجائش نکلتی تھی اس سے اختلاف کے امکان کا اعتراف خود اسی مضمون کی تمہید میں موجود تھا۔اس لیے جن احباب کو اختلاف ہے ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنے ملاحظات کے ساتھ نفس موضوع پر بھی بات کریں تو افادہ عام ہوگا ۔

ایڈیٹر



مئی ۲۰۱۸میں میں نے ایک مضمون بہ عنوان”سلفیت اپنے مداحوں اور ناقدین کے نرغے میں” لکھا تھا جس  میں یہ دکھانے کی کوشش کی تھی کہ برصغیر کی موجودہ سلفیت اپنے فکر وعمل کے اعتبار سے، اس سلفیت سے بہت کچھ مختلف ہے جو ہمیں کتاب وسنت اور فہم سلف صالحین میں نظر آتی ہے۔ برصغیر میں یہ تبدیلی اچانک نہیں  پیدا ہوئی ہے بلکہ  آہستہ آہستہ اور بہ تدریج ہوئی ہے اور اس کے محرکات و عوامل کئی ایک ہیں۔ مضمون میں یہ بات کئی ایک مسائل کے حوالے سے تحریر کی گئی تھی۔ چوں کہ یہ صرف ایک مضمون تھا، کتاب نہیں تھی کہ ہر چیز تفصیل کے ساتھ لکھی جاتی، کئی ایک باتیں اس میں مجمل تھیں اور کئی ایک کی طرف محض اشارے کیے گئے تھے۔

اس مضمون کے تمام مندرجات کو صرف وہ حضرات سمجھ سکتے ہیں جو ہندوستان میں جماعت اہل حدیث کی تاریخ اور اس کی متنوع خدمات سے واقف ہیں۔ تحریر میں اجمال اور محض اشاروں پر اکتفا کرنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ اس پر ہمارے سلفی علماء اور سوشل میڈیا پر سرگرم اہل حدیث نوجوان اہل قلم سنجیدگی سے غور فرمائیں گے۔ مرور زمانہ کے ساتھ اگر واقعی کوئی کمی یا کمزوری در آئی ہے تو اسے دور کرنے کی کوئی اجتماعی جد وجہد شروع ہوگی یا نوجوان اسکالرس کے مشورے اور ان کی تجاویز سامنے آئیں گی اور ہم دعوت و تنظیم کا کوئی مربوط لائحۂ عمل ترتیب دے سکیں گے اور اس وسیع ملک میں سلفی محاذ کو مضبوط کرکے ملت اسلامیہ کی کوئی خدمت انجام دے سکیں گے لیکن ساری امیدیں خاک میں مل گئیں، مضمون کی پوری روح کو سبوتاژ کردیا گیا اور غیرت و حمیت سے سرشار ہمارے نوجوان اسکالرس نے اسے سلفیت کے خلاف ایک حملہ سمجھ لیا۔ ظاہر ہے کہ سلفیت کے خلاف کوئی حملہ ہوگا تو میں بھی خاموش نہیں بیٹھوں گا تو دوسروں کو خاموش کرنے کی نصیحت بے معنی ہے۔

آج جولائی کی آٹھ تاریخ ہے۔ اس درمیان مضمون کے بعض مندرجات پر بعض بڑی تلخ بحثیں سامنے آئیں، میں چوں کہ واٹس ایپ کا استعمال نہیں کرتا اور نہ فیس بک پر میرا کوئی اکاؤنٹ ہے، اس لیے مضمون پر ہونے والے تبصروں کو اپنے بچوں اور بعض دوستوں کی مدد سے دیکھتا رہا۔ بہت سے دوستوں نے اس پر اپنے نرم گرم ملاحظات لکھے، کسی نے تعریف کی اور اپنی خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا، کسی نے ناراضگی ظاہر کی اور اسے موجودہ سلفیت کے خلاف سازش بتایا، کسی نے میرے عقیدہ و ایمان پر شکوک وشبہات ظاہر کیے اور بہت سے لوگوں نے اس کو کسی تحریکی یا اخوانی کی تحریر قرار دے دیا۔ بعض دوستوں نے مضمون کے منظر و پس منظر پر روشنی ڈالی تو کسی نے میرے فکر و نظر کے مصادر اور اس کے سرچشموں کی نشان دہی کی، کچھ دوستوں نے تحریکیوں سے میرے روابط، تعلقات اور مراسم کو طشت ازبام کیا۔ ان سب کے جواب میں اس کے علاوہ کیا کہہ سکتا ہوں کہ جس سلفیت کا امتیاز یہ ہے کہ وہ اللہ کی اپنی سرحدوں اور اختیارات میں قدم رکھنے کو شرک جلی سمجھتی ہے اور سیدنا خالد بن ولید کے ایک اقدام پر جس نبی محترم ﷺ کا یہ ارشاد کہ کیا تم نے اس کادل پھاڑ کردیکھا تھا، آج اسی نبی کی مکمل اتباع اور سلفیت کے دعوے دار دلوں میں چھپے جذبات و احساسات کا ادراک کرلیتے ہیں اور جس عاجز نے اپنی تیس سالہ زندگی میں سیکڑوں مضامین لکھے ہیں، اس کے صرف ایک مضمون سے اس کے ایمان وعقیدہ پر سوالیہ نشان کھڑا کردیتے ہیں۔ فالی اللہ المشتکیٰ۔

اللہ ہم سب پر رحم فرمائے اور ایمان وعقیدہ کی سلامتی کے ساتھ زندہ اور باقی رکھے۔

دریا کی ساکت سطح پر ایک چھوٹا سا کنکر اس امید پر پھینکا گیا تھا کہ شاید اس سے اس میں لہریں اٹھیں گی اوردریا کا پانی صاف ستھرا ہوجائے گا لیکن برسوں کے جمود کو توڑنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کے بعض احباب جو سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں اور جن کی سلفیوں سے نوک جھونک چلتی رہتی ہے ،انھوں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے اہل حدیثوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرلیا اور اسے ایک ایسا رخ دے دیا جو قطعاً درست نہیں تھا۔ تحریکی حلقے کی اس بے اعتدالی پر مجھے دوسرا مضمون لکھنا پڑا اور اس میں میں نے یہ لکھا کہ یہ ہمارے اپنے گھر کی اصلاح کا مسئلہ ہے، جماعت اسلامی یا تحریکی حلقے کا مسئلہ نہیں ہے، جماعت اسلامی کے سلسلے میں میں نے اپنے تحفظات بھی تحریر کردیے۔ بعض دوستوں نے میرے اس دوسرے مضمون کو پہلے مضمون کی معذرت کے طور پر پڑھا اور ان کو مایوسی ہوئی ۔سوشل میڈیا پر جاری معرکہ آرائی کے دوران میں نے اپنے پہلے مضمون کو کئی بار پڑھا کہ کیا واقعی میں نے کوئی زیادتی کی ہے یا خلاف حقیقت کوئی بات لکھی ہے۔ مجھے اس میں کوئی ایسی بات نظر نہیں آئی جس پر معذرت کرنے کی ضرورت ہو۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے کہ یہ میرے مشاہدات اور تجربات کا حاصل ہے اور مجھے اس کے ایک ایک لفظ پر اصرار ہے۔ الزامات، تبصروں اور شکوک وشبہات کے اس ہجوم میں پھر بھی میں مایوس نہیں ہوں اور نہ کسی دوست اور بزرگ کے تبصرے سے ناخوش بلکہ خوشی ہے کہ مضمون کو پڑھا گیا، اس پر اظہار خیال کی ضرورت محسوس کی گئی۔ نقد واحتساب زندگی کی علامت ہے، اس کا سلسلہ باقی رہنا چاہیے۔ مضمون کے بعض مندرجات کو دانستہ نظر انداز کیا گیا کیوں کہ اس پر اظہار خیال کرنے سے بہتوں کے ناراض ہوجانے کا اندیشہ تھا۔ مضطرب ہم سب ہیں لیکن زبان کھولنے کی ہمت کم لوگ کرتے ہیں۔ یاد رکھیں، اضطراب اور بے چینی کو بہت زیادہ دنوں تک دبائے رہنے سے روح فنا ہوجاتی ہے اور ضمیر مردہ ہوجاتا ہے۔ فری لانسر کے احباب کو معلوم ہے کہ جب اس بے باک صحافت کو میں نے پہلی بار پڑھا تو خوشی سے اچھل پڑا اور ایک طویل خط اس کے مدیران کے نام لکھا اور یہ امید جتائی کہ ہندوستان میں سلفی صحافت کا ایک روشن ستارہ جس کی ضرورت تھی، وہ ممبئی کے افق سے نمودار ہوچکا ہے۔ میں آج بھی پرامید ہوں کہ اس رسالے اور اب اس ویب پورٹل سے وابستہ نوجوان ذمہ داران کسی الزام اور تنقید سے گھبرائیں گے نہیں، اپنا سفر جاری رکھیں، منزل بھی قریب ہے اوران شاء اللہ روشن صبح یقیناً نمودار ہوگی۔

بعض ایسے بزرگوں کی نظر سے بھی یہ مضمون گزرا جن کی علمی بصیرت جماعت میں تسلیم شدہ ہے۔ اس فہرست میں سب سے زیادہ نمایاں نام شیخ رفیع احمد بستوی مقیم حال آسٹریلیا کا ہے جن کی شخصیت سے راقم اچھی طرح واقف ہے اور اسے یہ بھی علم ہے کہ جامعہ سلفیہ بنارس میں وہ اپنے مزید تین ساتھیوں شیخ محمد عزیر شمس، شیخ صلاح الدین اور ڈاکٹر بدرالزماں نیپالی کے ساتھ دور طالب علمی ہی سے کافی شہرت رکھتے تھے۔ چاروں کو سعودی جامعات میں اعلی تعلیم کے مواقع حاصل ہوئے۔ شیخ رفیع احمد بستوی دعوت کے میدان میں پہنچ گئے جب کہ شیخ صلاح الدین ایک داعی اور مصنف کی حیثیت سے مشہور ہوئے، ڈاکٹر بدرالزماں نیپالی نے کئی ایک بڑی جامعات میں تدریس کے فرائض انجام دیے اور آخر میں خود ایک دینی ادارہ کے بانی بن کر آج کل اسی کی تعمیر وترقی میں مصروف عمل ہیں۔ شیخ عزیر شمس امام ابن تیمیہ کے متخصص کی حیثیت سے عالم اسلام میں مشہور ہوئے اور امام موصوف کی کئی غیر مطبوعہ کتابیں اور کئی جلدوں پر مشتمل ان کے فتاوی کی ترتیب وتدوین کا شرف حاصل کیا۔ محترم شیخ عزیر شمس سے میری بہت سی ملاقاتیں ہیں، ان سے میں نے بہت کچھ استفادہ کیا ہے اور آج بھی ان کے علمی مشوروں کو دل سے قبول کرکے ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ شیخ رفیع احمد بستوی کو راقم نے اس وقت دیکھا ہے جب وہ جامعہ سراج العلوم جھنڈانگر اپنے والد محترم سے ملاقات کے لیے تشریف لاتے تھے، میں ان دنوں جامعہ سراج العلوم کا ایک نوعمر یا کم عمر طالب علم تھا، دوسری بار انھیں اس وقت دیکھا تھا جب دہلی میں مولانا خلجی رحمہ اللہ نے مرکزی جمعیۃ کے پلیٹ فارم سے حرمت حرمین شریفین کانفرنس منعقدکی تھی اور استاذ گرامی قدر ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ کانفرنس کی غالباً صدارت فرمارہے تھے، ان کی نظر سامعین کی قطار میں تشریف فرما شیخ رفیع احمد بستوی پر پڑی تو انھیں بلاکر اسٹیج پر بٹھایا اور ان سے خطاب بھی کرایا۔ ان کا ایک بڑا وقیع اور علمی مضمون دو قسطوں میں ماہنامہ برہان دہلی میں “کیا علماء انگریزی کے مخالف تھے” کے عنوان سے پڑھنے کو ملا جو شاید فراغت کے آخری سالوں میں یا اس کے معاً بعد شائع ہوا تھا۔ اس مضمون سے میں نے کافی استفادہ کیا ہے اور سرسید کی تحریک پر گفتگو کرتے ہوئے علی گڑھ کے دانشور سب سے پہلے علمائے کرام کو طعنہ دیتے ہیں کہ وہ جدید تعلیم کے مخالف تھے، شیخ رفیع کا یہ تحقیقی اور علمی مقالہ دانش وران علی گڑھ کا مسکت جواب ہے۔

اپنے اس مضمون پر ان کے ملاحظات دیکھ کر ان کی ذات کے تعلق سے کئی ایک باتیں یاد آگئیں۔ شیخ عزیر صاحب سے ان کے سلسلے میں بہت کچھ سن رکھا ہے، اس لیے وہ میرے لیے اجنبی بالکل نہیں ہیں، یہ اور بات ہے کہ جب سے میں نے تھوڑا بہت لکھنا پڑھنا شروع کیا ہے، ان سے براہ راست میرا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔ یہ چاروں حضرات جامعہ سلفیہ بنارس کا گل سرسبد ہیں، جماعت کی تاریخ اور اس کے نشیب وفراز پر ان حضرات کی گہری نظر ہے۔ لیکن اب یہ عمر کی جس منزل میں ہیں، اپنی ہی جماعت کی کوتاہیوں اور کمیوں پر کچھ لکھنے سے دانستہ احتراز کرتے ہیں۔ عموم بلوی کا حوالہ دے کر ہندوستان کی سلفیت کے فکر وکردار کی محض اس خوف سے پردہ پوشی کہ دوسرے مکاتب فکر کے یہاں ہماری تصویر خراب ہوجائے گی، کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ ہماری پردہ پوشی خود ہمارے لیے نقصان دہ ہے اورہمارے اس طرزعمل سے اس ملک میں سلفیت اپنا مطلوبہ کردار ادا نہیں کرسکے گی۔

میں گزشتہ تیس سالوں سے علی گڑھ میں عوامی زندگی گزار رہا ہوں، اہل حدیث سماج کی کئی ایک ضرورتیں بحمد اللہ میرے ہاتھوں پوری ہوتی ہیں، علی گڑھ میں قیام کے اول روز سے خطبہ جمعہ مسلسل دیتا ہوں، کئی ایک مقامات پر دروس قرآن و حدیث کا بحمد اللہ سلسلہ جاری ہے۔ یونیورسٹی کیمپس میں بھی محاضرات ہوتے رہتے ہیں۔ جو حضرات میری ان سرگرمیوں سے واقف نہیں ہیں، شاید وہ یہ سمجھتے ہوں کہ میں بند کمرے میں بیٹھ کر صرف مضامین ومقالات لکھا کرتا ہوں۔ سماج کو بہت قریب سے دیکھنے، سماج میں پیدا ہونے والی کئی الجھنوں کو سلجھانے کا طویل تجربہ ہے۔ سلفیت سے متعلق مضمون میں جو کچھ لکھا گیا ہے، وہ میرے مشاہدات اور تجربات کا حاصل ہے۔ مولانا خلجی رحمہ اللہ کی نظامت کے طویل دور میں میرا جماعت سے علمی رابطہ رہا ہے، اس کے کئی ایک علمی کام میرے ہاتھوں پائے تکمیل کو پہنچے ہیں۔ نظم جماعت کو بہت قریب سے میں نے دیکھا اور برتا ہے۔ آپ یہ نہ سمجھیں میں اپنے فضائل بیان کررہا ہوں، اللہ خود ستائی سے محفوظ رکھے، جن حضرات نے میرے عقیدہ وایمان کو موضوع گفتگو بنایا ہے، اس کا حساب تو ان شاء اللہ قیامت کے دن ہوگا۔ اس وقت دوستوں سے صرف یہ عرض کروں گا کہ آپ کی طرح مجھے بھی اپنے عقیدہ و منہج کی فکر ہے، زندگی کی آخری سانسوں تک اسی سے وابستہ رہنے کی دعا بھی کرتا رہتا ہوں۔ خوشی ہوئی کہ بعض دوستوں کو میرے عقیدہ ومنہج کی فکر ہوئی اور صرف ایک تحریر سے انھوں نے میرے جغرافیہ کی پیمائش کرڈالی۔ ان دوستوں سے میں یہ ہرگز نہیں کہوں گا کہ میرے سلسلے میں اپنی رائے تبدیل کریں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن مجھے افسوس صرف اس بات کا ہے کہ اس ملک میں بڑی جدوجہد کے بعد سلفیت کا جو چراغ روشن ہوا تھا، وہ بجھ رہا ہے، اس کی روشنی مدھم پڑتی جارہی ہے، اگر اس کی لو تیز نہ کی گئی تو اندیشہ ہے کہ کہیں بجھ نہ جائے۔ خدانخواستہ اگر ایسا ہوا تو انسانیت اور ملک وملت کا ایک عظیم خسارہ ہوگا، توحید اور اتباع سنت کی روشن شاہراہ گم ہوجائے گی، چاروں طرف پھیلی تاریکیاں سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گی۔ ہمارے یہ چاروں محترم فضلاء جماعت کو بتائیں کہ کیا کبھی کسی دینی ادارے نے اپنے یہاں طریقہ تدریس، نصاب تعلیم، دارالاقامہ کے نظم وضبط، مرکزی جمعیۃ نے اپنے بگڑے ہوئے نظام کی درستگی، تصنیف وتالیف، دعوت وتبلیغ اور اس کے لیے ضروری مواد کی فراہمی کے لیے ان سے کوئی مشورہ طلب کیا۔  اپنے یہاں خاص موضوعات پر محاضرات کے لیے کبھی دعوت دی یا کسی سیریز کے لیے مدعو کیا، جب کہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ حضرات اور بعض دوسرے فضلاء جبال العلم ہیں، یہ جماعت کی ہرضرورت کی تکمیل کے لیے کامیاب لائحۂ عمل ترتیب دے سکتے ہیں۔ ہمارے یہاں قحط الرجال کا شوشہ فقط زیب داستاں کے لیے بڑھایا گیا ہے۔

گزشہ دنوں میں نے اپنے ایک فاضل استاذ جو کئی فنون میں تدریس کا طویل تجربہ رکھتے ہیں، پوچھا کہ کیا کبھی جامعہ سلفیہ بنارس نے اپنے یہاں تدریس کے لیے آپ کو مدعو کیا تو ان کا جواب نفی میں ملا۔ ماہر فن اور باصلاحیت شخص درخواست ہاتھ میں لیے کسی لائن میں کھڑا نہیں ہوسکتا، اداروں کو اگر ضرورت ہے تو وہ اس سے درخواست کریں اور اس کی صلاحیتوں سے طلبہ کو استفادے کا موقع دیں۔ اپنے تمام بڑے تعلیمی اداروں کو جس طرح ہم نے دنیاداروں کے حوالے کردیا ہے، اس کے مایوس کن نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ یہ حضرات یہ امید رکھتے ہیں کہ ایک ماہر فن اور ممتاز فاضل بھی ان کی چوکھٹ پر آکر ناک رگڑے گا تو یہ ان کی بہت بڑی بھول ہے۔ ایک غیرت مند باصلاحیت شخص ایک مکتب میں معمولی مشاہرہ پر زندگی گزار لے گا جہاں اسے عزت حاصل ہے لیکن اپنی عزت کو نیلام کرنے کے لیے کسی بڑے تعلیمی ادارے کا حصہ نہیں بن سکے گا۔

محترم فاروقی صاحب نے اپنے مختصر تاثراتی تنقیدی مضمون میں مجھ سے پوچھا ہے کہ وہ فکری موضوعات کیا ہیں جن پر جماعت کے علماء کچھ لکھتے نہیں ہیں۔ فکری موضوعات کی بات تو جانے دیں، آپ جیسے فاضل بزرگ کی خدمت عالیہ میں ایک چھوٹی سی درخواست یہ کروں گا کہ آج ایک تعلیم یافتہ نوجوان مسلمان ہوا ہے، وہ اسلام کے تعارف کے سلسلے میں کسی کتاب کا مطالبہ کررہاہے، آپ برصغیر کے سلفی تراث میں کسی ایک کتاب کا نام بتادیں جسے اس کے حوالے اس امید پر کردیا جائے کہ وہ اس سے اسلام کی اساسیات کو بھی سمجھ لے گا اور اسلام کے سلسلے میں اس کے شکوک وشبہات بھی دور ہوجائیں گے۔ اپنے ملک کے مخصوص حالات اور اس کی ضروریات کو سامنے رکھ کر جب منصوبہ بندی کی جائے گی تب کام کی کوئی چیز تیار ہوسکے گی ۔ مناظرہ، مکابرہ اور ہم کسی سے کم نہیں کے جذبات کے تحت صرف مناظرانہ کتابیں ہی لکھی جاسکتی ہیں جن سے ہم نے لائبریریاں بھردی ہیں لیکن مسائل جہاں تھے، وہیں ہیں۔ محترم شیخ رفیع احمد بستوی حفظہ اللہ نے مضمون کے کئی ایک مندرجات پر گفتگو فرمائی ہے، جواب الجواب کا سلسلہ شروع کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اپنے انتہائی فاضل بزرگ  سے یہی عرض کروں گا کہ ایمان داری سے اگر آپ سمجھتے ہیں کہ برصغیر کے سلفیوں کی دینی ترجیحات اور ان کے عملی رویے اصلاح طلب ہیں تو اس پر کچھ لکھیں، ہم سراپا انتظار ہیں۔ اس کے برعکس اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہاں سب کچھ ٹھیک ہے تو پھر کوئی بات ہی نہیں، اللہ سے دعا کریں کہ وہ میرے بھی اندرونی اضطراب کو رفع فرمادے اور میں بھی آپ کی طرح مطمئن ہوجاؤں۔ میں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ صحافت کے میدان میں گزارا ہے۔ صحافیوں کی کئی ایک کمزوریاں میرے اندر بھی پیدا ہوگئی ہیں، جو کچھ دیکھتا اور محسوس کرتا ہوں جب تک اسے کاغذ پر منتقل نہ کردوں، سکون نہیں ملتا ہے۔ اپنی اس کمزوری کی میں نے کئی بار بڑی قیمت بھی چکائی ہے لیکن ضمیر مطمئن ہے کہ کبھی حق بات لکھنے سے گھبرایا نہیں اور نہ کسی ذاتی مفاد کی پروا کی ،اللہ نے الحمد للہ اپنی کئی ایک نعمتوں سے نوازا ہے ،اس کی شہادت میرا تعلیمی ریکارڈ دے گا یا ہمارے ہم جماعت ساتھی۔ سلفیت کو ازسرنو زندہ کرنے اور اسے اس کا مطلوبہ کردار ادا کرنے کے لیے اٹھا کھڑا کرنا اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس کے لیے راستے کے ان پتھروں کو ہٹانا ضروری ہے جو سلفی کارواں کی منزل میں جگہ جگہ ابھرے ہوئے ہیں ۔میرے پہلے مضمون کا حاصل اور خلاصہ یہی ہے۔

صحافت کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے  ایک ممتاز صحافی کی یہ بات ہر وقت میرے کانوں میں گونجتی رہتی ہے کہ میرے وطن عزیز کے صحافیو! تمھارا قلم ماؤں اور بہنوں کی عصمت سے کہیں زیادہ قیمتی ہے کیوں کہ جب ایک عورت بکتی ہے تو اس کا صرف ایک جسم بکتا ہے لیکن جب صحافی کا قلم بکتا ہے تو پوری قوم بک جاتی ہے۔ صحافی سماج و معاشرے کی آنکھ، کان اور زبان ہوتا ہے۔ اس کے احساسات کی ترجمانی کرتا ہے، اس کی پریشانیوں کو ارباب حل و عقد کے سامنے رکھتا ہے اور پھر مسائل حل ہوتے اور مشکلات دور ہوتی ہیں۔ مجھے صدمہ اس بات کا نہیں ہے کہ متاع کارواں لٹ گیا ہے بلکہ سب سے زیادہ غم اس بات کا ہےکہ اہل حدیث نوجوان اہل قلم کو اس زیاں اور نقصان کا احساس بھی نہیں ہے۔ سلفی دعوت اور اس کے منہج، داعیان کتاب و سنت کی جہد و مساعی اور اس کی روشن تاریخ سے نہ میں بے خبر ہوں اور نہ اس کی اہمیت کا منکر، سلفی غیرت و حمیت نہ کسی سے کم ہے اور نہ میں نے کبھی اس کا سودا کیا ہے۔ ہمارے جن تعلقات و روابط کی نشان دہی بعض دوستوں نے کی ہے، وہ براہ راست ان سے رابطہ کرکے یا ملاقات کرکے معلوم کرلیں کہ میں کیا ہوں اور میرے فکر و فہم کا جغرافیہ کیا ہے۔ میرے لیے یہ الزام کوئی نیا نہیں ہے، کئی سال پہلے ہماری اپنی جماعت کے ایک بڑے عالم نے جب اسی قسم کی بات ایک تقریب میں مجھ سے کہی تھی تو جو اس وقت میرا جواب تھا،وہی جواب اپنے ناقدین کو آج بھی دینا چاہوں گا کہ اب میری عمر ۵۵؍سال کی ہے،عقیدہ ومنہج کے لیے کسی انسان کے نہیں صرف اپنے رب کے سامنے جواب دہ ہوں۔جامعہ سلفیہ بنارس میں ہم گھاس نہیں چھیل رہے تھے بلکہ ایک ممتاز دینی ادارے میں عقیدہ ومنہج کا علم ہی سیکھا ہے اور اسی پر حسب توفیق  الٰہی عمل کرنے کی کوشش بھی کرتا ہوں۔

آپ کے تبصرے

avatar